این ایف سی ایوارڈ اور کشمیر وگلگت بلتستان - شہزاد احمد شانی

این ایف سی ایوارڈ میں کشمیر کی شمولیت کی تین صوبوں نے مخالفت کر دی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صرف پنجاب نے حمایت کی۔
اس پر تبصرے جاری ہیں. میرے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے صوبائی وزرائے اعلی سے اپنی ملاقاتوں میں اس اہم ایشو کو سرفہرست رکھا اور نیم رضامندی بھی حاصل ہوئی، جو وزیراعظم آزادکشمیر کی اس ضمن دلچسپی اور کوشش کا بین ثبوت ہے.

یہ قضیہ آج کا نہیں! جون 2010ء میں بھی فاروق حیدر وزیراعظم آزاد کشمیر تھے، انہوں نے اس وقت بھی مطالبہ کیا تھا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کو بھی این ایف سی ایوارڈ سے حصہ دیا جائے، آزاد کشمیر کے لوگوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ ہمارے مفادات کا بھی تحفظ ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ آزادکشمیر کے لوگوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ جب تک اس کرسی پر ہوں ریاست کے حقوق کا تحفظ کرنا میری ذمہ داری ہے۔ لیکن ستم یہ ہے کہ جب اسلام آباد اور مظفر آباد میں ایک ہی پارٹی برسراقتدار نہ ہو تو ایسا مطالبہ کسی طور منظور نہیں ہوتا۔

آزادکشمیر میں جب مسلم کانفرنس کی حکومت تھی تو پاکستان میں پیپلزپارٹی برسراقتدار تھی، پھر جب آزادکشمیر میں چوہدری عبدالمجید کی حکومت بنی تو پاکستان میں ڈیڑھ سال بعد مسلم لیگ ن کی حکومت آ گئی۔ وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے آواز اٹھائی لیکن کوئی خاص شنوائی نہ ہوئی۔ 2015ء میں جب صوبے ایک بار پھر این ایف سی ایوارڈ کے ضمن اختلافات کا شکار تھے تو اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے مل بیٹھے، اجلاس میں دیگر معاملات زیربحث لائے جانے کے بعد مرکزی حکومت نے تجویز پیش کی کہ آزادکشمیر کو بھی این ایف سی ایوارڈ کیلئے باضابطہ ممبر بنایا جائے، اس تجویز کو چاروں صوبوں نے مسترد کر دیا. صوبوں کا کہنا تھا کہ محاصل سے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو فنڈز نہیں دیے جا سکتے۔ یاد رہے آزادکشمیر این ایف سی ایوارڈ میں باضابطہ رکن نہیں لیکن 2.7 فیصد فنڈز وصول کرتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   خبردار، ہوشیار - حامد میر

ستمبر 2016 ء میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو سی پیک سمیت این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دیا جائے. اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پاکستان کے دفاع کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حکمران اسلام آباد کے بند کمروں کے بجائے آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کی عوام کو پالیسیوں میں شامل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی غلط پالسیوں کی وجہ سے ملک میں شورش ہے، کراچی، بلوچستان، فاٹا اور کے پی میں صورتحال خراب ہے، جبکہ جو علاقے پر امن ہیں ان کو شورش کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم آزادکشمیر نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے یقین دلایا تھا کہ وہ آزاد کشمیر حکومت کے این ایف سی فنڈز میں اضافے کے مطالبے کی حمایت کریں گے۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی این ایف سی میں باقاعدہ ممبر شپ نہیں ہے۔ اس بات کی یقین دہانی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر سے بات چیت کرتے ہوئے کیا تھا جنہوں نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی تھی ۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہء خیال کیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ مناسب فورم پر آزاد کشمیر حکومت کے مطالبے کی حمایت کریں گے۔ اب کی بار اسلام آباد اور مظفر آباد دونوں جگہوں پہ ایک ہی پارٹی برسراقتدار ہے لیکن اس ایشو پہ دیگر صوبے رضامندی ظاہر نہیں کر رہے ۔

وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے اس مسئلہ کو بہت سنجیدگی سے لیا ہوا ہے ایسے میں اگر وہ سندھ اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں سے اتفاق حاصل کرنے کیلئے آزادکشمیر میں موجود پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی قیادت کو ایک ٹیبل پہ بٹھائیں . جماعت اسلامی پاکستان پہلے سے ہی حکومت آزادکشمیر کیلئے ہر فورم پہ آواز اٹھا رہی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی کشمیری قیادت کو یہ ٹاسک دیا جائے کہ وہ اپنی اپنی پارٹی کی صوبائی حکومتوں سے باضابطہ رابطہ کر کہ انہیں اس پہ قائل کریں تاکہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان بھی این ایف سی ایوارڈ میں ممبر شپ دی جائے۔
خداراہ کریڈٹ لینے اور دینے کی روایتی دوڑ سے بالا ہو کر اس مسئلہ کو حل کروایا جائے وگرنہ ریاستی عوام تک اس کا مسیج اچھا نہیں جا رہا. صوبائی اور مرکزی حکومت کو بھی اس ایشو کو سنجیدگی سے لینا چاہیے وگرنہ اس سے اہل کشمیر میں بد دلی ، بد اعتمادی اور احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا جو کسی صورت مظفر آباد اور اسلام آباد کے مفاد میں نہیں.