موت کیا ہے؟ نورین تبسم

“صبحِ دوام َ زندگی”\r\nزندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِترتیب\r\nموت کیا ہے اِنہی اجزاء کا پریشاں ہونا\r\nایمان۔ ہماری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔اس زندگی پر ایمان جس کی حقیقت صرف رب جانتا ہے۔انسان کے عزم اور حوصلے پر ایمان جس کی نیت رب جانتا ہے اور وہی اس کا اجر دیتا ہے۔ انسان کے تضاد پر ایمان کہ اس میں فطرت کے سارے رنگ یوں باہم ملے جُلےہیں کہ کسی ایک رنگ کی جھلک سے کبھی بھی اس کا مجموعی تاثر جانا نہیں جا سکتا۔ انسان کے ظاہروباطن کے بھرپور اور مکمل ہونے پر ایمان اور سب سے بڑھ کر اپنے رب پر ایمان کہ وہ دلوں کا حال جانتا ہے اور ہر شے پر قادر ہے۔\r\nزندگی صرف حیرت درحیرت ہے اور کچھ بھی نہیں آخری سانس تک ہم اسے جان ہی نہیں سکتے۔موت زندگی کی جڑواں بہن ہے۔۔لیکن ہماری نظریں،ہمارا فہم اور ہماری عقل اسے بدترین سوکن تصور کرتی ہے۔موت اپنا آپ چھپاتے ہوئے زندگی کے پہلے سانس سے بھی پہلےاُس کے اندر جذب ہوئی ملتی ہے جبکہ زندگی کی چکاچوند اور بھرپور موجودگی کے سامنے موت ایک کریہہ اور بدبودار بھکاری کی مانند ہاتھ پھیلائے نظر آئے تو ہم اس سے دامن بچا کر نکلنے میں ہی بھلا سمجھتے ہیں ۔ ہم کھلی آنکھ سے اُس زندگی کا ادراک کرہی نہیں سکتے جو آنکھ بند ہونے کے بعد نہ صرف ہماری روح بلکہ جسم پر وارد ہوتی ہے۔اس وقت کا ظاہری احساس ہماری عقل کی محض چند فیصد صلاحیت کا مرہونِ منت ہوتا ہے اور اتنا ہی اس کا اظہار ممکن ہے۔\r\n جیسے معمولی جسمانی تکلیف سے لے کر شدید ترین درد کی کیفیت،یہاں تک کےجان کنی کے عالم تک ہم بہت کچھ سمجھانے اور بتانے کی حالت میں ہوتے ہیں لیکن جان نکلتے ہی یکدم ایسا سکون اور خاموشی طاری ہوتی ہے جو اس وقت ہمارے لیے پریشان ہونے والوں کے دل کو بھی طمانیت سے بھر دیتی ہے۔اس لمحے جسم توسب کے سامنے سب کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ہم عقل وشعور کے ہزارہا مراحل طے کر چکے ہوتے ہیں ۔بےشک اس کیفیت کا بیان ممکن ہی نہیں اور کتابِ مقدس کے الفاظ میں “جس پر طاری ہو وہی اس کا امین ہے”لیکن سمجھنے والوں اور غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں اور مثالیں اُن کی اپنی ہی ذات کے اندر موجود ہیں، جیسے فالج کی بیماری میں ہمارا جسم ذرا سی بھی حرکت کے قابل نہیں رہتا، ہم سب دیکھ سکتے ہیں،سب سن سکتے ہیں سب محسوس کرسکتے ہیں لیکن کہہ نہیں سکتے،اظہار نہیں کر سکتے۔یہ کسی کے اس موذی مرض کا شکار ہونے کی ظاہری حالت کا تجزیہ ہی نہیں بلکہ ہمیں اپنی صحت مند زندگی میں بھی اکثر اس کیفیت کا ادراک ہوتا ہے جب ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے جسم کا کوئی حصہ سُن ہو جائے جسے ہم عام بول چال میں “سوجانا” بھی کہتے ہیں۔\r\nزندگی کے پلیٹ فارم پر ایک قطار میں سب اپنی باری کے منتظر ہیں کب کس کا بلاوا آ جائے؟ اور کب کسے قطار کے درمیان سے اُٹھا کر معلوم منزل کے نامعلوم سفر پر روانہ کر دیا جائے؟ ہم یہ سوچ کر مطمئن رہتے ہیں کہ ابھی قطار میں ہمارا نمبر کافی پیچھے ہے۔زندگی کے بڑھتے سالوں کی مشقت اور بھاگ دوڑ ہمیں اس سچ کے سامنے جان بوجھ کر آنکھ بند کرنے پر مجبور کر دیتی ہے تاوقت کہ ہمارااپنا،کوئی جگر کا ٹکڑا یا ہمیں چاہنے والا اس کی گرفت میں آکر ہمیشہ کے لیے نظر سے اوجھل نہ ہو جائے۔اس سمے بےحقیقت زندگی کے سامنے موت کی سچائی کھل کر سامنے آتی ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ زندگی کے ہر رنگ سے خوشبو کشید کرنے والا نہ صرف بےحس وحرکت اور جامد ہو جاتا ہے بلکہ اپنا ہر احساس مٹا جاتا ہے،اسی بات کو کسی نے کیا خوب کہا کہ “انسان ایسے جیتا ہے جیسے مرے گا ہی نہیں اور پھر یوں مر جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا”۔\r\nموت برحق ہے۔اس ‘حق ‘کوجانے والا جانے سے پہلے جتنا جلد تسلیم کر لےاُس کے لیے واپسی کے سفر میں آسانی ہو جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے مرنا موت ہے۔ لیکن مرنے سے پہلے مرنے کے لیے تیار رہنا ہی اصل زندگی ہے ۔جب تک ہم مرنے سے پہلے مریں گے نہیں تو اس زندگی کی چکاچوند آخری سانس تک حسرت بن کر ہماری آنکھ کے پردے پر جھلملاتی رہے گی۔ دُنیا کی زندگی کی محبت میں سرتاپا غرق رہنے والے آخری لمحات میں بھی اس خانہ خراب کی اُلفت سےدامن بچا کر گزر ہی نہیں سکتے۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو نہ صرف دُنیا کی زندگی کی خوشیوں کو بھرپور طور پر محسوس کریں بلکہ اس کے مسئلوں اور غموں کو سمجھتے ہوئے ممکن حد تک سنوارنے کی کوشش کریں اور پھر سب کچھ منجانب اللہ کا ایمان رکھتے ہوئے “راضی بارضا” ہو جائیں۔ اسی طرح عمر کے بڑھتے سالوں میں موت کے سناٹوں کی چاپ سنائی دینے لگے تو اپنی زندگی کے اس سب سے اہم سفر ۔۔۔آخری لمس کے لیے نہ صرف زادراہ تیار رکھیں بلکہ اپنے آپ کو اسے برداشت کرنے کا حوصلہ دیتے رہیں ۔۔۔ پیغمبر سے لے کر اولیاءاللہ تک سب نے اس سفر پر اسی راستے سے گزرنا ہے۔سب سے اہم بات کہ انسان کو یہ پہچان ہو جانی چاہیے کہ دُنیا کے ہر رشتے ہر تعلق اور ہر مادی شے کی چاہ صرف اس کی سانس کی ڈور سے بندھی ہے۔ اُس کے بعد وہ فنا تو سب فنا۔ اس لیے اگر نفرتوں سے جان چُھٹنا دُنیا کے عذابوں سے نجات پا جانا نعمت ہے تو سب لذتوں سے محرومی بھی محض سراب جدائی ہی ہے۔انسانی زندگی تدبیر اور تقدیر کے مابین چپقلش کو سمجھتے گزرتی ہے۔انسان اپنی عقل پر بھروسہ کرتے ہوئے اکثر تدبیر کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ تقدیر کا غلام ہی رہتا ہے۔\r\nغور کیا جائے توموت ایک دن اچانک کبھی نہیں آجاتی یہ قطرہ قطرہ سلوپوائزن کی طرح ہرآن ہمارے رگ وپے میں سرایت کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کبھی یہ تلخ دوا شکر میں لپیٹ کر دی جاتی ہےتوکبھی یکدم ہی اُس کا ذائقہ چکھنا پڑ جاتا ہے اورکبھی حوصلہ مُجتمع کرکے اپنےآپ کو تیار کر کے آہستہ آہستہ اس کی طرف قدم بڑھتا ہے۔ موت زندگی کے ساتھ ہے۔ ہر آگے بڑھنے والا قدم اگر زندگی میں نیا پن لاتا ہے تو موت کے بھی قریب کر دیتا ہے۔ ہم زندگی کے بڑھتے قدم توفوراً تھام لیناچاہتے ہیں لیکن موت کے سائے ہمیں کبھی نظر نہیں آتے۔ یہ سب ہماری نظر کے سامنے ہے پر ہمیں اس کا ادراک نہیں۔\r\nالمیہ بھی یہی ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہیے،سوچنا چاہیے کہ جانے والے پر زندگی اپنےراستے کھول رہی ہوتی ہےیا سب دروازے ایک ایک کر کے بند کر رہی ہوتی ہے۔جانے والا یا تو اپنے کام سمیٹ رہا ہوتا ہے یا پھر اپنے آپ کوہر چیز میں بےانتہا مصروف کر رہا ہوتا ہے۔ وہ پوری طرح مطمئن اور پُرباش ہوتا ہے یا ہر شخص ہر شے سے بےزار۔جانے والا یا تو اُمید کا دامن تھام کر لمبے فاصلے طے کرنے کا قصد کر رہا ہوتا ہے۔یا مایوسی کے اندھے کنوئیں میں میں اپنے آپ کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوتا ہے۔جانے والا یا تو زندگی کی ہر لذت سے آشنا ہو کر نئی منزلوں کا خواہشمند ہوتا ہے یا اُسے ہرچاہ ،ہرلمس،ہراحساس ادھورا چھوڑ جانے کا دُکھ ستاتا ہے۔لیکن ایک بات طے ہے کہ جانے والا پہلے ہی جا چکا ہوتا ہے ہمارے درمیان اُس کا ہمزاد ہوتا ہے ڈھول کی طرح ایک بھرپور وجود پر اندر سے خالی -ستم یہ ہے کہ ڈھول پر پڑنے والی تھاپ توسنائی دیتی ہے لیکن جانے والا اس شور کو سمندر کی طرح اپنے اندر جذب کر کے بظاہر پُرسکون نظر آتا ہے۔\r\nکوئی کچھ بھی کہے پر ہرانسان کے اندر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے خبردار کرتا رہتا ہے۔۔۔دل کی دھڑکن اگر جسم کی سلامتی کا اعلان کرتی ہے تو دماغ کی لہریں ایسی فریکوئنسی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو چمکداردن میں کالے بادلوں کی پیش گوئی کرتی ہے۔ کبھی ہم اسے اپنا واہمہ سمجھتے ہیں کبھی کسی خواب مسلسل کو منفی طرزِفکرکہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ بات جاننے کی یہ ہے کہ کب اُس کے لاشعور میں واپسی کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں؟ اور کتنا عرصہ پہلے اُسے اس بات کا احساس ہو جاتا ہے؟جسے شعوری طور پر وہ آخری لمحے سے پہلے کبھی نہیں جان پاتا۔\r\nموت وہ عمل ہےجس سے ہر ذی روح نے گُزرنا ہے۔یہ حیات ِفانی سے حیاتِ ابدی کے سفر کی پہلی منزل ہے۔۔۔ پہلا \r\nدروازہ ہےاگر اس میں سے سر اُٹھا کر گُزر گئے تو یقیناً آگے آسانی ہی ہو گی۔\r\nموت کا فرشتہ ہماری تلاش میں زندگی کے پہلے پل سے ہے۔ ہم سے بڑھ کراس کا محبوب اس کا کام اور کوئی نہیں۔ ہمیں پانے کی فکر اس کا مقصدِ حیات ہے۔ وہ صبح شام ہمارے گھر میں جھانکتا ہے کہ شاید کوئی منتظر ہو۔۔۔ شاید آج اس پل ملن لکھا ہو۔۔۔ وقت اس کے ہاتھ میں نہیں۔وہ اَن جان ہے کہ کام بتا دیا گیا ہے لگن ڈال دی گئی ہے لیکن وقت سے بےخبر وہ بھی ہے ہم بھی ہیں۔ہم خوف کے مارے دور بھاگتے ہیں اور وہ جھجھک کے مارے پرّے رہتا ہے۔ یہ کھیل چلتا رہتا ہےکہ وہ لمحہ آجاتا ہے جب سارے ڈر سارے خوف سامنے آجاتے ہیں اور وہ اپنا اصل چہرہ دکھا ہی دیتا ہے۔پھر امتحان صرف ہمارا ہی ہے کہ کیسے؟ اُس کا سامنا ہو جو برسوں سے تعاقب میں تھا۔کیا ہم اس قابل ہیں؟ کہ اعتماد سے اُس سے نگاہیں ملا سکیں۔ یہ کہنے کی بات نہیں برتنے کی بات ہے اور وقت ہی اس کا فیصلہ کرتا ہے۔۔کوئی ڈگری کوئی تجربہ کام نہیں آتا۔اللہ ہمیں ہر امتحان میں سُرخرو کرے اور ہمارے لیے ہر جگہ آسانی ہو کہ ہم بہت کمزور اورنادان ہیں۔جانے انجانے میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔۔۔کیا کچھ کر جاتے ہیں۔۔۔ہم تقدیرکے چکرمیں بندھے ہیں لیکن ہم صرف ایک کام کر سکتے ہیں کہ اپنی نیت خالص رکھیں اور اپنے رب کو ہمیشہ اپنے ساتھ اپنے سامنے محسوس کریں پھر\r\n تنگی میں بھی آسانی ہو گی اور آسانی میں بھی راحت ملے گی”( سورۂ الانشرح 94 )۔”\r\nیہ رُکنے کا مقام ہے۔۔۔غور کرنے کی بات ہے کہ آسانیاں بھی ہمیں خوشی نہیں دیتیں۔ہمیں دروازے کُھلے ملتے ہیں ہم بس گُزر جاتے ہیں بغیر کسی تشکّر کے۔۔۔ اپنا حق جان کر۔۔۔ نئے دروازوں، نئی آسانیوں کی راہ پر۔۔۔ خوشی پیچھے رہ جاتی ہے اور ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یوں سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر ہم ذرا رُک کر اپنی نعمت اپنی آسانی کو محسوس ہی کر لیں تو اس خوشی کی لذّت میں آگے کاسفر بہت آسان ہو جائے گا۔۔۔ اور دروازے خود بخود کُھلتے رہیں گے۔\r\nدنیا سے جانے کے بعد کی جزاوسزا ہمارا اور رب کا معاملہ ہے۔۔۔ یہ “ون ٹوون ریلیشن شپ” ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ زاد ِراہ تیار رکھیں۔اپنے آپ کو حالتِ سفر میں جانیں۔اتنا بوجھ ہو جتنا اُٹھا سکیں،جس چیز کی ضرورت ہو وہی ہمراہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ ہم تیاری کرتے کرتے اتنا سامان اکٹھا کرلیں کہ پہلے ہی مرحلے میں سب واپس کر دیا جائے اور ہماری ساری زندگی کی محنت ومُشقت رائیگاں جائے۔\r\n”اللہ ہمیں اُس علم سے بچائے جو نفع نہ دے ” آمین یا رب العالمین۔\r\nموت کوسمجھے ہے غافل اختتام زندگی\r\nہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی\r\nتحریر: نورین تبسم

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam