فاٹا کا انضمام ،کچھ گزارشات - ارشد علی خان

وزیراعظم میا ں نواز شریف کی جانب سے فاٹا اصلاحات کمیٹی نے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی سربراہی میں متعدد اجلاسوں کے بعد فاٹا ریفرمز کے نام سے اپنی سفارشات مرتب کی جن میں قبائلی علاقہ جات کے حوالے سے مختلف تجاویز دی گئی ہیں۔\r\n\r\nاس وقت فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے وہاں کے باشندے، قبائلی مشران اور ملکان تین واضح گروپوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ایک گروپ معمولی اصلاحات کے ساتھ فاٹاکی موجودہ حالت کو برقرار رکھنا چاہتاہے۔دوسرا گروپ ایک الگ صوبے یا گلگت بلتستان کی طرز پر ایک الگ انتظامی یونٹ کا متمنی ہے جبکہ تیسرا گروپ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے حق میں ہے اور سمجھتا ہے کہ صوبے میں ضم ہوکر قبائلی علاقے جلداز جلد ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گے۔\r\n\r\nپہلے گروپ میں وہ مشران اور ملکان شامل ہیں جن کو فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے یا الگ صوبہ بن جانے کی صورت میں اپنے اختیارات اور مشری کے چھن جانے کا خوف ہے اور وہ کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ ایف سی آر کی صورت میں جو اختیار اُن کو حاصل ہے وہ ختم ہو جائے یعنی فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے یا الگ صوبہ بن جانے کی صورت میں ان کی حیثیت یا تو ختم ہوجائے گی یا اس میں کمی ہوگی جو ایف سی آر کے ذریعے ان کو حاصل ہے اور یہی اصل وجہ ہے کہ وہ فاٹا میں اصلاحات کے خلاف ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایف سی آر میں معمولی سی ترمیم کرکے فاٹا میں یہی قانون نافذ رکھا جائے اور اپنے موقف کے حق میں وہ اپنی روایات اور جرگے کا رونا روتے ہیں ۔ یہاں میرا ایک سوال ہے کہ کیا فاٹا کے الگ صوبہ بن جانے یا خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد ان کی روایات اور جرگہ سسٹم ختم ہوجائے گا ؟میرے خیال میں ایسا نہیں ہوگا کیونکہ خیبرپختونخوا میں اس وقت بھی وہ معاملات عدالتوں میں جاتے ہیں جن میں فریقین جرگے کے ذریعے اپنا فیصلہ نہ کرسکیں بلکہ بعض اوقات تو عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں بھی فریقین جرگے کے ذریعے راضی نامے تک پہنچ جاتے ہیں جس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف مقدمات واپس لے لئے جاتے ہیں تاہم جس طرح فاٹا میں اس وقت انگریز دور کا ظالمانہ اورجابرانہ قانون ایف سی آر کے نام سے نافذ العمل ہے جس کی موجودگی میں یہی مشران اور ملکان اپنے قبائلی عوام کا استحصال کرتے ہیں اور ان پر اپنے من مانے فیصلے ٹھونستے ہیں تو فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے یا الگ صوبہ بن جانے کی صورت میں اپنے لوگوں کو دبا کر نہیں رکھ سکیں گے اور ان پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط نہیں کرسکیں گے اور یہی اصل تکلیف ہے جو ان مشران اور ملکان کو لاحق ہے ۔\r\n\r\nاب آتے ہیں دوسرے گروپ کی طرف جو ایک الگ صوبے کا متمنی ہے اور فاٹا کو الگ صوبہ یا گلگت بلتستان طرز کے انتظامی یونٹ میں بدلنے کاخواہش مند ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ الگ صوبے کی صورت میں فاٹا اپنے اخراجات کہاں سے پورے گا کیونکہ گزشتہ تیس سال سے میدان جنگ بنے رہنے کی وجہ سے فاٹا غربت اور بے روزگاری کی انتہائی شرح پر ہے ۔تیسرا گروپ جو فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے حق میں ہے وہ سمجھتا ہے کہ صوبائی وسائل کے ساتھ فاٹا ترقی کی راہ پرجلد گامزن ہوسکتا ہے ۔\r\n\r\nجمعہ کے روز پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق ایک سیمینار کا انعقاد کیاگیا جس میں گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا مہمان خصوصی تھے تاہم بد مزگی کے بعد وہ تقریر کئے بغیر سیمینار کو ادھورا چھوڑ کر چلے گئے ۔سیمینار کے دوران جب فاٹا کے ملکان نے ایف سی آر کے حق میں تقاریر شروع کیں تو فاٹا سٹوڈنٹس فیڈریشن اور فاٹا لائرز فورم کی جانب سے ایف سی آر کی مخالفت اور فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حق میں نعری بازی کی جس کے بعد سیمینار شدید بد نظمی کا شکار ہوا ۔دونوں مخالف فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھاپائی بھی کی اور ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔\r\n\r\nفاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے یا ایک الگ صوبہ بنانے کے حساس موضوع پر منعقدہ سیمینار بدنظمی کا شکار ہوگیا جس سے اگر کسی کا نقصان ہوگا تو وہ صرف اور صرف ان قبائلی عوام کا ہوگا جو پہلے ہی دہشت گردی کے ہاتھوں کافی نقصان اٹھا چکے ہیں ۔اپنے گھروں سے دربدر ہوئے اور اپنے ہی ملک میں ہجرت کا عذات اور بے عزتی سہی ۔اب اگر کہیں جا کر ہمارے حکمرانوںکو ان کے زیاں کا احساس ہوا ہے اور وہ فاٹا کے حوالے سے سنجیدگی سے کوئی اچھا اور بہتر اقدام اٹھانے کا سوچ رہے ہیں تو قبائلی مشران اور ملکان کو بھی اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی فائدے کا سوچنا چاہیے اور فیصلے کا ساتھ دینا چاہئے جو فاٹا میں ترقی کی شروعات ثابت ہو۔\r\n\r\nدوسری جانب فاٹا کے انضمام کے حامیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی ٹھنڈے دل سے اپنے ان ملکان اور مشران کو قائل کریں جو خیبرپختونخوا میں فاٹا کے ضم ہونے کی مخالفت کررہے ہیں۔ کسی سیمینار میں اس طرح ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی سے فاٹا کے عمائدین سمیت وہاں کے باشندوں کی عزت مجروح ہوگی اور حاصل وصول کچھ بھی نہیں ہوگا۔ \r\n\r\nگزشتہ دنوں دفتر خارجہ میں فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین کمیٹی اور مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز،وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ سمیت کمیٹی کے چھ دیگرممبران نے شرکت کی ۔کمیٹی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے دونوں رہنماوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کا اصل مقصد اس علاقے کی جیو پولیٹیکل بفرزون حیثیت کو ختم کرنا ہے تاہم اس سے کسی کو عدم تحفظکا احساس نہیں ہونا چاہئیے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کی سفارشات کو پارلیمان ،چاروں صوبوں کے وزارئے اعلی ،متعلقہ وزارتوں،تینوں مسلح افواج کے سربراہوں اور قبائلی مشران کو بھیجا جائے گا ۔بحث اورتمام سٹیک ہولڈر کی مشاورت کے بعد ہی فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کیاجائے گا۔فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا جائے اگر اس میں وہاں کے عوام کی رائے کو اہمیت نہ دی گئی تو ایک اچھے کا م کاانجام بہت برا ہوگا ۔