سندھ متنازعہ بل کے خلاف مذہبی قوتیں سراپا احتجاج - عبدالجبار ناصر

سندھ میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں تو ربیع الاول کے باعث کافی کم ہوئی ہیں تاہم مذہبی قوتیں نہ صرف سرگرم ہیں بلکہ انتہائی متحرک ہیں اور اگر ان کی یہ تحریک اسی طرح جاری رہتی ہے تو آئندہ انتخابات میں صوبے میں پیپلزپارٹی کے لیے نہ صرف شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، بلکہ سندھ میں کلین سویپ کا خواب بھی چکنا چور ہو سکتا ہے۔ مذہبی طبقوں کی سرگرمی کی اصل وجہ 24 نومبر کو سندھ اسمبلی میں پاس کیا جانے والا تحفظ اقلیتی بل ہے جس میں عملًا تبلیغ اسلام پر نہ صرف پابندی عائد کردی گئی ہے بلکہ اس کو قابل تعذیر اور ناقابل معافی جرم قرار دیاگیا ہے۔ اس بل کے خلاف پورے سندھ میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماء اور اکابرین سراپا احتجاج ہیں۔ صوبے بھر میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے، تمام مذہبی طبقوں نے بل کو کلی طور پر مسترد کر دیا ہے۔\r\n\r\nجماعت اسلامی کے تحت ادارہ نور حق میں 2 دسمبر کوجماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اسداﷲ بھٹو کی سربراہی میں اور سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی و کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں تقریبا تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور متفقہ طور پر بل کو قرآن وسنت، آئین پاکستان، اخلاقی روایات اور انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا اور ہر محاذ پر اس بل اور اس کو پاس کرنے والوں کے خلاف کیخلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں بل کی منظوری میں حصہ لینے والی 3 جماعتوں کو مدعو نہیں کیاگیا جن میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان شامل ہیں۔\r\n\r\n 5 دسمبر کو جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل شاہ محمد اویس نورانی صدیقی کی رہائش گاہ بیت الرضوان میں اہلسنت بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء و مشائخ اور مفتیان عظام کا اہم اجلاس مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں علماء و مشائخ اور مفتیان عظمان نے متفقہ طور پر اس بل کو مستردکردیا اور اسے امتناع قبول اسلام ایکٹ کا نام دیاگیا۔ علماء و مشائخ کا ردعمل انتہائی سخت اور کسی سخت فتوے کا متقاضی تھا۔ مفتی منیب الرحمن اور شاہ محمد اویس نورانی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ اس بل کے واپسی تک اپنی جدوجہد ہر صورت جاری رکھیں گے. 9 دسمبرکو یوم احتجاج منایا اور عوام کو اس بل کی اسلام اور پاکستان دشمنی سے آگاہ کیاگیا اور گورنر سندھ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بل کی توثیق نہ کریں اور نظر ثانی کے لیے واپس اسمبلی کو بھیج دیں۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں تبلیغ اسلام پر پابندی کسی صورت قبول نہیں ہے۔ تبلیغ اسلام کو روکنے کے لیے جبری طور پر مسلمان بنانے کا پروپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ اسلام کسی کو جبری طور پر مسلمان بنانے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اسلام جہاں پر جبری طور پر مسلمان بنانے سے روکتا ہے وہیں پر جبری طور کسی کو مسلمان بننے سے روکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اجلاس میں موجود علماء و مشائخ اور مفتیان عظام کا شدید دباؤ تھا کہ بل کی منظوری میں شامل ارکان کی شرعی حیثیت کے حوالے سے فتویٰ جاری کیاجائے، تاہم مفتی منیب الرحمن نے اس عمل کو قبل ازوقت قرار دیتے ہوئے اتنا ضرور کہا کہ جو لوگ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بل کی منظوری میں حصہ دار بنے ہیں، وہ اپنے عمل پر اﷲ سے معافی مانگیں اور ازالے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔ شرکاء نے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ف) کے سربراہ پیر پگارا اور ایم کیوایم پاکستان کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔\r\n\r\n اسی بل کے حوالے سے 6 دسمبر کو کراچی پریس کلب میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے تحت آل پارٹیز کارنفرنس علامہ راشد محمود سومروکی میزبانی میں ہوئی جس میں وفاق المدارس کے مولانا قاری حنیف جالندھری، جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، محمد حسین محنتی، اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ جعفر سبحانی، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مفتی یوسف قصوری، جمعیت علمائے اسلام سندھ کے قاری محمد عثمان، مولانا عبدالکریم عابد، محمد اسلم غوری، مسلم لیگ (ن) علی اکبر گجر، خواجہ طارق نذیر، عالمی مجلس ختم نبوت کے مولانا اعجاز مصطفی، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ مقصود ڈومکی، جمعیت علماء اسلام (س) کے مولانا پیر عبدالمنان انور نقشبندی، آل پاکستان سنی تحریک کے سربراہ مطلوب اعوان، تنظیم الاخوان کے لئیق خان، تنظیم اسلامی کے شجاع الدین شیخ، جمعیت علماء پاکستان کے مستقیم نورانی، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے بشارت مرزا اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ طور پر بل کو مسترد کر دیا گیا اور بل واپس لینے کے لیے 15 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیاگیا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے اسلام اور پاکستان دشمن بل واپس نہ لیا تو اس کے خلاف سندھ بھر میں بھرپور احتجاجی مہم چلائی جائے گی۔ آل پارٹیز کانفرنس کے متفقہ اعلان کے مطابق 9 دسمبر کو صوبہ بھر میں یوم احتجاج کا اعلان بھی کیاگیا۔ شرکاء نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ بل کی منظوری میں حصہ دار بننے والے تمام ارکان کو نااہل قرار دے کر ان کی خالی نشستوں پر دوبارہ انتخاب کروایا جائے، کیونکہ ان ارکان نے قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے خلاف بل منظور کر کے اپنے حلف اور آئین کو توڑا ہے۔\r\n\r\nتحفظ اقلیتی بل کے حوالے سے 6 دسمبر کو پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے میڈیا سے گفتگو میں اس بل کی منظوری پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بےموقع اور غیر ضروری قرار دیا اوران کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں مذہبی کی تبدیلی کو روکنے کا اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں ہے اور یورپ میں 15سال کی عمر کے لڑکے کو بالغ اور باشعور تسلیم کیا جاتا ہے۔\r\n\r\nعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 8 دسمبر کو مجلس کے دفتر میں کراچی کے امیر مولانا اعجاز مصطفٰی کی صدارت میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں جے یو آئی کے صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان، جماعت الدعوہ کراچی کے مسؤل انجینئر مزمل اقبال ہاشمی، جامعہ بنوری ٹاؤن کے ناظم مولانا سعید اسکندر، جمعیت غرباء اہل حدیث کے نائب امیر محمد احمد سلفی، نظام مصطفٰی پارٹی کے صوبائی صدر الحاج محمد رفیع، جے یو آئی( س) کے رہنما مولانا مشتاق احمد، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے محمد اشرف قریشی، جے یو پی( نورانی) کے صوبائی صدر عقیل انجم قادری، قاضی احمد نورانی، جے یو پی کے مفتی غوث قادری، مستقیم نورانی، شیعہ عالم دین سید کرار، اشرف المدارس کے مولانا ارشاد، دارالعلوم کراچی کے مولانا محمد حنیف خالد اور دیگر نے شرکت کی۔ تمام رہنماؤں نے سندھ اسمبلی میں متنازعہ بل کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا اور کہا کہ اسلام کی اشاعت کو روکنے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اجلاس میں متنازعہ بل کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اقلیتوں کے حقوق کے حامی ہیں، اسلام میں جبری مذہب تبدیلی کا تصور نہیں ہے، سندھ حکومت نے اقلیتوں کے تحفظ کی آڑ میں اسلام کی اشاعت کو روکنے کی کوشش کی ہے جس کی اجازت نہیں دے سکتے۔\r\n\r\nمجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحفظ اقلیتی بل کی منظوری میں پیپلزپارٹی نے کسی کی خوشنودی کے لیے سوچ بچار اور مشاورت کے بجائے جلد بازی کا مظاہرہ کیا اور یہی جلد بازی اب اس کے لیے مشکلات پیداکر رہی ہے. اگر مذہبی طبقے کا احتجاج اسی طرح جاری رہا تو پیپلزپارٹی کا آئندہ انتخابات میں سندھ میں کلین سویپ کرنے کا خواب چکنا چور ہوسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی اور بل پاس کرنے والی جماعتوں کے پاس ازالے کا ایک موقع اب بھی موجود ہے کہ گورنر سندھ یہ بل نظر ثانی کے لیے واپس اسمبلی کو بھیج دیں اور اسمبلی اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرکے اس کی سفارشات کی روشنی میں نیا بل منظور کرے۔ اگر ان جماعتوں نے یہ موقع ضائع کر دیا تو ان کے لیے مشکل ہوگی، کیونکہ کسی بھی عدالت میں بل کو چلینج کیا جائے تو اس کے کالعدم ہونے کا واضح امکان ہے، اس لیے کہ یہ بل قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 2، آرٹیکل 8، آرٹیکل 20، آرٹیکل 31 اور آرٹیکل 227 کے خلاف ہے۔\r\n

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */