پرواز PK-661، چند سوالات - ماجد نقی

پی آئی اے کی پرواز PK-661 چترال سے اسلام آباد جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی اور طیارے میں سوار تمام 42 مسافر اور عملے کے 06 ارکان جاں بحق ہوگئے. یہ ATR-42 طیارہ تھا (ATR-72 اسی کا ایک اور ورژن ہے)، ATR یا Regional Air Transport یا Aerei da Transport Regionale فرانس اور اٹلی کی دو کمپنیز کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔ \r\n\r\n2005ء سے اب تک 90 سے کم نشتوں والے ریجنل ٹریول کی مناسبت سے ATR سب سے بہتر طیارے مانے جاتے ہیں اور اس کیٹیگری میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے (Best Seller) طیارے بھی ہیں۔ تھائی لینڈ، برازیل، اٹلی، انڈیا، امریکہ سمیت 100 سے زیادہ ممالک کی 200 ائرلائنز ریجنل پروازوں کے لے یہی طیارے استعمال کرتی ہیں. اسی سال (فروری 2016ء) میں ایران نے 20 ATRs کا آرڈر بک کیا ہے. دنیا میں ہر 08 سیکنڈ میں ایک ATR اڑان بھر رہا ہے یا لینڈ کر رہا ہے. دنیا بھر میں ہزاروں ATR فروخت ہو چکے ہیں اور اب تک 28 ملین فلائٹ آورز طے کر چکے ہیں. یہ اعداد و شمار دیکھ کر ATRs کو غیر محفوظ نہیں کہا جا سکتا!\r\n\r\n اگر ریجنل ائیر ٹرانسپورٹ کے حادثات کا پاکستان کے تناظر میں جائزہ لیں تو یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ ماضی میں فوکر (Dutch manufactured) طیارے حادثات کا شکار ہوتے رہے۔ موجودہ ATR طیارے فوکر طیاروں کے بڑھتے ہوئے حادثات کو دیکھتے ہوئے ان کے گراؤنڈ ہونے کے بعد ہی خریدے گئے۔ حویلیاں میں حادثے کا شکار ہونے والا ATR طیارہ 2007ء میں خریدا گیا اور اسی سال فلیٹ میں شامل ہوا۔ پاکستان کے پاس کل گیارہ ATR ہیں اور ملکی تاریخ میں ATR کا یہ پہلا حادثہ تھا۔ گو کہ دنیا میں ATR طیاروں کے کئی حادثات پہلے بھی ہو چکے مگر اس کے باوجود ATR طیاروں کا مجموعی سیفٹی ریکارڈ زیادہ برا نہیں۔\r\n\r\nاب اگر طیاروں کی بروقت اوور ہالنگ نہ ہو، مینٹیننس کے لیے مناسب طریقہ کار و میکنزم نہ ہو، پرزہ جات کی بروقت تبدیلی و دستیابی نہ ہو اور سب سے بڑھ کے اس پورے نظام کے لے بین الاقوامی معیار کے مطابق شیڈول و سرپرائز آڈٹ سسٹم نہ ہو، تو مہنگے سے مہنگے اور پائیدار طیارے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح آپریٹنگ کیرئرز اور ائیر لائنز کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ مثال کے طور PIA کی کارکردگی پر بات کریں تو 1950ء کی دہائی سے اب تک پچاس کے قریب چھوٹے بڑے حادثات ہو چکے ہیں جو دنیا کی کسی بھی بڑی ائیرلائن سے بہت زیادہ ہیں۔\r\n\r\n کڑا احتساب تو سول ایوی ایشن کا بھی ہونا چاہیے جو ائیر ٹرانسپورٹ کے لے ایک خودمختار ادارہ (Autonomous Body) ہے اور جس کی بنیادی ذمہ داری ائیرلائنز کے لے ایسا سخت اور مربوط نظام تشکیل دینا ہے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو۔ ‏PIA جس نے Emirates Airline (اس وقت دنیا کی صف اوّل کی ائیرلائن ہے) کو ڈویلپ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، آج ایک اوسط درجے کی ائیرلائن بن کر رہ گئی ہے اور آئے روز ”باکمال لوگوں کی لاجواب سروس“ کا ”سنسنی خیز تذکرہ“ زبان زد عام رہتا ہے؛\r\nآج جہاز کا لینڈنگ گیر خراب ھونے کی وجہ سے جہاز حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچا! \r\nدوران اڑان ٹائر پھٹ گیا، پائلٹ نے بڑی مہارت دکھائی!\r\nطیارے کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی! \r\nپائلٹ نے نشے کی حالت میں جہاز اڑایا!\r\nطیارے کا ایک انجن بند ہو گیا وغیرہ وغیرہ۔\r\n\r\nیہ سب محض خبریں نہیں ہوتیں بلکہ یہ وہ High Potential Near Misses ہیں جو ہمیں خبردار کر رہی ہوتی ہیں کہ اس دفعہ کا بال بال بچنا کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا تھا. مناسب مینٹیننس اور انسپیکشن کا نہ ہونا، سہل پسندی، غیر ذمہ دارانہ رویے، اداروں میں احتساب کا نہ ہونا، پیشہ وارانہ مہارت کی کمی، تکنیکی جدت کا نہ ہونا اور پروفیشنل ٹریننگ کا فقدان وغیرہ، ایسے عوامل ہیں جو بڑے حوادث کا باعث بنتے ہیں۔\r\n\r\nاس میں کوئی شک نہیں کہ ائیر ٹرانسپورٹ آج بھی دنیا بھر میں محفوظ ترین سفر کا ذریعہ ہے، اس کے باوجود فضائی حادثات سے مکمل طور پہ نہیں بچا جاسکا! PK-661 کے حادثے نے بھی اس حوالے سے کئی اہم سوال پیدا کیے ہیں:\r\nکیا پرواز تکنیکی خرابی کا شکار ہوئی؟\r\nکیا موسم کی خرابی اس کا باعث بنی؟\r\nکیا پائلٹ کی غلطی حادثے کی وجہ بنی؟\r\n\r\nیہ محض بنیادی سوالات ہیں اور ان کا جواب انتہائی ضروری ہے تاکہ حادثے کی تحقیق و تفتیش (Accident Investigation) کی سمت متعین ہوسکے اور پھر اس بنیاد پر مزید سوالوں کے جواب تلاش کیے جا سکیں !\r\nمثلاً اگر انجن میں تکنیکی خرابی حادثے کی وجہ بنی تو دوران پرواز دوسرے انجن نے کام کیوں نہیں کیا!\r\nکیا دنیا میں ATR طیاروں کے حادثات میں ایک انجن فیل ہونے کی صورت میں دیگرممالک میں بھی ایسے حادثات ہوئے!\r\nکیا ATR طیاروں کے حادثات یا انجن کی خرابی اونچے پہاڑی سلسلوں (Hilly & rough terrain) میں مشترک ہے! وغیرہ وغیرہ۔\r\n\r\nپاکستان میں زیادہ تر فضائی حادثات اونچے پہاڑی علاقوں میں ہوئے ہیں، اور خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ حادثات کی وجہ موسم کی خرابی، حد نظر صاف نہ ہونا (Low visibility)، ہوا کا دباؤ، وغیرہ بنے. اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ پاکستان میں ڈومیسٹک فلائٹس میں حادثات کا تناسب انٹرنیشنل فلائٹس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔\r\n\r\nفضائی حادثوں کے حوالے سے بہت سے سوالوں کے جواب تو بلیک باکس کی ڈی کوڈنگ سے مل جاتے ہیں اور ”بنیادی وجہ حادثہ“ (Root cause) جاننے کے بعد مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کی تدبیریں کی جاتی ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں ایسی رپورٹس کو منظرعام پر نہیں لایا جاتا جس کی وجہ سے معلوم نقائص اور خامیوں کا سدباب بھی نہیں ہو پاتا اور نتیجتا تھوڑے عرصے کے بعد کوئی اور حادثہ ہو جاتا ہے۔\r\nامید واثق ہے کہ اب کی بار متعلقہ ادارے نیا ”پنڈورا باکس“ کھولنے کے بجائے ”بلیک باکس“ کھولنے کی نوید سنائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے ناگہانی واقعات کی روک تھام ہوسکے۔\r\n\r\n(اللہ سبحانہ و تعالی حادثے میں جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرماے، آمین۔)