پانامہ کیس، آگے کیا ہوگا - سردار جمیل خان

پانامہ کیس انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے پارٹی لیڈرز کے بیانات ملاحظہ کیجیے- \r\nسپریم کورٹ براہ راست فیصلہ دے۔ کمیشن صرف نوازشریف کے استعفے کی صورت میں قبول ہوگا۔ عمران\r\nسپریم کورٹ کمیشن تشکیل دے اور نواز شریف فیصلہ آنے تک سٹیپ ڈؤان کریں۔ سراج الحق۔\r\nپانامہ سکینڈل میں پیپلزپارٹی کا وزیراعظم ملوث ہوتا تو پھانسی چڑھ چکا ہوتا۔ بکاؤ ججز سے کوئی امید نہیں۔ بلاول۔\r\n\r\nنوازشریف اور فیملی کے متضاد بیانات، پارلیمنٹ میں ديے گئے سیاسی بیان، قطری شہزادے کے مجہول خط، بار بار کے یوٹرن، ادھوری دستاویزات اور منی ٹریل کی عدم دستیابی نے انہیں عوامی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے، نیز ہرگزرتے دن کے ساتھ عوامی نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔\r\n\r\nاگر جنوری 2017 میں سپریم کورٹ کمیشن تشکیل دیتی ہے، نواز شریف استعفی نہیں دیتے، وہی ادارے تحقیقات کرتے ہیں جن پر سپریم کورٹ خود عدم اعتماد کر چکی ہے، عمران خان کمیشن کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور فیصلہ میاں صاحب کے حق میں آ جاتا ہے تو عمران خان، سراج الحق اور بلاول زرداری تینوں سڑکوں پر ہوں گے۔\r\n\r\nاگر سپریم کورٹ کا بنچ براہ راست فیصلہ سناتا ہے اور فیصلہ میاں صاحب کے حق میں آتا ہے تو سراج الحق اور بلاول زرداری سڑکوں پر ہوں گے کیونکہ سراج الحق روز اول سے تحقیقاتی کمیشن کے قیام اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عمران / قادری بھی ساتھ شامل ہو گئے تو لوگ بے دریغ احتجاج کے لیے نکلیں گے۔ یعنی نوازشریف کے جانے تک پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا. \r\n\r\nجمالی صاحب نے کیس کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ اب نئے چیف جسٹس کا امتحان ہے کہ وہ افتخار محمد چوھدری کی جرات مندی اور بہادری کے سبب حاصل کردہ عدالتی آزادی اور عوامی اعتماد کی لاج کیسے رکھ پاتے ہیں۔\r\n