سانحہ پشاور اور سقوط ڈھاکہ - محمد طیب زاہر

انسان کی زندگی میں غم کے پہاڑ ٹوٹ جاتے ہیں، اور ان سے سنبھلنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ وقت زخم بھر دیتا ہے لیکن ان زخموں کے نشانات ہمیشہ کےلیے جسم پر اپنے نقوش چھوڑ دیتے ہیں، اور ان نشانات کو دیکھ کر لگے ہوئے زخم پھر سے تازہ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ سانحہ آرمی پبلک ہائی اسکول وہ بد ترین واقعہ ہے جس کا زخم آج کے دن پھر تازہ ہوگیا ہے۔ اس سانحے کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 16 دسمبر وہ سیاہ دن ہے جس وقت بزدل دہشت گردوں نے اسکول میں گھس کر ہمارے مستقبل کے روشن معماروں کو ماند کرنے کی کوشش کی۔ وہ بچے جو اپنی ماؤں سے ماتھے پر بوسہ لے کر علم کی شمع روشن کرنے نکلے تھے، انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ بوسہ ان کے لیے آخری ثابت ہوگا۔ ان کی ماؤں کو کیا علم تھا کہ وہ اپنے بچوں کو آخری مرتبہ سینے سے لگا کر اپنی ممتا کو گرما رہی ہیں۔ وقت برق رفتاری سے گزرتا ہے۔ اس الم ناک سانحے کو 2 سال بیت گئے۔ 16 دسمبر 2014ء کو اس قیامت خیز گھڑی پر بکھری قوم یکجا ہوگئی، اور مل کر دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہوگئی۔ \r\n\r\nآج بھی شہدائے پشاور کی یاد میں ملک بھر میں اجتماعی دعائیں کی گئیں، شمعیں روشن کرکے مرجھائے ہوئے پھولوں کو یاد کیا گیا۔ سول سوسائٹی، این جی اوز کی جانب سے سانحہ پشاور کے شہدا کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ مرکزی تقریب آرمی پبلک ہائی اسکول میں منعقد کی گئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کرکے شہدا کے لواحقین کی ڈھارس بندھائی۔ ان کا بیان اہم ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایک ایک بچے کے خون کا حساب لیں گے. قیام امن اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یقینی طور پر ان کا یہ بیان شہدا کے لواحقین کے لیے امید کا روشن دیا ثابت ہوگا۔\r\n\r\nاس الم ناک واقعے پر جہاں پوری قوم افسردہ ہے، وہاں اس کا مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ نہتی لاشوں پر سیاست کرنے کے بجائے قوم کے ساتھ سول اور اعلیٰ قیادت میں یکجا نظر آئی، اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد شروع ہوگیا، اور بہت حد تک دہشت گردی پر قابو بھی پالیا گیا۔ اس بدترین دن پر پوری قوم رنجیدہ ہے، تو دوسری طرف اُجڑی گودوں میں ویرانی نے ماؤں کے آنکھوں میں آنسو بھر دیے ہیں۔ جو شاید تا قیامت تک وقتا فوقتا بہتے جائیں۔ دہشت گردی کے اس بدنما واقعے میں اساتذہ اور طلبہ سمیت 150 افراد شہید ہوئے، جن کی قربانی اور عظمت کو جتنا بھی سراہا جائے، کم ہے۔ \r\n\r\nاللہ پاک ان سب کی مغفرت کرے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین۔ مشہور موسیقار ساحر علی بگا نے سچ ہی کہا ہے کہ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قوم کا بچہ بچہ بشمول شہدائے پشاور کے یہ کہنے پر فخر محسوس کرتا ہے کہ میں ایسی قوم سے ہوں جس کے بچوں سے وہ ڈرتا ہے، بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے۔\r\n\r\n آخر میں جاتے ایک اور زخم جس کو یاد نہ بھی کیا جائے تو بھی وہ ماضی کی سزا بن کر ابھر ابھر کر ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔\r\n\r\nجی ہاں! سقوط ڈھاکہ، جس نے 1971ء میں سب پر سکوت طاری کردیا۔ اس الم ناک سانحے نے جو سوالات چھوڑے، ان کاجواب آج تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔ حمود الرحمن کمیشن ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے بنایا گیا لیکن اس سے بھی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔ بدنیتی کہا جائے یا سست روی، شاید دونوں کہیں نہ کہیں کسی صورت میں موجود ہیں، جس کے سبب آج تک ہم یقین سے یہ کہنے میں قاصر ہیں کہ حقیقی معنوں میں سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار کون ہے۔ قیاس آرائیاں اُس وقت بھی کی جاتی رہیں، اور آج بھی کی جا رہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ایوبی دور سے سلو پوائزننگ کا آغاز ہو گیا تھا، جس نے بالآخر یحی دور میں اپنا اثر دکھایا۔ کوئی کہتا ہے کہ بھٹو نے مجیب الرحمان کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا، یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ احساس محرومی کے پیدا ہونے اور پھر صبر کا پیمانہ لبریز ہوجانے کے سبب اہل بنگال نے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے کی جانب بڑھیں۔\r\n\r\nسقوط ڈھاکہ اور سانحہ پشاور دو ایسے سانحات ہیں جو اتفاقیہ طور پر ایک ہی دن میں وقوع پذیر ہوئے، اور دونوں کو کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے لخت جگر قوم پر وار دیے، اُن کی عظمت کو سلام کرنا ناکافی ہے، خواہ وہ آرمی پبلک اسکول میں جان کی بازی ہارنے والے ہوں یا ڈھاکہ کی گلیوں میں قربانی دینے والے ہوں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ان سب کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم یکجا ہوکر ملکی مفاد کے لیے کام کریں، اور متحد ہو کر دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیں کہ وہ بزدلانہ کارروائی کرنے سے قبل ہزار مرتبہ سوچنے پر مجبور ہو جائے۔