رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم - انعام الحق

کیوں نہ ذکر ہو گلشن ہست و بود کے اس انمول پھول کا جس کے دیدار کو خود چمن روز اول سے بے تاب تھا، جس کے بے مثال ہونے کے چرچے ہر دور میں رہے اور جس کی مہک سے سارا جہاں معطر ہوا۔ ریشم کی نرمی جن کی نزاکت کو بیان کرنے سے قاصر، اور حسن کے سب استعارے جن کے سامنے تنگی داماں سے شرمندہ ہوں۔ اخلاق اتنے عظیم کہ ہر ادا ہی اخلاق کی اعلی کسوٹی، حیادار اتنے ک\0ہ خود حیا کو بھی حیا آجائے۔ پرواز اتنی بلند کہ سوچ کی نگاہیں بھی جس کو نہ پا سکیں، اور عاجزی اتنی کہ انجان شخص آقا ہونے کو بھی نہ جان سکے۔ تو پھر اتنی عظیم ذات کے مداحوں کی صف میں کھڑا ہونے کو قلم و زباں کیوں نہ بے تاب ہوں۔\r\n\r\nجن کے عدل و انصاف کے ترازو میں اپنوں کے لیے جھکاؤ نہ تھا، جن کے معافی نامے بلا جھجحک جانی دشمنوں کو بھی جاری ہوجاتے، جن کی تربیت نے بکریوں اور اونٹوں کے چرواہوں کو امامت عالم کے منصب پر پہنچا دیا۔ انہی کے عدل کے صدقے سے ہی تو خلیفہ وقت بے چون و چرا عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہونے لگے، یہ انہی کی صدائے محبت اور اخوت ہی تو تھی جس نے اجنبیوں کو بھائی بنا دیا، خون کے پیاسوں کو شفقت کے نمونے بنا دیا۔ یہ انہی کا مکتب تھا جہاں جانوروں کے حقوق بھی بیان ہوتے تھے، اور دشمنوں سے حسن سلوک کے درس بھی ملتے تھے۔ جنہوں نے علم و تحقیق کے زنگ آلود بند دروازوں کو اپنے دست رحمت سے کھولا، فلسفے کی پرخار وادی کے مسافروں کو وحی کے چراغوں سے روشنی دی۔\r\n\r\nدنیا نے طوفانوں میں ان کا تھمایا چراغ گم کر دیا تو معاشرت سے لے کر معیشت تک، عدالت سے لے کر میدان جنگ تک، گھر یلو معاملات سے لے کر کاروبار ریاست تک، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے، رشوت کی بھرمار، بددیانتی کا سیلاب، تعلقات کے حیلے، نفرت اور خود غرضی کے سیاہ بادل، بےحسی اور بےمروتی کے زخم، ظلم کے سب شکنجے\0، یہ سب تو اسی اندھیر نگری میں دامن سے چمٹے رہنے کی وجہ سے ہیں۔\r\n\r\nجن کے بارے میں قرآن نے کہہ دیا کہ وہ مؤمنوں کے فائدے کے بہت زیادہ خواہش مند ہیں تو پھر کیا ان کے منع کیے ہوئے کام میں کوئی حقیقی فائدہ ہوسکتا ہے؟۔ جن کے سفر حیات میں تکبر کی پرچھائی نہ تھی، انہی کی امت کے لیے علم، مال اور خاندان پر تکبر کی راہ پر چلنا کیسے ممکن ہے ؟ دشمن کی بیٹیوں کی عزتیں بھی جن کی حفاظت پے نازاں تھی، اپنی امت کی بیٹیوں کی عفت کے جنازوں کا ان کی گلیوں میں گزر کتنا تکلیف دہ ہوگا؟۔ جنہوں نے گھر کو جنت بنانے کے سب سبق پڑھا دیے، ان کے چاہنے والوں میں گھریلو ناچاقیاں، اور نفرت کی دیواریں کیسے کھڑی ہوگئیں؟۔ جس نے امت کی خاطر غربت کو سینے سے لگائے رکھا، ان کے امتی کو خوابوں کے ستارے گنتے گنتے حرام کی وادیوں میں گھسنے کی گنجائش کہاں سے مل گئی؟\r\n\r\nکیا حیا سے خالی آنکھیں بھول گئی ہیں کہ ان کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکی سے زیادہ حیادار تھے؟ ان کے بحر علم سےچند بوندیں لےکر بول بدلنے والے کو کسی نے نہیں بتایا کہ بعد از خدا بزرگ توئی کے صاحب نے تو کبھی اعلی ہونے کا رعب نہیں جھاڑا ؟ خطا کار پر لعنتوں کی برسات کرنے والے کب سمجھیں گے کہ اس عظیم ہستی نے سینے سے لگا کر، محبت کے مرہم سےگناہ گاروں کی اصلاح کا سامان کیا؟ مخالفت میں عزت و احترام، ادب و اخلاق کی تمام حدیں پھلانگنے والے کو کب وہ وقت یاد آئےگا جب تکلیف دینے والوں کی ہدایت کی دعا کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اٹھتے تھے؟ نافرمان کب لوٹے گا ان کی طرف کہ جنہوں نے اپنی تابعداری کے سوا کچھ بھی صلہ نہیں مانگا اپنی تکلیفو ں کا؟\r\n\r\nضرورت ہے کہ رحمت کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت و پیروی کی خوشبو میں رچ بس کر نفس کی اطاعت کے تعفن سے نجات پانے کی، شیطان کے مکر و حیلوں سے بھاگ کر ان کے دامن رحمت میں پناہ لینے کی، ان کی سادگی کو اختیار کر کے فضول اور بےہودہ رسومات کی قید سے آزاد ہونے کی۔ علم محض سے بلند ہوکر عشق و محبت کی فضاؤں میں اڑنے کی، کہ انھی کے چراغوں سے اندھیرے چھٹیں گے، انھی کے مرہم سے زخمیوں کو شفا ہوگی، انھی کے ہاتھ کو تھامنے پرگمراہی کی کھائی سے نکلنا نصیب ہوگا، اصل کامیابی کا راستہ وہی ہے جو وہ دکھا گئے، اس کے سوا سب دھوکہ ہے۔\r\n \r\n(انعام الحق، طالب علم پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ ، سکاریا ، ترکی)\r\n

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */