میاں نوازشریف کا احساسِ کمتری - رضوان الرحمن رضی

میاں نوازشریف کی شخصیت کا جائزہ لیں تو ان کی ذات میں لوئر مڈل کلاس کی وہ تمام محرومیاں یکجا نظر آئیں گی جو گھر میں موجود ایک ’’زبردست‘‘ ابا جی کی بدولت بچے کی شخصیت کو یا تو دبا دیتی ہیں یا پوری عمر کے لیے اس میں احساسِ کمتری سمو دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں جمعہ کی چھٹی ختم کرنے سے لے کر سر پر مصنوعی بال لگوانے تک ایسی ایسی حرکتیں کیں کہ کسی نو دولتیے دوکاندار کے بچوں کا گمان ہوتا رہا۔ یہاں سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ موصوف کے ابا جی تو کاروباری تھے تو پھر حرکتیں نو دولتیوں والی کیوں رہیں؟ تو سیدھا سا جواب ہے کہ جب تک اتفاق میں برکت تھی اور باؤ شریف اور ان کے چھ دیگر بھائی اکٹھے رہتے تھے تو اصول یہ تھا کہ جو چیز ایک گھر میں آئے گی، باقی چھ گھروں میں بھی خود بخود وہی اور اسی معیار کی جائے گی۔ ایک بچے کو اگر ایک ماڈل کی گاڑی ملے گی تو باقی تمام کزنوں کو بھی اسی کا حقدار گردانا جائے گا۔ اس لیے ’’زیادہ خرچے‘‘ کے خوف سے باؤ شریف کے بچوں کی بہت سی خواہشات دل میں ہی رہ گئیں۔ \r\n\r\nاب یہ نا آسودہ خواہشات ان کو ستاتی ہیں اور جب بندہ بیس کروڑ لوگوں کے ملک کا وزیر اعظم بن جائے تو پھر تو اور بھی ستاتی ہیں۔ ہاتھ چھوڑ کر موٹرسائیکل چلانا نہ سہی یا پھر نئی کرونا کے پیچھے زنجیروں سے پیلی پتی کے خالی سبز ڈبے لٹکانا نہ سہی، لیکن اپنی سرخ ’شاراڈ‘ کو تو تیل مار کے، اونچی آواز میں ڈیک لگا کر ڈرائیو کر کے ’اُس‘ کی گلی کا ایک چکر تو بنتا ہے۔ چھوٹا بھائی تو اس سے ایک آدھ ہاتھ آگے ہی نکل جاتا ہے لیکن بڑے بھائی صرف اس احساس ہائے کمتری سے نکلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جیسے وہ سہگلوں کے ان بچوں کو اپنا دستِ نگر دیکھنا چاہتے ہیں جو اُس وقت ایچی سن میں جایا کرتے تھے جب میاں صاحب گرجا سکول میں جاتے تھے۔\r\n\r\nآج کل میاں صاحب اور ان کے راتب خوروں پر خود کو سیکولر ظاہر کرنے کا بھوت سوار ہے۔ ایک راتب خور تو یہاں تک گرگیا ہے کہ اپنے باپ سے ہی برات کا اظہار کر دیا کہ میرے ابا جی جو ماڈل ٹاؤن کی ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیا کرتے تھے، میں ان کے خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ اس سمت میں سرپٹ بھاگتے وزیراعظم نوازشریف نے معروف مسلمان پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر ریاض الدین کے نام سے منسوب قائد اعظم یونیورسٹی کے ’’نیشنل سنٹر فار فزکس اور فیلو شپ‘‘ کو ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی ہے اور اس کو حتمی دستخطوں کے لیے صدر کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔\r\n\r\nاسلام آباد کے ایک باخبر صحافی مہتاب عزیز نے اس طرف توجہ دلائی ہے اور لکھا ہے کہ:\r\n’’ڈاکٹر عبدالسلام نے 70ء کے عشرے کے اوائل میں پاکستان میں فزکس میں تحقیق کا ادارہ قائم کرنے کا ’خیال‘ پیش کیا تھا، جس کی منظوری اْس وقت کے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چئیرمین نے دے دی تھی۔ اس کے لیے حکومت پاکستان نے فنڈ مختص کیا، اور کئی سال تک اس منصوبے کی منصوبہ بندی کی جاتی رہی۔ اسی دوران 1974ء میں پاکستانی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا، جس کے فوری بعد ڈاکٹر عبدالسلام نے غصے اور انتقام میں ہمیشہ کے لیے پاکستان کو خیر باد کہہ دیا اور پاکستان میں فزکس کی تحقیق کا ادارہ قائم کرنے کا سارا منصوبہ اور اس حوالے سے ہونے والی اب تک کی تمام منصوبہ بندی کے کاغذات لے کر اٹلی چلے گئے۔ یوں انہوں نے پاکستانی حکومت کے پیسوں سے ہونے والی منصوبہ بندی کو استعمال کرتے ہوئے اٹلی میں انٹرنیشنل سینٹر فار تھیئریٹکل فزکس کے نام سے تحقیقی ادارہ قائم کیا۔ تا ہم گورنمنٹ کالج کے ریکارڈ سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دوران موصوف حکومتِ پاکستان کو بھی چھٹی کی جھوٹی سچی درخواستیں بھیج کر تخواہ پاتے رہے تاہم اٹلی والے ادارے سے وہ تادمِ مرگ وابسطہ رہے۔\r\n\r\nدوسری جانب پاکستان میں ایک مرتبہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود جب تحقیقاتی ادارہ نہ بن سکا تو دوبارہ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں طویل عرصہ لگ گیا۔ لیکن اس کا بیڑا ڈاکٹر عبدالسلام کے پائے کے ہی مسلمان سائنسدان ڈاکٹر ریاض الدین اٹھایا، اور ان کی شبانہ روز محنت نے بالآخر پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے تحقیقاتی ادارے کی تخلیق کا خواب سچ کر دکھایا، جس کا نام نیشنل سنٹر فار فزکس رکھا گیا۔ اس تحقیقاتی مرکز کا معیار اتنا اعلیٰ ہے کہ یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق 'سرن' سمیت فزکس کے اکثر اداروں کی ممبر شپ اسے حاصل ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر ریاض الدین نے نہ صرف یہ ادارہ قائم کرنے کے لیے دن رات محنت کی، بلکہ وہ دم آخر تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ اسی لیے ڈاکٹر ریاض الدین کی وفات کے بعد نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام ڈاکٹر ریاض الدین نیشنل سنٹر فار فزکس رکھ دیا گیا‘‘۔\r\n\r\nاب ڈاکٹر ریاض الدین کے نام سے منسوب ادارے کا نام تبدیل کر کے اس کو ڈاکٹر عبد السلام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ قائداعظم یونیوسٹی کے ایک دوست سے پوچھا کہ نام کی تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ تو اْس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ریاض دنیا کے صف اول کے سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باعمل مسلمان بھی تھے۔ پانچ وقت باجماعت نماز ادا کرنے کی وجہ سے وہ اکثر ہودبھائی کی نسل کے لوگوں کی اس یونیورسٹی میں تنقید کا نشانہ بنتے رہے۔ اسی لیے وہ فزکس کی دنیا میں گراں قدر خدمات کے باوجود گمنام رہے یا رکھے گئے۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کا سب سے اہم تحقیقاتی مرکز کا کسی باعمل انسان سے منسوب ہونا آج کی دنیا میں قابل قبول نہ ہو‘‘۔\r\nڈاکٹر ریاض الدین صاحب کا تفصیلی تعارف وکی پیڈیا پر دیکھا جا سکتا ہے۔\r\n\r\nپاکستان کا ایٹمی پروگرام کیوں وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو نہ دیا جا سکا کہ جس کے مشیر ڈاکٹر سلام صاحب تھے؟ اور کیسے 1973ء میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد ان کی وزارت کے سائنس دانوں نے ایک بہت بڑا سادہ بارود کا دھماکہ کر کے اس کو ایٹمی دھماکے کا نام دینے کا ڈرامہ رچانے کی کوشش کی، جسے ذوالفقار علی بھٹو نے عین وقت پر پکڑ لیا تھا۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن قادیانی لابی نے ڈاکٹر ریاض الدین کے اس دنیا سے جانے کا انتظار کیا اور جب وہ دنیا سے 2013ء میں پردہ فرما گئے تو پھر یہ سمری چلائی گئی اور یوں میاں صاحب نے یہ سمری منظور کر لی۔\r\n\r\nڈاکٹر عبد السلام کی پاکستان اور اسلام کے بارے میں ہرزہ سرائی کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ گورنمنٹ کالج لاہور کی لیبارٹری یا اس طرح کی کسی اور ادارے کو ان کے نام سے موسوم کر دیا جاتا؟ کچھ نہ کرنے کے باوجود ان کی ’’خدمات‘‘ اپنی جگہ پر لیکن ربوہ میں ایک کالج ان کے نام پر بنا دیا جاتا۔ ویسے بھی پنجاب حکومت قادیانیوں کو ان کے تعلیمی ادارے جو بھٹو صاحب نے 1973ء نے قومیا لیے تھے، واپس کرنے کے لیے مرے جا رہی ہے۔ تو ایسے میں ایسا کوئی ادارہ جس سے ان کی روح کو بالیدگی ملتی رہتی اور ان کے عقیدے کے لوگ بھی اس سے مستفید ہوتے رہتے؟\r\n \r\nیہاں میاں صاحب کی ایک اور خاصیت کا ذکر کرنا نامناسب نہیں ہوگا۔ وہ یاروں کے یار ہیں، اور یاری میں عزت، غیرت، حمیت، سب کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔ جیسے ان کی بیگم محترمہ کلثوم نوازشریف صاحبہ جب ان کی رہائی کے لیے نکلی تھیں تو ان کو لاہور میں جس شخص نے کئی گھنٹوں تک تماشا بنایا تھا، اس کا نام بریگیڈئر اعجاز شاہ تھا۔ میاں نوازشریف کے خاندان نے جس طرح بریگیڈئر اعجاز شاہ کی سفارش پر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنائے گئے اس کے سگے بھانجے، ڈاکٹر مجاہد کامران کو بچانے کے لیے صوبائی اسمبلی میں ترمیم کرائی، اس سے تو لگتا یہی ہے کہ جب وہ بخشنے پر آئیں تو عزت، غیرت، حمیت تو رہی ایک طرف، وہ اس عمل میں تو اپنے خاندان کی خواتین کی عزت و ناموس کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ \r\n\r\nاب ہوا یہ کہ جب میاں نواز شریف پھانسی کی کوٹھڑی میں بند تھے، کچھ لوگوں کے بقول جنرل پرویز مشرف کی مرضی و منشا سے اور کچھ کے بقول اپنے خلیفہ کے حکم پر، قبیلہ قادیان کے چشم و چراغ بریگیڈئیر نیاز آگے آئے اور یوں میاں صاحب کو گلو خلاصی کروا کر کے ان کو سرور پیلس روانہ کر دیا گیا۔ اب بریگیڈئیر نیاز کو نوازنے کا موقع ملا تو پہلے ان کو یوکرین سے آنے والے ٹینکوں کے انجن تیار و فراہمی کا آرڈر دے کر مالا مال کیا گیا۔ شنید ہے کہ اس تحقیقی لیبارٹری کا نام بھی انہی کو راضی کرنے کے لیے تبدیل کیا گیا۔ واللہ اعلم\r\n\r\nدیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی ہڈیوں پر پلنے والا راتب خور جوازی قبیلہ اس کا کیا جواز تلاش کر کے قوم کو مہیا کرتا ہے اور اس عمل کو جمہوریت اور اسلام کی روح کے عین مطابق ثابت کرتا ہے۔ اللہ بہت محبت کرنے والا ہے، وہ ایسے ہی کسی پر عذاب مسلط نہیں کرتا، وہ بندے کے اپنے اعمال ہوتے ہیں۔ پھانسی کے پھندے سے واپس آنے والے کو تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ دوزخ کے فرشتے نے کہا تھا کہ دنیا سے آنے والا ہر دوزخی اپنی آگ ساتھ لے کر آتا ہے۔ لگتا ہے آگ اکٹھی کی جا رہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */