تعلیم، تربیت اور آگہی - قاسم علی شاہ

انسان اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق ہے، یہ اس کی نائب اور خلیفہ ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے لیکن اسے ثابت کرنے کے لیے کہ میں واقعی ہی انسان ہوں، اسے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ شعور کے بغیر، شناخت کرنے کی صلاحیت کے بغیر، انسان انسان نہیں ہوتا۔ پہلے تربیت ہوتی ہے، پھر کسی کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر، بات کرنے کے قابل بنا جاتا ہے۔ نفسیات کہتی ہے کہ انسان جینز اور عادات کے مجموعے کا نام ہے، اگر اس میں جینز کو لیا جائے تو جو اس کی جبلت ہے، جو صدیوں سے نسل در نسل چلی آ رہی ہے، اس کے ساتھ جو عادات بنتی ہیں، اس کو تربیت اور آگہی کا نام دیا جاتا ہے۔\r\n\r\nانسان دنیا کی واحد مخلوق ہے جو خود شناس ہے، جو اپنی صلاحیتوں سے واقف ہے، جو اپنی خودی سے واقف ہے، جو خواب دیکھتی ہے، جو سوچتی ہے، جو یہ بھی جانتی ہے کہ میرا میرے بنانے والے سے کیا تعلق ہے، اس کی یہی خصوصیات اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں۔ حضرت امام مالک ؒ فرماتے ہیں ”انسان کی دو پیدائشیں ہیں، ایک وہ جس دن پیدا ہوا اور دوسری پیدائش جس دن وہ ڈھونڈ لیتا ہے کہ میں کیوں پیدا ہوا“، اسے حضرت علامہ اقبال ؒ نے یوں کہا کہ ”اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی“، حضرت بابا بلھے شاہ نے کہا کہ ”اپنے اندر جھاتی مار“، حضرت سلطان باہو نے کہا ”تیرے اندرآپ حیاتی ہو“۔ وہ لوگ جو خواب نہیں دیکھتے، جو سوچتے نہیں ہیں، جو اپنی صلاحیتوں سے واقف نہیں ہیں، انہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ برناڈ شاہ کہتا ہے کہ ”کئی لوگ 25 سال کی عمر میں مر جاتے ہیں لیکن دفن 75 سال کی عمر میں ہوتے ہیں۔“ ایسے لوگوں کے پاس زندگی دنوں، مہینوں اور سالوں کے نام سے ہوتی ہے لیکن حقیقت میں زندگی نہیں ہوتی۔ انسان کا ذہن اندازے بناتا ہے اور بعض اوقات ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، وہ صرف متھس ہوتے ہیں، وہ ان کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے جبکہ دوسری جانب حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس حقیقت کو نظرانداز کردیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی زندگی برتر ہو جاتی ہے، پھر وہ نہ اپنے قابل رہتا ہے اور نہ ہی معاشرے کے قابل۔\r\n\r\nکبھی تعلیم کا نام تربیت ہوا کرتا تھا، آج تعلیم اور تربیت الگ ہو چکے ہیں، اور ان میں اتنا فاصلہ ہو چکا ہے جتنا ایک صحرا اور کے ٹو کے درمیان۔ بقول عبدالستار ایدھی ”ہمارے پاس ڈگریوں والوں کی فوج ہے لیکن ان میں تربیت نہیں“۔ ہمارے پاس پڑھے لکھے تو بہت ہیں لیکن ان کے کردار کا معیار، رویے کا معیار وہ نہیں ہے جو ہونا چاہیے، اس کی وجہ ہے کہ انہیں تعلیم تو دے دی گئی لیکن تربیت نہیں کی گئی۔ ہمیں بین الااقوامی سازشیں اتنا نقصان نہیں پہنچاتیں جتنی اپنی کوتاہیاں پہنچاتی ہیں، بحیثیت قوم تربیت ہماری ترجیح نہیں ہے۔ بچہ اتنا کتابوں سےنہیں سیکھتا جتنا وہ کلاس میں کھڑے ہوئے استاد کو دیکھ کر سیکھتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک بڑی زیادتی یہ بھی ہوئی کہ ہماری تعلیم میں میں کمرشلزم آ چکا ہے جس کی وجہ سے رٹے اور ڈگریوں کی ریس شروع ہوگئی۔ \r\n\r\nنمبر لینا ایک ٹیکنیک ہے، رٹا لگانا ایک ٹیکنیک ہے اور پیپر لکھنا ایک ٹیکنیک ہے، یہ سب چیزیں ٹھیک ہیں لیکن لازم نہیں ہے کہ زندگی میں بھی اعلی نمبر آئیں۔ جب بندے کو فیلڈ میں جا کر کام کرنا پڑتا ہے تو پھر اسے پتا لگتا ہے کہ میرے رٹے کا کوئی فائدہ نہیں، یہاں کی تو دنیا ہی بہت مختلف ہے، یہاں مجھے عملی طور پر کام کر کے دکھانا ہے، یہی وجہ ہے کہ پھر وہ ناکام ہو جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم پر یکٹیکل زندگی کے مطابق اپنے بچوں کو تعلیم دیں کیونکہ جب بچوں کو پریکٹیکل کام بتایا جائےگا اور ان کو یہ پڑھایا جائےگا کہ اس نے کہاں استعمال ہونا ہے، تب ان میں پڑھنے کی جستجو بھی پیدا ہوگی اور وہ اس پر عمل بھی کر سکے گا۔\r\n\r\n1986ء سے پہلے دنیا میں آئی کیو کا کانسیپٹ تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ جو جتنا چیزوں کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتا ہے یا وہ جتنا حساب میں اچھا ہے، اتنا ہی ذہین ہے ، پھر 1986ء میں ہاورڈ گارڈن کی تھیوری آئی، اس تھیوری کا مطلب یہ تھا کہ حافظے میں چیزوں کو محفوظ کر لینا یا حساب کتاب میں اچھا ہونا ہی ذہانت نہیں ہے بلکہ انسان میں 9 طرح کی ذہانتیں پائی جاتی ہیں۔ دنیا نے اس تھیوری کو سمجھا اور پھر اسے اپنے نصاب کا حصہ بنا لیا، وہ یہ سمجھتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان کی ذہانتوں کے مطابق تعلیم دیں تاکہ وہ خود بھی آگے جا سکیں اور ساتھ ہی ساتھ معاشرے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ہمارے پیچھے رہنے کی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنا نظام تعلیم جدید طریقوں پر استوار نہیں کر سکے، ہم نے صرف ڈاکٹرز اور انجینئرز بنانے کی ریس لگائی ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں بچے نمبر تو لے لیتے ہیں لیکن نہ شخصیت بنتی ہے، نہ ان کا صحیح کیرئیر بنتا ہے اور نہ ہی ان کا معاشرے میں کردار ہوتا ہے۔\r\n\r\nہمار ے تعلیمی نظام میں تربیت موجود نہیں ہے، اس میں حضرت علامہ اقبال ؒ کی معتدل شاعری کا کچھ حصہ ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ہمارے پاس غیر نصابی لٹریچر جس میں سیرت مصطفے ﷺ ہے، حضرت مولانا روم کی مثنوی ہے، حضرت علامہ اقبال ؒ کی شاعری ہے، بابا اشفاق احمد، حضرت واصف علی واصف اور ممتاز مفتی کا اعلیٰ پائے کا لٹریچر ہے، جو بچے کی تریبت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے لیکن بچے پر لازم نہیں ہے کہ وہ سیرت کا مطالعہ کرے، بچے پر لازم نہیں ہے کہ وہ اقبال کی شاعری پڑھے، بچے پر لازم نہیں ہے کہ وہ اشفاق احمد، واصف علی واصف اور ممتاز مفتی کو پڑھے۔ یہ وہ لٹریچر ہے جو شاید بازار میں کتابوں کی دکان پر مل جاتا ہے مگر اسے استاد پڑھتا ہے نہ شاگرد۔\r\n\r\nتعلیمی اداروں میں جہاں اردو، اسلامیات، میتھ کے ٹیچرز ہیں، وہاں تربیت دینے والے ایکسپرٹ بھی ہونے چاہییں جو نہ صرف بچوں کو تربیت دیں بلکہ ٹیچرز کو بھی تربیت دیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں پڑھانے کے لیے لائسنس لینا پڑتا ہے، وہاں پر اسلحے کا لائسنس آسان ہے جبکہ ٹیچنگ کا مشکل ہے، اس ٹیچنگ کے لائسنس میں یہ بات شامل ہے کہ ٹیچر کو کتنا اچھا موٹیویٹر ہونا چاہیے، اگر اس میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی تو اسے لائسنس نہیں دیاجاتا۔ ہمارے ہاں ستم یہ ہے کہ ڈرائیور کوگاڑی چلانی آتی ہے، مچھیرے کو تیرنا آتا ہے، کلرک کو اپنی سیٹ پر بیٹھ اپنا کام کرنا آتا ہے لیکن ایک استاد کو اپنے طالب علم کے ساتھ بات کرنی نہیں آتی۔ جب تک ترجیحات میں تربیت، شعور اور آگہی نہیں ہوگی، اس وقت تک ہم ہجوم رہیں گے، قوم نہیں بن سکیں گے۔\r\n\r\nہم انگلش لٹریچر میں مسٹر چیس پڑھاتے ہیں لیکن اس سے مطلوبہ نتائج نہیں لے پار رہے، ہمیں مسڑ چیس کی جگہ عبدالستارایدھی صاحب کو شامل کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس تربیت کا سب سے بڑا سورس سیرت مصطفیﷺ ہے، المیہ یہ ہے کہ ہمارے نصاب میں سیرت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے سکولوں میں ہزاروں ہیڈ ماسٹر صاحبان ہیں، ان میں 90 فیصد سے زائد ایسے ہیں جنہوں نے کبھی سیرت کا مطالعہ ہی نہیں کیا. اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی نے بتایا ہی نہیں اور نہ ہی ان کی ترجیح میں سیرت کا مطالعہ شامل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کو پہلے اپنی ترجیح میں شامل کرے، ایک بورڈ بنائے جو ٹیلنٹ کو تلاش کر سکے، جو اچھے اساتذہ کو تلاش کر سکے۔ اس کے علاوہ نصاب میں اپنے ہیروز کو شامل کرے کیونکہ انسان کی نفسیات میں ہے کہ وہ سب سے پہلے ان سے انسپائر ہوتا ہے جن سے اس کی شناسائی ہوتی ہے۔ جب یہ سب کچھ ہوگا تو پھر انقلاب بھی آئے گا، تبدیلی بھی آئے گی اور قوم بھی بنے گی۔\r\n\r\nاللہ پاک ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔