آس امید کا سنہری پھول - مستنصر حسین تارڑ

ان دنوں رہ رہ کر مجھے پھوپھی نور بی بی کا خیال پھر سے آتا ہے…. میں اُسے ایک مدت تک یاد نہیں کرتا اور پھر میرے آس پاس پاکستان میں کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ یکدم میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے، مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا اور اس اندھیرے میں آرمی پبلک سکول کے لاتعداد بچوں کے ہیولے نظر آنے لگتے ہیں اور وہ فریاد کرتے ہیں کہ اگر تم ہماری جان کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے تو ہمیں پیدا کیوں کیا تھا اور اگر ہم پیدا ہو گئے تھے تو ہمارے گلے گھونٹ دیتے اور تب ہمیں کہاں احساس ہوتا کہ ہمیں مارا جا رہا ہے۔ ہم یہی سمجھتے کہ آپ ہمارے گلے پر ہاتھ رکھ کر ہمیں چومنے لگے ہیں اور ہاتھ ہماری گردن پر جانے کیوں کسا جا رہا ہے، اگر ہم تب مر جاتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ ہمیں محسوس ہی نہ ہوتا اور ہم مر جاتے، لیکن جب ہم بلوغت میں قدم رکھ رہے تھے، آئندہ زندگی کے سنہری خواب دیکھ رہے تھے تو ہمیں نعرہ تکبیر بلند کرنے والے لوگوں نے سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، تب بہت اذیت سے جان نکلی اور تب اس سے بڑھ کر اذیت ہوئی جب اُن لوگوں کے حامیوں کی مغفرت کے لیے آپ نے اپنے ہاتھ دعا میں اٹھا دیئے…. اس اندھیرے میں درجنوں سیاہ کوٹ خون آلود بھی بھٹکتے پھرتے تھے…. وہ لوگوں کے لیے انصاف چاہتے تھے اور انہیں ہلاک کر کے اُن کے ساتھ انصاف کر دیا گیا…. یہ سب کچھ کوئٹہ میں ہوا جب سیبوں کے باغوں سے آنے والی مہک فضاو¿ں میں تھی…. کوئٹہ میں بہت برس ہو چکے جب ایک ہولناک زلزلہ آیا تھا اور اب تو ہر دو چار ماہ کے بعد وہاں زلزلہ آجاتا ہے ، مکان نہیں گرتے، صرف لاشیں گرتی ہیں، ابھی وہ بچے تھے، ابھی ذرا قد نکالا۔ وطن کی حفاظت کے لیے ٹریننگ حاصل کیے اور بھون دیئے گئے…. دو چار نہیں درجنوں کے حساب سے…. اور میں کیا دیکھتا ہوں کہ اُن شہیدوں کی لاشوں کو اُن کے آبائی شہروں اور قصبوں تک پہنچانے کے لیے کوئی ایمبولینس، کوئی سواری میسر نہیں۔ اُن کے لاشے عام مسافر ویگنوں کی چھتوںپر باندھ کر اُنہیں لے جایا جا رہا ہے…. منزل پر پہنچ کر اگر راستے میں وہ لڑھک کر کسی سڑک پر گر کر پیچھے سے آنے والی ٹریفک تلے آ کر پھر سے روندے نہ گئے ہوں۔ اُن کے لواحقین ویگن کی چھت پر چڑھ کر اُنہیں کیسے اتارتے ہوں گے…. میں کسی کے لیے بھی بددعا نہیں کر سکتا لیکن یونہی دل میں خیال آتا ہے کہ اگر یہ نوجوان، رائے ونڈ، بنی گالہ یا گڑھی خدا بخش کے ہوتے تو کیا اُنہیں پھر بھی ویگنوں کی چھتوں پر باندھ کر اُن کے آبائی گھروں میں پہنچایا جاتا…. لیکن یہ ایک خیال خام ہے کہ ان بستیوں کے نوجوان تو وہ کراو¿ن پرنس ہیں، جنہیں ہم پر حکومت\r\nکرنے کے لیے تربیت دی جا رہی ہے چاہے وہ کتنے ہی احمق اور بودے کیوں نہ ہوں، وہ تو بلٹ پروف گاڑیوں اور آرمرڈ کاروں میں سوار ہو کر اپنی انگلیوں سے ”وی“ کا نشان بناتے اپنے بال سنوارتے مسکراتے ہیں…. اپنے کرپٹ باپوں پر فخر کرتے فضا میں ہتھیلیاں بلند کر کے آپ کو بھاشن دیتے ہیں…. وہ کہاں یوں آسانی سے شہید ہو کر ویگنوں کی چھتوں پر بندھتے ہیں …. کہ وہ تو خلق خدا کو باندھنے کے منصوبے بناتے ہیں…. اور انہیں مستقبل کی کچھ فکر نہیں کہ وہ اپنے پاکستانی گھونسلے پر انحصار نہیں کرتے کہ انہوں نے تو فرانس، لندن، امریکہ اور سعودی عرب میں برے وقتوں کے لیے نہایت عالی شان گھونسلے بنا رکھے ہیں اللہ کے فضل سے اور وہ تو پُھر کر کے اڑ جائیں گے…. ہم جیسوں کے پاس تو کوئی متبادل گھونسلا ہے ہی نہیں، ہم کہاں اُڑ کر جائیں گے۔ ہم میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کی طاقت پرواز کہاں…. تو یہ ایسے دن ہوتے ہیں جب کچھ سجھائی نہیں دیتا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے…. مایوسی اور نامرادی کے سیاہ بادلوں میں سے امید کی کوئی کرن نہیں پھوٹتی، اس پاک ارض وطن کے حوالے سے طرح طرح کے وسوسے بدن کو سنپولیوں کی مانند ڈسنے لگتے ہیں، دامانِ امید ہاتھوں سے چھوٹتا جاتا ہے اور تب مجھے پھوپھی نور بی بی کا خیال پھر سے آتا ہے۔\r\nنور بی بی ہماری کوئی عزیزہ تو نہ تھیں لیکن ہمارے آبائی گاو¿ں کی تھیں اس لیے وہ ایک پھوپھی تھیں…. اُن کا کوئی والی وارث نہ تھا، امی جان اُن پر ترس کھا کر لاہور لے آئی تھیں اور وہ ہمارے گھر کو اپنا گھر جان کر نہایت دل جمعی سے اس گھر کے سب کام کرتی تھیں۔ مختصر صحن کی دیوار پر جانے کب سے دو تین گملے دھرے ہوئے تھے، کبھی اُن میں کچھ گل بوٹے ہوں گے جو اپنی طبعی عمر پوری کر کے خشک ہو گئے، رزق خاک ہو گئے…. اور یہ دو تین برس پہلے کا قصہ ہے اور اُن دنوں گملوں میں صرف خشک ہو چکی مٹی تھی…. پھوپھی نور بی بی، گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر نہایت اہتمام سے اُن گملوں کو پانی دیتی، چھڑکاو¿ کرتی…. ہم نے یہی سمجھا کہ اُس کی زندگی میں دکھ ہی دکھ تھے تو وہ ذرا مخبوط الحواس ہو چکی ہے ورنہ گملوں میں سوکھ چکی مٹی کو باقاعدہ پانی دینے کی کیا تک ہے …. اور جب میں اور تب میں ایک چھوٹا سا بچہ تھا، نور بی بی سے پوچھتا کہ پھوپھی آپ کیوں نہایت تردد سے روزانہ ان سوکھے ہوئے گملوں کو پانی دیتی ہو تو وہ کہتی…. مستنصر…. کسی کو بتانا نہیں، لیکن تم دیکھنا کہ کبھی نہ کبھی ان گملوں میں پھول کھلیں گے…. میرا کام ہے پانی دینا اور باقی کام اللہ کا ہے کہ وہ ان میں پھول اُگائے یا نہ اُگائے…. گویا\r\nمالی دا کم پانی دینا، بھر بھر مشکاں پاوے\r\nمالک دا کم پھل پھل لاوے، لاوے یا نہ لاوے\r\nیوں میں بھی پھوپھی نور بی بی کی سازش میں شریک ہو گیا۔\r\nوہ کوئی ایک سویر تھی جب میں نے دیکھا اور بہت دنوں بعد ایک گملے کے قریب ہو کر دیکھا کہ وہاں ایک نومولود بوٹے کے ساتھ ایک چھوٹا سا زرد پھول کھلا ہوا ہے۔ اور شاید پھوپھی نور بی بی نے نہایت فاتحانہ انداز میں کہا تھا کہ دیکھا مستنصر…. پانی دیتے رہو تو کبھی نہ کبھی کوئی پھول کھل جاتا ہے۔\r\nچنانچہ ان زمانوں میں، میں بھی ایک پھوپھی نور بی بی ہوں…. وطن کے گملے کی مٹی خشک ہو چکی ہے، ذرا بھی نم نہیں ہے اور میں اسے آس امید کا پانی دیتا رہتا ہوں ۔ میرے پاس تو یہی ایک گھونسلا ہے جس کے گملے کی مٹی کرپشن کے زہر اور معصوموں کے خون سے خشک ہو چکی ہے اور میں اسے حب وطن کے پانیوں سے سیراب کرتا رہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ کبھی نہ کبھی اس میں، اس کے بنجر پن میں سے ایک چھوٹا سا زرد اور سنہری پھول طلوع ہو گا۔\r\n\r\n

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */