سندھی اسلام سے دور رہیں - احسان کوہاٹی

سندھ اسمبلی کی پرانی اور تاریخی عمارت میں ویسا ہی غیر سنجیدہ سا ماحول تھا جیسے اسمبلی اجلاس میں سوال جواب کے وقفے کے دوران عموما ہوتا ہے، محکمہ ایکسائز سے متعلق سوال جواب کا دن تھا، اس لیے شراب اور منشیات کے چرچے ہو رہے تھے، کوئی رکن پوچھ رہا تھا کہ کچی شراب پکی کیسے کی جاتی ہے اور کسی کو دلچسپی تھی کہ پکڑی جانے والی شراب تلف کیسے ہوتی ہے، کوئی نقطہ لے کر آیا کہ ایکسائز پولیس کی چیک پوسٹوں پر رشوت لی جاتی ہے، ثبوت یہ کہ میرا ڈرائیور بھی سو پچاس روپے دے کر جاتا ہے، سیلانی پہلو بدل کر یہ سب دیکھنے لگا، اسے سندھ اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کی کوریج کرتے ہوئے کم و بیش دو برس تو ہوچکے ہیں، ان دو برسوں میں اس نے یہاں وہ وہ قانون سازیاں اور کٹ حجتیاں ہوتی دیکھی ہیں کہ بعض اوقات تو سر پر ہاتھ پھیر کر رہ جاتا ہے. یہ وہ جگہ ہے جہاں کچرہ کنڈی کی اینٹوں کے سائز پر گھنٹوں بحث ہوسکتی ہے۔\r\nجمعرات چوبیس نومبر کو اسمبلی میں محکمہ ایکسائز سے متعلق سوال جواب ہو رہے تھے، اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی بذلہ سنج آدمی ہیں، وہ سوال جواب کے دوران اراکین اسمبلی پر جملے بھی کستے چلے جا رہے تھے، آج یہ جملے کچھ واضح سنائی دے رہے تھے کہ اجلاس سندھ اسمبلی کی پرانی اور تاریخی عمارت میں منعقد ہوا تھا، سندھ اسمبلی کی یہ تاریخی عمارت وہی ہے جہاں بٹوارے کے وقت سندھ نے فیصلہ کیا تھا کہ اسے پاکستان میں شامل ہونا ہے، پاکستان کا حصہ بننا ہے۔\r\n\r\nاس تاریخی عمارت کا بیشتر حصہ اب بھی ویسا ہی ہے، لکڑی کے بنچ، اسپیکر کی نشست، اراکین کی نشستیں، ان کی ترتیب اور دروازے ۔ یہاں آتے ہی سیلانی کو عجیب سا احساس ہونے لگتا ہے، وہ ان لکڑی کے ان بنچوں کو دیکھتا ہے جہاں سے کبھی کسی ایک رکن نے کھڑے ہو کر سندھ کے پاکستان میں شامل ہونے کی قرارداد پیش کی تھی، اور یہ ایوان اسے منظور کر کے سندھ کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے کہ ہم نے گاندھی نہیں قائد اعظم کے ساتھ چلنا ہے، ہم نے بھارت نہیں پاکستان کا حصہ بننا ہے، اس پاکستان کا جہاں اسلام سپریم لا ہوگا۔\r\n\r\nسیلانی پر یہ احساس ہی عجب کیفیت طاری کر دیتاہے کہ وہ اس وقت اسی چاردیواری میں ہے، سندھ اسمبلی کی نئی عمارت پرانی عمارت سے زیادہ وسیع اور خوبصورت ہے، اس کی ایک ایک شے بڑی بیش قیمت ہے لیکن جو اعزاز پرانی اسمبلی کو حاصل ہے، وہ بھلا کوئی کیسے لے سکتا ہے؟ اسپیکر نے جمعرات چوبیس نومبر کو اسمبلی کا اجلاس پرانی عمارت ہی میں طلب کیا تھا اور اسی عمارت میں وہ سب ہوا جس کی اسے توقع تو تھی لیکن اتنی آسانی سے ہوجانے کا اندازہ نہ تھا۔\r\n\r\nاسمبلی میں وقفہ سوالات کے امتحان میں کامیابی کے بعد اسپیکر سے شاباش سمیٹ کر مکیش کمار چاولہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے، قواعد و ضوابط کے مطابق اجلاس کی کارروائی آگے بڑھنے لگی، توجہ دلاؤ نوٹس لائے گئے، ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی سیف الدین خالد نے اورنگی ٹاؤن میں پانی کے پمپنگ اسٹیشن کے بند ہونے پر ایوان کی توجہ دلائی، ایم کیو ایم ہی کی رعنا انصار نے عمر کوٹ کے 65 اسکولوں کی بندش پر ایوان کو متوجہ کیا، پی ٹی آئی کے خرم شیرزمان نے گھوسٹ اسپتالوں کا ذکر کیا جس پر نثار کھوڑو نے کھڑے ہو کر ان کی تصحیح کی کہ گھوسٹ ڈاکٹر ہو سکتے ہیں اسپتال نہیں۔ سندھ اسمبلی کی تاریخی عمارت چڑیوں کی طرح چونچیں لڑانے والے ان اراکین اسمبلی کی نوک جھونک دیکھ رہی تھی کہ اسمبلی نے عجب نظارہ دیکھا، روایتی حریف حلیف ایک ہوگئے، پیر پگارو کے سیاسی مرید نندکمار اور پیپلزپارٹی کے جیالے کھٹو مل نے سندھ کی تاریخ کا عجیب بل پیش کر دیا، انہوں نے ثابت کیا کہ وہ ہندو مت کے پکے اور سچے ماننے والے ہیں، سیاسی نظریات الگ ہوں تو ہوں جہاں بات دھرم کی ہوگی سب ہندو ایک ہوں گے۔\r\n\r\nیہ کرمنل لا پروٹیکشن منارٹی بل تھا، بل کیا تھا سیدھی سیدھی جمہوریت کی نفی اور کسی بھی انسان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا بھیانک حق تھا، بل کے مطابق سندھ کا کوئی بھی شہری جس کی عمر 18 برس سے کم ہے، اپنا مذہب تبدیل نہیں کرسکتا، اور جو بلوغت کی سند رکھتا ہے وہ بھی اپنا مذہب تبدیل کرنے کے بعد 21 روز تک اس کا اعلان نہیں کر سکتا، اسے ایک محفوظ مقام میں سوچ بچار اور غور وفکر کرنا ہوگا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے، اس عرصے میں اسے مختلف مذاہب کی کتب بھی پڑھنے کو دی جائیں گی۔\r\n\r\nسیلانی کا خیال تھا کہ اس عجیب وغریب بل پر کم از کم مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے آٹھ دس ارکان احتجاج تو ضرور کریں گے، ایم کیو ایم سے اسے توقع اس لیے نہیں تھی کہ انہوں نے بحالت مجبوری صرف اپنے قائد سے جان چھڑائی تھی، باقی سب ویسا ہی تھا بوتل سے لیبل اتاراگیا تھا، شراب وہی تھی اور ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس شرمناک بل پرمسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی والے بھی منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھ گئے، یہاں بل پیش ہوا اور ادھر سات منٹ میں متفقہ طور پر منظور بھی کر لیا گیا۔\r\n\r\nپیپلز پارٹی کے کرتوں دھرتوں نے اس بل کو منظور کرتے ہوئے اس علم کی لاج بھی نہ رکھی جو محرم کے ایام میں بلاول ہاؤس پر لہراتا رہا ہے، حب اہل بیت کے غم میں سیاہ پرچم لہرانے والے اس حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بھول گئے جنہوں نے بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا؟ اس وقت تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰٰی عنہ کی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں جب انہوں نے محمد مصطفٰی ﷺ کو رسول اللہ تسلیم کیا تھا، یہ اسمبلی اس بارے میں کیا کہے گی؟۔ پھر ’ج‘ سے جمہوریت کا راگ الاپنے والی سیکولر پیپلز پارٹی مذہب کو کسی بھی انسان کا ذاتی معاملہ قرار دیتی ہے، یہاں وہ کسی بھی انسان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا حق کیسے لے رہی ہے؟ وہ کون ہوتی ہے کسی بھی شخص کی پسند ناپسند پر شرائط لگانے والی۔ یہ بل جبری تبدیلی مذہب کا نہیں بلکہ قبول اسلام پر قد غنوں کا بل ہے. عمر کوٹ، مٹھی، نوکوٹ کے ان ہندوؤں کے مان کا بل ہے جو اپنی نئی نسل کی اسلام کی جانب پیش قدمی سے پریشان ہیں، بل میں نابالغ شخص کو کچی سمجھ کا بچہ قرار دے کر اس کے حق سے محروم کرنے کی منطق شاید کوئی مان لے لیکن ایک عاقل بالغ فرد کو کیوں کسی چاردیواری میں رکھ کر اس کی برادری تک رسائی دی جائے اور اسے ہرقسم کا دباؤ سہنے کے لیے چھوڑ دیا جائے؟ یہ کس قانون اور کس اصول سے درست ہے؟\r\n\r\nاسی اسمبلی میں شکارپور سے پیپلز پارٹی کی جانب سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے والے امتیاز شیخ بھی بیٹھے تھے، موصوف پہلے مسلم لیگ فنکشنل میں سرگرم تھے، پیر پگارو کے ساتھ ساتھ ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے، پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب کنگری ہاؤس کی جگہ بلاول ہاؤس میں حاضریاں دینی چاہییں تو وہ ادھر سے ادھر پیپلزپارٹی میں آگئے، حکیم بلوچ ملیر کراچی سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے اپنی ہی چھوڑی ہوئی نشست پر انتخاب لڑ رہے ہیں، وہ پہلے میاں صاحب کے ہاتھ پر سیاسی بیعت کر چکے تھے، اب انہوں نے اپنا پیر بدلا ہے اور زرداری صاحب کے ہاتھ کو بوسہ دیا ہے۔ سیاسی قبلہ بدلنے پر بھی تو کوئی پروٹیکشن بل ہونا چاہیے، یہاں سے وہاں سرکنے والوں کو بھی کسی سیف ہاؤس میں ہفتہ گزارناچاہیے، انہیں بھی حتمی فیصلہ کرنے کی مہلت دینی چاہیے۔ سارا زور اسلام پر ہی کیوں؟\r\n\r\nسیلانی کو یاد پڑتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی وزرات عظمی کے دور میں چترال کے کیلاش مذہب کے لوگوں کے اسلام قبول کرنے پر پابندی لگا دی تھی، مغربی ممالک کے دباؤ پر یہ فیصلہ کیلاش تہذیب بچانے کے لیے کیا گیا تھا، آج ان کی پارٹی نے جمہوریت کا ترانہ پڑھنے کے بعد نہایت آمرانہ قدام کیا تھا، ان کی یاد تازہ کی تھی۔\r\n\r\nپیپلز پارٹی میں ہندو تاجر، ہندو ساہوکار ہمیشہ ہی بڑے بااثر رہے ہیں، یہی اثر و رسوخ چند دن پیشتر بلاول زرداری کو دیوالی کی پوجا پاٹ کرنے کراچی کے ایک مندر بھی لے گیا تھا، اور وہ پجاری جی کے ہاتھوں سے تھالی لے کر خود پوجا پاٹ کر نے لگ گئے تھے. اقلیتیں ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں، وہ ہم سے اور ہم ان سے جدا نہیں، ہم ان کے دکھ سکھ اور وہ ہمارے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اور ایسا کرنے سے کوئی عبداللہ رام چند اور کوئی رام چند عبداللہ نہیں ہوجاتا، ہندومت کی الجھنوں سے گھبرا کر، ذات پات کے نظام سے دلبرداشتہ ہو کر یا اسلام سے متاثر ہو کر کوئی ہندو لڑکی یا لڑکا کلمہ پڑھنا چاہتا ہے تو سندھ اسمبلی اسے کیوں اور کیسے روک سکتی ہے؟ جس جمہوریت کی مالا جپتے اور کلمہ پڑھتے انگلیاں نہیں تھکتیں اور منہ نہیں خشک ہوتا، اسی جمہوریت کی رو سے انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی راہ کا انتخاب کریں، فیصلہ کریں کہ مرنے کے بعد دفن ہونا ہے یا شمشمان گھاٹ میں جلنا ہے. پیپلز پارٹی نے آج اپنے ہی منشور کی خلاف ورزی کی تھی، سندھ اسمبلی میں اپنی اکثریت کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا۔ بل کے بعد اجلاس تھوڑی ہی دیر چلا اور اسپیکر نے اسے اگلے روز کے لیے ملتوی کر دیا، ارکان ایک ایک کرکے ایوان سے نکلنے لگے، سندھ اسمبلی کی تاریخی عمارت میں آج جمہوریت کے بزرجمہوروں نے ایک اور تاریخ رقم کر کے اس ایوان کو شرمندہ کر دیا تھا جس نے ہندوستان کا ہاتھ جھٹک کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی انگلی تھامی تھی۔ سیلانی نے ٹھنڈی سانس لی اور افسردہ نظروں سے ایوان سے نکلنے والے خوش خوشحال اراکین اسمبلی کو دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.