آپا زاہدہ حنا کا مطالعہ - احمد حاطب صدیقی

ہر چند کہ ہمارا شمار ’’اہل علم‘‘ میں نہیں ہوتا، مگر حصولِ علم کا شوق ہمارے اندر بھی اسی طرح بھرا ہوا ہے، جس طرح ہمارے شہر کی ویگنوں میں مسافر بھرے جاتے ہیں… (یعنی ”کوٹ کوٹ کر“)… اور علم حاصل کرنے کا یہ… ”شوق حد سے زیاد ہے ہم کو“… اتنا ”زیاد“ کہ ہم صرف سماجی ذرائع ابلاغ ہی سے نہیں ہر راہ چلتے شخص سے علم حاصل کرتے چلے جاتے ہیں۔\r\n\r\nابھی پچھلے پرلے روز جب ہمیں ایک راہ چلتا ’’اہل علم‘‘ ملا تو اُس نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اُردو زبان میں ’’بیگم‘‘ کو ’’اہلیہ‘‘ بھی کہتے ہیں اور ’’بیگمات‘‘ کو ’’اہلیان‘‘ بھی۔ تب ہماری سمجھ میں آیا کہ پچھلے انتخابات میں اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی ایک نشست جیت جانے پر عمران خان نے یہ بیان کیوں دیا تھا:\r\n’’اس نشست کی کامیابی پر میں اہلیانِ اسلام آباد کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘‘\r\n\r\nخیرآج یہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہمارا آج کا موضوع وہی ہے جو اِس کالم کا عنوان ہے۔ نوآمدہ کتاب ’’میرا مطالعہ‘‘ (مطبوعہ:2016ء) میں بحیثیت ’’اہل علم‘‘ آپا زاہدہ حنا کے مطالعے کی داستان بڑی تفصیل سے بیان کی گئی ہے (کتاب میں آپا زاہدہ حنا کو بھی ’’اہل علم‘‘ ہی ظاہر کیا گیا ہے۔ معلوم نہیں کیوں؟ مگر خیر، یہ تذکیر و تانیث کا معاملہ ہے، اس معاملے کا اصل سبب ”خبر لیجے زباں بگڑی“ والے محترم اطہر ہاشمی صاحب ہی کو معلوم ہوگا)۔ بہر حال یہ داستان ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے:\r\n\r\n’’میں ہندوستان کے صوبے بہار کے شہر سہسرام میں پیدا ہوئی۔ ہوش کراچی میں سنبھالا‘‘۔ (ص: 64)\r\n\r\nپہلے ہی فقرے سے ایسی غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے جس کا ابطال ضروری ہے۔ آپا کے بیان سے ہرگز نہ سمجھا جائے کہ صوبہ بہار میں پیدا ہونے والوں کو ہوش سنبھالنے کے لیے کسی اور شہر کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔ حاشاء و کلا ایسی بات نہیں۔ نیز یہ وضاحت بھی از بس ضروری ہے کہ کراچی والوں کے ہوش جو اُڑے اُڑے سے نظر آتے ہیں اُس کے اسباب اور بہت سے دوسرے ہیں۔\r\n\r\nکتاب ’’میرا مطالعہ‘‘ کے مرتب نے ہر ’’اہل علم‘‘ سے سب سے پہلا سوال یہی کیا کہ ”پڑھنے“ کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟ سو، دیگر تمام ’’اہل علم‘‘ نے سوال کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنا جواب بھی یہیں سے شروع کیا۔ مگر آپا زاہدہ حنا نے محولہ بالا پہلے فقرے سے متصل اگلے ہی فقرے سے یہ بتانا شروع کردیا کہ اُن کے ”لکھنے“ کا سلسلہ اُن کی بالی عمریا ہی سے شروع ہوگیاتھا… ’’پہلی کہانی 9برس کی عمر میں لکھی۔ پہلی تحریر 13برس کی عمر میں شائع ہوئی۔ 16 برس کی عمرسے…‘‘ \r\n\r\nخیر ہرشخص کو حق انتخاب حاصل ہے۔ پس، ہم بھی اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے اُن کے لکھنے کی اُن باتوںمیں سے جن کو انہوں نے یہ کہہ کر بیان کیا ہے کہ… ”میرے لیے اعزاز کی بات ہے…‘‘ چند منتخب باتیں آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتے ہیں۔ بالخصوص وہ باتیں جنہیں ہم نے بھی اُن کے لیے اعزاز ہی جانا۔\r\n\r\nاُن کی کہانیوں کے مجموعے ’’قیدی سانس لیتا ہے‘‘ اور ’’راہ میں اجل ہے‘‘ کے کئی ایڈیشن ہندوستان سے شائع ہوچکے ہیں۔ ’’عورت زندگی کا زنداں‘‘ اُن کے مضامین کا مجموعہ ہے، جس کا ایک ہندوستانی ایڈیشن بھی شائع ہوچکا ہے۔ اس کا ہندی ترجمہ بھی چھپ گیا ہے۔ افسانوں کا مجموعہ بھی ہندی میں شائع ہوا ہے اور 31جنوری 2010ء کو دہلی میں ہونے والے انٹرنیشنل بک فیئر میں اس کی تقریب اجراہوئی ہے۔ ’’پاکستانی عورت: آزمائش کی نصف صدی‘‘ کا ترجمہ ڈاکٹر طاہرہ پروین نے ہندی میں کیا ہے اور ہندوستان میں شائع ہونے والا ہے۔ (اگر اِس کتاب کے نام میں ”پاکستانی“ کی جگہ ”بھارتی“ کا لفظ ہوتا توکیا تب بھی وہیں سے شائع ہوتا؟)۔ اُن کے ہفتہ وار کالم پاکستان ہی میں نہیں، ہندوستان کے مقبول ہندی اخبار ’’دینیک بھاسکر‘‘ میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ 2007ء میں دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کی مسرت آرا نے (اپنا مقالہ) ’’زاہدہ حنا کی افسانہ نگاری: تانیثی ادب کے حوالے سے‘‘ تحریر کیا جس پر انہیں ایم فل کی ڈگری ملی۔ 2001ء میں سارک ادبی ایوارڈ ملا جو انہیں صدر جمہوریہ ہند نے عطا فرمایا۔ 2006ء میں حکومت پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس پریزیڈنٹ ایوارڈ دینا چاہا جسے انہوں نے لینے سے انکار کردیا۔ کیوں کہ یہ اعزاز انہیں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہاتھوں سے ملنا تھا اور بھلا وہ اپنے ملک کے اُس صدر سے کیسے اعزاز حاصل کرسکتی تھیں، جس کے خلاف وہ 1999ء سے لکھ رہی تھیں۔\r\n\r\nآپا زاہدہ حنا کو وہ تحریریں پڑھ کر یقیناً جھنجھلاہٹ ہوتی ہے جو عقیدے، رنگ، نسل، صنف اور علاقے کی بنیاد پر انسانوں میں امتیاز برتتی ہوں یا دوسروں کو نفرت پر اُکساتی ہوں۔ لیکن اگر کوئی ریاست قولاً ہی نہیںعملاً بھی عقیدے، رنگ، نسل، صنف اور علاقے کی بنیاد پر انسانوں میں امتیاز برتتی ہو، اور دوسروں کو نفرت پر اُکساکر بین المذاہب خونریزی کرواتی ہو، اور وہی ریاست احمدآباد، گجرات، ممبئی اور مقبوضہ کشمیر کے (جسے ہماری آپا ہمیشہ ”ہندوستانی کشمیر“ لکھتی اور کہتی ہیں) مسلمانوں اور سمجھوتا ایکسپریس کے پاکستانی مسافروں کابہیمانہ قتل عام جائز سمجھتی ہو تو ہماری آپا اُس ریاست کے ”صدر جمہوریہ“ سے ایوارڈ وصول کرلانا اپنا اعزاز گردانتی ہیں۔ ایسی ریاست سے اعزاز پانے میں بھلا کیسی جھنجھلاہٹ؟\r\n\r\nاگر پاکستانی معاشرے میں رہنے والی خواتین کے رہن سہن کی تصویر کشی صرف اور صرف (اپنے دل کے) سیاہ رنگ سے کرنے پر بھی ’’آسکر ایوارڈ‘‘ ٹائپ کا کوئی ایوارڈ دیا جاتا ہو (اور یقیناً دیا جاتا ہوگا)تو ہم سفارش کریں گے کہ آپا زاہدہ حنا کی کتاب ’’پاکستانی عورت: آزمائش کی نصف صدی‘‘ کو ایسے کسی ایوارڈ کے لیے ضرور بھیجا جائے۔ ہماری آپا کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہوگی اگر انہیں یہ ایوارڈ ریمنڈ ڈیوس کے ”دست اقدس“ سے دلوایا جائے۔\r\n\r\nیہ تو ہوئی لکھنے کی تفصیل۔ اب آئیے پڑھنے کی طرف۔ انسانوں میں امتیاز برتنے والی تحریروں پر جھنجھلانے والی آپا بڑے فخر سے اپنے پاکستانی ہمسایوں کی بابت بتاتی ہیں: ’’والد کا خیال تھا کہ ہم اشراف ہیں اور دو تین گھرانوںکے سوا ہمارے اِرد گرد رہنے والوں کی اکثریت اس قابل نہیں کہ ان سے ملاجائے‘‘۔ (ص:66)\r\n\r\nوالدہ کے متعلق کہتی ہیں: ’’حیرت ہوتی ہے کہ والدہ نے عشق و محبت میں شرابور یہ کہانیاں اور ناول ساڑھے سات آٹھ برس کی بچی کو کیسے پڑھنے دیے‘‘۔ (ص:67)\r\n\r\nوالد اور والدہ دونوں کے متعلق اُن کا بیان ہے: ’’میں نے دھنیے، مرچ اور زیرے کی پڑیاں تک کھول کر پڑھی ہیں۔ صرف ایک کتاب ایسی تھی جس کے پڑھنے پر والد اور والدہ دونوں نے نہایت سخت سرزنش کی اور وہ تھی بہشتی زیور‘‘۔(ص:67)\r\n\r\nبہشتی زیور نہ پڑھنے اوردھنیے، مرچ اور زیرے کی پڑیاں پڑھنے سے بننے والا ذوقِ مطالعہ بڑا چوکھا رنگ لایا، چناں چہ آگے چل کر آپا نے فرمایا:\r\n\r\n’’… جس کتاب نے بچپن میں متاثر کیا وہ ’’قصص الانبیا‘‘ تھی، وہ بھی والدہ کی تھی۔ کیا کتاب ہے اور کیا اس کی کہانیاں ہیں۔ تخیل کی پرواز کا جواب نہیں… اسی میں ایک جگہ پڑھا کہ ایک گائے ہے جس کے کئی ہزار سینگ ہیں اور ایک سے دوسرے سینگ کا فاصلہ سینکڑوں میل کا ہے اور وہ گائے مچھلی کی پشت پر کھڑی ہے اور اس گائے کے ایک سینگ پر دنیا رکھی ہے۔ ’’قصص الانبیا‘‘ میں تخیل کی فراوانی اور جملوں کی روانی اس قدر تھی کہ اس میں ڈوب جانے کے سوا اور کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ برسوں بعد جب میں نے سائنس فکشن پڑھنا شروع کیا تو کئی مرتبہ قصص الانبیا یاد آئی‘‘۔ (ص:82)\r\n\r\nآپا تو شاید بڑھاپے کے باعث اپنے بچپن کا مزید (یعنی توسیعی) مطالعہ بیان کر نا بھول گئی ہوں، مگر ہمارا ”گمانِ واثق“ ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ والی اُسی نام نہاد ’’قصص الانبیا‘‘ میں یہ ارضیاتی ’’سائنس فکشن‘‘ بھی پڑھا ہوگا کہ جب مذکورہ گائے اپنا سینگ بدلتی ہے تو اس کے نتیجے میں 1935ء اور 2005ء کے بھیانک زلزلے ظہور پزیر ہوتے ہیں۔\r\n\r\nاگر اللہ ایسے ”والدوں“ اور ایسی ”والداؤں“ کو سب مسلمانوں پر مسلط کر دیتا جو نبیوں کی تعلیمات سے متصادم تخیلاتی اصنامیات اور(ہندوؤں کی) مشرکانہ دیومالائی کتھائیں اپنی ’’اشراف‘‘ بیٹیوں کو ’’قصص الانبیا‘‘ کے نام پر پڑھا پڑھاکر انہیں ’’اہل علم‘‘ بناتے رہتے تو آج سارا معاشرہ اسی قسم کی مجہول ’’اشرافیہ‘‘ سے بھرا ہوتا۔ مقامِ شکر ہے کہ ’’طبقہ اشرافیہ‘‘ ہمارے پورے معاشرے میں بس طباق بھر ہے۔\r\n\r\nپوری گفتگو ایسی ہی لایعنی باتوں سے بھری ہوئی ہے، جن پر ’’علم‘‘ شرمندگی سے منہ چھپاتا پھرے اور ’’جاہلیت‘‘ فخر سے پھولے نہ سماتی پھرے، مگر آج کی نشست میں بس اتنے ہی پر اکتفا کیجیے۔