سیرت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم - مفتی سیف اللہ

انسانیت کی اصلاح و ہدایت کے لیے جتنے بھی انبیاء و رسل آئے، سب پسندیدہ و برگزیدہ ہیں، سب پہ ایمان لانا اور سچا و برحق ماننا ضروری ہے، مگر فلاح و نجات کے لیے صرف نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و پیروی ضروری ہے۔\r\n\r\nحضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ توریت کے چند اوراق لے کر بارگاہ رسالت میں عرض کرتے ہیں یارسول اللہ یہ توریت کی چند باتیں ہیں، اگر اجازت ہو تو آپ کے سامنے پیش کروں؟\r\nآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر غصہ کے آثار ظاہر ہوئے اور فرمایا کہ اگر موسی زندہ ہوں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرو تو تم گمراہ ہوجاؤ۔\r\nایک موقع پر فرمایا اگر موسی زندہ ہوتے تو ان کے لیے میری پیروی کے سوا کویئی راہ نہ ہوتی۔\r\n\r\nتو اب اسلام کا دعوی و دعوت یہی ہے کہ ساری انسانیت کی فلاح و کامیابی سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں منحصر ہے۔\r\nایسا کیوں؟\r\nکیا وہ انبیاء برحق نہیں؟\r\nکیا ان کے پاس معجزات نہیں؟\r\nسارے انبیاء برحق ہیں، ایک مسلمان کے لیے سب پر ایمان لانا اور سب کو سچا و برحق ماننا ضروری ہے، ان کے پاس عظیم معجزات بھی ہیں جو کہ ان کی سچائی کو ظاہر کرتے ہیں اور ان معجزات کا مقابلہ کویئی بھی نہ کر سکا مگر ادھر معاملہ ہی مختلف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہی معجزہ ہے، ساری انسانیت اور سارے انبیاء میں ان جیسا کوئی نہیں \r\nگر دنیا ڈھونڈنا چاہے مثال محمد\r\nمثال تو کیا سایہ بھی نہ ملے گا\r\n\r\nسارے انبیاء و رسل ہادی و رہبر ہیں مگر آپ سراج منیر ہیں، ان سب کی روشنی اسی آفتاب نبوت سے ماخوذ و مستفاد ہے. یہی وجہ ہے کہ سب انبیاء و رسل کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی نصرت و تائید کرنے کا پابند کیا گیا اور اسی وعدہ کی پاسداری کے لیے حضرت عیسی علیہ الصلوات و السلام قیامت سے پہلےتشریف لائیں گے۔ \r\nشب معراج میں جب سب انبیاء جمع ہوئے تو سب کی امامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور روز محشر شفاعت بھی آپ ہی فرمائیں گے۔\r\n\r\nوجہ اعجاز کیا ہے؟\r\nآپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس ہر اعتبار سے کامل و مکمل اور جامع و ہمہ گیر ہے، جس میں ہر فرد کے لیے سیرت، ہر حالت کے لیے راہنمائی اور ہر کیفیت کے لیے ہدایات موجود ہیں. انسانی زندگی کا کوئی گوشہ، حالات کا کوئی لمحہ اور اس کائنات کا کوئی کونہ ایسا نہیں جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راہنمائی نہ فرمائی ہو۔\r\n\r\nاگر تم حاکم ہو تو ریاست مدینہ کےحکمران کی زندگی دیکھو، اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کی زندگی پڑھو، اگر صاحب ثروت و تجارت ہو تو مکہ کے تاجر و بحرین کے خزینہ دار کے حالات پڑھو، اگر غریب ہو تو اسی شخصیت کی طرف نظر دوڑاؤ کہ کئی کئی مہینے جس کےگھر چولہا نہیں جلتا تھا، اگر تم واعظ و ناصح ہو تو مسجد نبوی کے منبر و محراب میں کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو، اگر تم شوہر ہو تو خدیجہ و عائشہ کے مقدس شوہر کی حیات کا مطالعہ کرو، اگر صاحب اولاد ہو تو فاطمہ و زینب کے باپ اور حضرات حسنین کے نانا کی سیرت پڑھو۔\r\n\r\nغرض تم جو کوئی بھی ہو، جہاں کہیں بھی ہو اور جس حالت میں بھی ہو، تمہیں زندگی کی درستی و اصلاح کے لیے مکمل راہنمائی اور ہدایات صرف حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ملے گی۔ آپ کی سیرت محض حالات زندگی یا سوانح عمری نہیں بلکہ انسانیت کے ہر فرد کے لیے بہترین زندگی گزارنے کا مکمل دستور العمل ہے۔\r\n\r\nآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں تمام انبیاء و رسل کی صفات، خوبیاں اور کمالات بطریق اتم پائے جاتے ہیں، چنانچہ سیرت نگاروں نے اس متعلق ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ کی پیدائش کے وقت ندا آئی کہ محمد کو ملکوں ملکوں پھراؤ اور سمندروں کی تہوں میں لے جاؤ کہ تمام دنیا ان کے نام و نشان کو پہچان لے۔ جن و انس، چرند و پرند، بلکہ ہر جاندار کے سامنے ان کو لے جاؤ۔ ان کو آدم کا خلق، شیث کی معرفت، نوح کی شجاعت، ابراہیم کی دوستی، اسماعیل کی زبان، اسحاق کی رضا، صالح کی فصاحت، لوط کی حکمت، موسی کا جلال، ایوب کا صبر، یونس کی طاعت، یوشع کا جہاد، داؤد کی آواز، دانیال کی محبت، الیاس کا وقار، یحیی کی پاک دامنی اور عیسی کا زہد عطا کرو۔\r\n\r\nآپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ کو اگر دیکھا جائے تو اس میں نوح اور ابراہیم، سلیمان و داؤد، یوسف و یعقوب اور موسی و عیسی علیہم الصلوات و السلام سب کی سیرتیں اور خوبیاں سما گئی ہیں۔\r\nحسن یوسف دم عیسی ید بیضا داری\r\nآنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری\r\n