قرآن مجید اور جدید سائنس کا باہمی تعلق - عمران ناصر

قران کا عمیق مطالعہ دل و دماغ میں ایک ہلچل پیدا کرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل مجھے ڈاکٹرفضل کریم صاحب سے ملنے کی سعادت حاصل ہوئی جنہوں نے قرآن اور جدید سائنس کے تناظر میں سیارہ ڈائجسٹ میں سلسلہ وارمضامین لکھنے شروع کیے تو قرآن کے وہ گوشے بے نقاب ہوئے جو ایک عام آدمی کی نظر سے جدید سائنس سے شناسائی نہ ہونے کے باعث اوجھل رہتے ہیں۔ ان مضامین نے قرآن کے متعلق ایسے سوالات پیداکیے کہ مجھے ان سے ملاقات کا وقت لینا پڑا اور یوں ایک ملاقات علم کی ایک نئی دنیا سے تعارف کا سبب بنی۔ سائنسی حقائق قرآن کے کتاب الہی ہونے کی توثیق کرتے نظر آئے۔\r\n\r\n ڈاکٹر فضل کریم صاحب پنجاب یونیورسٹی میں میٹالرجی ڈپیارٹمنٹ کے ہیڈ رہے۔ سائنسی اصطلاح میں ان کو ایک سائنسدان مانا جاسکتا ہے۔ ایک سائنسدان کا قرآنی علوم میں استغراق کچھ عجب یا روایت سے ہٹا ہوا معاملہ تھا۔ میرے تجسس کو انہوں نے ماضی میں جھانکتے ہوئے دورکرنے کی کوشش کی۔ دوران تعلیم ان کا لیبیا میں قیام ان کی زندگی میں ایک نئے دورکا سبب بنا۔ آسٹرونومی کے رسائل میں سائنسی حقائق ان کو لاشعوری طور پر احساس دلاتے رہے کہ قرآن بھی ایسے کچھ انکشافات کرتا ہے جو علمی کم مائیگی کے باعث قاری پر واضح نہیں ہوتے۔ لہذا انہوں نے مصمم ارادہ کیا کہ پاکستان واپسی پر وہ قرآن کی ان تمام آیات کو دوبارہ زیرتحقیق لا کر منظرعام پر لائیں گے، اور یوں ان کا یہ خواب بالآخر شرمندہ تعبیر ہوا اور وہ 12 سو سے زائد ایسی آیات کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے جن سے وحی و الہام اور سائنس کے درمیان ایک ناگزیرتعلق منکشف ہوا۔\r\n\r\n[pullquote]إنَّ فِى خَلقِ السَّمَـٰوَاتِ وَالارۡضِ وَاختِلَـٰفِ اللَّيلِ وَلنَّہَارِ لَايـٰتٍ لِّاوْلِى الۡألبابِ[/pullquote]\r\n\r\nارض و سماء کی تخلیق اور اختلاف لیل و نہار میں عقل والوں کے لیے آیات موجود ہیں۔ سورۃ آل عمران ۔ 190\r\nاس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر جس علم کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ علم جدید ہے۔ قرآن پاک اور صحیفہ فطرت پر تدبر علم جدید کا متقاضی ہے، اور علم جدید کے حصول کے لیے قرآن میں درجنوں آیات موجود ہیں جو اس کی اہمیت پر پیہم اصرار کرتی ہیں۔\r\n\r\nارض وسماء کی تخلیق، اختلاف لیل و نہار، سمندروں میں تیرنے والی مفید کشتیوں اور اس گھٹا میں جو زمین و آسمان کے درمیان خیمہ آرا ہے۔ ارباب عقل کے لیے آیات موجود ہیں۔ سورۃ البقرہ-164\r\nاے رسولﷺ! دنیائے انسانی کو حکم دیجیے کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھے کہ خدا نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے۔ العنکبوت 20\r\nکیا یہ لوگ آسمان و زمین وغیرہ کی تخلیق پر غور نہیں کرتے؟ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی موت قریب آگئی ہے۔ الاعراف 185\r\nمضمون کی طوالت کے پیش نظر چند آیات کا ترجمہ نقل کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ قرآن پاک میں صحیفہ فطرت پر غور و فکر پر اس قدر تکرار ہے کہ مجھے محدثین عظام سے اختلاف کی جسارت کرنا ناگزیر محسوس ہوتا ہے جو درج بالاحدیث کو موضوع قرار دیتے ہیں۔\r\n”صحیفہ کائنات میں گھڑی بھر تفکر سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے.“\r\nسورہ بنی اسرائیل کی آیت مبارکہ 36 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اور جس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ، بے شک کان اور آنکھ اور دل، ہر ایک سے باز پرس ہوگی.“\r\nاس آیت مبارکہ میں قوت بصارت، قوت سماعت اور قوت یقین کو تفکر اور تدبر کے لیے نعمت کیے جانے کا احساس دلایا گیا ہے اور ان سے مستفید ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔\r\n\r\nجدیدعلم اور قرآن کے مابین تعلق کو عصر حاضر کے معروف اسلامی اسکالر سید ابوالاعلی مودودی یوں واضح کرتے ہیں: \r\n”جاہلیت کے زمانہ میں میں نے بہت کچھ پڑھا ہے، قدیم و جدید فلسفہ، سائنس، تاریخ، معاشیات، سیاسیات وغیرہ پر اچھی خاصی ایک لائبریری دماغ میں اتار چکا ہوں، مگر جب آنکھ کھول کر قرآن کو پڑھا تو بخدا محسوس ہوا کہ جو کچھ پڑھا تھا سب ہیچ تھا، علم کی جڑ اب ہاتھ آئی، کانٹ، ہیگل، نطشے، مارکس اور دنیا کے دوسرے تمام بڑے بڑے مفکرین اب مجھے بچے نظر آتے ہیں۔ بیچاروں پر ترس آتا ہے کہ ساری ساری عمر جن گتھیوں کو سلجھانے میں الجھتے رہے اور جن مسائل پر بڑی بڑی کتابیں تصنیف کر ڈالیں، پھر بھی حل نہ کرسکے، ان کو اس کتاب نے ایک دو فقروں میں حل کر کے رکھ دیا ہے، اگر یہ غریب اس کتاب سے ناواقف نہ ہوتے تو کیوں اپنی عمریں ضائع کرتے؟ میری اصل محسن بس یہی ایک کتاب ہے، اس نے مجھے بدل کر رکھ دیا ہے، حیوان سے انسان بنا دیا ہے، تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئی۔ ایسا چراغ میرے ہاتھ میں دے دیا ہے کہ زندگی کے جس معاملہ کی طرف نظر ڈالتا ہوں حقیقت اس طرح برملا مجھے دکھائی دیتی ہے۔ گویا اس پر کوئی پردہ ہی نہیں ہے۔ انگریز میں اس کنجی کو 'شاہ کلید' Master key کہتے ہیں جس سے ہر قفل کھل جائے، سو میرے لیے یہ قرآن شاہ کلید ہے، مسائل حیات کے جس قفل پر اسے لگاتا ہوں وہ کھل جاتا ہے، جس خدا نے یہ کتاب بخشی ہے، اس کا شکریہ ادا کرنے سے میری زبان عاجز ہے.“\r\n\r\nاختتام پر پہنچتے ہوئے موضوع کی مناسبت سے علامہ مشرقی علیہ الرحمۃ جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے علم سے خوب نوازا تھا، کے ایک واقعہ کا ذکرکرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ جس سے علم جدید اورقرآن کا ناگزیر تعلق مزید واضح ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں:\r\n”1909ء کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہورہی تھی، میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ چرچ کے مشہور ماہر فلکیات پروفیسر جیمس جینز بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جارہے تھے، میں نے قریب ہو کر سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، کیا چاہتے ہو؟ میں کہا دو باتیں۔ پہلی یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے، سرجیمس جینز اس بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتہ تان لیا، پھر میں نے کہا دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لیے جا رہا ہے؟ میرے اس سوال پر پروفیسرجیمس لمحہ بھر کے لیے رک گئے اور میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا آج شام میرے ساتھ چائے پیو۔ چنانچہ میں چار بجے شام کو ان کی رہائش گاہ پر پہنچا، ٹھیک چار بجے لیڈی جیمز باہر آ کر کہنے لگیں، سر جیمز تمہارے منتظر ہیں. اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے رکھی ہوئی تھی، پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے، کہنے لگے، تمہارا سوال کیا تھا؟ اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اجرام سماوی کی تخلیق، اس کے حیرت انگیز نظام، بےانتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں، نیز باہمی روابط اور طوفان ہائے نور پر ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس کبریائی و جبروت پر دہلنے لگا، اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی، فرمانے لگے، عنایت اللہ خان! جب میں اللہ کی تخلیق کے کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی اللہ کے جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب میں کلیسا میں اللہ کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں کہ تو بہت بڑا ہے تو میری ہستنی کا ہر ذرہ میرا ہمنوا بن جاتا ہے، مجھے سکون اور خوشی نصیبت ہوتی ہے، مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیاہ کیف ملتا ہے، کہو عنایت اللہ خان! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں کیوں گرجے جاتا ہوں۔“\r\nعلامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمس کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کردیا. میں نے کہا جناب والا! میں آپ کی روح پرور تفصلات سے بےحد متاثر ہوا ہوں، اس سلسلہ میں قرآن مجید کی ایک آیت یاد آگئی اگر اجازت ہو تو پیش کروں؟\r\nسرجیمس فرمانے لگے ضرور!\r\nچنانچہ میں نے آیت پڑھی!،\r\nۭوَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُھا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہ كَذٰلِكَ ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللہ مِنْ عِبَادِہ الْعُلَمٰاء انَّ اللہ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ \r\nاور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں، اور بعض کالے سیاہ ہیں، انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔\r\nیہ آیت سنتے ہی سرجیمس بولے کیا کہا! اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں. حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے پچاس برس کے مسلسل مطالعہ سے معلوم ہوئی، محمدﷺ کو کس نے بتائی؟ کیا قرآن میں واقعی یہ بات موجود ہے؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے. محمدﷺ ان پڑھ تھے، انہیں یہ حقیقت خودبخود نہ معلوم ہوسکتی تھی، یقینا اللہ تعالی نے انہیں بتائی تھی. بہت خوب، بہت عجیب! (علم جدید کا چیلنج مؤلف وحید الدین خان صفحہ 215 تا 217)۔\r\n

Comments

عمران ناصر

عمران ناصر

عمران ناصر علم و ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ سیاست، ادب، تاریخ، مطالعہ مذاہب سے شغف ہونے کے باعث اپنا نقطہ نظر منطقی اور استدلالی انداز میں پیش کی کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ شدت پسندی اور جانبدارانہ رویوں کواقتضائے علمیت سے متصادم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.