میں ایک مسلمان ہوں - محسن حدید

میرا نام محسن حدید ہے. آپ میں سے بہت سارے لوگ مجھے کھیل کے حوالے سے اچھی طرح جانتے ہیں. آج ایک اور حوالے سے تعارف ہو جائے. گزرا ایک ہفتہ بہت پریشان کن رہا. ہم نے اپنی لاشوں کو بھنبھوڑنے کا سلسہ نہیں چھوڑا بلکہ جنید جمشید کے حوالے سے ہمارے رویے ہر درد دل رکھنے والے شخص کا دل چیر گئے.\r\n\r\nمیرے دادا حاجی مقبول احمد ایک کٹر دیوبندی تھے. ان کے زیر اہتمام دیوبندی مسلک کی ایک مسجد بھی چلتی رہی، اس مسجد کے لیے جگہ انہوں نے اپنی زمین سے فراہم کی تھی. مولوی صاحب کے لیے ایک چھوٹا سا گھر اور ان کی ضروریات کا خیال انہوں نے ہمیشہ رکھا. اپنی اور رشتہ داروں کی جیب سے یہ تمام اخراجات اٹھاتے رہے. میرے نانا جی حاجی محمد یعقوب ایک کٹر بریلوی تھے. گاؤں کی بڑی مسجد جو شروع میں واحد مسجد بھی تھی، اس کے متولی رہے. مولوی رکھنے سے لے کر تمام معاملات ان کے زیر انتظام رہے. گاؤں میں کوئی بھی میلاد یا ختم شریف کی مجلس ہوتی تو دوردراز سے بلوایا گیا ہر بڑا مولوی نانا جی کی بیٹھک میں براجمان ہوتا. نانا جی کا گاؤں جو اب ہمارا بھی گاؤں ہے، شہر سے بہت نزدیک تھا. اب شہر ہمارے گاؤں تک پھیل چکا ہے بلکہ شہر کا واحد پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج نانا جی کی زمین سے بالکل ملحقہ ہے، سانجھی دیوار ہے دونوں کی۔ ہم تعلیم کی غرض سے شروع سے نانا جی کے ہاں شفٹ ہو گئے تھے، دادا جی کے ساتھ وقت گزارنے کا بہت کم موقع ملا کیونکہ وہ بچپن میں ہی جنت مکانی ہو گئے تھے. نانا جی کے ساتھ بہت سال گزارے اور ان کی تعلیمات کو بھی قریب سے سننے کا موقع ملا. پورا ددھیالی خاندان آج بھی دیوبندی ہے.\r\n\r\nمجھے شروع سے چیزوں کو بین السطور دیکھنے کا بہت شوق تھا. ان دنوں یہ مسلکی جنگیں بہت عروج پر ہوتی تھیں. میں نے دیکھا کہ ختم درود پر اختلاف کے باوجود جب ددھیال میں ایک قریبی رشتہ دار فوت ہوا تو دادا جی نے قرآن خوانی کی محفل رکھی، جس میں نعت بھی پڑھی گئی تھی. اسی طرح جب ننھیال میں فوتگی ہوتی تو ان کے ہاں اس محفل کو قل شریف کی محفل کہا جاتا. تب زیادہ باریکی میں چیزیں سمجھ نہیں آتی تھیں لیکن دونوں محافل میں ملنے والے لنگر کا ذائقہ سمجھ آتا تھا جو بالکل ایک جیسا ہوتا تھا. تقریبا وہی آیات مولوی صاحب پڑھتے تھے بس ایک جگہ دودھ کا گلاس اور ایک پلیٹ میں لنگر سامنے رکھ کر پڑھ لیتے تھے، دوسری جگہ یہ سب ان چیزوں کے بغیر ہو جاتا تھا. فرق اگر کوئی ہوتا تھا تو نائی کے پکوان کی ترکیب کی وجہ سے ہی ہوتا ہوگا. جب گھر میں رہتے تو نانا جی بھی نماز پڑھنے کا حکم اتنی ہی شدت سے دیتے اور خود ہر نماز مسجد میں پڑھتے بلکہ ہم لڑکوں پر اس حوالے زیادہ سختی ہوتی. طریقہ بھی نماز کا دونوں جگہ یکساں تھا. رکعات اور سجود کی تعداد بھی ایک ہی تھی. نانا جی کے گھر میں تمام خالاؤں کو سر پر دوپٹہ لینے کی سخت ہدایت تھی تو دادا کے گھر میں کسی چاچی تائی اور پھوپھی کو کبھی ننگے سر نہیں پھرتے دیکھا. دونوں جگہ ایک ہی قسم کے رواج اور قوانین لاگو تھے. جب بھی کوئی خاندانی تقریب ہوتی تو اس میں دادا جی اور نانا جی کے مابین گفتگو اچھے ماحول میں دیکھی. دادا جی میرے پیدا ہونے سے پہلے حج کر آئے تھے، ان کا نہیں پتہ لیکن نانا جی جب حج کو گئے تو ان کے جانے سے پہلے ختم کی تقریب میں تمام ددھیالی موجود تھے، سب نے مل کر لنگر کھایا اور نانا جی کو ہار پہنائے. کسی کے منہ سے نہیں سنا کہ ایک مشرک حج پر کیوں جا رہا ہے؟ واپسی پر پھر سارے ہی موجود تھے اور بریلوی کے ہاتھوں حج کے تبرکات بہتے آنسوؤں سے لے رہے تھے. زیارات کی تفاصیل اور عبادات کے احوال سنتے ہوئے سب ایک جیسے یکسو تھے بلکہ بار بار پوچھ رہے تھے فلاں جگہ پر میرے لیے دعا کی یا نہیں؟ یعنی سب کو یہ یقین تھا کہ عبادات قبول بھی ہوئی ہیں اور ان کے بعد کی تمام دعائیں بھی اسی طرح مقبول ہوں گی.\r\n\r\nمیرا خیال ہے کہ تحریر لمبی ہوگئی لیکن نکتہ آپ یقینا سمجھ گئے ہوں گے. بھائی یہ جو تفرقہ ہے نا، بہت ہی معمولی ہے، اتنا معمولی کہ اسے باآسانی نظر انداز کیا جا سکتا ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے اکثر مولوی اس کو دبانے کے لیے تیار نہیں ہیں حالانکہ طرفین کے بڑوں کی کتابیں ہم میں سے زیادہ تر نے نہیں پڑھیں. اگر ہم امام احمد رضا بریلوی صاحب اور جناب قاسم نانونوی صاحب یا اشرف علی تھانوی صاحب کی کتابیں خود پڑھ لیں تو آج کے مولویوں کی سنائی گئی فسادی روایات میں سے کثیر کا فوری بطلان ہو جائے گا، مگر ہم میں سے اکثر لوگ تو قرآن ہی نہیں پڑھتے اور جو پڑھتے ہیں ان میں سے اکثر ترجمہ کے ساتھ نہیں پڑھتے، تو بھائی پھر ان پیٹ کے غلام فسادیوں کے آلہ کار بننے کے سوا آپشن کیا رہے گا؟ ہمیں اس 12 ربیع الاول ہی سوچنا ہوگا ورنہ فرقہ بازی کی آگ مشرق وسطی کو تو اپنی لپیٹ میں لے ہی چکی اور ہم بھی دشمن کی نظروں میں کھٹک رہے ہیں. وقت بہت کم ہے، اس سے پہلے کہ یہ آگ ہمارے گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لے، برداشت پیدا کرلیں، اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، ہمیں معاف بھی کر دے گی اور ہمارے اوپر رحمتوں کا نزول بھی شروع ہو جائے گا.\r\n\r\nنوٹ - یہ تحریر ایک ہمسائے کے گھر سے آئے لنگر کی پلیٹ کو کھاتے ہوئے لکھی ہے. ساتھ میں جنید جمشید کی مشہور نعت چل رہی ہے.\r\n

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.