تِھری ڈِی کُڑیاں اور وزیراعلی - ونود ولاسائی

رافع یار جلدی چلو مُجھےگھر چھوڑ کر آؤ، ضروری کام ہے. دو تین بار بولنے کے باوجود اُس صاحب پر کُچھ فرق نہیں پڑا. انعام بولا سر میں چھوڑ کر آؤں.؟ یار محمد کی پیچھے سے کچھ ضرورت سے زیادہ ہی بھاری آواز میری سندھ کی جوان کو میں ہی چھوڑ کر آؤں گا، لیکن آپ کے ساتھ تو سر رابیل ہے، رافع نے طنزیہ لہجے میں بولا، یار محمد جو پہلے سے ہی بھرا ہوا تھا، بس برس پڑا رافع پر، چل بے چور بازار کی ٹوٹی ہوئی چپل، تو جاکے راستے ناپ، ہم چلے گنگا نہانے.. سارے ہنسنے لگے.

بڑی عجیب بات ہے یار محمد آج فارم ہے، کوئی موقع نہیں چھوڑتا.. لیکن اب رافع کی عزت کا سوال ہوگیا تھا، سر آپ آجائیں میرے ساتھ، میں چھوڑ کے آتا ہوں.. اب تو میں نے بھی کوئی دیر نہیں کی، جا کر بائیک پر بیٹھا اور رافع نے بائیک کے دونوں کان کس کر پکڑے اور قاسم آباد کی سڑکوں سے کچرے کے ڈھیروں سے نکل کر نسیم نگر پہنچے. دل دھڑکنے لگا، دوپہر کی بھاری روشنی کا سینہ چیر کر کوئی عجیب سی لیکن بےحد خوبصورت روشنی اپنے طرف کھینچنے لگی تھی. لوگوں کی بھیڑ جمع تھی، ڈھول شہنائیوں کی آواز، ایکو پر مست قلندر کی دھمال، لوگ بس جا رہے اور جا رہے تھے. ہم بھی سب کی طرح ہی تھے، بس لوگ چل رہے ہیں، چلو ہم بھی اُس کا طواف کرتے ہیں.

رافع بولا کیا پروگرام ہے، چلیں؟ مجھے تو گھر پر کام تھا لیکن پھر بھی، چلو یہاں کا تماشہ بھی دیکھ کے چلتے ہیں. تو اب ہم اس دیوار کی چوکھٹ پر پہنچ ہی گئے، لوگوں کی بھیڑ میں ایک سترہ سال کی دوشیزہ جو بالکل کپاس جیسی رنگت کی مالک تھی، رافع کُچھ سمجھ میں آیا.؟
نہیں سر، کیا؟
لوگ اس حور کے لیے آئے ہیں.
ہاں سر! ہم بھی تو کسی سی کم نہیں ہیں.
چل چل کپڑا ڈال لے منہ پر، شکر کرو انھوں نے ہم کو غور سے نہیں دیکھا، ورنہ نزدیک ہی نہ آنے دیتیں.
سب لمبی لائن لگا کر کھڑے تھے، زونگ کی حور ٹکٹ کاٹنے میں مصروف تھی، ہم بھی اس بھیڑ کا حصہ بن گئے.
ایک نوجوان سے میں نے پوچھا، بھائی صاحب! یہ محترمہ کس چیز کا ٹکٹ کاٹ رہی ہے ـــ کیا یہ وہ...؟
بھائی صاحب! بڑے عجیب بندے ہو ــ یہ بس میں چڑھنے کا ٹکٹ ہے ... یہ جو کھڑی ہے، دکھنے میں نہیں آرہا کیا؟
ہاں ہاں بھائی صاحب دیکھ لی دیکھ لی. اب تو اس کے حسن میں اتنے مدہوش ہوگئے کہ اس کے علاوہ کوئی چیز دکھ نہیں رہی تھی، سب کچھ دھندلا سا ہو گیا تھا سوائے اس کے. پین کو اپنی نازک سی انگلیوں تلے ایسے تھاما تھا کہ پین بھی پاگل ہو کر رقص کرنے لگی تھی .ــــ اُف بنانے والے کمال کرتے ہو ... کسی میک اپ کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے، اتنا نکھار ـــــ جو بھی ہے بس کمال ہے...

او ادا او بھاؤ ... ادا سائیں... پیچھے سے کسی نے آواز دی، مڑ کر دیکھا، ایک خاتون تین میلے کُچیلے بچوں کو ساتھ لے کر کھڑی تھی ـــ ہاتھ میں دو رپیہ کے چھ سات سکے تھے ــــ اس کے بچوں کی آنکھوں میں حسرت تھی، بھوکے ننگے اپنے ننھے منے ہاتھوں میں گند کے ڈھیر سے اُٹھائے ہوئے روٹی کے ٹکڑے تھامے ہوئے تھے .... جسم پر کپڑے نہیں تھے، کپڑوں کے نام پے دھبہ تھا ــــ خاتون آ کر میرے پاس کھڑی ہو گئی .... کیا یہ وطن کارڈ بنانے والے ہیں؟ یہ پوچھتے ہوئے اس خاتون کے چہرے پر بڑی حسرت تھی، ایک طلب تھی ـ میں نے سوچا وطن کارڈ کے نام پر جو حکومت نے سندھی عوام کے ساتھ مذاق کیا ہے، اس پر ہر باشعور احتجاج میں ہے، پھر یہ پاگل عوام پھر سے اپنے لبوں پر وطن کارڈ کا نام کیسے لاسکتی ہے..؟ پھر سوچا اگر شعور ہوتا تو وطن کارڈ والی لعنت ہی نہیں آتی.. میں نے کہا نہیں اماں جی! یہ موبائل میں جو سم لگتی ہے، اس کمپنی والے ہیں... تو کیا یہ شناختی کارڈ والے بھی نہیں ہیں.؟ نہیں اماں..

یار حد ہے، جن کو ایک وقت کی روٹی کے لیے در در بھٹکنا پڑتا ہو، انھیں شہریت کی بھلا کیا ضرورت؟ وہ خاتون سب سے ایک روپے کا سوال کرتی چلی گئی، سامنے سے مخمل جیسی دوشیزہ پر دوبارہ نظر پڑی تو اندر سے ساری تکلیفیں چل بسیں .... دوشیزہ ٹکٹ کاٹ رہی تھی، ساتھ ہی کھڑی بس میں بیٹھ کر آنند لینے کے لیے، رافع پھر سے چلایا، سر آگے آجائیں .. میں ڈر رہا تھا کہیں کرنٹ نہ لگ جائے، پھر بھی کشش سے کھینچا چلا گیا ... جی سر! اپنا نام بتائیں، ہونٹ تو ہلے لیکن سُنائی کچھ نہ دیا، بس کھو گیا آنکھوں میں.. بڑی مشکل سے ٹکٹ ملا، لڑکی بھی حیران کہ کون سا عجوبہ آ ٹپکا ہے ... ٹکٹ لیے بس کے گیٹ پر پہنچے تو ایک اور دوشیزہ بھڑکتے شعلے کی مانند تھی، گیٹ پر کھڑی ٹکٹ چیک کر رہی تھی، دل میں سوچا، یار آج یہ موبائل کمپنی والے مُجھے مار کر چھوڑیں گے، اتنا حُسن ساتھ لے کر گھومتے ہیں، کسی کی صحت کا کوئی خیال ہی نہیں.

دوشیزہ نمبر دو نے بڑے ملائم لہجے سے ہمیں اندر بٹھایا .... رافع گھورنے لگا .. میں نے کہا رافع بیٹا کنٹرول.. نہیں ہوتا سر، رافع بولا. ان لوگوں کو اگر ہماری حرکتوں کا پتہ چل گیا تو اُٹھا کر باہر پھینک دیں گے، اس لیے کہتا ہوں اوقات میں رہو. اچانک خیال آیا کہ اتنی اچھی ائیرکنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھے ہیں تو فیس بک پر اسٹیٹس دے ہی دیتے ہیں.. فیلنگ چُلبلی....!انجوائنگ ود ویری بیوٹیفل پرنسس آف موبائل کمپنی. انسائیڈ اے سی کوچ.. مگر نیٹ پیکج ختم ہو چُکا تھا، اب کیا کریں، سوچا یار کمپنی کی گاڑی میں بیٹھے ہیں تو نیٹ تو فری ہوگا ہی..
ہیلو مس!
دوشیزہ نے مُڑ کر پوچھا، جی سر! میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں ....
کیا اسٹائل تھا ... موقع تھا کہ کُچھ کہے دیتے ہیں ـ لیکن کنٹرول کر لیا .. مس وائے فائے پاسورڈ مل سکتا ہے..
معاف کرنا سر.
آپ کو سات خون معاف ہیں مس..
سوری؟؟
نہیں کچھ نہیں..
آپ بیٹھیں اطمینان کے ساتھ، سب کچھ دیا جائے گا.

سب نوجوان آ کر بیٹھے، آپس میں سرگوشیاں چل رہی تھیں. اتنے میں ایک بوڑھا آدمی سوار ہوا ... واہ واہ حسن بوڑھوں کو بھی کھینچ لایا ہے..
بوڑھے نے آواز لگائی، یہاں کُچھ کھانے کو ملے گا؟ کوئی آٹا، چینی اور گھی وغیرہ... ہماری حکومت اور ہمارے سماجی اداروں نے ہمارے ہرے بھرے سندھ کے لوگوں کو صرف بھیک مانگنا ہی سکھایا ہے. ایک نوجوان نے پیچھے سے آواز لگائی، نا بابا سائیں، یہاں تو صرف دیکھنے کو ملتا ہے.. پھر تو میں چلا، یہ کہتے ہی بوڑھا شخص اُٹھ کر جانے لگا. اتنے میں ایک اور فلموں کی ہیروئن جیسی بالکل بالی وڈ کی تاپسی پنو جیسی دوشیزہ اُٹھی، جا کر بزرگ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگی، آپ تھوڑی دیر بیٹھیں، ہم آپ کو کچھ دکھانا چاہتے ہیں پھر بھلے چلے جائیں.. بوڑھے میاں اب ایسے بیٹھے جیسے ساری گاڑی ان کی ہوگئی..

اب ساری گاڑی میں تھری ڈی چشمے تقسیم کیے گئے.. سب سے اُتم سندری اُٹھی اور مائیک ہاتھ میں لے کر بس میں سوار مسافر حضرات سے مخاطب ہوئی.. السلام علیکم دوستو.. آپ لوگ تھری ڈی گلاسز پہن لیجیے، ہم ایک ویڈیو چلانے والے ہیں.
سب نے گلاسز پہن لیے، بزرگ چشمہ پہنتے بولے، یہ کالا چشمہ پہنا کر ہمیں اندھا بنانے کا پروگرام ہے کیا.؟ آپ لوگ کیا کرنے والے ہیں ہمارے ساتھ.
لڑکی بولی، سر ہمارا اور کوئی ارادا نہیں ہے، بس یہ چشمہ پہننے سے آپ کو ویڈیو صاف نظر آئے گی..
اچھا اچھا.. ٹھیک ہے تو ہم دیکھتے ہیں..
ویڈیو چلائی گئی، ہم سارے کالے چشموں کے ساتھ ہیرو لگ رہے تھے .. بس کیا کہیں کالے کالے مکھڑے پہ کالا کالا چشمہ... اب سامنے اتنی حسین دوشیزہ کھڑی ہے، جس کی تعریف کی جائے تو ان گنت پنے کالے ہو سکتے ہیں .... ایسا حسن سچ مچ یقین نہ آئے، تھری ڈی گلاسز سے تو اور بھی نکھری ہوئی لگ رہی تھی ... میرے طرف دیکھتے ہوئے سر آپ کو نظر آ رہا ہے... میں بھی نا .. بس بول دیا، ہاں مس! نظر آ رہی ہو بالکل ـ کیا میں آپ کے آگے آ رہی ہوں؟ نا نا مس! بالکل بھی نہیں ـ آپ تو صحیح کھڑی ہیں..

ویڈیو ختم ہوئی، چند لمحے کی چاندنی تھی، گلاسز واپس لے لیے گئے... دوشیزہ نے پھر سے مائیک اُٹھایا، اور ایسے پیار سے پکڑا کہ بے دھڑک میرے منہ سے نکل گیا.. کاش ـ! میں مائیک ہوتا.. تو دوستو آپ کو مزا آیا. بہت جیادا مس.. اس کے چہرے پر مُسکراہٹ آ گئی تھی، جس سے وہ اور بھی خوبصورت لگنے لگی تھی. تو دوستو اور ساتھیو! اب ہم لوگ ایک اور ویڈیو دیکھتے ہیں، اس کے لیے آپ لوگوں کو گلاسز کی ضرورت نہیں پڑے گی... خاموش بیٹھ کر ویڈیو چلنے کا انتظار کرنے لگے، اتنے میں باہر سے آوازیں آنے لگیں، کوئی بس کو زور سے مار رہا تھا...
مس کیا ہو گیا ہے؟
کچھ نہیں بیٹھ جائیں.
دروازہ کھولا گیا، پولیس والے اندر آئے اور سب کو باہر نکالنے لگے.
نکلو نکلو..
مس! کیا ہوا؟ کیوں باہر نکال رہے ہیں؟
دوشیزہ کے چہرے پر غصہ تھا، اور معصومیت بھی، مایوسی بھی دکھنے لگی تھی.
سر آپ جائیں، ہم جارہے ہیں یہاں سے.
مس پھر کہاں جاؤ گے.
پیچھے سے کسی نے دھکا دیا ابے چل بے.
ہاں بھائی صاحب جا رہے ہیں.
نیچے اُتر کر دیکھا، بھاری تعداد میں پولیس کھڑی تھی، چلو چلو جاؤ، بس نکلو جلدی جلدی.
بھائی صاحب کوٹھوں میں تو اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے، پر یہاں کیوں؟ آپ کو نہیں پتا کیا؟ پولیس والا رعب دارا آواز میں بولا.
میں نے بھی ڈر سے کہا، نہیں.
وزیراعلیٰ صاحب یہاں سے گُذرنے والے ہیں.

Comments

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی نوکوٹ تھرپارکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایم فل سماجیات کے طالِب علم ، اور سماجی و ہیومن رائٹ کارکن ہیں۔ اسٹوری رائٹر کے طور پر شناخت بنانا چاہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.