ٹارگٹ - حمیرہ خاتون

”مس، کل ہماری گلی میں رات کو ایک بہت بڑا پروگرام ہے جس میں سب نعتیں پڑھیں گے۔“ عمران نے بہت ہی خوشی سے اپنی ٹیچر کو بتایا۔\r\n”اور مس، وہ جو ٹی وی میں آتے ہیں نا، وہ بھی آئیں گے۔“ عابد نے بڑے پرجوش لہجے میں بتایا۔\r\n”اچھا، یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔“ مس نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔\r\n”اچھا، یہ بتائیں کہ ااپ میں سے کون کون اس پروگرام میں نعت پڑھے گا؟“ مس نے پوچھا۔ یہ سب مقامی علاقے کے ہی بچے تھے۔ اور تقریبا سب ہی قریب قریب رہتے تھے۔\r\n”نہیں مس، وہ تو بڑے بڑے آدمی پڑھیں گے۔ ہمیں کہاں پڑھنے دیں گے؟“ عمران نے اداسی سے جواب دیا۔\r\n”کوئی بات نہیں۔ آپ اسکول اسمبلی میں پڑھ لیجیے گا۔“ مس نے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔\r\n”اچھا بچو، آپ کو پتہ ہے کہ نعت کیا ہوتی ہے؟“ مس نے سب پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ یہ مقامی اسکول کے تیسری جماعت کے معصوم بچے تھے۔\r\n”جی مس، وہ جو ٹی وی پر پڑھتے ہیں نا۔“ احمد نے سب سے پہلے جواب دیا۔\r\n”اور مس وہ جو جمعہ کے دن مسجد میں بھی پڑھی جاتی ہے۔“ وسیم نے بھی اپنا مشاہدہ بیان کیا۔\r\n”اور مس وہ جب بھی اسکول میں کوئی پروگرام ہوتا ہے نا تو اس میں بھی قرات کے بعد پڑھی جاتی ہے۔“ سلمان نے بھی سوچ کو جواب دیا۔ \r\n”ماشاء اللہ آپ لوگوں نے تو بہت اچھے اچھے جوابات دیے۔“ مس نے مسکرا کر بچوں کے دلچسپ جوابات کو سراہا۔\r\n”مگر میں تو یہ پوچھ رہی تھی کہ نعت اصل میں کس کو کہتے ہیں؟“ مس نے آخر میں آواز دھیمی کر کے ہاتھوں سے پوچھنے کا اشارہ کیا۔ اور سب کے چہروں پر ایک نظر ڈالی۔سب بچوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔\r\n”پیارے بچو! آپ کو پتہ ہے نا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ سب کو پیارے ہیں، اللہ میاں کو بھی، فرشتوں کو بھی، اور تمام مسلمانوں کو بھی، مجھے بھی اور آپ کو بھی۔“ مس نے رک کر سب کے چہروں پر ایک نظر ڈالی۔ سب منتظر بیٹھے تھے۔ \r\n”ہم سب اپنے پیارے نبیﷺ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ہم سب ان کی بہت تعریف کرتے ہیں تو جب ہم ان کی تعریف میں اشعار لکھتے ہیں نا تو اسے نعت کہتے ہیں۔ لوگ نعت کو ترنم سے خوبصورت آواز میں بہت ادب اور احترام کے ساتھ پڑھتے ہیں تو سب کو بہت اچھا لگتا ہے۔“ مس نے آسان الفاظ میں سمجھایا۔\r\n”اچھا، یہ بتائیں کہ آپ میں سے کس کس کو اچھی سی نعت پوری یاد ہے؟“ مس نے بہت جوش سے پوچھا۔\r\nبہت کم بچوں نے ہاتھ اٹھایا۔ \r\n”ارے، آپ سب کو نہیں آتی؟“ مس نے حیرت سے پوچھا۔\r\n”نہیں مس، وہ تھوڑی تھوڑی آتی ہے، پوری نہیں آتی۔“ احمد نے مشکل بیان کی۔\r\n”ہمم، مس نے سر ہلایا۔ اچھا بچو! نعت تو سب کو ترنم سے پڑھنی نہیں آتی مگر ہم سب کا دل تو چاہتا ہے نا کہ اپنے پیارے پیارے نبیﷺ کی تعریف کریں۔“\r\n”جی مس۔“ پوری جماعت نے ہم آواز ہو کر کہا۔\r\n”تو پیارے بچو! ہم سب ان کے لیے درود شریف پڑھ سکتے ہیں۔“ مس نے اپنی بات رکھی۔\r\n”مگر مس ۔ "وسیم ہچکچایا۔ "وہ ہمیں تو پورا درود یاد نہیں۔“\r\n”کوئی بات نہیں۔ آپ یاد کر لیں اور جب تک یاد نہیں ہوتا نا تو آپ چھوٹا سا درود شریف پڑھ لیں۔ \r\nاللھہ صلی علی محمد واعلی آلہ واصحابہ واجمعین۔ \r\nاور ایک بات اور، آپ جب بھی پیارے نبی ﷺ کا نام سنیں تو اگر درود یاد نہ ہو تو صلی اللہ علیہ واالہ وسلم ضرور پڑھ لیا کریں۔ پڑھتے ہیں آپ لوگ؟“ مس نے پوچھا۔\r\n”نہیں مس۔“جواب ملا۔\r\n”اب پڑھیں گے؟“ مس نے پھر پوچھا۔\r\n”جی مس۔“ سب نے زور دار آواز میں جواب دیا۔\r\n”کیا پڑھیں گے؟ اور کب پڑھیں گے؟“ مس نے پوچھا۔\r\n”درود شریف پڑھیں گے جب بھی پیارے نبی ﷺ کا نام سنیں گے یا پڑھیں گے۔“ بچوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔\r\n”اور اگر درود شریف یاد نہ ہو تو کیا ضرور پڑھیں گے؟“\r\n”صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ سب نے جواب دیا۔\r\n”ویری گڈ بچو! اب آج سے اگلے سال تک یہ آپ کا ٹارگٹ ہے کہ آپ سب جب بھی اپنے پیارے نبی ﷺ کا نام سنیں گے یا پڑھیں گے تو آپ درود شریف یا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور پڑھیں گے۔ اس سے ان شاء اللہ پیارے نبی ﷺ بھی خوش ہوں گے ۔ اللہ میاں بھی اور آپ کے کام بھی آسان ہو جائیں گے اور ااپ کو بہت ساری نیکی بھی ملے گی۔ اگلے سال ان شاء اللہ ہم ایک اور نئی بات سیکھیں گے اور پورا سال اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح ربیع الاول کے مہینے میں ہر سال ایک سنت سیکھ کر سارا سال اس پر عمل کریں گے۔ ٹھیک ہے نا بچو! ڈن ! “ مس نے ہاتھ اٹھایا۔\r\n”یس مس! ڈن ! “ بچوں نے بھی ہاتھ اٹھا کر ساتھ دیا۔

Comments

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون کو پڑھنے لکھنے سے خاص شغف ہے۔ بچوں کی بہترین قلم کار کا چار مرتبہ ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ طبع آزمائی کے لیے افسانہ اور کہانی کا میدان خاص طور پر پسند ہے۔ مقصد تعمیری ادب کے ذریعے اصلاح ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */