جنید جمشید کا پیغام زندہ رہے گا - ڈاکٹر راؤ کامران علی

بچپن میں جو پہلا گیت زبان پر چڑھا وہ ”دل دل پاکستان“ تھا۔ گیت کا مکھڑا تو سکون سے پڑھا جاتا لیکن جب انترے تک پہنچتا تو ”دل دل پاکستان“ اتنے جوش اور چیخ کے ساتھ نکلتا کہ اگلےدن اسکول میں”گلا بیٹھنے“ کا الزام کچے بیروں کو جاتا۔ یہ جنید جمشید سے پہلا تعارف تھا، پہلا لگاؤ تھا، پہلی فین فالونگ تھی۔ وہ واحد پاکستانی سنگر تھا جو عزت اور شہرت کی ان بلندیوں کو چھو سکا۔ \r\n\r\nبہت سے فلمی ستاروں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے لیکن خواہش کے باوجود جنید جمشید سے ملاقات نہ ہو سکی کیونکہ اُس نے کنسرٹس پر جانا چھوڑ دیا اور ہم نے تبلیغی اجتماع میں۔ بھلا ہو ناظمہ خان کا کہ اس نے کلیولینڈ، اوہائیو میں جنید جمشید کے لیے "The Citizens Foundation کے تحت فنڈ ریزنگ کا اہتمام کیا اور ہمیں بھی اس کارِخیر میں شامل ہونے اور جنید جمشید سے ملنے کا موقع فراہم کیا۔ کیا خوبصورت انسان تھا۔ اس سےمل کر ایک خوشبو سی بدن میں اتر گئی۔ فنڈ ریزنگ کے دوران وہ حاضرین کی پرزور فرمائش پر ”دل دل پاکستان“ بھی سناتا رہا۔ کیسے آنکھیں بھیگ جاتی تھیں اُس کی یہ گاتے ہوئے.\r\n\r\nاعلیٰ تعلیم، بے پناہ وجاہت، نظروں کو خیرہ کر دینے والے اسٹارڈم کے ساتھ وہ ہر دل کی دھڑکن تھا اور ”بھریا میلہ“ بھری جوانی میں چھوڑ کر وہ اللہ کے راستے پر لگ گیا۔ لیکن ہمارے منافق معاشرے نے سمجھا کہ شاید اس کا ”نیا جنم“ ہوا ہے، اس لیے اس کا ہر عمل تنقید کی چھلنی سے گُزرنے لگا۔ لوگ بھول گئے کہ سالہا سال ایک ”کھلےڈُلے“ ماحول میں وقت گزارنے کے بعد اس کا دل بدلا ہے لیکن رویے بدلتے وقت لگے گا۔ اگر کسی کے ساتھ سیلفی لے لی ہے تو ”حلال سیلفی“ کہہ کر تمسخر اُڑایا گیا، اگر اسٹیج پر پرانے گلوکار یاروں کے ساتھ ویسے ہی کھڑا ہو گیا تو ”حلال کنسرٹ“ اور اگر کسی ایسی تقریب میں مدعو کیا گیا جہاں اس کے علم میں لائے بغیر کوئی رقص ہو گیا تو وہ ”حلال ڈانس“ کہہ کر سنگ باری کی گئی۔ اب پتا نہیں کہ مہندی اور شادی پر جو ہم سب خوشیاں اور جشن مناتے ہیں اور رقص کرتے ہیں وہ ”حلال“ ہوتا ہے یا نہیں؟\r\n\r\nجس انسان سے ہر عمر، طبقے اور مذہب کا آدمی محبت کرتا تھا، راہِ حق میں آنے کے بعد تقریباً ہر فرقے کے لوگ اس سے خار کھانے لگے۔ باقی فرقے تو دور اس کے اپنے فرقے کے کئی لوگوں کی ”روزی روٹی“ جنید کی کشش سے متاثر ہونے لگی، حالانکہ اس شاندار انسان نے کبھی کسی فرقے کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ دیوبندیوں کی تعلیمات، بریلویوں کی نعتوں اور اہلِ تشیع کے مرثیوں کا علمبردار تھا یہ شخص۔ ”لبرلز“ یا آزاد خیال، جو اس کے گانوں پر ”ٹُن ہو کر“ جھومتے تھے، اس کا ٹھٹھہ آڑانے لگے۔ جنید جمشید کی زبان کی ایک لغزش کے موقع فائدہ آٹھاتے ہوئے، ایک اینکر جو منہ میں آم ٹھونسنے اور آف کیمرہ واہیات گفتگو کرنے سےمشہور ہے، نے ٹی وی پر بھرے شو میں جنید جمشید کی والدہ کو گالی دی لیکن اس بھلے آدمی نے اس کا جواب نہیں دیا۔ اگر کسی ”مولوی صاحب“ کا ذریعہ آمدنی معلوم نہ ہو تو وہ ”حرام خور“ یا چندہ کھانے والا اور اگر وہ کُرتے بیچے تو پیسوں کا لالچی تاجر کہلائے. کبھی الزام لگانے والا اپنے ضمیر میں جھانک کر دیکھ لے تو ایسا ہرگز نہ کرے۔ \r\n\r\nلوگوں کو رونق میلے اور عیش کی زندگی کو ترک کرنے کی تبلیغ کے ذریعے مذہب کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی طرف لانا، ایک انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ طالبان اور داعش کی ”مہربانی“ سے لوگ ویسے ہی سنت ڈاڑھی اور اونچی شلواروں والوں سے دور ہٹنے لگے ہیں تو ایسے میں لوگوں کے محبوب اداکار اور گلوکار یا کرکٹرز کی کشش تبلیغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن جنید جمشید کی انھی تکلیفوں اور مصیبتوں کو دیکھتے ہوئے ”علی حیدر“ واپس اپنے راستے پر لوٹ گیا ہے۔ ہر سال امریکہ ہمارے فنکشنز میں آتا ہے اور ڈالرز کماتا ہے۔ وہ بھی خوش، لبرلز اور مذہبی فرقے بھی خوش۔ رہے نام الّلہ کا.\r\n\r\nجنید جمشید نہیں رہے لیکن ان کا اثر، ان کی تعلیمات، اُن کا محبت، رواداری اور رزقِ حلال کمانے، کھانے اور کھلانے کا پیغام زندہ ہے اور رہے گا۔ ان کی تبلیغی خدمات مشعلِ راہ ہیں اور رہیں گی۔ وہ ہمیشہ ہماری دعاؤں میں شامل رہیں گے۔ ان کے چاہنے والے ان کی تعلیمات اور تبلیغ کی وراثت کے امین ہیں۔\r\n

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */