برائے ایصال ثواب - سید امجد حسین بخاری

ابلاغیات میں پیغام کی ترسیل کے لئے کئی تھیوریز بنائی گئی ہیں ۔ یوں کہہ لیجئے علوم ابلاغیات پیغام کی ترسیل کا علم ہے۔ابلاغی ماہرین روزانہ اپنے دماغ اور صلاحیتیں نت نئی تھیوریز بنانے میں وقف کرتے ہیں۔ میں ابلاغیات کا طالب علم ہوں او رپاکستان میں ابلاغ کے طریقوں کے مشاہدے کا موقع ملتا ہے۔ بیت الخلاء کے دیواریں یا جی ٹی روڈ پر بنائی گئی دیواروں پر کی جانے والی لکھائی، یہاں تک کچرا دان بھی مئوثر ابلاغ کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ ان جگہوں پر ابلاغ کس قسم کا ہوتا ہے اس سے قارئین بخوبی واقف ہیں۔ \r\n\r\nابلاغ کی یہ قسم مفت تشہیر کہلاتی ہے۔ کروڑوں روپے کی کوٹھیاں تعمیر کرکے ٹوٹی ہوئی ہانڈیاں مرکزی دروازے پر لٹکا دی جائیں یا خوبصورت گاڑی کے پیچھے ایک جوتا آویزاں کر دیا جائے، مقصد نظر بند سے بچنا ہوتا ہے ۔ یعنی جوتی اور ٹوٹی ہوئی ہنڈیا دیکھنے والوں کے لئے پیغام ہوتی ہے کہ صاحبان یہ جو اینٹی نظر بد پیغام ہم آپ کو دے رہے ہیں اس کو سمجھ لیں۔\r\n\r\nپیغام کا ایک مئوثر طریقہ مساجد اور اہم جگہوں پر عطیہ کی جانے والی اشیاء بھی ہیں ۔ گذشتہ دنوں اندرون لاہور میں ایک مسجد میں نماز کے لئے قدم رکھے ، پہلی نظر جوتوں کے ریک پر پڑھی ریک ایک تاجر کی جانب سے عطیہ کیا گیا تھا، اس پر جلی حروف میں ’’ برائے ایصال ثواب والدہ محترمہ ، فلاں صاحب ‘‘ اور ساتھ ہی ان صاحب کا نمبر بھی تحریر تھا۔ مسجد کی اکثر اشیاء عطیہ کی گئیں تھیں ، پنکھے ، اے سی، ٹیوب لائٹس ، فانوس، گھڑی، ممبر ان سب پر عطیہ کرنے والے احباب کا مکمل تعارف ان کے رابطہ نمبرز کے ساتھ دیا گیا تھا۔یہ میرا مشاہدہ نہیں ہے۔ آپ میں سے اکثر احباب کو اس کا تجربہ ہوا ہوگا اور آپ نے مشاہدہ بھی کیا ہوگا۔ مجھے اعتراض ایصال ثواب پر قطعا نہیں ، بھئی میں کون ہوتا ہوں، اعتراض کرنے والا، صالح اولادیں ہی صدقہ جاریہ کا باعث بنتی ہیں، والدین کی تربیت کا اثر ہی تو ہوتا ہے جو اولادوں کو نیک اور صالح بناتا ہے اور جو ان کے جانے کے بعد بھی ان کے اعمال میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ \r\n\r\nجناب چھوڑئیے ! اب میں تو مفتی اور عالم تھوڑی ہوں جو آپ کو اعمال میں اضافے کے نسخے سمجھائوں گا، میں تو اس دنیا کا ایک باسی ہوں جو ہر اچھی اور بری چیز پر نکتہ چینی کرنا اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔ مجھے مساجد میں رکھے ہوئے لوٹوں پر اعتراض ہے، راستے میں مسافروں کو ٹھنڈے پانی سے استفادہ کرانے کے لئے رکھے جانے والے کولرز سے مسئلہ ہے، مجھے ہر اس چیز پر اعتراض ہے جسے ایصال ثواب کے لئے رکھا گیا ہو، آپ یقینا ایسا ہی سمجھ رہے ہوں گے۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے، مسافروں کے لئے واٹر کولر ہوں یا مساجد میں سجدے میں پڑھے نمازیوں کو ٹھنڈی ہوا دیتے پنکھے ہوں۔کوئی تعلیمی ادارہ بنوا نا ہو یا کسی ہسپتال میں مریضوں کے لئے ایمبولینسز مجھے ان ساری چیزوں کو دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔بحثیت مسلمان میں بھی اور آپ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو باعث اجر وثواب سمجھتا ہوں۔مگر مجھے ایک چیز کی سمجھ نہیں آتی پنکھا، فریج، جوتوں کا ریک، اے سی، گنبد اور کئی اشیاء عطیہ کرنے کے بعد اس کی تشہیر کیوں کی جاتی ہے۔ مسجد میں جب چندہ دینے کی باری آتی ہے تو امام صاحب کو خصوصی تاکید کی جاتی ہے کہ میرا نام ولدیت، پیشے اور کاروبار کے مکمل تعارف کے ساتھ دی گئی رقم کی مالیت کا صاف اور واضح آواز میں اعلان کیا جائے۔ عطیہ کی جانے والی اشیاء پر جلی حروف میں نام لکھوانے کے پیچے مقاصد کیا ہیں۔\r\n\r\n ایک لمحے کو غور فرمائیے کہ آپ کی ماں، باپ، بیٹااور ہر وہ شخص جس کے ایصال ثواب کے لئے عطیہ کی جانے والی اشیا ء کی آپ تشہیر کر رہے ہیں۔ کبھی انہوں نے آپ کو دئیے جانے والے پیار کی تشہیر کی ، اس ماں کا سوچیے جس کے نام پر ایک پنکھا لگوا کر آپ پھولے نہیں سما رہے ہوتے اس نے آپ کو دودھ پلاتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ میں اپنے لاڈلے کو دودھ پلا رہی ہوں، اس باپ کے پیار کو دھیان میں لائیے جو آپ کی کامیابی کے لئے اپنے خوشیاں تک قربان کر گیا، آپ کی ہنسی میں اپنی مسکراہٹیں تلاش کرتا تھا۔ اس نے دنیا کو بتایا کہ میں اپنی اولاد کے لئے سب کر رہا ہوں ، اسے دنیا کے تمام سکھ دے رہا ہوں، ذرا ہر اس رشتے کے بارے میں سوچیے ، جس کے لئے آپ عطیہ کررہے ہیں، کبھی بھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اس عطیے کے نام پر آپ رشتوں کی تذلیل تو نہیں کر رہے۔دنیا ساری کو بتا رہے ہیں کہ جنہوں نے اپنی زندگی اور خوشیاں آپ کی مسکان کی نذر کردیں آپ ان کا صلہ ایک پنکھا لگوا کر دے رہے ہیں ، بس اپنے فرض سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔اجر و ثواب کا معاملہ اللہ او ر بندے کے درمیان ہوتا ہے، کیا آپ اس کی تشہیر کرکے سند کے طور پر محفوظ کرنا چاہتے ہیں؟ ارے وہ اللہ جس نے آپ کے ہر عمل کے لئے کراما کاتبین مقرر کئے ہیں ، خدارا! ایک بار ضرور سوچئیے کہ ہم اپنے والدین اور نسلوں کو کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں؟ کہیں ہمارا یہ عمل باعث ثواب بننے کی بجائے ندامت اور گناہ کی دلدل میں تو نہیں دھکیل رہا؟ غور کریں اور اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیں۔\r\n