نسیم حجازی کی فکر کے اصل متاثرین - ابو انصار علی

نسیم حجازی کی تحریریں پڑھنے کا اقرار کرتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ’ان کی تحریرمیں ادبی چاشنی اور محبت کے ساتھ اپنی تہذیب ( مسلم تہذیب) سے جڑنے کی روایت موجود ہے‘ ان کے ناولوں کو پڑھنے اور اس سے متاثرہ افراد کی تعداد یقینا کم نہ ہوگی، ان کی تحریروں میں اسلام کا فلسفہ جہاد اور سچے مسلمان اور مجاہد کے کردار کو باربار پیش کیا گیا، اور بتایا گیا کہ ایک مسلمان کی حقیقی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ کن حالات میں کس طرح کے عناصر سازشی ٹولے کا روپ دھار لیتے ہیں اور ان کا طریقہ واردات کیا ہوتا ہے، اب اگر کوئی اپنے اس روپ سے نقاب اٹھتا محسوس کرے اور دوسرے پر پھبتی کسے تو اسے میری طرف سے ’مسکراہٹ‘ وہ بھی طنزیہ۔\r\n\r\nاب پتا نہیں وہ کون لوگ ہیں جو خود سے، اپنی تہذیبی روایت سے فرار کو ہی درست خیال کرتے ہیں، جو اپنی شناخت کو مسخ کرنے کو ہی کارنامہ حیات خیال کرتے ہیں، اگر کوئی اس بات سے انکاری ہو تو ہو، میں اقرار ی ہوں۔ جن لوگوں کو خود کو سمجھ دار اور عقل مند سمجھنے کا ہیضہ لاحق ہو، انہیں بس ’سرخ سلام‘ یا پھر’ 50 ستاروں کا آشیرواد‘ ہی درکار ہوگا، کیونکہ وہ ان ہی کے نقشے میں رنگ بھرنے کی کھاتے ہیں، یہ تو ابتدائیہ تھا ، اب تھوڑا ہمارا طنز مگر مبنی برحقیقت منظرنامہ بھی ہوجائے؟\r\n\r\nدراصل آپ کی سوچ کے لوگوں کے نزدیک نسیم حجازی کی تحریروں نے ہی دنیا بھر میں قتل و غارت گری یا آپسی لڑائیوں کو یا بلاوجہ کے جنگ و جدل کو فروغ دیا ہے، ورنہ اس سے قبل تو ’دنیا‘ امن و آشتی کا جزیرہ خاص تھی، اس دنیا میں برطانوی راج میں بنگالی انسانوں کو بھوک مری تک پہنچانے جیسے قانونی واردات بھی نسیم حجازی اور ان سے متاثرہ فوج انگلستان کا ہاتھ تلاش کیا جاسکتا ہے، اور ہیروشیما ناگا ساکی پر ایٹمی بمباری کی خالص تربیت بھی نسیم حجازی کی ناولوں سے ہی حاصل کرنے کو ثابت کیا جاسکتا ہے، گزشتہ 5 برس میں روسی اور امریکی طیاروں کی بمباری سے شام میں مرنے والے لگ بھگ 5 لاکھ سے زائد انسانوں کو خاک و خون میں اسی طرز تحریر نے نہلایا ہوگا۔\r\n\r\nہم یقین کرلیتے ہیں کہ اگر نسیم حجازی کے ناول نہ شائع کیے گئے ہوتے تو دنیا دو بڑی عالمی جنگوں سے بچ جاتی، کیونکہ ان جنگوں کے پیچھے بھی جن کا ہاتھ کار فرما ہے، وہ یقینا عالم بالا میں نسیم حجازی کی تحریر سے متاثر رہے ہوں گے، آپ مان لیں کہ ہٹلر بھی نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثر تھا، ورنہ وہ ملک میں بسنے والے یہودیوں کے قتل میں اس درجہ ملوث نہ ہوتا، اور بعد ازاں نسیم حجازی کے تحریری ہیروں کی طرح عظیم شان موت سے ہمکنار نہ ہوتا۔ \r\n\r\nہم اس بات پر اندھا ایمان لے آتے ہیں کہ نائن الیون (جس کے مجرمین کا تاحالحتمی تعین نہیں ہوسکا مگر ایک پورا ملک جس میں منشیات کی کاشت تقریبا ً ختم ہوچکی تھی کو تہہ و بالا اور دوسرے ملک کی معیشت تباہ کردی گئی ) اس کی بڑی وجہ بھی یقینا نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثرہ افراد ہی رہے ہوں گے، دنیا میں امریکی پالیسیوں سے پیدا منظرنامہ یا یہودی کارستانی کو تلاش کرنا گناہ عظیم قرا ردیا جاسکتا ہے۔ \r\n\r\nایک اور ملک جس کےبارے میں عالمی سطح پر قصے گڑھے گئے اور کہا گیا کہ خطرناک ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جن سے امن عالم کو خطرات لاحق ہیں، وہاں سے برآمد توکچھ نہ ہوا، مگر وہاں کی اینٹ سے اینٹ بھی بجادی گئی، کئی روز تک جہازوں سے پھولوں کی بارش اور اس سے چند ہزار انسانوں کی’ زندہ‘ لاشے دراصل دنیا کو پرامن اور جائے امن بنانے کی کوشش ہے، اب دنیا اس امن سے مستفید ہورہی ہے، اس میں بھی یقینا نسیم حجازی کی تحریروں کے محبان کا نام تلاش کرنا ہرگز مشکل نہ ہوگا ۔ \r\n\r\nیہ بات تو’ہم سب‘ ہی مان جائیں گے کہ ’داعش‘ کو جہازوں سے ’فری کا اسلحہ‘ بھی نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثرین نے فراہم کیا ہوگا بلکہ امریکا کی معیشت میں جو اسلحہ فروخت کا رول ہے، اس کے کرتا دھرتا بھی نسیم حجازی کی فکر کے متاثرین ہیں کیونکہ ان تمام کاموں کو کوئی انسانیت کا غم خوار اور عقل مند انسان کرہی نہیں سکتا ہا ں پر نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثرہ افراد ضرور کرسکتے ہیں۔\r\n\r\nآپ یقین کرلیں کہ نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثرہ افراد ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں بیٹھ کر سازشیں رچی تھیں، جو بس روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر پشاور کو روند دینا چاہتے تھے، ’فریب ناتمام‘ بھی شاید نسیم حجازی کے متاثرہ لکھاری کا کارنامہ ہے، آپ سمجھ لیں کہ نسیم حجازی کی فکری متاثرین ہی تھے جنہوں نے پاکستان میں دفن ہونا تک پسند نہ کیا مگر ان کے نام کا ائیر پورٹ اور یونیورسٹی پاکستان میں موجود ہے۔\r\n\r\nنسیم حجازی اور ان کی فکر سے متاثر افراد نہ ہوتے تو یقینا برما میں مسلمان مر رہے ہوتے نہ بنگلا دیش میں حکومت مخالفین کو پھانسیاں چڑھارہی ہوتی اور نہ ہی پاکستان بنتا اور نہ ہی ملک میں اسلامی آئین تشکیل پاتا۔\r\n\r\nدراصل بھٹو صاحب بھی نسیم حجازی کی فکر سے متاثر تھے اور وہ بھارت اور اسرائیل سے برملا نفرت کا اظہار کیا کرتے تھے، اور قوم کو گھاس کھا کر ایٹم بم بنانے کا اعلان بھی یقینا نسیم حجازی کی تحریر سے متاثر ہوکر کیا جبکہ اسلامی سربراہی کانفرنس بھی اس ہی فکر کے زیر سایہ بلائی تھی۔\r\n\r\nنسیم حجازی کی فکر نہ ہوتی اور ان کی تحریریں دریا برد کردی جاچکی ہوتی تو اسرائیل وجود میں آتا ،کیونکہ اسرائیل کی تشکیل یقینا بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق جائز انداز میں ہوئی ہے ۔بس اب جو بھی وواویلا مچا ہے وہ نسیم حجازی کے ناول پڑھنے والوں کا۔\r\n \r\nنسیم حجازی ہی کی فکر تو ہےجس کے متاثرین نے ملک کی دولت لوٹی اور بیرون ملک منتقل کردی، ملک کا بچہ بچہ اسی فکر کے لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے ورنہ ہم تو اسپیس سائنس میں کب کے امریکا اور روس کو پیچھے چھوڑ چکے ہوتے۔\r\n\r\nہاں نسیم حجازی کی تحریروں سے جذبہ پانے والے لوگوں نے ہی امریکا کی ایک کال پر گھٹنے ٹیک دیے، اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا اور بدلے میں اتنے پیسے لیے، جس کے بارے میں اکثر ملک کے اخبارات میں ’اونٹ کے منہ زیرہ‘ والے کارٹون شائع ہوتے تھے، یہ وہی لوگ تھے خود کو عقلمند بھی سمجھتے تھے اور دودھ پیتے بچوں،خواتین اور غیر ملکی سفارتکاروں تک امریکی ڈالروں کے عوض بیچ دیتے تھے، ورنہ نسیم حجازی کے ناولوں سے متاثرین میں یہ دم خم کہاں تھا، کیوں سچ کہا نہ؟\r\n\r\nنسیم حجازی صاحب نہ ہوتے تو یہ بات ثابت شدہ حقیقت تھی کہ ملک پاکستان دنیا بھر میں ہندوستان سے زیادہ ترقی کرتا، کیونکہ ہندوستان میں ہر جگہ امن اور چین ہے، وہاں کہیں بھی کوئی گڑبڑ نہیں، کشمیر یوں کو قتل بھی نہیں کیا جاتا، ان پر کئی سو دن کا کرفیوں بھی نافذ نہیں کیا جاتا بلکہ انسانی حقوق کا دراصل التزام ہی ہندوستان میں ہوتا ہے۔\r\n\r\nبس پاکستان نے ترقی نہیں کی کیونکہ 1989ء سے 2016ء کے ان 27 برسوں میں ملک پر سیکولر نواز شریف، محترمہ بینظیر بھٹو، پرویز مشرف، شوکت عزیز ،آصف زرداری، اسفندیار ولی خان، الطاف حسین جیسے نسیم حجازی کے فکر کے متاثرین کی حکومت تھی اور ان کےبارے میں ملکی دولت لوٹنے اور بیرون ملک مقیم ہونے اور جائیداد بنانے جیسے الزامات ہرگز نہیں لگائے جاسکتے ۔\r\n\r\nنکال دو ملک سے نکال دو ، ترقی کرنی ہے تو نکال دو فکر نسیم حجازی کو نکال باہر کرو۔\r\n