نجی سود کی لعنت - مرزا فراز بیگ

نجی سود ہمارے معاشرے کی ایک کریہہ سچائی ہے۔ یہ سود کی وہ قسم ہے جس میں کوئی بیوپاری لوگوں کو دوگنے تگنے یا چوگنے سود پر قرض فراہم کرتا ہے۔ اس سے قرض لینے والے عموماً غریب اور کم تعلیم یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔ غریب ہونے کی وجہ سے ان کے لیے قسط کو بروقت ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا اور ہر مہینے سود بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تقریباً تمام ہی کیسز میں سود کی رقم اصل رقم سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے مقروض اس بات کا حساب نہیں لگا سکتا کہ اس کے ساتھ کیا زیادتی ہو رہی ہے۔ اگر مقروض رقم ادا کرنے میں کچھ آنا کانی کرے تو سود خور بیوپاری کے پاس یا تو اپنے پالے ہوئے گرگے ہوتے ہیں جو لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ یا پھر قانون کے رکھوالوں کو آدھے پیسوں کا وعدہ کرکے ان کی مدد حاصل کر لی جاتی ہے۔ غرض مقروض کے لیے آگے کنواں پیچھے کھائی والی مثال ہے۔ \r\n\r\nحال ہی میں ایسے دو کیسز ہمارے علم میں آئے جن میں کچھ غریب لوگ اسی طرح کسی سودخور بیوپاری کے ہتھے چڑھ گئے۔ ان میں سے ایک کیس خاص طور سے تکلیف دہ تھا کیونکہ قرض لینے والی خاتون غیر مسلم تھیں جبکہ سود خور ایک مسلمان تھا۔ ان کی مدد کرنا فوری طور پر اس لئیے بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ ہمارے ہاں غیر مسلموں پر خرچ کرنا عموماً صحیح نہیں سمجھا جاتا۔ اللہ بھلا کرے ان لوگوں کا جنہوں نے بیرون ملک سے اس غریب کے لئیے پیسوں کا انتظام کرایا اور ان کو اس لعنت سے چھٹکارا دلانے میں مدد کی۔ \r\n\r\nسود ان سات بڑے گناہوں میں شامل ہے جن کو 'ہلاک کرنے والی چیزیں' کہا گیا ہے۔ کسی اور کام کو اللہ اور رسولؐ سے جنگ کم از کم میری معلومات کی حد تک نہیں کہا گیا۔ اور بدکاری جیسے قبیح گناہ سے بھی بدتر اس گناہ کو قرار دیا۔ اس میں صرف دینے اور لینے والے کو ہی نہیں شامل کیا گیا بلکہ اس طرح کے معاملے میں لکھنے والے اور گواہ کو بھی اس لعنت کے ذمہ داروں میں شامل کیا گیا ہے۔۔۔ گویا کسی مسلمان کے لیئے سود پر عمل کرنا کوئی بہت ہی بڑی نامرادی کی بات ہے۔ \r\n\r\n آپ بتائیں اقلیتوں کو ہم کس منہ سے اسلام کی دعوت دیں جب کہ وہ ہمارے ہی دینی بھائیوں کے ہاتھوں اس بری طرح استحصال کا شکار ہیں۔ ہم لوگ اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کو تبلیغ کرنا شاید اپنا فرض سمجھتے ہی نہیں۔ اور کرتے بھی ہیں تو ایسے لٹھ مار انداز میں کہ سامنے والا قبول کرتا بھی نہ کرے۔ غیر مسلم طالبعلم کلاس میں حاضری میں جھوٹ بولتے ہوں یا نہیں، ہمارے مسلمان بھائی جھوٹی حاضری لگانے میں بظاہر کوئی گناہ محسوس نہیں کرتے نہ پیپر میں چیٹنگ کرنے کو اور نہ وقت پڑنے پر اپنی برائی دوسرے کے سر ڈالنے کو۔ ہماری اسمبلی نے صرف دکھاوے کے لئیے نام نہاد 'تحفظ' اقلیت بل پاس کر دیا اور سمجھ رہے ہیں کہ کوئی تیر مار لیا۔ اور ہم اسلام پسند اس کی مخالفت کرکے اس کو چیلنج کر رہے ہیں کہ شاید جیسے ہی یہ ختم ہوگا ہمارے ملک کے سارے غیر مسلم اسلام میں داخل ہو جائیں گے!!! \r\n\r\nخیبر پختونخواہ کی اسمبلی نے اسی سال نجی سود کو غیر قانونی قرار دے کر اس طرح کے کسی بھی معاملے کو قابل تعزیر قرار دے دیا ہے۔ مبینہ پولیس اصلاحات کے بعد اس بات کے امکانات ہیں کہ اس قانون کا غلط استعمال نہیں ہوگا۔ یہ میری رائے اقلیتوں کا بہتر تحفظ' ہے۔ اور اس طرح ہم اسلام کی دعوت کچھ بہتر انداز میں اپنے ہم محلہ لوگوں کو دے سکیں گے۔\r\n\r\nگل پھینکے ہیں اوروں کی طرف، اور ثمر بھی\r\nاے خامہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی \r\n\r\n