نبی اکرم ﷺ بحیثیت ایک داعی - خلیل الرحمن شاکر

حضور نبی ﷺ کے سر اقدس پر نبوت کا تاج سجا دیا گیا\r\nآقا کو مکہ کی ظالم حکومت کے مقابل حزب اختلاف کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا مگر یہ عنوان پوری سیاست کے فریب سے ایسا بدنام ہے کہ اس کا معنون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا نہیں جاسکتا. \r\nمکہ میں ابوجہل کی گورنمنٹ قائم ہے، ظلم و ستم کا دور دورہ ہے، کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا، بتوں کا تقدس مانا جاتا ہے اور حقیقی خدا کی راہ سے پہلوتہی کی جاتی ہے، جو مخالف اٹھتا ہے اس کا سر کاٹ دیا جاتا ہے.\r\nدفعتا محمد ﷺ نامی نے فاران کی چوٹیوں سے اعلان کیا!\r\nایک خدا کی شاہی قبول کرلو،\r\nاسی نے تم کو پیدا کیا،\r\nاسی نے زمین و آسمان بنائے،\r\nاس کی حاکمیت میں فلاح و کامرانی ہے،\r\nظلم وستم کی اندھیر نگری ختم کر کے اسی خدا کے عدل و انصاف کی راہ اختیار کرلو،\r\nیہی سرمدی فلاح کا راستہ ہے،\r\nعجیب نعرہ تھا اور انوکھا عنوان تھا،\r\nحیرت انگیز منشور تھا اور بے مثال آوازہ تھا،\r\nجو اس محمد نے لگایا سارا ملک چونک اٹھا،\r\nیہ کیا ہوگیا اور کیوں ہوگیا؟\r\nیہ محمد کون ہے؟ یہ کیسی آواز ہے؟ تقریر و تحریر کی پابندی کا سنگم کس نے توڑا ہے؟ \r\nہر طرف سے چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں۔۔۔۔\r\nیکایک پتھروں کی بارش ہوتی ہے اور نئے نعرہ کے علمبردار کو زخموں سے چور کر دیا جاتا ہے اور وہ اقتدار کی نگاہ ناخوش میں کھٹکنے لگتا ہے.\r\nوہ محمد ﷺ جو سریر آرائے نبوت تھا \r\nاپنی جماعت کے افراد پیدا کرنے کے لیے دن رات کوشاں رہتا ہے.\r\nبالآخر ابوبکر نامی ایک شخص مکہ کا تاجر ابتدائی رکنیت قبول کرلیتا ہے.\r\nاس طرح یکے بعد دیگرے 36 افراد جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں.\r\nسربراہ مکہ ابوجہل ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے، ہرطرح کی پابندی لگاکر دیکھ چکا ہے، مگر دن بدن دعوت محمدیﷺ پھیل رہی ہے، آئے دن اس کی جماعت ترقی کرتی چلی جاتی ہے، اس کو مکہ کا سارا اقتدار (سرداری، وزارت یا گورنری) پیش کیا جاتا ہے مگر وہ تو سارا نظام بدلنا چاہتا ہے، پتھروں کی مورتیوں کو توڑ کر ایک خدا کے سامنے سب کو کھڑا کرنا چاہتا ہے، اسے کوئی لالچ اور دھمکی اپنے مشن سے نہ روک سکی، تبھی وہ تمام پابندیاں توڑتا ہے، خدائی قوانین کے سامنے رکاوٹوں کو پاؤں کی نوک پر رکھتا ہے، اوباشوں کا لاٹھی چارج سہتا ہے مگر اپنا منشور ہر جگہ دنیا کو سناتا ہے \r\nستم بالائے ستم یہ کہ جو کلمہ پڑھ کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی جماعت کی رکنیت قبول کرتا ہے، سارا معاشرہ اس سے بائیکاٹ کرلیتا ہے.\r\nاگرچہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم 13 سال تک مکہ میں اس انقلاب کے قائد رہے \r\nمگر آپ کی زبان سے :\r\nکوئی جملہ اصولوں کے خلاف سرزد نہ ہوا،\r\nآپ نے کسی مخالف پر اوچھی تنقید نہیں کی،\r\nآپ نے اپنے استدلال میں کبھی جھوٹ نہ بولا،\r\nجو بات ایک دفعہ فرمادی اسی پر قائم رہنا آپ کا شیوہ تھا،\r\nمخالفین ہر قسم کی اذیتیں دیتے رہے، طائف والوں نے آپ کو زخموں سے چور کر دیا تھا\r\nمگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی بدعا کا کلمہ ان کے حق میں نہ کہا تھا اور فقط ہدایت کی دعا فرمائی تھی۔\r\n آنحضور نبی کریم ﷺ کا یہ اسوہ آج دعوت کے علمبرداروں کے سامنے ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */