کیا کامیابی کے کوئی عمومی اصول ہیں؟ عاطف حسین

موٹیویشنل اسپیکر حضرات اور سیلف ہیلپ لکھاری عام طور کامیابی کے کچھ عمومی ْاصولٗ یعنی کچھ ایسی چیزیں بیان کرتے ہیں جن کو اپنا کر کوئی بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔ راقم کی رائے میں ایسے تمام دعوے محل ِنظر ہیں کیونکہ یہ ”اصول“ مختلف عادات اور کامیابی کے درمیان ایک خیالی Correlation کی بنیاد پر اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کی تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہے۔ فرض کرلیجیے کہ یہ اصول کسی ”کامیاب“ آدمی نے خود اپنی زندگی سے اخذ کیے ہیں تو بالکل ہی ناقابلِ اعتبار ہیں کیونکہ اپنے بارے میں سوچتے ہوئے ایک Bias انسان کی سوچ پر اثر انداز ہونا شروع ہوجاتا ہے جس کو Self-serving Bias کہتے ہیں، جس کے تحت انسان لاشعوری طور پرSelf Esteem بڑھانے کے لیے عموماً اپنی کامیابیوں کو قابلیت کا اور ناکامیوں کو حالات کا نتیجہ سمجھتا رہتا ہے۔ اس گمان کو قائم رکھنے کے لیے انسان پھر Selective Perception استعمال کرتا ہے، یعنی وہ ان واقعات کو یاد رکھتا ہے جن سے اس کے اس خیال کا درست ہونا ظاہر ہوتا ہو جبکہ ان واقعات کو بھلا دیتا ہے جن سے اس کے خیال کا غلط ہونا ظاہر ہوتا ہو۔\r\n\r\nیہ اصول اگر کسی نے بزعمِ خویش کامیاب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کرکے اخذ کیے ہیں تو بھی ناقابلِ اعتبار ہیں کیونکہ آپ کسی کی پوری زندگی کا مطالعہ کر ہی نہیں سکتے۔ آپ کے پاس تمام معلومات ہوتی ہی نہیں ہیں۔ اور ساری معلومات کے بغیر اور کسی فول پروف Methodology کے بغیر محض الل ٹپ کسی کی زندگی مطالعے سے جو نتائج اخذ کیے گئے ہوں تقریباً یقینی ہے کہ ان پر بہت سارے Biases اثر انداز ہوئے ہوں گے۔ (یہاں ضمناً ایک اور بات بھی کرنی ضروری ہے کہ ریسرچ یوں ہی الل ٹپ نہیں ہوتی بلکہ پہلے اس کو اس طرح سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ Biases اس پر کم سے کم اثر انداز ہوسکیں۔ مزید یہ کہ قابلِ اعتبار ریسرچ عموماً Peer Reviewed Journal میں شائع ہوتی ہے۔ یہ ایسے جرنلز ہوتے ہیں جس میں کسی ریسرچ کو شائع کرنے سے پہلے اس فیلڈ کے ماہرین سے Assess کروایا جاتا ہے اور اگر وہ کہیں کہ ہاں یہ ریسرچ بظاہر ٹھیک طریقے پر ہوئی ہے تو تب اسے Publish کیا جاتا ہے۔ لہذا کسی ریسرچ کے نتائج پر اعتبار کرنے سے پہلے یہ چیزیں دیکھ لینی چاہییں۔)\r\n\r\nمزید یہ کہ جب ہم کسی کامیاب آدمی میں کچھ خصوصیات دیکھتے ہیں تو سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ ہو نہ ہو، اس کو کامیابی ضرور انھی خصوصیات کی وجہ سے ملی ہے۔ یہ ایک طرح کا فریبِ خیال ہے کیونکہ ممکن ہے کہ جس عادت کو ہم کامیابی کی کنجی سمجھ رہے ہوں، وہ محض ایک ایسی خصوصیت ہو جس کا کامیابی یا ناکامی کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ اس طرح کا کوئی نتیجہ نکالنے کے لیے کم ازکم کامیاب اور ناکام لوگوں کی عادات کا موازنہ ضرور کرنا چاہیے تاہم ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔\r\nنسیم طالب اس کی وضاحت یوں کرتا ہے:\r\n”امارت اور شہرت پیدا کرنے والی خصوصیات جاننے کے لیے عموما یہ کیا جاتا ہے کہ امیر اور مشہور لوگوں کا ایک گروہ لیا جاتا ہے اور وہ خاصیتیں تلاش کی جاتی ہیں جو ان سب میں مشترک ہوتی ہیں۔ ایسی سٹڈیز کرنے والے عمومآ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ چونکہ حوصلہ مندی، امید پرستی اور خطرات مول لینے کی عادت ان سب میں مشترک ہے لہذا یہی خصوصیات خاص طور پر خطرات مول لینے کی عادت ہی ان کی امارت و شہرت کی وجہ ہے۔ کامیاب منتظمین کی دوسروں سے لکھوائی ہوئی آپ بیتیاں پڑھتے ہوئے یا ان کی ایم بی اے کے طلبہ کے سامنے کی جانے والی تقریریں سن کر بھی آپ کو ایسا ہی تاثر ملے گا۔ \r\nاب ذرا ایک نظر ناکامی کے قبرستان پر بھی ڈالیے۔ لیکن یہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اول تو ناکام لوگ اپنی یادداشتیں لکھتے ہی نہیں اور اگر لکھیں بھی تو پبلشر حضرات ان کو فون کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرنے والے۔ اسی طرح قارئین بھی ناکامی کی کوئی کہانی پڑھنے کے لیے چھبیس اعشاریہ نو پانچ ڈالر نہیں خرچ کرنے والے، چاہے آپ ان کو جتنا بھی قائل کریں کہ اس میں کامیابی کی کسی کہانی سے زیادہ مفید ترکیبیں موجود ہیں۔ درحقیقت آپ بیتاں لکھنے کا مقصد ہی بعض خصوصیات اور کامیابیوں کے درمیان بلاثبوت سبب اور نتیجے کا تعلق قائم کرنا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ ناکام لوگوں کے قبرستان پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی امیروں کے گروہ کی طرح آپ کو امید پرستی، حوصلہ مندی اور خطرات مول لینے والے بہت سارے مل جائیں گے۔ کامیاب اور ناکام لوگوں کے درمیان مہارتوں کا کچھ فرق شاید ہوتا ہو لیکن ان کے درمیان فرق کرنے والی اصل چیز صرف اور صرف قسمت ہے!“\r\n\r\nکسی عادت کے متعلق یہ دعویٰ کہ اس سےکامیابی پیدا ہوتی ہے صرف اس صورت میں کیا جاسکتا ہے جب وہ عادت کامیاب لوگوں میں ہمیشہ پائی جائے اور ناکام لوگوں میں کبھی نہ پائی جائے۔ لیکن ناکام لوگوں کی زندگی کی کہانیوں کو ایسی کوریج ملتی ہی نہیں کہ ان کا مطالعہ کیا جاسکے، نہ ان کے مطالعے میں کسی کو دلچسپی ہے۔ تاہم اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو راج مزدوروں سے لے کر رکشہ ڈرائیوروں تک انتھک محنت، نظم و ضبط اور حوصلہ مندی سمیت قریب قریب سارے ہی مبینہ طور پر امارت خیز اوصاف سے متصف غریب لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں۔\r\n\r\nحقیقت پر پردہ پڑے رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر کامیاب پیشہ ور موٹیویشنل سپیکرز کی ابتدائی زندگی واقعی بہت عسرت میں گزری ہوتی ہے، لیکن اپنی تحریروں اور تقریروں کی بدولت وہ نہ صرف مناسب دولت بلکہ اچھی خاصی شہرت بھی کما لیتے ہیں۔ اس سے انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ ہر کوئی اسی طرح اپنے حالات بدل سکتا ہے۔ ان کے سننے والے بھی جب ان کی کہانی سنتے ہیں تو انہیں بھی یقین آنا شروع ہوجاتا ہے کہ واقعی غربت کسی کا راستہ نہیں روک سکتی اور انسان اپنے حالات خود بدل سکتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ موٹیویشنل سپیکر بننا اکثر کاموں سے آسان اور اس میں کامیابی کا امکان باقی کاموں کی نسبت زیادہ ہے کیونکہ اس کے خریدار بہت ہیں۔ موجودہ دنیا میں دولت عزت کا قریب قریب اکیلا معیار سمجھ لی گئی ہے، لہذا ہر کوئی اسے کمانے کے گر سیکھنا اور یہ یقین کرنا چاہتا ہے کہ وہ لامحدود دولت کما سکتا ہے۔ لہذا جو بھی خواب فروشی شروع کردے اس کے پاس خریداروں کا ہجوم لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس کسی بھی حقیقی کام، فرض کر لیجیے ایک ہوٹل شروع کر کے چلانے کے لیے اس سے کئی گنا زیادہ مہارت، محنت، وسائل اور خوش قسمتی چاہیے ہوتی ہے۔\r\n\r\nکامیابی کے ”اصولوں“ کی طرح ر اقم کی رائے میں کوئی ایسا Coach بھی نہیں ہوسکتا جو ہر پروفیشن کے لوگوں کو کامیابی کے گر بتا سکے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ متعلقہ پروفیشن کا کوئی آدمی اسی پروفیشن کے لوگوں کامیابی کی کوشش کے کوئی ٹپس دے سکے۔ تاہم یاد رہے کہ یہ بھی محض ایک کوشش ہوگی جو کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔\r\nبرآں مزید، جیسا کہ بحث ہوچکی ہے کہ اول تو کامیابی کے کوئی عمومی اصول اور مشورہ کار ہو نہیں سکتے۔ بالفرض محال اگر ہوں بھی تو اس کا امکان تھوڑا ہے کہ ان کو سننے والوں کو کسی قسم کا فائدہ ہوتا ہو۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ جو لوگ کسی موٹیویشنل سپیکر سے رجوع کرتے ہیں، وہ اکثر وہی ہوتے ہیں جو پہلے بھی کرچکے ہوتے ہیں۔ بعض دعووں کے مطابق تو سیلف ہیلپ کے 80 فیصد گاہک بار بار پلٹ کر آنے والے ہی ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو ایسی باتیں سننے کا چسکا لگ جاتا ہے اور واقعی کسی قسم کا حقیقی کام کرنے کے بجائے ایک خوش کن تخیلاتی دنیا کے مکین بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس قسم کی باتوں سے متاثر ہونے میں معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دخل ذہانت کی کمی کا بھی ہے۔حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ موٹیویشنل معلوم ہونے والے بالکل احمقانہ اور بے معنی اقوال کو ان لوگوں نے صحیح سمجھا اور متاثر کن کہا جن کی ذہانت کم تھی۔\r\n\r\nہمیں کامیابی اور ناکامی کی از سر نو تعریف کرنے اور اور سماجی دنیا کی پیچیدگیوں کے بہتر ادراک پر مبنی ایک بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔\r\n\r\n