سرد ہوائیں اور محبت کی تپش - سعدیہ نعمان

بدلتا موسم اپنے ساتھ کئی یادیں لیے چلا آتا ہے۔ کئی چہرے ذہن و دل پہ ابھرنے لگتے ہیں۔ ایسے ہی ایک خوب صورت یاد سرد ہوا کے پہلے جھونکے کے ساتھ دل میں ہلچل سی مچا دیتی ہے۔ ہمارے بچپن میں ہرگھر میں ایک اسٹور ہوتا تھا اور اس میں پیٹیاں اور ٹرنک، کچھ سوٹ کیس اوپر تلے ترتیب کے ساتھ سفید کور اوڑھے رکھے ہوتے، سفید کور کے اوپر ہاتھ سے خوب صورت رنگوں سے گلاب کے پھو ل کڑھے ہوتے۔ ہر موسم کے اختتام پہ گھر کے سب افراد کے کپڑے اور بستر دھو سکھا کے فینائل کی سفید گولیاں ڈال کے ٹرنک اور پیٹی میں رکھ دیے جاتے اور آنے والے موسم کے کپڑے بستر نکالے جاتے۔ وقتا فوقتا ان اشیا کو دھوپ بھی لگوائی جاتی۔\r\n\r\nہمیں جب اندازہ ہوتا کہ اب امی پیٹی کھولنے والی ہیں تو ہماری خوشی دیدنی ہوتی کیونکہ امی ہم سب بہن بھائیوں کو ساتھ لے کر اسٹور میں جاتیں تاکہ مدد ہو سکے۔ پیٹی ٹرنک کھلتے اور کپڑوں کی گھٹریاں باہر نکلنے لگتیں، ہم کپڑے نکال نکال کے دیکھتے، بلاوجہ ہنستے چلے جاتے، ایک عجیب طرح کا جوش و خروش ہوتا، پچھلے سال کے کپڑوں میں سے کئی سائز میں چھوٹے ہو چکے ہوتے، وہ چھوٹے بہن بھائیوں کے حصے میں آتے، اور ہمیں ہم سے بڑوں کا کوئی ایسا سوٹ مل جاتا جس کو دیکھ کر کبھی بہت جی للچایا ہوتا. امی اپنا کام کیے جاتیں، کپڑے سویٹر اور جرسیاں نکالتیں، رضائیاں اور گرم لحاف نکلتے ،اور ہم ترتیب سے رکھی چیزوں کو بےترتیب کرنے کا اپنا کام کرتے رہتے۔\r\n\r\nانہی سب چیزوں کے نیچے ایک سرکنڈوں کا بنا ہوا بہت خوب صورت قدرے بڑے سائز کا ایک پرس رکھا رہتا، دل مچلتا کہ آخر اس پرس میں ایسا کیا ہے جو اسے یوں چھپا کے بحفاظت ٹرنک میں رکھا گیا ہے۔ یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ اس کا امی سے گہرا تعلق ہے، غالباً امی کی شادی کا تھا۔ ایک دفعہ جب یونہی سب سردیوں کا سامان نکالنے میں مصروف تھے تو موقع ملنے پہ وہ پرس میں نے کھول لیا، اس میں کیا تھا؟ چند پرانے خطوط اور کچھ پرانی بلیک اینڈ وائٹ چھوٹے سائز کی تصویریں، یہ تھا کل خزانہ۔ \r\nہمارے نانا ابو کی ایک پرانی تصویر، ابو جی کی اور ماموؤں کی جوانی کی یادگار تصاویر، جنہیں دیکھ کر ہم سب بہت حیران اور خوش ہوئ\0\0ے\0، اصل سرمایہ خط تھے، ایک دو تو دادا ابو کے تھے ابو کے نام، جن کا آغاز کچھ یوں تھا۔ \r\n”برخود دار نورِ چشم راحتِ جاں طولعمرہُ ۔۔۔“\r\nہم اسے بار بار دہراتے اور ابو کو ملنے والے اتنے بے شمار القابات کا سوچ کے خوب ہنستے۔ \r\nدادا ابو کے خطوط کے صرف اسی آغاز سے ہی دلچسپی رہی، باقی متن میں ہماری پسند کا کوئی سامان نہ تھا۔ کچھ نصیحتیں اور کچھ کاروباری باتیں۔\r\n \r\nجو خطوط ذہن میں رچ بس گئے، ان میں ایک ماموں اظہر کا خط امی کے نام تھا، ان دنوں وہ پردیسی تھے، ایف آر سی ایس کا امتحان پاس کرنے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف۔ (نیورو سرجن بنے اور نشتر میڈیکل کالج کے نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ) آخری پیراگراف ان کے درد بھرے دل کی صدا لگتا چند جملے جو یاد رہ گئے، وہ کچھ اس طرح تھے \r\n”میرے امتحان کے لیے دعا کرنا کہ اس دفعہ کامیاب ہو جاؤں، بعض دفعہ سب یاد آتے ہیں اور بہت اداسی ہوتی ہے جب میرا دل گھبراتا ہے تو مجھے بی بی کی بات یاد آتی ہے، پھر میں روز رات کو سونے سے پہلے آیت الکرسی اور چاروں قل پڑھ کے اپنے اوپر بھی پھونک مار لیتا ہوں، اور آپ سب کو بھی یاد کر کے دعا کرتا ہوں تم بھی بس دعا کیا کرو.“ \r\nکچھ خط امی کے نام ہماری نانی بی بی کے لکھوائے ہوئے تھے، ان دنوں وہ گلاسکو میں خالہ اور ماموں کے پاس مقیم تھیں۔ باجی عینی (ہمارے بڑے ماموں اسلم، اللہ مغفرت فرمائے کی بیٹی) کے لکھے ہوئے خطوط تھے جن میں سے ایک خط ان دنوں کا تھا جب ہمارے نانا جان کی وفات ہوئی، اسی دوران ماموں کا بائی پاس ہوا جس کے بعد وہ فالج کا شکار ہوئے، ادھر پاکستان میں امی صحت کے شدید کرائسز سے گزر رہی تھیں (اللہ والدین کا سایہ سر پہ قائم رکھے) غرض خاندان بھر پہ ایک عجیب پریشانی کا دور تھا۔ پھر سب نے ایک دوسرے کے دکھ درد کو مشترک جانا اور اس حوصلے سے وہ دور گزارا۔ خیر باجی عینی کا وہ خط اس حد تک دلگداز تھا کہ \r\nوالسلام \r\nآپ کی عینی \r\nتک پہنچتے ہماری آنکھیں بھیگ چکی ہوتیں، اگرچہ یہ کافی بچپن کا دور تھا لیکن احساس کی زبان بہت پر اثر ہوتی ہے۔\r\n\r\nہر دفعہ ٹرنک کھلنے پہ وہ خطوط ہماری دسترس میں ہوتے، اور ہم بار بار پڑھا کرتے، امی ہم سے لیتیں اور اسی پرس میں رکھ کے ٹرنک کے نیچے سنبھال لیتیں۔ وہ اس خزانے کے بارے میں بہت حساس تھیں اور اب بھی ان کےپاس اسی طرح محفوظ ہیں۔ \r\n\r\nکیسے اچھے دن تھے کہ دکھ اور غم تب بھی زندگی کا حصہ تھے لیکن ان غموں میں کوئی تنہا نہ ہوتا، خاندان بھر کا ساتھ اس درد کی شدت کو اور اس غم کی تلخی کو کم کر دیتا اور اپنوں کا ساتھ تقویت دیتا۔ اب دکھ اپنے اور غم بھی اپنے۔\r\n\r\nوقت کو اب بھی بدلا جا سکتا ہے۔ اپنوں کے غم بانٹے جا سکتے ہیں، کسی کو حرفِ تسلی دے کر، کسی کی آنکھ سے درد چُن کر۔ توقعات کم کرتے ہوئے اپنی انا کو مار کے کسی اپنے کے راستے کو آ سان کرتے ہوئے۔ کسی ناگوار بات پہ چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے۔ دکھ دینے والے الفاظ سے گریز کرتے ہوئے۔ وقت تو اب بھی بدلا جا سکتا ہے، خوشیاں بانٹی جا سکتی ہیں۔\r\nاللہ آپ کو آسانیاں عطا کرے اور آ سانیاں بانٹنے والا بنائے۔ آمین۔ \r\n

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.