ایک ناپسندیدہ کالم - پروفیسر مفتی منیب الرحمن

جب سے پاناما لیکس کا مسئلہ سامنے آیا ہے، ہماری سیاست کا مرکزی موضوع یہی ہے۔ دراصل یہ آف شورکمپنیاں ہیں، جنہیں عالمی سطح پر ابھی تک خلافِ قانون قرار نہیں دیا گیا۔ ان کے ذریعے قانونی اعتبار سے جائز اور ناجائزدولت بیرونِ ملک منتقل کی جاتی ہے اور ٹیکس کی چھوٹ سے استفادہ کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ اس پر اس لیے پردہ ڈالا جاتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کا سرمایہ مغربی ملکوں کے کام آتا رہے۔ فی الحال جزوی طور پر یہ پردہ اٹھایا گیا ہے اور کچھ پردہ نشینوں کے نام آئے ہیں، ظاہر ہے صاحبِ اقتدارکو دبا\0ؤ میں لانے کے لیے یہ ایک اچھا حربہ ہے۔ یقینا اس انکشاف کے پیچھے عالمی سیاست و معیشت کو کنٹرول کرنے والی طاقتوں کی آشیر باد کارفرما ہوتی ہے۔ ابتدا میں بعض سیاست دانوں نے یہ تاثر دیا کہ آف شور کمپنی بنانا ہی جرم ہے، لیکن بعد میں جب انہیں احساس ہوا کہ یہ ملامت خود اُن کی ذات پر اور اُن کے گِرد و پیش موجود پاک دامن لوگوں پر بھی لگی ہوئی ہے، تو انہوں نے کہا: ”ہم نے آف شور کمپنی کو کبھی خلافِ قانون نہیں کہا، ہم نے تودولت کی بیرونِ ملک غیر قانونی منتقلی یعنی منی لانڈرنگ کو جرم سمجھتے ہوئے ہدف بنایا ہے اور اِس میں وزیرِ اعظم نواز شریف اور اُن کا خاندان ملوّث ہے، لہٰذا وہ ثابت کریں کہ یہ دولت بیرونِ ملک کیسے منتقل ہوئی؟“ الغرض سپریم کورٹ میں سماعت جاری رہنے کے باوجود یہ ناٹک ابھی چل رہا ہے اور آئندہ انتخابات یا نظام کی بساط لپٹنے تک چلتا رہے گا۔\r\n\r\nمیں نے اس دوران بڑے قومی اخبارات کے تقریباً تمام معروف کالم نگاروں کے تاثرات او\0ر تجزیے پڑھے، بعض نے تو ایک پوزیشن لے رکھی ہے۔ میں صرف اُن حضرات کے تاثرات اور تجزیوں کو زیادہ دلچسپی سے پڑھتا ہوں، جن پر کسی سیاسی جماعت سے غیر مشروط وابستگی کی ملامت نہیں ہے اور جو کسی حد تک اپنی ساکھ کو قائم رکھتے ہوئے اس مسئلے کو قومی قیادت کے اخلاقی زوال کی علامت اور قومی حمیّت کے منافی سمجھتے ہوئے بات کرتے ہیں۔\r\n\r\nاس قضیے کے دو پہلو ہیں: ایک اَخلاقی اور دوسرا قانونی۔ اس میں دو آراء نہیں ہیں کہ پاناما لیکس کے اِفشا کے نتیجے میں وزیرِاعظم کی اَخلاقی پوزیشن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ووٹ اَخلاقیات کی بنیاد پر نہیں دیے جاتے، مفادات اور وابستگیوں کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ جنابِ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’’آج میں ایک انکشاف کر رہا ہوں، وہ یہ کہ عوام کا ایک مفاد پرست طبقہ غیر مشروط طور پر اہلِ اقتدار سے جڑا ہوا ہے اور دوسرا طبقہ وہ ہے جو بے حس اور لاتعلق ہے‘‘۔ اُن کے بقول سانحۂ ماڈل ٹاؤن کے موقع پر علاقے کے رہائشی لوگوں نے اُن کے زخمیوں پر اپنے دروازے بند کر دیے تھے کہ کہیں وہ گرفت میں نہ آجائیں اور صرف اُن کے اپنے کارکن میدانِ عمل میں ڈٹے رہے ہیں۔\r\n\r\nپس چند مستثنیات کے سوا زیادہ تر کرپشن زدہ لوگ ہی بار بار جیت کر آتے ہیں۔ جنابِ آصف علی زرداری کا پانچ سال تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت پر فائز رہنا، اس بات کی سب سے روشن دلیل ہے اور یہ ہماری قومی سیاست کا عجوبہ ہے کہ آج جنابِ بلاول بھٹو کرپشن کے خلاف مہم چلانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، اس تناظر میں بہتر ہوگا کہ لغت میں کرپشن کے معنی بدل دیے جائیں۔ یہاں میں کرپشن کے الزامات کی بات کر رہا ہوں، کیونکہ ہمارے ضابطۂ قانون میں اس کا ثابت ہونا چنداں آسان بات نہیں ہے۔ پس اگر کسی کی خواہش یہ ہے کہ وزیرِاعظم اَخلاقی بنیاد پر وزارتِ عُظمیٰ کی مَسند سے دستبردار ہوجائیں، تو یہ خواہش یقینا نہایت دلکش اور خوبصورت سہی، لیکن حقیقت کی دنیا سے بہت بعید ہے۔ اس حوالے سے ہماری سیاست کے تمام کھلاڑیوں کی اَخلاقی پوزیشن کم و بیش یکساں ہے۔ مشرف دور میں جنابِ شیخ رشید وزیرِ ریلوے تھے، اُن کے عہدِ وزارت میں ریل کا حادثہ ہوگیا، اُن سے ایک اخبار نویس نے سوال کیا: ’’ کیا آپ اس حادثے کی اَخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوجائیں گے، کیونکہ جمہوری ممالک میں یہ روایت موجود ہے‘‘۔ انہوں نے کہا: ’’میں کیوں استعفیٰ دوں، میں ٹرین کا ڈرائیور تو نہیں ہوں‘‘۔\r\n\0\r\nہماری سیاست میں اَخلاقی اعتبار سے جماعتِ اسلامی کی پوزیشن کو بہتر قرار دیا جاتا ہے اور یہ کافی حد تک درست ہے۔ جب خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت میں اُن کی جماعت کے وزیرِخزانہ جناب مظفر سَید، اِس لفظ کو سَیِّد نہیں بلکہ سَیْد پڑھا جائے، کے خلاف خیبر بینک کے صدر اور ایم ڈی جنابِ شمس القیوم کا اشتہارشائع ہوا اور وزیرِ محترم نے جوابی اشتہار شائع کیا، تواُن کے وزیرِ خزانہ مستعفی نہیں ہوئے، بلکہ بدستور منصبِ وزارت پر متمکن رہے۔ پھرصوبائی کابینہ میں جنابِ آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی کے ایک ایسے وزیر پر مشتمل یک نفری انکوائری کمیشن بنایا گیا، جنہیں ماضی میں بدعنوانی کے الزام میں برطرف کیا گیا تھا۔ پھر انہوں نے صوبائی کابینہ میں اپنے رفیقِ کار وزیر کو کردار کی پاکیزگی کی سند عطا کر دی۔ اسی طرح جنابِ عمران خان اور اُن کے گِرد و پیش موجود لوگوں میں سے آف شور کمپنی بنانے کے الزام پر کوئی بھی مستعفی نہیں ہوا، پس ہماری سیاست کا اَخلاقی معیار یہی ہے۔ سو اپنے اُن سیاسی رقیبوں کے لیے جو تحقیقات کے دوران اُن سے مستعفی ہونے یا اختیارات سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنابِ نوازشریف کا پیغام یہی ہوگا: کاین گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند\r\nیعنی جب آپ ایک صوبائی وزارت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہ ہوپائے، تو میں وزارتِ عظمیٰ کی اعلیٰ ترین مَسند سے آپ کی خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے کیوں دستبردار ہوجائوں؟، کیونکہ ہم دونوں کی اَخلاقی پوزیشن یکساں ہے۔\r\n\r\nدوسرا پہلو قانونی ہے: سو جو نظامِ قانون ہم نے برطانیہ سے وراثت میں پایا ہے، اُس کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان بےقصور ہے تاوقتیکہ اُس کا جرم عدالت میں ثابت نہ ہوجائے اور اسلام کا اصول بھی تقریباً یہی ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’الزام کا بارِ ثبوت مدعی پر ہے اور عدمِ ثبوت کی صورت میں مدعیٰ علیہ کو قسم دی جائے گی، (سنن ترمذی:1341) ‘‘۔ جنابِ عمران خان نے جنابِ ہارون الرشید کے کالم سے استفادہ کرتے ہوئے ’’تلاشی دینے کا نعرہ لگا رکھا ہے‘‘۔یہ ایسا ہی ہے کہ کسی پر چوری کا الزام لگایا جائے اور پھر کہا جائے کہ تم ثابت کرو کہ تمہارے گھر میں جو بھی سامان ہے، وہ جائز طور پر تمہاری ملکیت ہے، ورنہ وہ سب چوری کا ہے۔ حالانکہ چوری کا الزام لگانے والے کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس گھر میں فلاں چیز میرے ہاں سے چوری کر کے لائی گئی ہے۔ سو فلسفۂ قانون و انصاف کے تحت منی لانڈرنگ کے الزام کا بارِ ثبوت مدّعیان پر ہے اور اس سلسلے میں عدالت کو موردِ الزام قرار دینا یا عدالت پر دباؤ ڈالنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت قانون کے تحت انصاف کرنے کی پابند ہوتی ہے، چنانچہ جنابِ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دورانِ سماعت کہا: ’’ہم انصاف کے لیے قانون کا قتل نہیں کرسکتے‘‘، یعنی ہمیں قانون کے تابع رہ کر انصاف دینا ہوتا ہے۔ اِسی بات کو چیف جسٹس جنابِ انور ظہیر جمالی نے اِن الفاظ میں بیان کیا: ’’ہم دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرسکتے‘‘۔ اِس کا مفہومِ مخالف بھی یہی ہے کہ عدالت کے باہر فریقِ مخالف کو مجرم اور اپنے آپ کو فاتح قرار دے کر قبل از وقت فیصلے صادر کیے جا رہے ہیں اور یہی عدالت کو دباؤ میں لانے کا حربہ ہے، چنانچہ انہوں نے اپنی سربراہی میں قائم بینچ کی ساری کارروائی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ اپنے جانشین پر چھوڑ دیا۔\r\n\r\n لیڈی ڈیانا کا ٹریفک حادثہ چونکہ فرانس کی حدود میں ہوا تھا، اس لیے اُس وقت کہا گیا تھا: فرانس کا فلسفۂ قانون یہ ہے کہ آپ مجرم ہیں تاوقتیکہ آپ اپنے آپ کو الزام سے بری ثابت نہ کر دیں۔ مجھے اس کا علم نہیں ہے، کوئی ماہرِ آئین و قانون ہی بتا سکتا ہے کہ آیا یہ درست ہے۔ ہمارے نظام آئین و قانون اور نظامِ عدل میں تو برطانوی فلسفۂ قانون ہی رائج ہے، اور آئے دن عدالتیں اسی کے تحت مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں۔ جنابِ اعتزاز احسن سمیت سارے نامی گرامی وکلا اِنہی خدماتِ جلیلہ کے عوض ناقابلِ یقین حد تک بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں۔ الغرض جو کچھ عدالت کے باہر میڈیا پر ارشادات نشر ہوتے ہیں، اگر یہ عدالتی اصول بن جائے تو ہمارے ان ماہرینِ آئین وقانون کا کاروبار ٹھپ ہوجائے۔ حقیقت یہی ہے، باقی سب کچھ وزنِ شعر، ٹیلی ویژن کے ٹِکرز اور اخبارات کی سرخیوں کے لیے ہوتا ہے، عربی کا مقولہ ہے: ’’سچ کڑوا ہوتا ہے، اگرچہ وہ ہیرا ہوتا ہے‘‘ اور ہم ’’میٹھا میٹھا ہَپ ہَپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو‘‘ کے عادی ہیں۔\r\n\r\nبہتر ہوگا کہ پارلیمنٹ کے اندر سب جماعتیں اتفاق رائے سے ایک آئینی ترمیم منظور کریں کہ عوامی نمائندگی اور حکومتی مناصب پر صرف وہی شخص فائز ہوسکے گا، جس کے پورے خاندان کا بیرون ملک کاروبار اور جائیداد نہ ہو اور جن کا کاروبار یا جائیداد بیرونِ ملک موجود ہے، انہیں پابند کیا جائے کہ اپنی پوری تفصیل فراہم کریں، اور چھ ماہ سے ایک سال کے اندر وہ اپنا تمام سرمایہ پاکستان لے کر آئیں۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ امریکی شہری جنابِ معین قریشی کو وزیرِ اعظم پہلے بنایا گیا اور اُن کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ دورانِ سفر بعد میں بنا۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے نام پر تمام تر شور و غوغا کے باوجود پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی ساری جماعتیں مکمل اتفاقِ رائے سے بےلاگ احتساب کا ایک جامع قانونی پیکج بنانے پر آمادہ نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان پلی بارگین کے نام پر قومی احتساب بیورو کو آئے دن ہدفِ تنقید بناتی رہتی ہے، اَخلاقی اعتبار سے اور انصاف کی روح کے مطابق عدالتِ عظمیٰ کا یہ تبصرہ سو فیصد درست ہے۔ لیکن نیب جنابِ جنرل پرویز مشرف کا بنایا ہوا قانون ہے، سترھویں آئینی ترمیم میں اِسے تحفظ حاصل ہے، اِسے پلی بارگین کہیں یا ’’اِستدعا برائے مُک مُکا‘‘، یہ بہرحال ’’لاآف دا لینڈ‘‘ ہے۔ نیب کے چیئرمین وقتاً فوقتاً دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے تقریباً دو سو اسّی ارب روپے کی ناجائز لوٹی ہوئی دولت برآمد کی ہے، یعنی عدالتوں کے ذریعے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا اور چند مستثنیات کے سوا بالآخر جلد یا بدیر تمام ملزمان باعزت بری ہوتے رہے ہیں۔ اب جبکہ عارضی طور پر سپریم کورٹ نے پلی بارگین پر پابندگی لگائی ہے، تو خود پتا چل جائے گا کہ عدالت کے ذریعے کیا کچھ برآمد ہوتا ہے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */