ٹریفک پولیس اور ساس میں مماثلت - فرح رضوان

جیسے ہر طرح کے حالات میں چوراہے پرکھڑا ٹریفک واڈن، ہرسمت سے آتی جاتی،مختلف برق رفتار گاڑیوں کے بیچ ان کی آمد و رفت کو مستعدی،دانشمندی اور ایمانداری سےممکن بناتا ہے. کچھ اسی طرح کی ذمہ داری,ایک ساس کی بھی ہے، جوگھر میں موجود افراد خانہ کو آپس میں ٹکراؤ سے بچاتی، اور تعلقات میں نظم و ضبط کی ہر ممکن سعی کرتی ہے. پہلی بات تو اس مثال سے یہ واضح ہوجانی چاہیے کہ پیدل ہوں یا سوار کوئی بھی ”کار سرکار“ میں مداخلت نہ تو کرسکتا ہے، اور نہ ہی نااہلی، لالچ یا کسی دباؤ کی وجہ سے ”سارجنٹ“ کو، کسی کو بھی کرنے دینی چاہیے. دوسرا یہ کہ اتھارٹی ہونے کے باوجود بھی ”ٹریفک پولیس“ بھی ہوتی تو وہی، خطا کی پتلی ہی ہے، اسے بھی، اس پوزیشن پر متعین خود کو پرستش کیے جانے والا مقدس مجسمہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ رب تعالیٰ کے عطا کیے گئے محاذ پر حتی الوسع مجاہدہ جاری رکھنےکی ضرورت ہمیشہ جاری رکھنی ہوتی ہے.\r\n\r\nکسی جگہ لکھا دیکھا تھا کہ ”میں اپنی بہو سے جہیز نہیں لوں گی، میں ایک اچھی ساس بنوں گی“ جہیزکا لالچ نہ ہونا بہت اچھی بات ہے لیکن !سوال یہ ہے کہ کیا جہیز کے تحائف کے ساتھ ہی، آپ اپنی بہو کو، عزت، محبت، سہولت وغیرہ بھی دیں گی؟ کیونکہ جہیز تو وقتی اور مالی ضرورت ہے، آپ نہ بھی پوری کریں، تو کوئی بھی اور یہ کمی پوری کرسکتا ہے، لیکن صرف آپ کےحصےکا اخلاقی خلا کون پر کرے گا ؟ \r\n\r\nاس مضمون کے دو حصے کیے جا رہے ہیں، حصہ اول میں نارمل حالات میں ساس کے کردار میں بہتری کی کچھ یادہانیاں ہیں جبکہ دوسرے حصّے میں ٹیڑھی کھیر سے نبرد آزما ہونے کی تدابیر ہوں گی۔ ان شا اللہ.\r\n\r\n1- اگر آج آپ ماں بن چکی ہیں، تو ابھی سے، اپنے آپ کو ساس بنانے کی تربیت شروع کر دینا چاہیے. اگر بیٹا یا بیٹی میں کوئی بھی ایک، یا بالکل اکلوتا ہے،جس میں آپ کی جان اور انگنت ارمان، اٹکے ہوئے ہیں تو،سب سے پہلے تو اس بچے کو اکلوتے لاڈلے کا اس شدت سے احساس نہ ہونے دیں اور خود کو بھی نارمل والدین جیسے رکھیے. والدین ارد گرد کے دوسرے بچوں پر اعتدال میں رہتے ہوۓ اپنا وقت، مال اور محبت سبھی کچھ صرف کریں ساتھ ہی اپنے بچے کو اس شئرنگ کا عادی بنائیں. بچے کو بھی خود انحصاری پر مائل رکھیں. ساتھ ہی خود بھی اس کی ضرورت سے زائد توجہ اور محبت پانے کی خواہش سے بچنے کی ممکنہ کوشش کریں. کیونکہ لڑکی ہو یا لڑکا، کل کو اس ایک اکلوتے لاڈلے/لاڈلی کی شادی ہوگی، تب دوسروں سے اسے وقت، مال اور محبت سبھی کچھ ہر صورت بانٹنا ہی ہوں گے. بچے ایک سے زیادہ بھی ہوں تب بھی مندرجہ بالا احتیاط لازم ہے، ساتھ ہی کھیل یا پڑھائی یا عام زندگی میں بچوں کو ہار تسلیم کرکے مثبت رہنے، اور جیت کر قابو میں رہنے کی تلقین کرتے رہیں-\r\n\r\n2- بچوں کی پیدائش کے ہر مرحلے پرآپ کو انگنت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ، راتوں کی نیند،، دل کا چین سالہاسال کی بیقراری میں بدلتا گیا ، کبھی اولاد کے لیے جھکنا پڑا توکبھی، ٹوٹنا بکھرنا بھی پڑا، غرض اپنی اولاد کے، بیج سے کونپل، پھر پودا اور تن آور درخت بننے تک، جیسی باغبانی آپ نے کی. بالکل ایسا ہی سب کچھ، یا شاید اس سے کہیں زیادہ، ایک اور ماں بھی کرتی رہی....آپ کی بہو یا داماد کی ماں. اس بات کو کبھی فراموش نہ کریں کہ آپ کے ایک بچے پر دوسرا یعنی اس کا جوڑی دار، قدرت کی جانب سے آپ کو بالکل فری، فری، فری ملتا ہے، آپ کو سالہاسال اس کے لیے کوئی ایک بھی مشقت نہیں جھیلنی پڑتی، تواگراب خدانخواستہ بہو یا داماد سے کوئی خلاف منشا بات سرزد ہوتی بھی ہے، یا وہ آپ کی پسند کے ہی نہیں، تب بھی، جوڑ تو ان کا اللہ تعالیٰ نے ہی بنایا ہے، اللہ تعالیٰ کی اس تقسیم پر راضی رہیں اور سوچیں کہ ، کیا یہ آزمائش، ان تمام تکالیف کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت رکھتی ہے؟ جو لمحہ لمحہ کئی سال آپ کو اپنی ہی اولاد سے ملتی رہیں؟ تو کیا اس فری ملنے والے بچے اور اس کے والدین کی تکریم، ہم پر اخلاقی طور پر واجب نہیں ہوتی؟ کیا مسلمان کی آبرو، مال اور خون دوسرے مسلمان پر حرام نہیں؟ تو پھر کیوں ہم ان کی غیبت کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ بھی کسی کی عزت کا حق مارنا ہے. طعنہ یعنی لفظوں کے نیزے سے حملہ کرتے وقت کیوں یاد نہیں رہتا کہ سامنے والا بھی مسلمان ہے اور بظاہر ہماری تلخ بات سے اسکا خون بہتا دکھائی نہ بھی دے لیکن جلتا کڑھتا تو ہوگا ہی.\r\n\r\n3- اور معاملہ اگر یوں ہے کہ ان کی حرکتوں سے،آپکا خون جل رہا ہے تب- اگر بات فقط اتنی ہے کہ آپکے گھر کے رسم و رواج اور قوائد نہیں مانے جا رہے، تب تو کوئی مسلہ ہی نہیں، اسے خود بھی اہمیت نہ دیں سب خوش رہیں گے....آپ سمیت- لیکن معاملہ یہ ہے کہ دین کی حدود کی خلاف ورزی ہو رہی ہے -تب بھی، براہ راست اور فوری غصہ یا ناراضگی کام بگاڑ سکتی ہے- غصہ ویسے عموما شیطان ہی لے کر آتا ہے کبھی یہ مذہبی حمیت کے بھیس میں ہوتا ہے ،اور کبھی آپکی بڑھتی عمر کے ساتھ ،جسمانی، نفسیاتی تکالیف کے سبب اور کبھی ہارمونز کے لبادے میں-اگر آپ ٹھنڈے دل اور زبان سے کام لیں، اور بچپن کا سیکھا ہوا سبق پہلے تولو،(یعنی اس سے آپ کے نامۂ اعمال کا کون سا پلڑا بھاری ہوگا )پھر بولو ہر دم یاد رکھیں، تو ان شا اللہ شر پسند ہارمونز دم دبا کر بھاگتے بنیں گے . اس پریکٹس کے لیے دنیا کی کوئی بھی بات مددگار ثابت نہیں ہو سکتی، جب تک کہ اچھے لیکچرز،دوستوں اور کتابوں کے ذریعے سے بار بار،اللہ کی رضا اور دنیا و آخرت میں اپنی بقا کے بارے میں ترغیب نہ ملتی رہے، مکمل یقین رکھیں کہ حکمت، تحمل، دعا اور نرمی سے ان شا اللہ بات بن جاۓگی - \r\n\r\n4- زندگی میں اسطرح نۓ آنے والے بچوں سے بانڈنگ بنانا بہت ضروری ہے،جس میں آپکا کردار گیلے نرم سے سیمنٹ جیسا ہونا چاہیے جو پختہ اینٹوں کو یکجا کر کے گھر کی فصیل تیار کرتا ہے. لیکن اس کے لیے کچھ اصول گرہ میں باندھ لیں کہ، کبھی بھی اس قرب کی بنیاد ان پر نہیں رکھنی.\r\nغیبت: گناہ کے ساتھ ہی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پھر آپ خود ہی اپنے ملنے والے لوگوں میں،چسکیاں لے لے کر صرف ان کے عیب ہی تلاش کرنے اور کڑھنے کا بیج بوئیں گی، اور یقینا نہ اس سے پھوٹنے والی شاخیں کارآمد ہوں گی نہ ہی اسکے پھل آپ کو میٹھے ملیں گے .\r\nیہ کہ سب مل کرفضول ٹی وی شوزنہ دیکھیں : گناہ اور لغو کے علاوہ، یہ کام ، وقت اور اپنی ذاتی سوچ کا ردی کر ڈالنا توہے ہی، دوسری وجہ یہ ہے کہ نہ جانے کب آپ سب میں سین کریٹینگ کا وائرس منتقل ہو جاۓ گا اور اس سے کہیں زیادہ تماشے اور ڈرامے خود آپ کے گھر میں وقوع پزیر ہو سکتے ہیں،جنکو آج آپ تفریح کے طور پر دیکھتے ہیں .\r\nیہ کہ بچوں کونہ تو اپنی جبری عزت کرنے اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے محبت پر مجبورکریں: پہلی بات عزت کا مالک رب العزت ہے، آپ اسکے اصولوں کی عزت کریں، ان شاء اللہ بدلے میں آپکو آپکی سوچ سے بڑھ کرعزت ملے گی- دوسری بات کی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی کا بھی دل بدلنے پرقادرنہیں، صرف اللہ تعالیٰ مقلب القلوب ہے- تو بچوں کی آپس میں محبت کی ترغیب کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کیجیۓ،احسن طریقه وہی آپ سب کے دل وعمل میں ڈال دیگا مع باہمی محبت و ایثار کے -آپکو زبردستی نہیں کرنی پڑے گی کہ فلاں بہن کی یوں مدد کرو فلاں بھائی سے یوں ملو وغیرہ .\r\nدکھاوے سے بچیں : جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مال کا دکھاوا ہوگا تو یہ آپکی عقل اور اخلاق کو دیوالیہ کر ڈالے گا -اور اگرمحبت کا ہوگا تو خلوص کو چاٹ جائے گا-کیونکہ محبت بنا محنت تو ہوتی نہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے،توجب اس میں اللہ کی خاطر اخلاص نہ ہوگا، تب تمام تر محنت ریا کاری کے ضمرے میں اکارت ہی جاۓ گی - اور صلہ نہ ملنے کا صدمہ جیتے جی مار ڈالے گا-\r\nکبھی بھی کسی بھی بچے میں فرق نہ کریں،اوراگراس خرابی کا آپکواحساس ہی نہ ہو پاتا ہو، تب بھی،کم ازکم کبھی بھی کسی کا بھی تقابل، کسی سے بھی نہ کریں-\r\n\r\n5- ایک تولڑکوں کو بھی بچپن ہی سے گھریلو کام کاج کی عادت ضرور ڈالیے،دوسرا اپنے اطراف میں، سب کی سرزنش ضرور کیجیے، ان تمام مذاق اور خطابات پر جو مرد کو گھر کے کام کاج میں بیوی کی مدد سے روکتے ہوں - الحمد للہ ہم مسلمان ہیں، سنت کی اتباع پر اللہ کی رضا کے ساتھ ہی بخشش کا وعدہ ہے، توبھلا کیوں نہ کریں ہمارے بیٹے اور مرد گھر کے کاموں میں مدد؟ \r\nاس عادت سے، بعد میں کم از کم ،اتنا تو ممکن ہو سکتا ہےکہ بہو کی بیماری یا شفٹ جاب وغیرہ کے سبب بیٹا صبح بھوکا،گھر سے کام پر نہیں جاۓ گا - ویسے کیا عجب بات ہے کہ بیٹارات کے وقت دوستوں میں باہر کا کھانا کھاۓ یا گھر پر منگاۓ تو ماؤں کو وہ تکلیف ہرگز نہیں ہوتی جو کہ صبح ناشتے پر بہو سو رہی ہو اور بیٹا باہر سے ناشتہ کر لے.\r\n\r\n6- مانا کہ ہمارے ہاں نمبر پانچ والی بات نہ ہی قابل قبول ہے اور نہ ہی آئیڈیل صورتحال ،تو پھر کیا کیا جائے؟ \r\n\r\nدیکھیں! بات اب پہلی جیسی تو رہ نہیں گئی،کل تک آپ ایک سلطنت کی تنہا مالک تھیں اب نہیں،اب اس میں مداخلت ہو چکی ہے اور یہ بڑھے گی بھی، کیونکہ آج ایک بہو آئ ہے کل کو جتنے بیٹوں کی شادی ہوگی اقتدار میں حصہ داری بڑھتی ہی جاۓ گی- اچھا ایک بات خود کو ٹٹول کر بتائیں،کیا آپ میں حب جاہ ہے؟ عہدے، شہرت،لیڈر شپ کی ہوس؟حرص ؟ نہیں ؟ کسی کے احساس کر کے شکریہ ادا کرنے ہی کی تمنا؟ واقعی!!!سچی!!! شکر ! یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے ما شا اللہ -الحمد للہ،وما توفیقی الا باللہ\r\n\r\nچلیں تو، اب دوبارہ دیکھیں! سب سے پہلے اس بات کو دل سے تسلیم کریں کہ اصل میں یہ بہوکو اپنے اقتدار کی نہیں، بلکہ اقدار اور کردار کی منتقلی ہے- جی !" آپکے کردار کی" -تو کیا وہ واقعی اتنا دلکش ہے؟ کہ کوئی بخوشی اسے لینے پر آمادہ ہو-یا اگلی نسلوں تک منتقل کیا جائے؟\r\n\r\nموسم بدلنا لازم بھی ہے، ضروری بھی اور رت بدلنے پر زرد ہو کر شاخ سے ٹوٹ جانے والے پتے بظاہر نئے سرسبز و شاداب پتوں کے لیے جگہ چھوڑ کر گرتے دکھائی دیتے ہوں، لیکن اصل میں وہ خود کو کھاد میں بدل کر درخت کی زرخیزی میں اضافہ ہی کر رہے ہوتے ہیں -\r\nآپ نے زندگی میں جو بھی تجربات سے سیکھا یہ اس سیکھ سے دوسرے ناتجربہ کار کی زندگی سہل بنانے کا وقت ہے، لیکن یہاں بھی حکمت کے ساتھ کام لیتے ہوئے،باتوں باتوں میں سکھائیں، کہ اگلے کو نہ تو احساس کمتری ہو نہ وہ اسے ڈکٹیشن سمجھے ،-ساتھ ہی یہ سبق کبھی نہ بھولیں کہ کسی پر کبھی احسان نہیں جتانا، خواہ وہ اپنی اولاد ہی کیوں نہ ہو.....کیونکہ یہ اللہ کی چادر کو کھینچنے کے مصداق ہے.\r\n\r\n7- کیاآپ کو کبھی انڈین ڈرامے کی ساس بہو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے؟ جو من بھر کی ساڑھی پر دو من کی چابیوں کا گچھا لٹکاۓ پھرتی ہیں- جبکہ ہمارے ہاں کبھی ایسا نہیں ہوتا!\r\nکیوں ؟ اس لیے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹ دینا ہے، تو اپنے ہی گھر میں چوری کا کیا سوال؟---ہمم ...یہ تو ٹھیک ہے- لیکن کام چوری، آپ کو نہیں لگتا کہ ہم میں سے اکثر خواتین کام کے معاملے میں جلدی سے بوڑھی ہو جاتی ہیں ؟ یہ کام مما نہیں کر سکتیں، امی بیچاری سے تو اب نہیں ہوتا -موم نے بہت کر لیا. یوں بظاہر ہاتھ سلامت ہوں تب بھی حالات زندگانی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں،مانو،گویا ہاتھ ہی کٹ گۓ ہوں -اور ہم اپنا احتساب کرنے کے بجاۓ دوسروں پر بری نظر لگانے اور حسد اتارنے کا بہتان چسپاں کر ڈالتے ہیں.\r\n\r\nکبھی بھی یہ وسوسہ پاس پھٹکنے نہ دیں کہ کوئی آپ سے فائدہ اٹھا رہا ہے، بلکہ اپنے کارآمد ہاتھ، پاؤں،حواس وغیرہ پر ہر دم رب کا شکر کریں. ان شا اللہ یہ عمل آپ کو احساس کمتری، تھکن، جھلاہٹ و مایوسی سے بچنے میں کارگر ثابت ہوگا. ویسے اگر ہر تالے کی چابی اپنے ہاتھ میں رکھنے کی تمنا ہو تو صرف ایک ہی گر،یعنی بد گمانی سے بچنا اور دوسرے کو ستر گمان دینا ہی ہمیں آجائئے تو سمجھ لیں کہ ماسٹر کی ہمارے ہی پاس ہے. لیکن جس طرح ہر چابی کے مخصوص دانتے ہوتے ہیں اسکے بھی اسی طرح ہیں-دین کی سمجھ -عمل-صدقہ-دعا-ذکر-امید اور خدا خوفی کے ساتھ ہی کھانے- پینے- سونے- جاگنے اور بولنے سننے کا صحتمند طرز زندگی مع ہلکی پھلکی ورزش کے. یہ سب مل کرہی پاسورڈ مکمل کرتے ہیں، سوچیں ذرا کہ ایک ہندسہ بھی کم ہوا تو اکاؤنٹ کیسے کھل پائے گا بھلا؟\r\n\r\nاس پہلے حصے کے اختتام تک لگتا تو ایسے ہی ہے جیسے کہ بس ساری کمی کوتاہی تو ہم ہی میں ہے. آخر ہم ہی ایسا کیوں کریں؟ بات یہ ہے کہ کسی کے بھی عمل پر ہمارا کوئی بھی رد عمل ہی، اصل میں ہمارا وہ عمل ہے جو مسلسل سالہاسال سے لکھا جارہا ہے. رہا ہے، رہی ہے، رہے ہیں، present continuous tense یعنی فعل جاریہ ہے،جسے Present progressive tense بھی کہتے ہیں، یعنی ترقیاتی کام جاری ہے، اگر ہم تھک کر رک جاتے ہیں یا غم و غصے میں برابری سے ہی برا رد عمل کرتے ہیں،یا صرف اچھا عمل ہی روک دیتے ہیں تو پھر لکھا کیا جارہا ہوگا اعمال نامے میں ؟\r\n\r\nیاد ہے نا کہ جس کے عمل برے ہوں گے،اسکے لیے قبر کی تنہائ میں ایک انتہائی بد شکل آدمی بری خبریں لے کر آئے گا اور وہ شخص اصل میں اسکا برا عمل ہوگا جبکہ، اچھے اعمال کرنے والے کی قبر میں انتہائی خوبصورت انسان آکر اسے خوشخبری سناۓ گا اور یہ خوبروشخص اس بندے کے نیک اعمال ہوں گے.\r\n\r\nہم اکثر قران میں پڑھتے ہیں جاری رہنے والی نہریں، کیا یہ مفسدین کی ملکیت ہونگی؟ نہیں نا! یہ تو اللہ کی رحمت سے صالحین کی ملک ہونگی،ہمیشہ ہمیشہ جاری رہنے والی نعمتیں-جاری رہنے والی حسین ترین اورکبھی نہ ختم ہونے والی اپنی ذاتی عظیم ریاست میں- بھلا کن کے لیے ؟ جنہوں نے تاحیات خوف و رجا کا دامن تھامے رکھا،اصلاح کا عمل جاری رکھا-اخلاص کے ساتھ نیک عمل،جاری رکھا- اچھا اخلاق، جاری رکھا- صبرجمیل، جاری رکھا -\r\nان شا اللہ (باقی آئندہ ) \r\n\r\n

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.