حلب جل رہا تھا اور امت؟ محسن علی

کچھ روز سے حلب کی جنگ میں تیزی رونما ہوئی ہے تو دوسری طرف یمن کی جنگ میں ہر دس منٹ میں ایک بچہ جان سے ہاتھ دھو رہا ہے. جب بھی کچھ لکھنے بیٹھو تو ہمارے اپنے ملک میں کوئی واقعہ ہو جاتا ہے. قادیانیوں کے لیے لکھو یا کسی بھی اقلیت کے لیے تو لوگ آپ کی توجہ ملک سے باہر جنگوں کی طرف مبذول کروادیتے ہیں جبکہ اندر کے اندوہناک مسائل اتنے ہیں اور مسلسل ہیں کہ خدا کی پناہ۔\r\n\r\nمسئلہ یہ نہیں کہ حلب جل رہا ہے، اور میں یا کوئی اور کچھ کیوں نہیں لکھ رہا. لوگ ہر بات پر لکھ رہے ہوتے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا عراق، افغانستان، مصر، شام، تیونس، لیبیا وغیرہ میں جنگیں تھم گئیں تھیں جو بیچ میں خاموشی ہی خاموشی اور سکون ہی سکون رہا۔ فقط جنگ میں تیزی آئی ہے، وہ بھی ریال اور ڈالروں کی گٹھ جوڑ سے، کیونکہ سیاست ہو یا جنگ، وقت کی اہمیت ہوتی ہے، جو وقت پر پتے چلتا ہے، وہی کامیاب و کامران ہوتا ہے. انسانی جانوں کے یوں ضیاع پر افسوس ہونا چاہیے، چاہے وہ فلسطین میں، کشمیر میں یا کہیں اور، مگر ہمارے کئی المیوں میں سے ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کسی کو فلسطین کا غم ستاتا ہے اور کسی کو کشمیر کا، کسی کو یمن کا اور کسی کو شام کا۔ مطلب یہ کہ فقہ دیکھ کر افسوس کیا جاتا ہے اور ہمارے جو دوست امہ امہ کرتے ہیں اور فیس بک پر مخالفین کی گردنیں اپنے قلم کے زیر نوک رگڑ دیتے ہیں، مگر کیا کبھی انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی یا ایسے اداروں کی ویب کھول کر انہیں لکھنے کی توفیق ہوئی، کبھی متعلقہ دفاتر میں اپنی ای میلز ڈالیں، فارن آفس میں کوئی بات پہنچائی کہ ان کے مسلمان بھائی کس حالت میں ہیں؟ سارا زور اور سارا شور محض فیس بک پر اور لکھاریوں اور ویب پر لکھنے والوں کو لتاڑنے میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ بات جب بھی ہوتی ہے تو دونوں طبقات ایک دوسرے کی تاریخ صحیح کرنے میں لگ جاتے ہیں، بجائے مسئلے پر بات رہے، جب بھی نئی جنگ چھڑتی ہے تو ہر بار باور کروانا پڑتا ہے کہ جناب امریکہ آگ لگا رہا ہے، روس کا مفاد ہے، آپ کود رہے ہیں، ا س وقت یہی لوگ اپنے مسلک و فقہ کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے اس جنگ کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور بعد میں جب کسی بھی مسلک کے لوگوں کو شکست ہونے لگتی ہے تو دوسرے طبقے کو رگڑنا اور ان کی پگڑی اچھالنا شروع کردیتے ہیں۔\r\n\r\nہم پاکستانیوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے کبھی مکمل جنگ دیکھی نہیں مگر دوسروں کی جنگ میں کسی نہ کسی طرز سے پہلے کودتے ہیں، پھر وہ آگ جب ہم تک آتی ہے تو یہود و نصاری کی سازش لگتی ہے۔ عرب اسپرنگ کی اصطلاح تیل کے ذخائر اور معدنیات کو ہضم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، جس کے پیچھے جمہوریت کے فروٖٖغ جیسے خواب دکھائے گئے مگر کیا تیس چالیس سال سے انکل سام کی آنکھوں کے سامنے یہ ریاستیں نہیں چل رہی تھیں، وہ بھی ان کی حمایت سے؟ جناب حلب جل رہا ہے، بالکل جل رہا ہے مگر کسی ملک معاملات میں دخل انداز ہونے والی بیرونی طاقت کے ایما پر۔ \r\n\r\nآپ کہتے ہیں احساس نہیں ہوتا. جی ہوتا ہے، بالکل ہوتا ہے، مگر کیا کریں، نوحہ کناں رہیں مگر کب تک؟گریباں چاک پھریں، مگر کب تک؟ اپنے ہی ملک کے اتنے غم و رنج جینے نہیں دیتے اور پھر آپ لوگوں کے الفاظ و لہجے جو مارتے ہیں۔ اگر میں کہوں حلب جل رہا ہے اور یمن میں ہر دس منٹ میں ایک بچہ مر رہا ہے، اس پر بھی تھوڑا نظرثانی کریں، آپ انسانوں کو عربی و عجمی نقطہ نظر سے دیکھنا چھوڑ دیں، انسانی نقطہ نظر سے دیکھیں یا پھر جس امت کا دم بھرتے ہیں تو اس کے ناتے ہی تمام مسلم ریاستوں پر مرثیہ گوئی کرلیں۔ تعصب کی عینک سے نکل کر دیکھیں۔ انسانی جان کی حُرمت پر سوال اٹھائیں، قطع نظر اس کے کہ وہ کس مسلک و مذہب کا ہے؟ بہت سے مسائل کا حل اور فضول بحث مباحثے سے بچت ہوگی۔