گل باتیا - پروفیسر سلمان باسط

پرانے وقتوں میں کسی قلم رو کا شہزادہ ملک شام یا ملک یمن کی سیاحت کو جاتا۔ گھومتا پھرتا، پانچ سات شرطیں پوری کرتا، ایک آدھ شہزادی سے شادی کرتا اور واپس آکر کاروبار سلطنت میں اس طرح کھو جاتا کہ اسے سفر نامہ لکھنے کا خیال تک نہ آتا۔ یوں اس جیسے تمام شہزادوں کی روداد داستان الف لیلیٰ میں یکمشت سمودی جاتی۔ ان کی دیکھا دیکھی لکشمی مینشن کا ایک شہزادہ بھی دور دراز کے ملکوں میں سیاحت کی خاطر جاپہنچا۔ خوب گھوما پھرا۔ نگر نگر کی شہزادیوں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور طے کیے اور واپس آگیا۔ خوش قسمتی سے چلانے کے لیے کاروبار سلطنت موجود نہ تھا، اس لیے گوالمنڈی لاہور میں بیجوں کا کاروبار سنبھال لیا۔ اس کے بیجوں سے اوروں کی پھلواریاں آباد ہوئیں یا نہیں، مگرہ وہ خود ایک تناور درخت بنتا چلا گیا اور اب تو وہ ایک شجر سایہ دار ہے۔\r\n\r\n”نکلے تری تلاش میں“ سے آغاز کرنے والا مستنصر حسین تارڑ جب ”راکھ“ تک پہنچا ہے تو وہ ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اب وہ اتنی اونچائی پر کھڑا ہے کہ اس کو دیکھنے کے لیے دستار سنبھالنی پڑتی ہے۔ ویسے تو اس کے ساتھ بات کرنے کے لیے بھی اپنی دستار کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ موصوف نے اپنی گفتگو کو کچھ اس طرح لشکا رکھا ہے کہ سُننے والا چندھیا جاتا ہے۔ بات بات میں کاٹ اور مزاح اس کا طرہ امتیاز ہے۔ لہٰذا مخاطب کو علم بھی نہیں ہوتا اور نشتر اپنا کام کرچکا ہوتا ہے۔\r\n\r\nمستنصر حسین تارڑ کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف اس کا فن گفتگو ہے۔ وہ صحیح معنوں میں گل باتیا ہے۔ جب وہ بولتا ہے تو صرف وہی بولتا ہے۔ دوسرا مبہوت ہوکر اس کی ضروری، غیر ضروری گفتگو سُنتا رہتا ہے۔ اس کے بولنے کے فن نے اسے پاکستان ٹیلی ویژن کی صبح کی نشریات کا اینکر پرسن بنادیا۔ آٹھ سال تک اپنی لچھے دار گفتگو سے ٹی وی کے ناظرین کو پاگل بنائے رکھا۔ بچوں کا چاچا جی بن گیا۔ صبح کی نشریات کو اس نے ون مین شو میں بدل ڈالا۔ کمپیئرنگ کی دُنیا میں جب اس نے انقلاب برپا کردیا تو ٹی وی کے ارباب اختیار کو بھی انقلاب کی سوجھی، سو اُنہوں نے بسم اللہ مستنصر سے ہی کی۔ ٹی وی والوں کا کہنا یہ تھا کہ وہ نئی نسل کو سامنے لانا چاہتے تھے اور اس طرح ہمارے دوست کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ وہ اب جوان نہیں رہا۔ لیکن اس کی شخصیت کی محبوبیت کچھ اس طرح لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکی ہے کہ لوگ اب بھی اس کی گھنگریالی زلف کے اسیر ہیں۔ اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے یا کہیں اور میں نے بارہا یہ منظر دیکھا ہے کہ لوگ اب بھی اس سے بات کرنے میں اس کو دیکھنے میں اور اس کی باتیں سُننے میں ایک مسرت بھرا فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ اب بھی بچوں کا چاچا جی ہے، مگر شاید ٹی وی کے ارباب اختیار کو رشتوں کی مہک اچھی نہیں لگتی۔\r\n\r\nمستنصر پاکستان کے انتہائی زرخیز اور سر سبز خطے تحصیل پھالیہ سے تعلق رکھتا ہے اور اسے اس پر فخر ہے۔ اس بھاگ بھری مٹی کی خوشبو میرے اندر بھی رچی بسی ہے کیونکہ خوش قسمتی سے میرا تعلق بھی اس علاقے سے ہے جہاں میرے بزرگوں کی ہڈیاں دفن ہیں۔ یوں میں مستنصر کا گرائیں بھی ہوں۔ یہ علاقہ جہاں اپنی لہلہاتے کھیتوں اور خوبصورت لینڈ سکیپ کی وجہ سے مشہور ہے۔ وہاں خاندانی دشمنیوں اور زمینی جھگڑوں کے باعث خطرناک بھی ہے۔ گو کہ مستنصر نے ایک عرصہ قبل اپنی جان بچانے کی خاطر لاہور میں سکونت اختیار کرلی تھی مگر اس کے اندر دشمنی نبھانے کی روایت اب بھی موجود ہے، یقین نہ آئے تو اس کے بہت سے ”بہی خواہوں“ سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔\r\n\r\nمستنصر کو ”سن آف دی سو“ئل ہونے کا بھی فخر حاصل ہے۔ غالباً اسی لیے سیدوں، قریشیوں، ہاشمیوں اور جعفریوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ لہٰذا ” مردوں“ سے دوستی کرتے وقت وہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ دوست کا تعلق اس مٹی سے پھوٹنے والی کسی ذات سے ہو، ہاں دوسری صنف کے ساتھ معاملات میں وہ خاصا روشن خیال ہے اور ایسے میں اس کے اندر کا تارڑ دب جاتا ہے اور نہایت رومینٹک سا مستنصر انتہائی شائستگی کے ساتھ کسی جپسی، ریبکا، پاسکل، کرسٹائن ، سوئیٹی یا کیوٹی کے ساتھ بے دھڑک گھل مل جاتا ہے اور ہیلو، ہائے کرتا نظر آتا ہے۔\r\n\r\nذات کے علاوہ بھی مستنصر حسین تارڑ نے چند بغض پال رکھے ہیں۔ مثلاً اسے شاعری سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ بعض منہ زور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ عنا د دراصل اس کمپلیکس کا ردِعمل ہے جو اسے شاعری جیسی لطیف شے کے سمجھ میں نہ آنے سے ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ شاعروں سے دوستی اور شاعری سے دشمنی میں کمال رکھتا ہے۔ یوں بھی لسی پینے والے، ساہن پال اور رڑمل کے میلوں میں ہیجڑوں کا ناچ دیکھنے والے اور گوالمنڈی کے کسان بیج سٹور پر بیٹھنے والے مستنصر حسین تارڑ کی صریر خامہ اگر نوائے سروش نہیں بن سکتی تو کسی کو کیا تکلیف ہے۔ وہ نثر سے روٹی کمارہا ہے اور شاعروں سے بہتر کمارہا ہے۔ اس کثیف دور میں شاعری کی لطافت سے پیٹ نہیں بھرتا۔ یہ بات شاعروں کی سمجھ میں نہیں آتی اور اس کی سمجھ میں آگئی ہے۔\r\n\r\nایک عجیب و غریب اور تفاوت بھرا تعصب وہ اُردو کے خلاف اور پنجابی کے حق میں بھی رکھتا ہے۔ وہ عموماً لکھتا اردو میں ہے جو ظاہر ہے زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچنے کے لیے اس کی مجبوری ہے۔ ٹی وی پر اور تقریبات میں بھی اردو میں گفتگو کرتا ہے۔ مگر ان سب کے علاوہ نہ صرف اردو میں بات کرنے سے اجتناب کرتا ہے بلکہ اردو کے خلاف بات کرنے سے بھی اجتناب نہیں کرتا۔ اس کا بس چلے تو اردو کو دہلی اور لکھنئو کے مشاعروں سے باہر نہ نکلنے دے، لیکن زبان کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا اور اس کے پھیلائو کو روکنا اس کے کیا، استاد امام دین کے بس کی بھی بات نہیں تھی۔\r\n\r\nمستنصر حسین تارڑ میں ایک معصوم سی خود پسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اپنی نثر، اپنی زبان، اپنے لہجے، اپنے ڈرامے، اپنی ایکٹینگ، اپنے علاقے، اپنے گھر اور اپنی ناک کے آگے اسے کچھ کم ہی نظر آتا ہے۔ خدا جانے بیرون ملک سفر کے دوران لڑکیاں کیسے نظر آجاتی ہیں، وہ بھی اتنی بڑی تعداد میں۔ یہ بات بعض ہٹ دھرم نقادوں کے نزدیک ہنوز تصفیہ طلب ہے کہ یہ تمام لڑکیاں واقعی مستنضر کو نظر آئی تھیں یا صرف قارئین نے دیکھی ہیں۔\r\n\r\nعطاء الحق قاسمی (جنہیں اپنے بارے میں بھی خاصی خوش فہمی ہے) بتاتے ہیں کہ یورپ میں بس کے سفر کے دوران ایک لڑکی ان کے ساتھ سیٹ پر براجمان تھی۔ سفر طویل ہوگیا تو لڑکی نے سستانے کی خاطر اپنا سر ان کے کندھے پر رکھ دیا۔ قاسمی صاحب فوراً ریکارڈ کی درستی کی خاطر اس سے مخاطب ہوئے، ”بی بی سیدھی ہوکر بیٹھو تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرا نام مستنصر حسین تارڈ نہیں، عطاء الحق قاسمی ہے۔“ ویسے تارڑ صاحب کو ایسی باتوں سے دل اور مید ان نہیں چھوڑنا چاہیے اور ابھی عشق کے مزید امتحانات میں بیٹھنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔\r\n\r\nآج سے کئی برس بیشتر ہمارے اس جیک آف آل ٹریڈز دوست نے پی ٹی وی کے ڈراموں میں ایکٹنگ بھی کی ہے۔ اس کے اپنے خیال میں تو وہ ٹی وی کا سب سے کامیاب اداکار رہا ہے، لیکن ناضرین اس کی خاموش فلموں جیسی ایکٹنگ سے کماحقہ لطف اندوز ہونےسے قاصر رہے، سو اس نے ایکٹنگ کو خیر باد کہہ دیا اور سکرپٹ رائٹنگ شروع کردی۔ اس میدان میں اس نے اپنا لوہا منوایا۔ یہ کام بھی اسے ان پروڈیوسرز کی وجہ سے چھوڑنا پڑا جنہیں وہ پروڈکشن کی ٹیکنیک سمجھانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔\r\n\r\nمستنصر بعض اوقات ایک چھوٹا سا بچہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کا معصومانہ خوف اس وقت عروج پر ہوتا ہے جب وہ سفر کررہا ہو۔ دراصل وہ موت سے ڈرتا ہے اور بے تحاشا ڈرتا ہے۔ سڑک کا سفر اس کے اعصاب پر سوار رہتا ہے اور وہ ڈرائیور کو ڈانٹ ڈانٹ کر اور اچھل اچھل کر گاڑی آہستہ چلانے کی تلقین کرتا رہتا ہے۔ ٹرین میں چونکہ ڈرائیور اس کی آواز اور ڈانٹ سے بہت دور بیٹھا ہوتا ہے، اس لیے یہ اپنے کمپارٹمنٹ میں بیٹھا پیچ و تاب کھاتا رہتا ہے اور گاڑی کے کسی حصّے کو پکڑ کر اور دونوں ٹانگیں سامنے والی سیٹ کے ساتھ ٹکاکر اپنے تئیں ٹرین کی رفتار کم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ جہاز کے سفر کے دوران بھی اس کی حالت کم و بیش ایسی ہی ہوتی ہے، مگر پائلٹ کی سبک رفتاری اور ائر ہوسٹس کی نرم گفتاری کے سبب وہ بیچ کی راہ نکال لیتا ہے۔ یوں بھی اپنی قومی ائر لائن کے ذریعے سفر کرتے ہوئے ہر دم یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ دورانِ سفر جہاز خراب ہونے کی صورت میں کہیں استاد سواریوں کو نیچے اتارکر دھکا لگانے کا حکم صادر نہ کر دے۔\r\n\r\nمستنصر کی وجہء شہرت اس کا نام بھی ہے۔ اگر اس کا نام اللہ دتّہ زخمی یا عاشق حسین پردیسی ہوتا تو شاید اسے اتنی شہرت نہ ملتی۔ اس کے مشکل نام نے بھی اسے بے شمار پریشان کن شہرت عطا کر رکھی ہے۔ لہٰذا اب کئی من چلے ٹریفک پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد اپنا نام مستنصر حسین تارڑ بتاتے ہیں اور یوں پیسہ اور عزّت صاف بچاکر لے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی غالب اکثریت چونکہ ناخواندہ افراد پر مشتمل ہے، اس لیے لوگوں کی کثیر تعداد اس کا نام لینے سے پہلے پانچ منٹ تک مُس مُس کرتی رہتی ہے، پھر جب اس کے نام کے پہلے لفظ کے باقی حروف ادا کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو ایک ناقابل توجیہ ترتیب سامنے آتی ہے جس میں تن پہلے اور سر بعد میں آتا ہے۔ یقین نہ آئے تو مستنصر کا نام ادا کرکے دیکھ لیجیے۔\r\n\r\nایک پبلک فگر ہونے کے ناتے اسے اپنے ا میج کا بہت خیال رہتا ہے۔ چاہے انتہائی مزاحیہ بات اس کے پیٹ میں گدگدی کر رہی ہو مگر وہ لوگوں کے سامنے کبھی کھل کر نہیں ہنسے گا۔ جوکالیاں کا تارڑ ہونے کے باوجود کھانا کھاتے ہو آداب کا خیال رکھے گا۔ انتہائی جلدی میں ہونے کے باوجود باوقار انداز میں چلنے کی کوشش کرے گآ۔ کمر کے عین درمیان میں چاہے کتنی ہی خارش کیوں نہ ہو رہی ہو، لبوں پر ایک کرب انگیز مسکراہٹ سجا رکھے گا اور ہاتھ نہیں ہلائے گا اور کوئی مضمون چاہے کتنا ہی پسند کیوں نہ آ رہا ہو، سر عام کھل کر کبھی داد نہیں دے گا۔\r\n\r\nمستنصر خاصا آزاد خیال شخص ہے۔ فکشن لکھتے وقت چھوٹی موٹی گالیاں، ہلکے پھلکے جنسی مناظر سے اس کے مضبوط اعصاب اور شاک پروف اخلاقیات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ اس کا اندازہ آپ کو اس کی تحریروں کے تدریجی مطالعے سے ہوگیا ہو گا۔ اگر کسی بھائی کا ایمان تازہ ہونے سے بچ گیا ہو تو وہ ” راکھ“کا مطالعہ کرلے یقیناً مایوسی نہیں ہوگی، یہ کتاب سنگ میل والوں نے منی بیک گارنٹی کے ساتھ شائع کی ہے۔ اس ناول میں کرسٹائنوں اور برگپتاوں کے ایسے توبہ شکن اذکار موجود ہیں کہ شدّاد کی جنت کا گمان ہونے لگتا ہے۔ شنید ہے کہ بک سیلر اس کتاب کو کسی خفیہ شیلف میں چھپاکر رکھتے ہیں اور صرف اپنے مخصوص اور اعتبار والے گاہکوں کو ہی دیتے ہیں۔ مستنصر صرف آزاد خیال ہی نہیں، آزاد منش اور آزاد رو بھی ہے۔ پا بندی اس سے کوئی برداشت نہیں ہوتی۔ چاہے حکومت نے ہی کیوں نہ لگا رکھی ہو اور چاہے اس پر کوڑوں اور قید کی سزا ہی کیوں نہ مقرر ہو۔\r\n\r\nموسیقی مستنصر کی کمزوری ہے بشرطیکہ شازیہ خُشک نغمہ سرا ہو۔ اس کے علاوہ اسے سب کچھ پھِیکا پھیکا سا لگتا ہے۔ طبیعت زیادہ اُداس ہو تو ” قمیض تیری کالی“ سے بھی کام چلالیتا ہے لیکن شازیہ خُشک کے چولے گھگھرے کے ساتھ موسیقی کے سر تال اس پر زیادہ آسانی سے کھلتے ہیں۔\r\n\r\nتارڑ ایک مجلسی آد می ہے۔ تنہائی سے اُس کی صرف اس وقت بنتی ہے جب وہ تخلیقی کام کررہا ہو۔، عام حالات میں اسے لوگ اچھے اور دوست بہت اچھے لگتے ہیں۔ وہ یاروں کا یار ہے اور دوستی نبھانے کا فن جانتا ہے۔ اس کی دوستی ہے ہی اتنی خوبصورت کہ اس سے تعلق رکھنے والا آپی آپ نکھرنے لگتا ہے۔ زندگی کے صحرا میں مستنصر کی قربت میرے جیسے درماندہ مسافر کے لیے نخلستان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی محبت کا در وا ہوتا ہے تو آپ غیر محسوس طریقے سے اس میں داخل ہوجاتے ہیں، پھر آپ کو پتا بھی نہیں چلتا اور وہ دروازہ باہر سے بھیڑ دیتا ہے، ظالم پھڑ پھڑانے بھی نہیں دیتا ۔ اس کے (Ethics) کچھ بھی ہوں اس کے نظریات مجھ سے کتنے ہی متصادم کیوں نہ ہوں، شاعری سے جتنی بھی بیزاری کا اظہار کرے وہ میرا دوست ہے اور مجھے دل و جان سے عزیز ہے۔ میں اس کا مداح بھی ہوں، اس کی تحریروں کو چوم چاٹ کر پڑھتا ہوں اور اسے، اس کی تحریروں کو میں نے تب سے دل میں اتار رکھا ہے جب سے میں نے اس کا پہلا سفر نامہ ”نکلے تری تلاش میں“ اپنی کورس کی کتابوں میں چھپاکر پڑھا تھا اور ڈاکٹر بننے سے بال بال بچ گیا تھا۔ آپ کو میرے توصیفی جملوں سے ممکن ہے پنجابی کی وہ کہاوت یاد آ رہی ہو جس میں، ایک جانور کے چوروں کے ساتھ مل جانے کا تذکرہ ہے، مگر میں نے صرف اپنے سچے محسوسات کو زبان دی ہے ویسے بھی چٹکیاں کاٹنے کے بعد سہلا دینے سے درد محسوس نہیں ہوتا ۔\r\n\r\nمستنصر کے ناولوں میں قرۃ العین حیدر اور عبداللہ حسین کی تحریروں سے اس کی وابستگی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اگرچہ ”راکھ“ جیسا ناول لکھ کر یکایک وہ بہت اوپر اٹھ گیا ہے، لیکن اس نے اردو فکشن کی ان دو قد آور ہستیوں کو اپنا مرشد مان رکھا ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے اب تک جو کچھ لکھا ہے، وہ سب آخر میں راکھ ہو گیا ہے لیکن چھوڑئیے لوگوں کے منہ لگنے سے فائدہ، لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اردو ناول میں آریائی اثرات کی ایک مثلث بنتی ہے۔ اس مثلث میں شامل دو تو قراۃ العین حیدر اور عبداللہ حسین ہیں، مگر تیسرا کون ہے اس کا خود مستنصر کو علم نہیں۔ بالکل اس سکھ سردار کی طرح جو لاہور کی سیر کو آیا اور تانگے پر بیٹھا۔ تانگے وا لے نے ترنگ میں آکر سردار جی کو ایک سوال داغ دیا کہ سردار جی! میرے گھر میں تین افراد ہیں۔ ایک میری بیوی ہے، ایک میرا بچہ ہے، آپ بتائیں کہ تیسرا کون ہے۔ سردار جی کی تمام تر دماغی صلاحیتیں جواب دے گئیں اور اُنہوں نے ہار مان لی۔ تانگے والے نے کہا چھوڑیں سردار جی، تیسرا میں ہوں اور کون ہے۔ سردار جی اس کی ذہانت سے بہت متاثر ہوئے۔ واپس اپنے گاوں پہنچے تو گائوں والوں کو اکٹھا کرکے یہی سوال کردیا۔ پورا گاؤں چونکہ سرداروں پر مشتمل تھا لہٰذا درست جواب دینے سے قاصر رہا۔ سردار جی نے طیش میں آکر کہا او خالصیو! تیسرا وہ تانگے والا ہے اور کون ہے۔ تو دوستو! اگر آپ کو پتا چل جائے کہ تیسرا کون ہے تو مستنصر کو ضرور بتادیجیے گا۔