روہنگیا مسلمان پر مظالم کی تاریخ - فارینہ الماس

بدھ مت ایک مذہب اور ایک فلسفہ کا نام ہے جس کی تعلیمات سدھارتھ گوتم کی دی گئی تعلیمات سے منسوب ہیں۔ جس کا سلسلہ چوتھی سے پانچویں صدی قبل مسیح کے شمال مشرقی برصغیر سے ملتا ہے۔ دنیا میں جب دکھوں کی بہتات تھی اور زندگی زخموں سے چور تھی تو بدھا انسان کے لیے زندگی کا ایک ایسا فارمولہ لے کر آئے جو ترک خواہشات کے ذریعے زندگی کی ان لامتناہی تکلیفوں اور زخموں کا مداوا کرتا تھا۔ بدھا نے خود کو ایک لمبی تپسیا کی بھٹی میں جلا کر روح اور بدن کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کرنا اور خواہشات کو حقیر جان کر زیر کرنا سیکھا، اور پھر یہ سبق دنیا کو سکھایا۔ تاکہ انسان دکھ اور تکلیف سے نجات پاسکے۔ بدھا کی تعلیمات میں نہ صرف شہرت، طاقت اور دھن کی نفی کی گئی بلکہ بےحسی کو بھی انسان کے دکھ کا باعث گردانا گیا۔ اس کے خیال میں اس بےحسی کا علاج آگاہی سے ہی ممکن ہے۔ اسے نروان مل چکا تھا اور وہ جیون کے چکر کو جھٹلاچکا تھا، اس کا اپنے ماننے والوں کے لیے ایک ہی پیغام تھا. صبر، شکر، امن اور شانتی۔ بدھا امن کا پیامبر تھا اور عدم تشدد کے فلسفے کا داعی۔ اس کی فکر یہ تھی کہ ”جس نے کسی جانور کو بھی قتل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کسی انسان کو قتل کیا“. \r\n\r\nدنیا بھر میں اس مذہب کے پیروکاروں کی تعداد 35 کروڑ ہے اور ان کی اکثریت والا ایک اہم ملک ہے ”میانمار“ جسے ”برما“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میانمار کی کل پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی میں 89 فیصد بودھ ہیں۔ مسلمان یہاں کل آبادی کا 4 فیصد حصہ ہیں جو کہ تقریباً بائیس لاکھ کے لگھ بھگ بنتا ہے۔ سات صوبوں کے اس ملک میں مسلمانوں کی اکثریت راکھین (رخائن) میں آباد ہے جہاں تقریباً چھ لاکھ مسلمان موجود ہیں۔\r\n\r\nمسلمانوں کی یہاں آمد کے آثار اسلام کے ابتدائی سالوں میں ہی تقریباً 1050 سے ملتے ہیں۔ جب مسلمان یہاں تجارت کی غرض سے آئے اور یہاں کے ہی ہو کر رہ گئے۔ ان کی یہاں آباد کاری کا سلسلہ گیارھویں صدی سے مغل دور حکومت کے دوران شروع ہوا۔ بعدازاں جب برطانوی سامراج نے یہاں اپنے پنجے گاڑے تو حکومت کی طرف سے بنگالی مسلمانوں کی برما کے علاقوں کی طرف ہجرت کی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ وہ ان زرخیز علاقوں میں کھیتی باڑی سے منسلک کیے جا سکیں۔ ان کی زیادہ تر آبادکاری اراکان میں ہوئی۔ اس وقت بنگال اور برما کے اس سرحدی علاقے کی کوئی عالمی سرحد نہ تھی، اور ہجرت پر پابندی بھی نہ تھی۔ چٹاگانگ سے ہزاروں بنگالی اس علاقے میں رہائش اختیار کرنے لگے۔1948ء میں برما کی آزادی کے وقت بھی بہت سے مسلمان یہاں ہجرت کر آئے۔ 1971ء میں جب بنگال جنگ کی حالت میں تھا، اس وقت بھی یہ ہجرت جاری رہی۔ \r\n\r\nیہاں مسلم آبادی پر سختیوں کا آغاز آج کی بات نہیں بلکہ اس کا آغاز برما کے بادشاہ Bayintnaungo نے1550-1589 میں کیا۔ اس دور میں مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحیٰ اور گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگوا دی گئی۔ 17ویں صدی میں بادشاہ بودھا پایہ نے چار نہایت اہم مسلم اماموں کو گرفتار کر کے قتل کروا دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 1782ء میں بادشاہ نے مسلمان علمائے کرام کو سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا اور نہ کھانے پر ان کے لیے موت کی سزا تجویز کی گئی اور جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں مار دیا گیا، جس سے مقامی آبادی اور مسلم آبادی کے درمیان فسادات کا آغاز ہوا۔ 1921ء میں یہاں مسلمانوں کی کل آبادی تقریباً پانچ لاکھ تھی۔ برمی مسلمان ان مسلمانوں کو کہا جاتا تھا جو مغلیہ دور سے یہاں آباد تھے، بعد میں آباد ہونے والے مسلمانوں کو ”روہنگیا“ کا نام دیا جانے لگا۔ برمی مسلمانوں، انڈین مسلمانوں اور انڈین ہندوؤں کو یہاں برٹش دور میں ”کالا“ کا نام دیا گیا۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان نے برما پر چڑھائی کی تو اس دوران برٹش فورسز نے مقامی مسلمانوں کو جاپانیوں کے مقابلے کے لیے مسلح کیا۔ اس طرح مقامی نیشنلسٹ جو برطانوی سامراج کے خلاف تھے، وہ بھی ان مسلح مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور دوسری طرف جاپانی فوجیوں نے بھی مسلمانوں کو بےدردی سے قتل کیا۔ تاریخ دانوں کے مطابق تقریباً پانچ ہزار مسلمان اس لڑائی میں مارے گئے اور تقریباً 22 ہزار کے قریب مسلمان جاپانیوں سے اپنی جان بچاتے ہوئے بنگال ہجرت کر گئے۔\r\n\r\n 1930ء میں ”برمی مسلم فسادات“ نے شدت اس وقت اختیار کی تھی جب رنگون پورٹ پر لیبر ایشو ابھرا، اور انڈین مسلم ورکرز ہڑتال پر چلے گئے۔ برٹش حکومت نے انہیں دھمکانے کے لیے مقامی برمیوں کو ان کی جگہ بھرتی کر لیا، لیکن اپنی ملازمتیں جاتے دیکھ کر مسلمان پھر سے اپنے کام پر واپس آگئے۔ اس طرح برمی بھرتیاں ملتوی ہوگئیں۔برمی مزدوروں نے سارا الزام انڈین مسلمانوں کے سر دھر کر تقریباً 200 کے قریب مسلمانوں کو قتل کر دیا۔\r\n\r\n 1938ء میں برمیوں نے ”برما صرف برمیوں کے لیے“ تحریک کا آغاز کیا اور مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ ان فسادات میں 113 مساجد کو شہید کردیا گیا، اور مسلمانوں کی املاک بھی لوٹ لی گئیں۔ جنرل newin جب اقتدار میں آیا تو اس نے مسلم دشمن رویے کو عروج پر پہنچا دیا۔ برمیز نیشنیلٹی لا پاس کروایا گیا جس کے تحت روہنگیا مسلمانوں کو شہریت کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ جو مسلمان فوج میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے انہیں ان کی ملازمتوں سے برخاست کر دیا گیا۔ مسلم کمیونٹی کے لیے دیگر معاشی و معاشرتی مسائل پیدا کیے گئے۔ 1971ء سے 1978ء کے دوران متعدد بار مسلم آبادی والے صوبے سے راہبوں نے بھوک ہڑتال کرکے یہ مطالبہ کیا کہ ان مسلمانوں کو بنگلہ دیش دھکیل دیا جائے۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں مسلمان 350 سالوں سے آباد تھے، اور ان کے پاس ایسے وسائل بھی نہ تھے کہ وہ ان علاقوں سے بآسانی کوچ کر سکتے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش بھی انہیں قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ برما کے بدھ بھکشو ان مسلمانوں کو اپنے ملک پر ایک بوجھ اور ایک ناسور تصور کرتے اور انہیں کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اسی لیے وقتاً فوقتاً ان کی نسل کشی کے مواقع پیدا کرتے رہے۔\r\n\r\nافغانستان میں طالبان کی حکومت آئی تو بامیان میں بدھا کا مجسمہ توڑ دیا گیا جس کے ردعمل کے طور پر برما کے بدھ مت راہبوں نے مسلمانوں کے خلاف شدید متشدد رویہ اپنایا۔ ان کا برمی حکومت سے مطالبہ تھا کہ برما کے صوبے Taungoo کی سب سے قدیم مسجد ہانتھا Hantha کو مسمار کیا جائے۔ اس مطالبے کو منوانے کے لیے مسلمانون کا قتل عام کیا گیا اور ان کی املاک کو نذر آتش کر کے حکومت پر دباؤ ڈالا گیا۔ بلآخر اس مسجد پر بلڈوزر پھیر دیا گیا۔ 1997ء میں مندالے میں ایک قدیم بدھا بت کے کچھ حصے مسمار کرنے اور ایک بدھ مت لڑکی کی آبروریزی کا الزام مسلمانوں کے سر لگا دیا گیا۔ یہ الزام بعد ازاں جھوٹا ثابت ہوا لیکن محض اس الزام پر تقریباً 1500 مسلمان بدھ بھکشوؤں کے ہاتھوں قتل ہوئے، قرآن پاک کی بےحرمتی کی گئی، مسلمانوں کی دکانوں اور گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔ 2001ء میں عام آبادی کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے شر انگیز پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ جس کے نتیجے کے طور پر مقامی آبادی کے ہاتھوں 200 مسلمان قتل ہوئے، 400گھر جلا دیے گئے اور 11مساجد کو شہید کیا گیا۔\r\n\r\n2012ء میں Rakhine صوبے میں پھر سے فسادات پھوٹے۔ یہ فسادات ”تحریک 969“ کی شر انگیزیوں کا نتیجہ تھے۔ یہ تنظیم بدھ قوم پرستوں نے تشکیل دی تھی جس کا مقصد مسلمانوں کا قتل عام تھا۔ اس کا لیڈر Ashin Wirathu نامی ایک راہب ہے جو بھارت کے نریندر مودی کی طرح میانمار میں اسلام اور مسلمانوں کی افزائش سے سخت نالاں ہے۔ یہ شخص مقامی برمیوں کو مسلمانوں کی نسل کشی کی ترغیب دیتا اور ان سے میل جول سے سختی سے گریز کی تلقین کرتا ہے۔ اس نے برمیوں کو مسلم دکانداروں سے خرید و فروخت سے قطعاً گریز کرنے کا پابند بنا رکھا ہے تاکہ مسلمانوں کو معاشی طور پر بھی مفلوج کیا جاسکے۔ 2012ء کے فسادات میں تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار مسلمان لاپتہ ہوئے جو پھر کبھی نہ مل سکے۔ یہ خونی فسادات جن میں تمام تر نقصان مسلمانوں کا ہی ہوتا ہے اور برمیوں کا نہ تو ان میں کوئی نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی خون ریزی کرنے پر ان پر کوئی فرد جرم عائد ہوتی ہے۔ ایسے فسادات محض اک معمولی واقعے کی آڑ میں ایک طے شدہ منصوبے کے تحت شروع کیے جاتے ہیں، مثلاً 2013ء کا فساد منحیتلامیں محض ایک مسلم سنار اور ایک بدھ مت کے پیروکار کی بحث سے شروع ہوا، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ آگ سڑکوں پر پھیل گئی جس میں درجنوں مسلمان قتل کر دیے گئے ۔\r\n\r\nگزشتہ کچھ دنوں سے ایک بار پھر ان روہنگیا مسلمانوں کا قتل ایک معمول بن چکا ہے۔ بچے بوڑھے خواتین کوئی محفوظ نہیں ہے. ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے ان کی لڑکیوں اور معصوم بچیوں تک کی آبروریزی کی جا رہی ہے۔ انتہائی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بودھ آبادی کے ساتھ ساتھ وہاں کی پولیس اور فوج بھی ان مظلوم انسانوں کو دکھ کی بھٹی میں جھونکنے میں پیش پیش ہے۔ اور کبھی خاموش تماشائی بن کر بودھ بلوائیوں کے حملوں اور ان کے قتل عام کو دیکھتی رہتی ہے، اور کبھی خود ان کا حصہ بن جاتی ہے۔ تقریباً ایک لاکھ مسلمان تھائی لینڈ کے کیمپوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ ماضی میں تھائی لینڈ پر بھی یہ الزام ثابت ہوچکا ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کو زبردستی کشتیوں میں بٹھا کر سمندر میں دھکیل دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق روہنگیا مسلمان انسانی حقوق کی شدید قسم کی خلاف ورزی کا شکار ہیں۔ انہیں انسانی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔ وہ بغیر اجازت سفر بھی نہیں کر سکتے۔ کیمپوں میں رہنے والے انسان جانوروں سے بھی بدترین زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر کوئی ملک انہیں امداد پہنچانے کا بھی خواہش مند ہو تو اس کے راستے میں حکومتی سطح پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ ایسے علاقوں میں صحافیوں تک کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کسی گھر کے سات افراد تو کسی گھر کے آٹھ افراد قتل کر دیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں روہنگیا مسلمانوں کو روئے عالم کی مظلوم ترین اقلیت قرار دے رکھا ہے۔ برما واحد ملک ہے جو مذہبی عناد کی وجہ سے مسلمانوں کو شہری تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ عالمی شہرت یافتہ رہنما سوچی نے بھی مسلمانوں کے دکھ کے مداوے کے طور پر ایک لفظ بھی نہیں بولا۔اور محض اتنا کہہ کر اپنے دل میں مسلمانوں کے لیے پلنے والی نفرت کا اظہار کر دیا کہ ”کسی بھی رہنما کو مسائل کی بنیاد دیکھے بغیر کسی خاص موئقف کے لیے اٹھ کھڑے نہیں ہونا چاہیے.“\r\n\r\nروہنگیا مسلمانوں کو انسان سمجھا جاتا تو شاید کوئی دبی سی آواز دنیا سے ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر بھی اٹھتی لیکن شاید دنیا کے امن و آشتی کا راگ الاپنے والے لوگ انہیں انسان تو کیا جانور بھی نہیں سمجھتے۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں ان سے منہ پھیر کر بیٹھی ہیں، اور دنیا کو امن، صبر اور شانتی کا پیغام دینے والے انسان کے پیروکار سفاکی سے ان مظلوموں کو دکھ، زخم اور گھاؤ تقسیم کر رہے ہیں۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.