آرمی پبلک اسکول اور سقوط ڈھاکہ کے متاثر بچوں کا مکالمہ - محمد عمیر دبیر

سانحہ سقوط ڈھاکہ اور آرمی پبلک اسکول کے معصوم شہید طلبہ کے درمیان تقریب کے دوران مکالمہ ہوا. تقریب میں 45 برس قبل ظلم و بربریت کا نشانہ بننے والے وہ بچے بھی شامل تھے جنھیں ماؤں کی کوکھ میں ہی قتل کر دیا گیا تھا، تاہم اب وہ جوانی گزار کر ادھیڑ عمری کی طرف جا رہے ہیں جبکہ 1971ء کے وہ بچے جن کی مختلف عمریں تھیں، اُن کے بالوں میں بھی سفیدی چھلکنے لگی ہے۔\r\n\r\nدو سال قبل برزخ پہنچنے والے آرمی پبلک اسکول کے شہدا کا جذبہ قابل دید ہے، اُن کی آنکھوں میں چمک ہے، مگر ان میں کئی سوال چھپے ہیں. تقریباً دو ہفتے قبل ایک اور بچے کی آمد ہوئی جو دو سال تک زندگی اور موت کی جنگ لڑتا رہا. آخر اُس نے دنیا کو الوداع کہا اور یہاں برزخ میں آ کر رہائش اختیار کرلی۔\r\n\r\nتقریب سے قبل مہمانان خصوصی کی آمد ہوئی جن میں جناب قائد اعظم اور گزشتہ روز آنے والے جنید جمشید کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ تقریب میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، چونکہ یہ 16 دسمبر کے حوالے سے سجائی گئی تھی، اس لیے سقوطِ ڈھاکا اور اے پی ایس میں شہید ہونے والے بچوں کو اگلی نشتوں پر خصوصی جگہ دی گئی تھی۔\r\nتلاوتِ کلام پاک سے شروع ہونے والی تقریب میں ہر معتبر شخصیت نے پاکستان کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کیے. قائد اعظم افسردہ لہجے میں کہہ رہے تھے کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک ایسی ریاست بنانا تھا جس میں اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کیا جا سکے، سب کو مکمل آزادی ہو اور ہر شخص اپنے مذہب و دین کے مطابق عبادت کرسکے۔\r\n\r\nپروگرام کے درمیان میں سانحہ سقوط ڈھاکا اور آرمی پبلک اسکول کے بچوں کی جانب سے تیار کیا گیا خصوصی مکالمہ پیش کیا گیا جس میں دونوں سانحات کا نشانہ بننے والے بچوں نے کہانی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔\r\n\r\nمکالمے کے دوران آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے بچوں نے ڈھاکہ والے بچوں سے پوچھا کہ آپ کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ کوئی اور نہیں، ہمارے اپنے ہی تھے، مختصر الفاظ میں یہ بات کہ ہمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ ڈھاکہ میں شہید ہونے والے بچوں نے کہا کہ ہم پر تو اس لیے مظالم ہوئے کہ دشمن بھارت کی فوج نے حملہ کیا تھا اور اس کے آلہ کار کھلے گھومتے تھے، مگر تم تو اس اسکول میں تھے جہاں سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں، تمھارے والدین سیاسی بھی نہ تھے بلکہ تم تو علم کے حصول کے لیے اندر جمع تھے تو پھر تمھیں کیوں قتل کیا گیا؟ شہید طلبہ نے ایک ساتھ مل کر جواب دیا کہ ہم دونوں کو اپنے مقاصد کے لیے نشانہ بنایا گیا، ورنہ قصور آپ نے کیا نہ ہم نے، آپ کے قاتل آج ڈھاکہ میں اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں پر فائز ہیں اور ہمارے قاتل اچھے دہشت گرد بننے کے لیے مذاکرات کی پیش کش کرتے ہیں، جنہیں صرف اس لیے تسلیم کیا جاتا ہے کہ کہیں ایسا سانحہ دوبارہ نہ ہو، مگر یہ دہشت گرد مفادات پورے ہوتے ہی پھر کچھ کریں گے۔ آخر میں دونوں سانحات میں شہید ہونے والے بچوں نے اونچی آواز میں ایک ساتھ کہا کہ ہم دونوں کا قاتل ایک ہے اور ہمارے قتل کی وجہ بھی ایک ہی تھی، مملکت خداداد کو کمزور کرنا، اس کے حصے بخرے کرکے اپنے لیے اقتدار کی راہ ہموار کرنا۔\r\n\r\nقائداعظم نے اختتامی خطبے میں کہا کہ اگر میرے اور فاطمہ جناح کے قتل کی تحقیقات کی جاتیں، لیاقت علی خان کے قاتلوں کی پشت پناہی کے بجائے انھیں کیفرکردار تک پہنچایا جاتا تو آج ملک بہت خوشحال ہوتا اور اس کی وہی تعبیر ہوتی جس کے لیے ہم نے جدوجہد کی تھی. ان الفاظ کے ساتھ قائد نے اپنا چہرہ جھکایا اور رخسار پر آنے والے آنسوؤں کو چپکے سے صاف کیا تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے۔ قائد کے خطاب سے تقریب اختتام کو پہنچی.\r\n\r\n(محمد عمیر نجی چینل سے بطور سب ایڈیٹر وابستہ ہیں)