سانحہ اے پی ایس، دو سال اور نتائج - ارشد علی خان

آرمی پبلک سکول پشاورکے سانحے کو دو سال بیت گئے جس میں 132 طالب علموں اور اساتذہ سمیت سکول کے عملے کے 141 افراد بے دردی سے شہید کر دیے گئے تھے۔ اس المناک سانحے کے لیے دہشت گردوں نے وہ تاریخ متعین کی جس دن پاکستان کا ایک بازو (مشرقی پاکستان) الگ ہو کر دنیا کے نقشے پر بنگلہ دیش کے نام سے ابھرا (16 دسمبر ہمارے لیے اُسی وقت سے ایک سیاہ دن ہے، تاہم سانحہ اے پی ایس کے بعد یہ دن سیاہ ترین سے بھی آگے کی کوئی چیز نظر آتا ہے) اس عظیم اور المناک سانحے کے بعد ہماری سیاسی قیادت اپنی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ بھی کسی نقطے پر متفق ہوتی نظر آئی. (عمران خان نے اپنا مشہور زمانہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی اور مسلم لیگ ن کے حکومت میں آنے کے بعد میاں نواز شریف اور عمران خان کسی اے پی سی میں پہلی دفعہ اکٹھے ہوئے). مل بیٹھ کر نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیااور یہ عزم کیا گیا کہ دہشت گردوں کا بلاتفریق تمام ملک میں تعاقب کرکے ان کو نیست و نابود کیا جائے گا، تاہم یہاں ایک بات افسوس سے کہنا پڑتی ہے کہ تاحال وہ کچھ حاصل نہیں کیا جاسکا جس کا عزم و ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔\r\n\r\nسانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد بھی ہم سانحات ہی کے منتظر رہے ہیں اور اگر میں یہاں کرکٹ کی اصطلاح استعمال کروں تو ہمارے تمام ادارے ہمیشہ بیک فٹ پر ہی کھیل رہے ہوتے ہیں، اور ہمیشہ دہشت گرد حملوں کے بعد ہی جاگتے ہیں. سیاسی قیادت کو بھی کسی سانحے کے بعد ہی جاگ آتی ہے، اور مذمتی بیانات اور کمر توڑنے کے دعوی پوری ڈھٹائی سے شروع ہوجاتے ہیں. انٹیلی جنس کی بنیاد پر ناکام بنائے جانے والے دہشت گردانہ حملے بھی کم تعداد میں نہیں، تاہم دہشت گرد پھر بھی ہم سے اگر چار ،چھ قدم آگے نہیں، تو ایک قدم ضرورآگے ہوتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کے بعد بھی چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ ہم نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں المناک سانحے ہوتے دیکھے۔ سانحہ کوئٹہ پر عدالتی کمیشن کی رپورٹ ارباب اختیار و اقتدار سمیت پوری قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔\r\n\r\nخیبر پختونخوا کے درالحکومت پشاور میں ورسک ڈیم کی کرسچین کالونی میں دہشت گردوں کا حملہ اور صوبے کے دوسرے بڑے شہر مردان میں کچہری گیٹ پر خودکش حملہ ایک ہی دن ہوئے۔ پشاور کی کرسچین کالونی میں تو مسلح افواج کے جوانوں نے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنایا لیکن مردان میں دہشت گرد اپنا وار کرنے میں کامیاب رہے اور وکلاء، پولیس اہلکاروں سمیت 14 عام شہری شہید کر دیے گئے، تاہم اُس دن بھی ارباب اختیار و اقتدار کی جانب سے ان حملوں کو سافٹ ٹارگٹ قرار دیا گیا۔ 8 اگست 2016ء کو بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ کو لہو لہو کیا گیا اور سول ہسپتال کا سانحہ بلوچستان کے 75 بہترین وکلا کو ہم سے چھین کر لے گیا. حسب معمول اس سانحے کو بھی حکمرانوں نے سافٹ ٹارگٹ قرار دیا. سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل ایک رکنی عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو قیام امن میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُس دن بھی وفاقی و صوبائی وزارئے داخلہ اور وزیراعلی بلوچستان نے غلط بیانی سے کام لیا. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، وزارت داخلہ میں قیادت کا فقدان ہے اور یہ کہ نیشنل ایکشن پلان پر اُس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہورہا. رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ اتنے بڑے سانحات کے بعد بھی کالعدم تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرتے رہے. جوڈیشل کمیشن نے تمام کالعدم تنظیموں کے جلسے اور جلسوں پر پابندی لگانے، اُن کے ناموں، سربراہوں اور کارکنان کی فہرستیں مرتب کرنے اور ان فہرستوں کو عام کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔\r\n\r\nسول ہسپتال کوئٹہ کے بعد بھی بلوچستان امن کو ترستا رہا اور 24 اکتوبر 2016ء کو دہشت گرودں نے کوئٹہ کے مضافات میں صوبے کے واحد پولیس ٹریننگ سینٹر کو نشانہ بنایا جس میں 61 کیڈٹس شہید اور 165 زخمی کر دیے گئے۔ نااہلی کی انتہا دیکھیے کہ شہیدوں کی میتیں عام گاڑیوں کی چھتوں پر روانہ کی گئیں یعنی اپنے شہیدوں کو کم از کم وہ عزت و تکریم بھی نہ دی جا سکیجو ایک ایمبولینس کی صورت میں دی جانی ضروری تھی۔ \r\n\r\nیہ سلسلہ یہیں تھم نہیں جاتا، نااہلیوں کی داستان بہت طویل ہے۔ کراچی اور بلوچستان کے سنگم پر واقع صنعتی شہر حب کے مضافات میں حضرت شاہ نورانی کے درگاہ کو بھی نہیں بخشا گیا. رواں سال 12 نومبر کو ایک خودکش حملے میں 52 عقیدت مندوں اور زائرین کو شہید کردیا گیا جبکہ 100سے زائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے لیے کراچی شہر سے ایمبولینسیں منگوائی گئیں جو وہاں سے ایک گھنٹے سے زائد کے فاصلے پر واقع ہے، اور پھر کراچی کے بےہنگم ٹریفک سے نکلتے نکلتے بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اگر حب شہر میں ایمبولینس کا ایک بہترین نظام نہ سہی چھوٹا موٹا سیٹ اپ بھی ہوتا تو شاید شہید ہوئے کسی ماں کے لخت جگر، کسی بہن کے بھائی، کسی بیوہ کے شوہر اور کسی یتیم بچے کے باپ کو بچایا جاسکتا تھا، تاہم ایسے کام بلوچستان کی صوبائی حکومت کی ترجیح ہیں نہ وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔\r\n\r\nامریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے بعد جب دشمن کا تعین کر لیا گیا تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے اور اسے ختم کرنے کے بعد بھی آرام سے نہیں بیٹھے. (صحیح کیا یا غلط، افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں کے بعد دہشت گرد ی ختم ہوئی یا اس میں اضافہ ہوا؟ یہ ایک الگ بحث ہے تاہم امریکی سرکار نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے وہ تمام اقدامات کیے جو اُس کے نزدیک صحیح تھے )۔\r\n\r\nسانحہ اے پی ایس پشاور، کچہری گیٹ مردان، سول ہسپتال، پولیس ٹریننگ سنٹرکوئٹہ اور حب میں حضرت شاہ نورانی کے مزار جیسے بڑے اور المناک سانحات کے بعد بھی ہم اب تک گڈ اور بیڈ کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں اور بطور ریاست یہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ ہمیں کرنا کیا ہے؟ وزیر داخلہ کالعدم تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور انہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جلسے اور جلوسوں کی اجازت دی جاتی ہے۔ دوسری جانب عسکری اداروں کی سوچ بھی تمام ملک کے لیے یکساں نہیں۔ \r\n\r\nدہشت گردی کا ناسور تب تک موجود رہے گا جب تک ملک بھر میں بلاتفریق رنگ و نسل اور زبان کے اُن تنطیموں کے خلاف بھی بھرپور کارروائی نہیں کی جاتی جو سرکاری کاغذوں میں تو کالعدم ہیں تاہم درالحکومتوں میں جلسے جلوسوں اور ریلیاں منعقد کرتی نظر آتی ہیں۔ اختتام ایک جملے پر کرنا چاہوں گا جو آج کل سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ٹرینڈ کر رہا ہے کہ ہمارے لیے بمبنگ آپریشن اور پنجاب کے لیے کومبنگ آپریشن، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟