گناہ اور برائی کا بدلتا تصور - فرح رضوان

میرے ہاتھ میں ”علی بابا چالیس چور“ کہانی کی کتاب تھی اور دماغ میں ان گنت سوالات، جب ابو نے بہت پیار سے مجھے سمجھایا کہ علی بابا بھی چور ہی تھا اور چور کبھی بھی ہیرو نہیں ہو سکتا. اسلام میں رابن ہڈ جیسے کسی کیریکٹر کا کوئی تصور نہیں، جو امیروں سے مال چھین کر غریبوں میں بانٹے، وہ حقیقت میں لٹیرا اور سزا کا مستحق ہے، سر پر بٹھانے کا نہیں. ننھے سے دل کو ہیرو کرداروں کا پل بھر میں زیرو ہو کر زمین بوس ہو جانے کا صدمہ، اور پھر سوال، کہ آخر ایسی باتیں اور یہ کتابیں پھر پبلش ہی کیوں کی جاتی ہیں؟ بکتی کیوں ہیں؟ ہم خریدتے اور پڑھتے کیوں ہیں؟ اور جواب یہی تھا کہ یہ سب تو دنیا اور اس کے کاروبار کے طریقے ہیں، اور ہم پڑھتے اس لیے ہیں کہ پہلی بات ریڈنگ بہتر ہو، دوسرا یہ کہ روایتی کہانیاں ہر کلچر کا حصہ ہوتی ہیں، ان سے بالکل انجان بھی تو نہیں رہ سکتے نا! لیکن اتنا نادان بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے اچھے برے پہلو سے بےخبر ان کی ہر بات پر ایمان لے آیا جائے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ انسان جانتے بوجھتے یا انجانے میں اسی طرح کے کردار میں ڈھل جاتا ہے.\r\n\r\nتب اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس وقت دی جانے والی کڑوی دوا آگے جا کر کتنی مفید ثابت ہوگی، اور اس بات کا اندازہ بھی بہت بعد میں ہوا کہ دوسری طرف امی جب کبھی بھی کوئی کہانی سناتیں تو وہ سنو وہائٹ ہو یا سنڈریلا یا کوئی بھی حسینہ، امی اس کے حسین ہونے یا کسی بھی ولن کی بد شکلی کی وجہ اس کا کردار بتاتیں کہ یہ دل کا کھوٹ ہوتا ہے جو انسان کتنا بھی چھپائے لیکن اس کے چہرے، لہجے، عمل اور کردار میں خرابی کا سبب اور چہرے پر بدصورتی بن کر ابھرتا ہے، جبکہ خوبصورتی بھی صرف تیکھے نقوش اور گوری رنگت کی وجہ سے نہیں بلکہ نرم لہجے، اچھی سیرت، عمدہ نیت کی وجہ سے ہوتی ہے، اس سے جو کردار بنتا ہے، وہ سب کے لیے کشش کا باعث ہوتا ہے. وہ زیادہ تر اصلی اسلامی ہیروز کے قصے، اور انبیاء علیھم السلام کے واقعات یا پھر بہت بلند حوصلہ افراد کے بارے میں بتاتیں.\r\n\r\nیہ باتیں ہم سب کو اپنے بچوں کو بلکہ خود کو بھی سمجھانا کس قدر ضروری ہیں، کل تک ان باتوں کی وہ اہمیت سمجھ ہی نہیں آ سکی تھی جس طرح آج خبریں جان کراندازہ ہوتا ہے. کسی بھی ملک کے اخبارات اس معاشرے کے حالات اور اس کی سوچ کا عکس ہوتے ہیں، اور ہمارا یہ آئینہ ہر روز کیا دکھاتا ہے؟\r\nفلاں لڑکے نے لڑکی کے انکار پر اسے مار ڈالا اور پھر خودکشی کر لی.گھریلو حالات سے تنگ آ کر عورت نے زہر پی لیا. پسند کی شادی نہ ہونے پر خودسوزی کی کوشش. تشدد لوٹ مار، مہنگائی سے تنگ عوام میں ڈپریشن کا ریشو. لکی نمبر، لکی پتھر، پروفیسر عامل، ریکی ماہر اور پامسٹ فلانے سے رابطہ کیجیے.\r\nیا پھر بھوک اور قحط سالی کے سبب لاغر ڈھانچوں جیسے بچوں کے لیے چند ڈالرز ماہانہ کے چندے کی اپیل جن میں زندہ لاش جیسے بچے پر گدھ منڈلا رہے ہوتے ہیں. دوسری طرف ”زندہ قومیں“ جشن آزادی، اور ڈرامائی شادی بیاہ پر کروڑوں ڈالرز خرچ کرتی نظر آتی ہیں. کبھی غور کریں تو اپنی اپنی جگہ ہم نے بھی اپنی روحوں کو اس کی غذا نہ دے دے کر ایسا ہی لاغر کر ڈالا ہے کہ پورے معاشرے پر گدھ نما عادات و روایات رقصاں ہیں.\r\n\r\nماضی بعید میں ہمارے یہاں مغربی اور انڈین فلمیں اتنی عام تھیں نہ ان کا بیباک کلچر، جس سے متاثر ہو کر اب ہمارا انٹرٹینمنٹ کا ہر شعبہ وہی کچھ مواد تیار کر کے ذہنوں میں انڈیل رہا ہے. کیا ہے یہ کلچر ؟ کل تک کیا تھا؟ اور آج کیا ہے؟\r\nجو آج ہے فی الحال تو شکر ہے کہ ہم اسے غلاظت کے سوا کچھ نہیں سمجھتے، لیکن جو کل تک تھا، تھی تو وہ بھی سراسر غلاظت ہی لیکن اتنے خوبصورت اور بدبو بند پیکنگ میں کہ ہم نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور تمام معاشرے کو نجس کر ڈالا. \r\nایک کھلنڈرا بھولا سا لڑکا ایک معصوم پیاری سی لڑکی آپس میں ملے تو کچھ تکرار، کچھ اقرار اور پھر جنون کی حد تک پیار، اتنی محبت کہ وہ خاندان دیکھتے نہ مذہب، بس دونوں کے جینے کا مقصد ملن. خواہ وہ جی کے ہو یا مر کر، مطلب کہ جیتے جی نہ مل پائیں تو خود کشی کر کے ”محبت امر ہو جائے“ [خود کشی کی سزا بھی امر ہو اس پر ایمان ہے نہ اس کی کسی ”عاشق“ کو پرواہ]\r\n\r\nایک لاکھ فلمیں جو بیشک حب الوطنی پر ہی بنی ہوں، اس میں بھی لب لباب بس یہی. ایک لڑکا ایک لڑکی، ان کا ہنسنا رونا، کھانا پینا، مرنا جینا، سوائے ایک دوسرے کی چاہت کے کچھ نہیں. اسی کے ارد گرد دل آویز مکالمے، دکھ ہو یا خوشی، کامیڈی ہو یا تاریخ، دماغ پر فقط ایک ہی بات سوار کر دینے والے سفلی اشعار، پھر ان کومزید مزین اور نفس میں سرایت کرتی موسیقی، حسین وادیوں سے آراستہ لوکیشن، غرض کیا نہیں جو ایک انسان کی حسیات کو اپنی طرف راغب نہ کرے، اپنا اسیر نہ بنا لے، ہپناٹائز نہ کر لے، گرویدہ نہ بنالے؟\r\n\r\nاور ایک ایک کہانی میں مقصد کے حصول کی خاطر ان گنت جھوٹ، فریب، بےحیائی سب جائز کہ ان کے نزدیک محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے، لیکن کیا ہمارے دین میں ان میں سے کوئی ایک بات بھی جائز ہے؟ کوئی ایک؟ صرف ایک؟ پھر کس طرح ہم نے اس پورے کلچر کو اپنے اندر سمو لیا؟ کہ آج ذہنی پستی اور ذہنی امراض دونوں کی کوئی حد نہیں رہ گئی. پاکستان صرف اس لیے تو نہیں بنا تھا ناں کہ انڈیا پاکستان کا کرکٹ میچ ہو تو ہم گرین شرٹس پہن کرڈھول بجا سکیں؟ یا روز شام کو واہگہ بارڈر پر حب الوطنی کا مظاہرہ کر پائیں؟\r\n\r\nیہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک کے شایان شان تو ہرگز بھی نہیں کہ اس کے پاگل خانے ایسے پڑھے لکھے نوجوانوں سے بھرے پڑے ہوں جن کو کسی لڑکی سے عشق میں ناکامی کا صدمہ مار گیا، جس کے شیلٹر ہومز محبت میں دھوکے کا شکار اور برباد لڑکیوں سے آباد ہوں، جس کے شادی شدہ مرد ہر طرح کے غلط تعلق بہت شوق سے رکھ سکیں، لیکن دوسری شادی کا تصورلوگوں کے نزدیک ظلم ہو یا پاپ، جس کی ستر فیصد خواتین، ستر کے معنی ہی نہ جانتی ہوں، جو اگر فلمی ہیروئین نہ بھی لگ پائیں تو کم از کم ان جیسی سائیڈ ہیروئین تو ضرور دکھنے کے پیچھے اپنا تمام تر وقت، مال، سوچ ،صحت و ایمان کھپا رہی ہوں، جن کے بچے کی پیدائش سے شادی تک کی ہر رسم اسی کلچر سے مشابہ ہو. فی الحال موت پر تو مسلمانوں کی طرح ہی دفننایا جاتا ہے لیکن! خواہشات کے بت دل میں بٹھائے سفر آخرت کو روانگی ہو تو انجام کچھ ایسا انجان بھی تو نہیں!\r\n\r\nجہاں شادی شدہ خواتین اپنے شوہروں کو مجازی خدا بنا کر اسی طرح کے عشق مجازی میں مبتلا ہوں کہ پھرخوف الہی یاد رہے اور نہ اللہ کا کوئی فرمان. سوال کیا جاتا ہے کہ کیا میاں بیوی کی محبت کی بھی کوئی حد ہے؟ تو جواب ہے کہ جی ہاں! دنیا کی ہر محبت اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع ہونی چاہیے. جب یہ محبتیں، خواہ وہ اولاد ہو مال یا ازواج یا دنیا کی کوئی بھی اور طلب اللہ کی محبت کے تحت ہوں گی، تو ان کے حصول کے لیے نہ تو انسان کسی حد سے تجاوز کرے گا، نہ ہی کسی عامل، نجومی، نگینے کی ضرورت رہ جائے گی. اور اگر ان کے حصول میں ناکامی ہو تو کوئی بھی انسان ڈپریشن میں مبتلا ہو کر ذہنی یا نفسیاتی مریض بن کر اپنی اور اپنوں کی بقیہ زندگی برباد نہیں کرے گا. بس یہ اتنی ہی بات ہے کہ ہمیں ہر دم دعا اور کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ارذل العمر (گھٹیا، ردی، ناکارہ زندگی )سے محفوظ رکھے.\r\n\r\nلیکن کوئی بھی سمجھنے کو تیار ہی نہ ہو تب تو پھر ایسا ہی معاشرہ تیار ہوتا ہے جیسا ہم بن چکے ہیں، کہ اب کوئی گناہ کو گناہ تو کیا، اسے برائی بھی نہیں سمجھتا. انسانی جان خواہ اپنی ہو یا دوسرے کی، لینے میں دقت نہ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ ! کیا اتنی ہی ارزاں ہے اللہ تعالیٰ کی یہ نعمت؟ کہ کسی سے غم ملا تو خود کو گھلا کر رکھ دیا جائے؟\r\n\r\nیہ صرف نفس اور شیطان کی ملی بھگت ہے جو انسان حالات کی مار سہہ نہیں پاتا. مؤمن تو دنیا کی ان جھاڑیوں سے دامن بچا بچا کر چلتا ہے. نفس کے خلاف ہر دم جہاد پر کمر بستہ رہتا ہے. \r\n\r\nمانا کہ لوگ بے حد مصروف ہیں اور ہر ایک کو تفریح کی اشد ضرورت، لیکن اول تو یہ کہ ہمیں فوری طور پر تفریح کے حلال ذرائع تلاش کرنے ہوں گے، دوسرا اپنے بچوں کی کیا خود اپنی، اپنے ارد گرد کے افراد کی بھی ذہن سازی کرنی ہو گی کہ ہم کس پاکیزہ دین کے ماننے والے ہیں اور کس طرح انجانے میں تفریح یا ٹائم پاس کے نام پر اتنی نجاست کا شکار ہو چکے ہیں. بےحد دعا اور کوشش سے ہمیں اپنی خوشی، اپنی محبتوں، اپنے جنون عشق کے جذبات کو ٹرانسفارم کرنا پڑے گا.

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.