میزبان کے حقوق (2) - حنا نرجس

گزشتہ حصے میں آمد کی اطلاع اور ضروری تفصیلات سے میزبان کو مناسب طریقے سے آگاہ کیے جانے پر بات ہوئی تھی. آج کچھ مزید پہلوؤں پر گفتگو کریں گے.\r\n\r\nکسی کے ہاں جاتے ہوئے صاف اور اچھا لباس پہننے کا تو سب کو علم ہے لیکن بہت کم لوگ اپنے جسم اور منہ کی بو کے بارے میں محتاط ہوتے ہیں. خصوصاً گرمی کے موسم میں تو اس بات کا خیال رکھنا اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے. اگر آپ لمبے سفر سے پہنچے ہیں تو دس پندرہ منٹ میں حواس درست کر کے پہلا کام نہا دھو کر لباس تبدیل کرنے کا کریں، ورنہ میزبان بیچارا آپ کو پسینے سے شرابور حالت میں بستر پر لیٹے دیکھ کر بے بس سی خاموشی اختیار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے گا اور آپ کے جانے کے بعد یقیناً پہلا کام اسے بستر تبدیل کرنے اور دھونے کا کرنا ہوگا.\r\n\r\nاگر میزبان کا گھر چھوٹا ہے تو زیادہ افراد کو نہ لے کر جائیں. نہ قیام کو بےجا طول دیں. اسی طرح اگر ان کے ہاں کوئی ایسی سہولت میسر نہ ہو جو آپ اپنے گھر میں استعمال کرنے کے عادی ہوں تو بار بار جتلانے سے گریز کریں، میزبان کا دل برا ہوگا. مثال کے طور پر کھلا صحن، چھت، اوون، گیزر، یو پی ایس، وائی فائی، ائیر کنڈیشنر، اخبار، کسی خاص قسم کا بستر، ٹی وی، وغیرہ وغیرہ\r\n\r\nگھر کی خواتین اگر آپ کے لیے نامحرم ہیں تو پردے کا خیال رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے.گھر کے جتنے حصے کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہو، اسی تک محدود رہیں.\r\n\r\nمیزبان کو اپنی جاب، پڑھائی یا کسی اور مصروفیت کی وجہ سے گھر سے جانا ہے تو رکنے پر اصرار نہ کریں. جتنا وقت وہ آپ کو دے سکے، برا مانے بنا اسی پر قناعت کریں.\r\n\r\nاگر آپ کے ساتھ چھوٹے بچے ہوں تو بچوں کو کھانے پینے کی چیزیں قالین یا بستر پر دینے کے بجائے کھانے کی میز پر دیں یا پھر ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں کھانے پینے کی اشیا گرنے یا بہنے کی صورت میں صفائی بآسانی ہو سکے. اسی طرح میزبان سے خود درخواست کریں کہ وہ موبائل فون بچوں کی پہنچ سے دور کہیں بلند اور محفوظ جگہ پر رکھ لیں. سبھی جانتے ہیں کہ بچوں کے ہاتھوں میں فون آنے سے کیا کیا مسائل پیش آتے ہیں، جو بعض صورتوں میں تو بے حد شرمندگی کا باعث بن جاتے ہیں خاص طور پر جب ڈیٹا یا وائی فائی بھی آن ہو.\r\n\r\nاگر آپ نے شہر میں ٹھہرنے کے لیے کسی ایک گھر کا انتخاب کیا ہوا ہے اور وہاں سے روزانہ سیر، خریداری یا ملنے ملانے کے لیے نکلتے اور رات کو پھر واپس آتے ہیں تو اس صورت میں میزبان کو رات واپسی کے متوقع وقت اور کھانا کھانے یا نہ کھانے کے بارے میں ضرور آگاہ کریں. اگر صبح نکلتے وقت آگاہ کرنا ممکن نہ ہو کیونکہ ابھی آپ خود بھی حتمی طور پر نہیں جانتے تو بعد میں شام کو فون کر کے مطلع کر دیں.\r\n\r\nواپسی کا وقت طے ہو جائے تو میزبان کو اطلاع ضرور دیں اور اگر آپ کو سفر کے لیے کھانا وغیرہ بنوا کر ساتھ لے جانا ہے تو بھی پہلے سے آگاہ کر دیں تاکہ سہولت سے کام ہو جائے.\r\n\r\nاب آتے ہیں آخری لیکن اہم ترین بات کی طرف اور وہ یہ کہ میزبان سے آپ کا کوئی بھی رشتہ ہو جو، جیسے، جتنا اور جہاں تک ممکن ہو، کام کاج میں اس کی مدد ضرور کریں. آپ کے تعلق کی نوعیت اور قیام کے دورانیے کے مطابق مدد کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں مثلاً چاول صاف کر دینا، سبزی کاٹ دینا، فروٹ چاٹ، سلاد یا رائتہ بنا دینا، کھانا لگانا یا برتن اٹھانا، کھانے کے بعد سب کے لیے چائے بنانا، اپنے کپڑے خود استری کرنا، اپنی چیزیں ادھر ادھر بے ترتیبی سے بکھرنے نہ دینا، بازار سے سودا سلف لا دینا، جو ڈش آپ کو بہت اچھی بنانا آتی ہے گھر والے کی رضامندی سے خود پکا کر کھلانا، الیکٹرانکس یا کچھ دوسری چیزوں کی مرمت اگر مہارت و تجربہ رکھتے ہوں تو خود کر دینا یا بازار سے کروا دینا، لیپ ٹاپ میں ونڈوز انسٹال کر دینا، فون میں کسی مفید ایپ کا اضافہ کرنا اور اس کا استعمال سکھانا، پودوں کی کانٹ چھانٹ، نئے لباس کی سلائی، تعلیم میں مدد وغیرہ وغیرہ\r\n\r\nاگر آپ مہمان بنتے وقت ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھیں گے تو یقین کیجیے اگلی بار آپ کی آمد کی اطلاع ملتے ہی میزبان کا چہرہ خوشی سے کھل آٹھے گا، وہ آپ کی آمد کی گھڑیاں گننے لگے گا اور اپنے ذہن میں آپ کے ساتھ بھرپور وقت گزارنے کے منصوبے ترتیب دینے لگے گا کیونکہ اسے پتہ ہے آپ اس کا بوجھ بڑھائیں گے نہیں بلکہ بانٹ لیں گے اور یہ خوشگوار ملاقات دونوں فریقین کو غیبت کے گناہ سے بھی محفوظ رکھے گی.\r\n\r\nپہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.