مسئلہ تین طلاق، مسلمانانِ ہند صبر سے کام لیں - محمداویس سنبھلی

۸؍ دسمبر کی دوپہر جیسے ہی یہ خبر سنی کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے تین طلاق کے متعلق کو ئی فیصلہ لیاہے تو تصدیق کے لئے چند ذمہ داران سے رابطہ قائم کیا۔ اس میں ایک پرسنل لاء بورڈ کے رکن بھی تھے انہوں نے کہا یہ کوئی باضابطہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نہیں بلکہ جسٹس سمیت نے ایک مقدمہ پر بحث کے دوران زبانی طور پر یہ بات کہی ہے جس کی قانونی حیثیت کچھ نہیں ہے۔اس کے بعد سے سوشل میڈیا میں اسکے تعلق سے بہت کچھ سامنے آیا۔چند نام نہاد مسلم خواتین آرگینائزیشنز و اداروں کے ذمہ داران میڈیا میں آکر یہ بتانے لگے کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے، جسے بہت پہلے آجانا چاہیے تھا ۔ شریعت سے نابلند ان خواتین و حضرات کو کون بتائے کہ شریعت میں طلاق کو ئی اچھا فعل قرار نہیں دیا گیا ہے ۔ بلکہ اسے بہت برا سمجھا گیا ہے۔ لیکن قانون شریعت میں دخل اندازی ہرکس و ناکس کا کام نہیں۔جو لوگ تین طلاق کے موضوع پر اس طرح کے بیان دے رہے ہیں انہیں چاہئے کہ پہلے وہ قانون شریعت کا مطالعہ کریں ،\r\n\r\nانھیں اچھی طرح سمجھیں اور اس کے بعد اس سے متعلق کوئی بات کہیں۔شائستہ عنبر جیسی چند خواتین جو عدالتوں اور چینلوں پر دکھائی دیتی ہیں مسلم عورتوں کی نمائندہ نہیں ہوسکتیں، جنھیں دیکھ کر اور جن کی باتیں سن کر محترم جج صاحبان کسی نتیجے پر پہنچنے میں جلدی کربیٹھتے ہیں کہ مسلمان خواتین کے ساتھ مساوی سلوک نہیں ہورہا ہے۔بلکہ مسلمان خواتین کی نمائندگی ایک کروڑ کے قریب وہ عورتیں کرتی ہیں جنھوں نے حال ہی میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دستخطی مہم میں حصہ لے کر مسلم پرسنل لاء پر مکمل اعتماد کااظہار کیا ہے۔\r\n\r\nمسلم پرسنل لاء کے جو قوانین ہیں وہ قرآن اور حدیث سے اخذ کئے گئے ہیں اور یہ جو قوانین ہیں اس کے مطابق ہمارے ملک ہندوستان میں مسلمان گذشتہ ۶۰؍برس سے عمل کرتے چلے آرہے ہیں ، اسی کے مطابق اپنے معاملات کا فیصلہ کرتے آرہے ہیں۔ مسلمانانِ ہند مسلم پرسنل لاء سے پوری طرح متفق ہیں، مطمئن ہیں ، وہ نہیں چاہتے کہ اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی ہو۔اور طلاق کے دروازے اگر بندکردئے جائیں گے تواس میں مسلمان عورتوں کے ساتھ بہت ظلم زیادتی ہوگی۔ہمارے یہاں عورت کی جو حیثیت ہے وہ بہت محفوظ ہے۔عورتوں کے ساتھ وہ ظلم زیادتی نہیں ہوتی جو دوسرے مذاہب میں ہوتی ہے۔اگر طلاق کا دروازہ بند کردیا جائے تو ظلم و زیادتی کے واقعات اور بڑھ جائیں گے۔طلاق ایک مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ کا حل ہے۔اور حکم یہ ہے کہ اگر عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھو تو احسن طریقے سے رکھو ، رخصت کرو تو احسن طریقے سے۔یعنی اسلام میں طلاق کا جو طریقہ ہے وہ بہت سادہ اور آسان بتایاگیا ہے۔چند سکوں کے بدلے اپنے ایمان کا سودا کرنے والے یا والیاں کیا جانیں کہ قانون شریعت کیا ہے؟ طلاق کیا ہے؟\r\n\r\nمیاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کو آئندہ کی زندگی میں توڑنے کانام طلاق ہے۔ کیونکہ طلاق کا مطلب کھولنا اور توڑنا ہے۔ لہٰذا نکاح کی پابندی سے میابیوی میں جو تعلق پیداہوتا ہے اسے ختم کرنا طلاق ہے۔ اگرمیاں بیوی میں خدانخواستہ ایسے حالات پیداہوجائیں جن سے نباہ مشکل ہوجائے تو اس صورت میں عورت سے علیحدگی کا احسن طریقہ طلاق ہی ہے۔ اسلام نے طلاق کو اچھا فعل قرار نہیں دیا بلکہ بہت برا فعل قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا:الطلاق مرتن فامسک بمعروفٍ اوتسریح باحسان (ترجمہ:طلاق دومرتبہ ہے پھر یا تو اچھے طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔(البقرہ ۲۲۹)۔\r\n\r\nاس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی صورت میں نباہ ممکن نہ رہے تو میاں بیوی کو نکاح توڑنے کا حق ہے مگر طلاق دینے سے پہلے طلاق کے نتائج پر بڑے تحمل سے غورکرنا چاہئے کیونکہ طلاق دے دینا تو بہت آسان ہے مگراس کے اثرات سے دوچارہونا سب سے بڑا صبرآزما کام ہے۔\r\n\r\nحضرت معاذ بن جبلؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ’’اے معاذ!اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پرکوئی ایسی چیز پیدانہیں کی جواسے غلام آزادکرنے سے پیاری ہو اور کوئی چیز روئے زمین پراللہ تعالیٰ نے ایسی پیدا نہیں کی جو اسے طلاق سے زیادہ ناپسندہو‘‘۔\r\n\r\nقرآن و حدیث کی تشریح ججوں اور عدالتوں کا کام نہیں ہے ۔ قرآن کی وہی تشریح معتبر ہوگی جوماہرین شریعت بتائیں گے۔ طلاق یا کسی اور شرعی حکم کا قرآنی طریقہ کوئی عدالت طے نہیں کرسکتی۔ الہٰ آباد ہائی کورٹ کاجو اسٹیٹمنٹ آیا ہے یہ ایک آبزرویشن ہے ججمنٹ نہیں ہے کہ تین طلاق غیر قانونی ہے اور دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ مسلم پرسنل لا دستور کے اوپر نہیں ہے۔یہ دونوں باتوں کی وضاحت ہونا بہت ضروری ہے۔پہلی چیز یہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء کے جو قوانین طلاق ہیں اگر اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کی جائے گی وہ غیر قانونی ہوگا اور دوسری چیز مسلم پرسنل لاء دستور ہندکا ایک حصہ ہے۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مسلم پرسنل لاء دستور سے اوپر ہے۔ہم نے طلاق سے متعلق اپنا معاملہ سپریم کورٹ میں رکھا ہوا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ جو کہ تمام مکاتب فکر،تمام جماعتوں اور مسلمانوں کا متفقہ اور متحدہ پلیٹ فارم ہے سپریم کورٹ میں اپنا پیٹیشن داخل کرچکا ہے۔اس پر بحث کی ابھی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے ۔ایسے وقت میں یہ کہا جارہا ہے کہ تین طلاق غیرقانونی ہے اوراسے ختم کرنا چاہئے ۔ یہ تمام کوششیں دراصل یونیفارم سول کوڈ کے لئے راستے ہموار کرنے کے لئے ہیں۔\r\n\r\nہمارا ملک ہندوستان ایک سیکولرجمہوری ملک ہے جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔بحیثیت ایک فرد ہم کویہ اختیار دیاگیاہے کہ ہم اپنے نجی زندگی کے معاملات اپنے مذہبی قوانین کے مطابق طے کریں۔مسلم پرسنل لاء دستور ہندکا ایک حصہ ہے۔اور ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کا حق دستور ہند نے ہی دیا ہے۔دستور ہند کی دفعہ ۲۵؍سے ۳۰؍تک اس ملک کی اقلیتوں کو جو بنیادی حقوق دئیے گئے ہیں ان میں پرسنل لاء پرعمل کی آزادی بھی شامل ہے۔\r\nہمارا ماننا ہے کہ خواتین کو جو حق اسلام نے دئیے ہیں کسی اور مذہب میں نہیں دئیے گئے۔مسلمان پرسنل لاء پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ لہٰذا اگر پرسنل لا ء کے قوانین میں کسی طرح کی کوئی مداخلت کی جائے گی تو وہ سراسر مسلمانانِ ہند کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوگی۔تین طلاق کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیرغور ہے ، اس پر ابھی بحث کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے ۔ انشاء اللہ ہمیں پوری امید ہے کہ سپریم کورٹ میں ہمارے کیس کی صحیح سنوائی ہوگی اور ۲۰؍کروڑ مسلمانوں کے جذبات کا خیال بھی رکھا جائے گا۔ مسلمانان ہند صبر سے کام لیں اور سمجھنے کی کوشش کریں نوٹ بندی سے پریشان عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے بھی اس طرح کے مزید پروپگنڈے کئے جاسکتے ہیں۔چونکہ ملک کا چوکیدار سورہا ہے اور عوام پریشان حال قطارمیں کھڑی ہے۔لیکن جملے سازی اور جملے بازی میں کوئی کمی نہیں۔ہرروز ایک نیا شوشہ چھوڑکر ملک کے عوام کو گمراہ کیاجارہاہے۔\r\n\r\nسب لوگ تو ہیں کھوئے ہوئے باتوں میں اس کی\r\nہم اس کے اشاروں کی طرف دیکھ رہے ہیں\r\n\r\n

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */