ویل ڈن چیف - عارف انیس ملک

’’ہم میں سے ہر انسان کے اندر دو بھیڑیے بستے ہیں جو دن رات آپس میں گتھم گتھا رہتے ہیں۔ ایک بھیڑیا تاریکی کی علامت ہے، غم ، غصہ، حسد، جلن، لالچ، غرور، انا اور جھوٹ کی کالک سے ’’کشیدکردہ‘‘۔ بوڑھے انڈین سردار نے اپنے پوتے سے کہا جو بھرپور تحیر سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔\r\n’’اور دوسرا بھیڑیا ، دادا ؟‘‘ پوتے نے بے تابی سے پوچھا\r\n’’دوسرا بھیڑیا ‘‘ خیر کی علامت ہے۔ صبر ، عاجزی، رحم دلی، خلوص، سچ اور ایثار کی مٹی سے گوندھا ہوا۔ اور یہ دونوں بھیڑیے ہر وقت ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتے ہیں‘‘ بوڑھے سردار نے اپنے دونوں ہاتھ آپس میں بھڑائے۔\r\n’’دادا ، پھر ان میں سے جیتتا کون ہے؟ ‘‘ پوتے نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بے یقینی سے پوچھا۔\r\nبوڑھے سردار نے اپنے پوتے کی گردن کے گرد بازو حمائل کیے ، اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بڑے رسان سے بولا ’’ان دونوں بھیڑیوں میں سے وہ بھیڑیا جیت جاتا ہے جسے تم زیادہ خوراک کھلاتے ہو‘‘۔\r\n1996ء کے اوائل کی بات تھی جب ایک بیس سالہ نوجوان ملتان سے پہلی مرتبہ تن تنہا لاہور وارد ہوا ۔ پوچھتے پاچھتے سرِ شام ماڈل ٹائون لاہور کی داستان سرائے میں پہنچا تھا۔ وہ اپنے تئیں زندگی کے رازوں کی کھوج میں یہاں پہنچا تھا۔ اس کے ذہن میں بے شمار قسم کے سوالات تلملا رہے تھے۔ جن میں سے کچھ کا جواب اس بابے اشفاق احمد کے پاس موجود تھا جس کا حال ہی میں بائی پاس ہوا تھا اور جس پر بانوقدسیہ کے بقول ڈاکٹروں نے بولنے پر پابندی لگا دی تھی۔\r\n’’عظمت کیا ہے؟ عظیم لوگ کون ہوتے ہیں؟ مٹی کا وجود روشنی میں کیسے ڈھلتا ہے؟‘‘ اس نوجوان نے کئی سوالات بیک وقت داغ دیے تھے۔ \r\n’’اشفاق احمد کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری ’’عظمت یہ ہوتی ہے کہ ایک بندے کو اپنی ڈیوٹی کا پتہ ہو، اسے معلوم ہو کہ اس کا اصل کام کیا ہے اور پھر وہ اُس کام کو فرض جان کے کرے۔ اس میں اپنی جان کھپا دے، راتوں کی نیند حرام کر لے، خوب آبلہ پائی کرے اور جب وہ کام ہو جائے تو وہ آرام سے اُٹھے اور چل دے یعنی کہ ایک ڈاکٹر ہے، اسے خبر ہو کہ فلاں جگہ طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے تو وہ وہاں پہنچے، اپنی زندگی کو مصیبت میں ڈالے، اپنی جان پر کھیلے، دن رات مریضوں کو باہوں میں سمیٹے، ان کی تیمارداری کرے، اور جب وہ مرض سے جیت جائے اور لوگ شفایاب ہو جائیں تو وہاں سے چل دے اور جب لوگ میڈل لے کر اُس کے پیچھے دوڑیں تو وہ انکار کر دے ’’میں نے تو بس اپنا فرض نبھایا ہے، میں اسی کے لیے تو بنا تھا‘‘ وہ یہ کہے اور میڈل لینے سے انکار کر دے‘‘\r\n’’بس یہ عظمت ہے، یہی بانکپن ایک عظیم انسان کی شناخت ہے۔ ایسی ہی مٹی کا انسان روشنی میں ڈھل جاتا ہے۔ ‘‘ پھر اشفاق احمد کی آواز میں جیسے کچھ ٹوٹ سا گیا۔ بولے ’’پوری زندگی میں مگر ایسے چند لوگ ہی ملے۔ اگر تمھیں کوئی ایسا بندہ مل جائے تو اس کا مجسمہ ضرور بنا لینا کہ ایسے لوگ بہت خاص مٹی سے بنے ہوتے ہیں‘‘۔\r\nاکتوبر 2015 ء کی شام لندن کے دریا ٹیمز کے کنارے آباد برطانوی پارلیمنٹ ہائوس کے اس کمرے میں کافی گہماگہمی تھی۔ رحمان چشتی ، ممبر آف پارلیمنٹ کی طرف سے دی جانے والی دعوت میں کئی گورے، کالے اور بھورے وجود دیکھے جا سکتے تھے جو بے تابی سے آج کے مہمان خصوصی کا انتظار کر رہے تھے۔ مقررہ وقت سے دومنٹ پہلے بغلی دروازہ کھلا اور وردیوں میں ملبوس تین چار افراد اندر داخل ہوئے۔\r\n’’اوہ ۔ صدام حسین؟‘‘میرے ساتھ بیٹھی ہوئی برطانوی صحافی خاتون نے مجھے کہنی ماری۔ ’’دیکھو تو یہ تقریباََ اس کی کاپی ہے‘‘ اس نے سرگوشی کی۔\r\nاس کے بقول صدام حسین سے مشابہہ شخص ہماری طرف آرہا تھا۔ ہم لوگ نشستوں سے اُٹھے اور ایک بھرپور مصافحہ ہوا۔ \r\n’’مزہ آ گیا‘‘ میری نشست کے عقب میں موجود برطانوی پاکستانی بزنس مین شفاعت حسین نے بے ساختہ کہا ’’بڑے عرصے کے بعد یوںلگاجیسے کسی مرد کے بچے سے ہاتھ ملایا ہے۔ بندہ بھرپور پنجابی فوجی ہے۔‘‘\r\nیہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ میری پہلی ملاقات تھی۔\r\nجنرل راحیل شریف اس دن گہرے رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھے۔ اور ان کے آس پاس ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم باجوہ اور جنرل عامر ریاض کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس بھی موجود تھے۔\r\nرحمان چشتی کی جانب سے مختصر سا تعارف کرایا گیا اور جنرل نے بولنا شروع کیا تو میں نے دلچسپی سے دیکھا کہ ہال میں موجود تمام افراد ہمہ تن گوش تھے۔ جنرل کی ماڈرن لنگویج میں نفاست کے ساتھ ساتھ ایک فوجی کا کھراپن بھی موجود تھا۔ \r\nتصویر کے برعکس جنرل دیکھنے میں زیادہ سمارٹ لگا کہ ایک ہفتہ قبل ہی برطانیہ کے ایک بڑے اخبار میں ’’فیٹسٹ آرمی چیف آف دی ورلڈ‘‘ کے نام سے آرٹیکل چھپا تھا جس میں جنرل راحیل شریف کے لتے لیے گئے تھے۔ مگر جنرل کے انداز بیاں میں ٹھہرا ئو نمایاں تھا۔ جنرل کی گفتگو تقریباََ ایک گھنٹہ جاری رہی، پھر اس کے بعد سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ برطانوی ہائوس آف لارڈز کے ایک عمر رسیدہ ممبر نے کافی دیر تک غوں غاں کی جس کا مطلب کچھ اس طرح سے بنتا تھا کہ جنرل نے جو چلتے چلتے پاکستان اور انڈیا کی ایٹمی جنگ کے خدشے کی جو بات کی ہے، وہ بات سن کر لوگ لرزہ براندام ہو گئے ہیں۔ جنرل کا جواب جچا تلا سا تھا۔\r\n’’ وہ لوگ جنھیں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کے امکانات سے پسینے آ رہے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان وجہ نزاع رہنے والے بڑے معاملات یعنی کشمیر سے آغاز کریں۔ پاکستان اس معاملے بین الاقوامی مداخلت کا خیر مقدم کرے گا۔‘‘\r\nاکثر سوالات آپریشن ضرب غصب ، گڈ طالبان، بیڈ طالبان اور پاکستان افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے تھے۔ جنرل شریف نے سب کا شستہ شستہ جواب دیا۔ آواز پاٹ دار تھی اور بات لگے بندھے انداز میں کی گئی۔ پاک فوج کے گزشتہ دو چیفس ( جنرل پرویز مشرف اور جنرل کیانی) سے ذاتی ملاقاتوں کے سبب میں یہ بات اعتماد سے کہہ سکتا تھا کہ جنرل شریف کا زبان و بیان پر عبور زیادہ بھرپور تھا۔لہجے میں ڈرامہ کم تھا، مگر انداز جچا تلا سا تھا جیسے ایک فوجی کا ہونا چاہیے۔\r\n’’ میرے لڑکے دنیا کے بہترین لڑاکے ہیں‘‘ جنرل نے اپنے ساتھ آئے وفد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،ان کے لہجے میں ایک تفاخر سا نمایاں تھا، جیسے ایک باپ اپنے بیٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مضبوط کمر کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ہم شاید دنیا کی واحد فوج ہیں جن کی ہر یونٹ میں شہداء موجود ہیں۔ ہم ڈرائنگ روم آرمی نہیں ہیں۔ ہم نے دنیا بھر کے مانے ہوئے لڑاکوں کی کمر توڑی ہے۔ جو جہاد کے نام پر پچھلے چار عشروںسے امریکا سمیت پوری دنیاکو ناکوں چنے چبوا چکے ہیں۔‘‘ پھر جنرل کے لہجے میں گھمبرتا در آئی۔’’جو لوگ پاکستانی فوج کو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کو میں ایک بات کھل کر بتانا چاہتا ہوں ۔ یہ 1965ء کی فوج نہیں ہے۔ نہ ہی یہ 1971ء کی فوج ہے۔ یہ اس وقت دنیا کی بہترین لڑاکا فوج ہے جو گزشتہ پندرہ سالوں سے میدان جنگ میں ہے‘‘۔\r\nجنرل شریف سے اگلی ملاقات مشہور برطانوی تھنک ٹینک ردسی کے آڈیٹوریم میں اگلی صبح ہی ہو گئی۔ حاضرین میں معروف تھنک ٹینکرز، دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ سے سینر تجزیے نگار، کئی ملکوں کے سفیر اور سینر سیاستدان موجود تھے۔ یہ ملاقات ’’چاتھم ہائوس‘‘ کے قوانین کے تحت ہوئی۔ ’’چاتھم ہائوس‘‘ دنیا کا ایک نامور تھنک ٹینک ہے جس کے قوانین کی رو سے زیر بحث گفتگو کہیں بھی رپورٹ نہیں کی جا سکتی اور اسے آف دی ریکارڈ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ سو جنرل کی گفتگو سے قطع نظر میں ان دو سوالات کو شیئر کرنا چاہوں گا جن سے جنرل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ \r\n’’جنرل شریف، دہشت گردوں کے خلاف آپ کی کامیابیاں اپنی جگہ ، مگر یہ تو بتائیے کہ کیا آپ مقررہ وقت پر اپنی یونیفارم اُتار رہے ہیں یا نہیں؟‘‘ یہ یونیورسٹی آف لندن سے ہمارے دوست نادر چیمہ تھے۔ ہال میں ایک لمحے کے لیے سناٹا سا چھا گیا۔ تقریباََ تمام حاضرین نے اپنے چہرے پر پراسرار تاثرات لیے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ \r\nجنرل کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ یہ مسکراہٹ اس سے پہلے صرف اس وقت نظر آئی تھی جب بھارتی فوج اور پاکستانی فوج کے موازنے کی بات ہو ئی تھی۔ \r\n’’قواعد کی رو سے میں نے نومبر 2016ء کے آخر میں ریٹائرڈ ہونا ہے۔ ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ ابھی ایک سال سے زیادہ عرصہ پڑا ہوا ہے اور گھبرانے کی ضرورت بھی نہیں، پاکستانی فوج میں ایک نہیں سینکڑوں راحیل موجود ہیں۔ مجھے یقین ہے ہم میں سے بہترین میرے بعد قیادت سنبھالنے کے لیے موجود ہو گا۔‘‘ جنرل نے زیر مونچھ مسکراہٹ کے ساتھ اس سوال کا خوش گوار انداز میں جواب دیا۔\r\nتقریب کا اختتام، ایک سابقہ برطانوی سفیر کے کڑوے سوال پر ہوا جسے جنرل راحیل شریف نے بہت خوب صورت طریقے سے ہینڈل کیا۔ برطانوی سفیر نے پاکستانی ایٹمی بم کا ذکر کیا، پھر دنیا کے خدشات کا رونا رویا اور پھر نمناک انگریزوں میں کُر لایا ’’فرسٹ ورلڈ یہ سوچتی ہے کہ یہ بم کتنا محفوظ ہے؟ ۔ پاکستانی ایٹمی تنصیبات کن محفوظ ہاتھوں میں ہیں؟ کہیں ایسا کوئی امکان تو نہیں کہ طالبان اور داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھ پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں تک پہنچ جائیں؟‘‘۔\r\nجنرل راحیل کے چہرے پر ایک بھرپور مسکراہٹ بکھر گئی۔ جو سوال کی مناسبت سے بڑی معنی خیز تھی۔ \r\n’’میں جہاں جاتا ہوں ، وہاں مجھ سے اس امر کے بارے میں یقین دہانی حاصل کی جاتی ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام کتنا محفوظ ہے۔ اس بارے میں ، میں صرف چند باتیں کہوں گا جو اُمید ہے کہ آپ کے خدشات کا بہترین جواب ہوں گی۔ پاکستان کا ایٹم بم محض سائنس کے کرشمے یا ہماری ترقی کا ایک ثبوت نہیں ہے بل کہ اس کی جڑیں ہماری سیکورٹی اور ملکی تحفظ کی نفسیات میں گڑی ہوئی ہیں ۔ یہ بم برائے فروخت نہیں ہے۔ ہماری قوم نے اس کے حصول کے لیے گھاس کھا لینے کا عزم کیا تھا۔ اگر پاکستانی قوم کے حوالے سے مختصر الفاظ میں ، میں آپ کو سمجھائوں تو ہمارا ایٹم بم ہمارا پہلوٹھی کا بچہ ہے، اولاد نرینہ ہے اور ہم اس کی حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ \r\nایک بھرپور قہقہہ اور تالیوں کی گونج میں سیشن اپنے اختتام پر پہنچا۔\r\nجنرل راحیل شریف کے دورہ برطانیہ کے حوالے سے بہت معنی خیز تبصرے ہوتے رہے۔ جب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جنرل کو 10 ڈائوئنگ سٹریٹ میں ویلکم کیا تو نیشنل ٹائمز نے جنرل پر دنیا کے سب سے طاقتور آرمی چیف ہونے کی پھبتی کسی۔ تاہم میں جنرل راحیل شریف کو ایک اور امر پر سلیوٹ پیش کرنا چاہتاہوں ، ایک ایسی فوج کے سپہ سالار ہونے کی حیثیت سے جس نے چار مرتبہ آئین معطل کیا اور حکومت کا تختہ اُلٹا، جہاں تین سالہ ایکسٹینشن تریاق سمجھی گئی، جہاں بھائیوں کے اربوں کے اللے تللے رواج پا گئے تھے، وہاں جنرل راحیل شریف کا ضرب عضب جتنا ہی بڑا کارنامہ ،اپنی مقررہ تاریخ پر ریٹائرڈ ہو جانا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف تو ہمارے ہاں آتے ہی رہیں گے مگر ان میں مرد میدان کوئی کوئی ہو گا۔ ویل ڈن چیف!

Comments

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک معروف تھنک ٹینکر، بین الا قوامی سطح پر معروف ماہر نفسیات اور پاکستان سول سروس سے وابستہ ہیں۔ نفسیات، لیڈرشپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پران کی تین عدد کتابیں شائع ہو کرقبول عام حاصل کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.