کامیابی میں فیصلہ سازی کا کردار - سید قاسم علی شاہ

فیصلہ کامیابی اور ناکامی دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے. فیصلے کے اثرات مستقبل کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ آج ہم زندگی کے جس کسی مقام پر بھی کھڑے ہیں تو یہ شعوری یا لاشعوری فیصلوں کی وجہ سے کھڑے ہیں. یہ فیصلے ہم نے کبھی ماضی میں کیے تھے۔ انسان کی خوش بختی اور بدبختی دونوں کا تعلق فیصلے کا ساتھ ہوتا ہے۔ اگر کسی قیدی سے پوچھا جائے کہ آپ یہاں پر کیسے پہنچے تو وہ جواب دے گا کہ مجھ سے ایک غلط فیصلہ ہوگیا تھا۔ یہی اگر کسی کامیاب انسان سے پوچھا جائے کہ آپ یہاں پر کیسے پہنچے تو وہ جواب دے گا کہ میں نے کچھ فیصلے ایسے کیے تھے، ان فیصلوں نے مجھے اس مقام پر لا کر کھڑا کیا ہے۔ تاریخ کے جتنے بھی کامیاب یا پھر ناکام انسان ہیں، وہ فیصلوں کی وجہ سے کامیاب یا ناکام ہوئے۔ کامیابی کے حوالے سے جتنی تحقیق ہوئی ہے، وہ یہ مانتی ہے کہ کامیابی میں فیصلوں کا کردار بہت اہم ہے۔ نپولین ہل نے کامیابی کے اوپر پچیس سال تحقیق کی، وہ تحقیق بھی یہ بتاتی ہے کہ جتنے بھی کامیاب لوگ ہوتے ہیں، ان کے فیصلے بہت معیار کے ہوتے ہیں، جبکہ جو لوگ ناکام ہیں وہ اپنے فیصلوں میں کمزور ہوتے ہیں، اور اس کمزوری کی وجہ سے وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔\r\n\r\nقسمت کے دوحصے ہیں، ایک حصہ جس کو بدلا نہیں جا سکتا، اور ایک حصہ وہ جس کو بدلا جا سکتا ہے۔ قسمت کا وہ حصہ جو بدلا جا سکتا ہے، اس کا انحصار فیصلوں پر ہوتا ہے۔ اگر فیصلے مضبوط اور واضح ہوں اور ان کو سوچ سمجھ کر کیا ہو، تو پھر قسمت کا یہ حصہ خوش قسمتی میں بدل جاتا ہے۔ جو لوگ فیصلہ نہیں کر پاتے، انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں ہم ناکام نہ ہو جائیں، جب تک بندہ اس خوف سے باہر نہیں نکل آتا یا اس پر قابو نہیں پاتا، اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا۔ جن لوگوں کے پاس علم کی کمی ہوتی ہے، وہ لوگ فیصلہ نہیں کر پاتے۔ ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ فیصلہ کرنا سکھایا نہیں گیا ہوتا، ہمارے ہاں گھروں کا کلچر کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ سارے فیصلے والدین کرتے ہیں جیسے کیا کھانا ہے، کیا پینا ہے، کیا پہننا ہے، کہاں داخلہ لینا ہے، کیا پڑھنا ہے اور کیا بننا ہے؟ یہ سب فیصلے والدین کرتے ہیں، پھر جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت اپنے بڑوں سے پوچھتے ہیں. یہ اچھی بات ہے، بڑوں سے پوچھنا بھی چاہیے لیکن یہ کہ سارے فیصلے بڑے خود ہی کرتے رہیں، اور بچوں کو فیصلے کرنے ہی نہ دیں تو ایسے میں بچوں کے پاس قوت فیصلہ نہیں آتی، اور وہ دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کی قوت فیصلہ کمزور ہوتی ہے، وہ کمزور شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ شعور کی پختگی اور شخصیت میں ٹھہراؤ فیصلہ سازی میں بہت معاون ہوتا ہے۔ جو بندہ کبھی فیصلہ نہیں کرتا، وہ سیکھ نہیں پاتا، یعنی سیکھنے کےلیے تجربے کرنے بہت ضروری ہیں، اور ان تجربوں کی وجہ سے ہی کامیابی ممکن ہوتی ہے۔\r\n\r\nجو لوگ فیصلے کرنے کے بعد اپنا فیصلہ بدل لیتے ہیں، انہیں فیصلے کے معانی کا پتا نہیں ہوتا۔ فیصلہ کا معنی یہ ہے کہ بندہ پہلے جس بھی حالت میں تھا، اس حالت کو ختم کر کے نئی حالت میں جائے۔ جو لوگ قدم اٹھانے کے بعد اپنے قدموں پر قائم نہیں رہتے، انہیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں ہوتا، فیصلے کےلیے خود پر اعتماد کرنا بہت ضروری ہے۔ وہ تمام لوگ جن کا دوسرے لوگوں پر اعتماد ہوتا ہے لیکن اپنے آپ پر نہیں ہوتا، ان کااعتماد مسئلے پر زیادہ ہوتا ہے، حل پر نہیں ہوتا، وہ کبھی اچھا فیصلہ نہیں کر سکتے، اگر وہ فیصلہ کر بھی لیں تو غلط کریں گے۔ بندہ ہمیشہ اچھے فیصلے برے فیصلوں سے کرنا سیکھتا ہے کیونکہ غلط فیصلوں سے سبق ملتا ہے۔ جب یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا، تو پھر اکثر فیصلے صحیح ہونے لگتے ہیں، کیونکہ وہ فیصلے تجربے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے سارے فیصلے ٹھیک ہوں، انسان ہونے کے ناطے اس میں سو خامیاں ہوتی ہیں، کوئی انسان کل کو نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور کل کو نہ جاننے کی وجہ سے کچھ فیصلے غلط ضرور ہوتے ہیں لیکن اس کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ بندہ قدم ہی نہ اٹھائے اور کوئی فیصلہ ہی نہ کرے ۔ جو لوگ فیصلہ کر کے بدل جاتے ہیں، وہ پہلے رکیں، سمجھیں، غور کریں اور کسی سے مشورہ کریں کیونکہ مشورہ کرنا سنت ہے۔ جب کسی سے مشورہ کیا جاتا ہے تو اس سے اس کی عقل بھی اس فیصلے میں شامل ہو جاتی ہے اور اس طرح فیصلے بہتر بھی ہو جاتے ہیں اور بندہ اپنے فیصلوں پر قائم بھی رہتا ہے۔\r\n\r\nغلط فیصلے بھی کچھ نہ کچھ ضرور دے کر جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برا وقت بہت کچھ آپ سے چھین کر چلا جاتا ہے لیکن برا وقت بہت کچھ سکھا کر بھی جاتا ہے۔ وہ فیصلے جو غلط ہوتے ہیں، ان فیصلوں سے بندہ جو کچھ سیکھتا ہے، دراصل وہ قیمت ادا کرتا ہے کیونکہ غلط فیصلے کے بعد بندے کو عقل اور سمجھ مل جاتی ہے، پھر یہ آنے والی زندگی میں بندے اور اس سے منسلک لوگوں کے کام آتی ہے اور پھر وہ لوگ بھی اس سے فیصلے کرواتے ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ کا بندے پر بےشمار کرم ہے، بےشمار فضل ہے وہاں پر عقل اور شعور کا مل جانا، سمجھ کا مل جانا بذات خود اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم ہے۔\r\n\r\nوہ لوگ جو مناسب وقت کی تلاش میں ہوتے ہیں، وہ کبھی فیصلہ نہیں کر پاتے۔ حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں ”جو کہتا ہے، میں کل بدلوں گا اس کا کل کبھی نہیں آتا.“ مناسب وقت کا بہانہ بنا لینا نالائقی ہے۔ جب بھی بندہ غلطیوں سے سیکھ کر فیصلہ کرتا ہے تو وہ تبدیلی کا وقت ہوتا ہے۔ جب بندے کے پاس علم آتا ہے، شعور آتا ہے اور سمجھ آتی ہے تو وہ آئیڈیل وقت ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہمیں تھوڑی سی ہمدردی چاہیے ہوتی ہے، تھوڑا سا ساتھ چاہیے ہوتا ہے، کندھا چاہیے ہوتا ہے، جب کندھا مل جائے، ساتھ مل جائے، سمجھ مل جائے اور ہمدردی مل جائے تو یہ بھی فیصلے کےلیے آئیڈیل وقت ہوتا ہے۔ فیصلے کا سب سے بہترین وقت وہ ہوتا ہے جس میں آپ سمجھتے ہیں کہ میں اس قابل ہوگیا ہوں کہ بعد کے نتائج کو سنبھال سکتا ہوں، بےشمار لوگ فیصلہ تو کر لیتے ہیں لیکن اس کے نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اگر آپ فیصلہ کر کے یہ کہنے کےلیے تیار ہوگئے ہیں کہ اب طوفان آئے، باد و باراں آئے، کچھ ہو جائے، میں نتائج کو قبول کروں گا تو پھر یہ جرات و ہمت فیصلے کے لیے مناسب وقت دے دیتی ہے۔\r\n\r\nجنتے بھی ماہرین اور دانشور ہیں، وہ اس بات کے قائل ہیں کہ کبھی بھی غصے یا خوشی کی حالت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، یعنی وہ تمام حالتیں جس میں بندہ جذبات میں قید ہو، ان میں کبھی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ تمام فیصلے جو بندے نے جذباتی حالت میں کیے ہوتے ہیں، بعد میں ان پر پچھتانا پڑتا ہے۔ حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں، ”غصہ وہ شیر ہے جو پورے مستقبل کو بکرا بنا کر کھا جاتا ہے“۔ ناامیدی کی حالت میں بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس حالت میں اندر کی آنکھ ایسی تصویریں دکھا رہی ہوتی ہے جس سے لگتا ہے کہ مستقبل اچھا نہیں ہے، اس حالت میں ناامید ی کے جذبات غالب ہوتے ہیں۔ جب بھی فیصلہ کریں تو دیکھیں کہ ہمارے دماغ کا وہ حصہ جو حقیقت پسندانہ ہے، وہ کتنا ایکٹیو ہے، کیونکہ وہ اعداد و شمار بناتا ہے، رسک بتاتا ہے، مستقبل کو سوچتا ہے، اندازہ لگاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کبھی جست لگانے کا فیصلہ کرنا ہو تو زندگی میں جو پہلے چھلانگیں لگائی ہیں، ان کو دیکھیں، پھر فیصلہ کریں کیونکہ ان سے فیصلے کی قوت ملتی ہے۔ کبھی جب فیصلہ کرنا ہو تو اس کو کچھ وقت کےلیے روک لیں، تھوڑا سا وقت لے لیں کیونکہ جن جذبات نے بندے کو قابو کیا ہوتا ہے، وہ ان سے باہر نکل آتا ہے۔\r\n\r\nزندگی صدیوں، سالوں، مہینوں یا دنوں میں نہیں بدلتی بلکہ اسی لمحے بدل جاتی ہے جب بندہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کو بدلنا ہے۔ اگر دوسمتیں بنی ہوں، ایک پر ایوریج لکھا ہو اورایک پر میموریبل، اور آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ میں نے باقی کی زندگی معیاری اور اعلیٰ گزارنی ہے تو اپنے اندر کی تصویر میں میموریبل پر ٹک لگائیں۔ اس دنیا میں مثالیں دینے والے بےشمار ہیں لیکن مثال بننے والے بہت کم ہیں، مثال بننے والے انسان بنیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی کامیاب ہے نہ کوئی ناکام ہے، اس دنیا میں صرف انتخاب ہے اور انتخاب فیصلوں سے ہوتا ہے۔\r\n\r\n اپنے فیصلوں میں اللہ تعالیٰ کو شامل کریں کیونکہ جب آپ اللہ تعالیٰ کو شامل کرتے ہیں تو وہ آپ کے فیصلوں میں برکت ڈال دیتا ہے، اور وہ فیصلے نہ صرف اچھے نتائج دیتے ہیں بلکہ ان فیصلوں سے دوسروں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ دوسروں کو بدلنے کا فیصلہ چھوڑیں، خود کو بدلنے کا فیصلہ کریں کیونکہ خود کو بدلنے سے دوسرے کئی لوگوں کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اس کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم کتنے قیمتی انسان ہیں۔ جب ہم بدلتے ہیں تو کتنا کچھ بدل جاتا ہے، اس لیے اپنے آپ کو بدلنے کا فیصلہ کریں۔\r\n

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */