آگ لگے، کنواں نہ کُھدے - انعام مسعودی

پہاڑی/ہندکو زبان کا ایک محاورہ ہے"اگ لگے دیاں کُھوہ نہیں کھُنیا جا سکدا" یعنی جس وقت آگ لگ چکی ہو تو اُس وقت کنوں نہیں کھودا جا سکتا، بلکہ پانی کا کوئی اور انتظام کرکے آگ بُجھائی جاتی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کنواں پہلے سے موجود ہوتو آگ لگنے کی صورت میں پانی کےلئے ادھر اُدھر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ڈول ڈال کر فوری پانی نکالا جاسکتا ہے اور آگ بجھائی بھی جا سکتی ہے۔ اس طرح کے محاورے بزرگوں کی عقل، علم، دانش مندی اور بصیرت کا ثبوت ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے ان کی محنت اور ریاضت اور مشاہدہ وتجربہ شامل ہوتا ہے اسی لئے یہ محاورے برمحل ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہوتے ہیں۔ اب اگر اسی محاورے کو سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری سے لیکر تاؤبٹ کے پہاڑوں تک جاری غیراعلانیہ جنگ کے پس منظر میں دیکھیں تو اندازاہ ہوگا کہ مشرف دور کی جنگ بند ی سے لیکر آج تک آزادکشمیر اور پاکستان کی حکومتوں نے تقریباً 400 کلومیٹر لمبی کنٹرول لائن پر اپنے عوام کے تحفظ اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے کوئی بھی کنواں نہیں کھودا بلکہ کھائیاں ہی کھائیاں بنائی ہیں۔ دوسری جانب ہمارے دشمن ملک نے اس جنگ بندی سے بے پناہ فائدہ اُٹھایا۔

اگر پہلے دشمن کی کامیابیاں مرتب کی جائیں تو وہ مندرجہ ذیل اہم نکات کی صورت میں سامنے آئیں گی:
ورکنگ باؤنڈری سے لیکر کئی ہزار فٹ بلند برف پوش پہاڑوں اور گھنے جنگلوں میں خاردار تاروں کی ایک دو نہیں پوری تین تہیں بچھا دی گئیں
پہلے سے پختہ مورچوں کو کنکریٹ سے مزید مستحکم کیا گیا، جبکہ اگلے مورچوں تک رسد اور سامان کی ترسیل کے لئے موثر اقدامات کئے گئے۔
اعتماد سازی کے اقدامات سے بھرپور سیاسی اور سفارتی فائدہ اُٹھایا گیا، جن کا اُس وقت ہمارے "کمانڈو صدر" نے بھی Confidence Buildings Measures کے نام سے خوب ڈھنڈورا پیٹا اور ہمارے سدا بہار "دان شوروں" نے بھی حسب توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا، جبکہ ہمارا بھارت زدہ میڈیا بھی اسی کی مکمل حمایت کرتا رہا اور عوام کی ذہن سازی بھی کی گئی۔

دو طرفہ تجارت، بسوں کی سفارت اورفنکاروں کی آمد ورفت کے ذریعے پاکستان کے عوام کو گمراہ کرنے اور اپنے سب سے موثر ہتھیار یعنی میڈیا اور فلموں کی یلغار کے ذریعے ایک ہی رنگ و نسل اور ایک جیسی تہذیب رکھنے والی ایک قوم ہونے کا احساس اس قدر راسخ کر دیا گیا کہ اب ہمارے بچے بھی ایس ایم ایس پیغامات یا زبانی گفتگو میں "ضروری" کو "جُروری" ، بہنوئی کو "جیجا جی"، اور غصہ کو "گُسہ" کہتے ہیں۔

ہمارے ہاں مذہبی و دینی جماعتوں اور رائیٹ ونگ (نظریہ پاکستان کی اساس پر یقین رکھنے والے) طبقہ کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا (معاف کیجئے گا کہ کچھ نے تو خود آگے بڑھ کر یہ طوق اپنے گلے میں ڈالا) اور اسلام پسند ہونا یا پرو نظریہ پاکستان ہونا رفتہ رفتہ ایک مدافعانہ سوچ اور رویہ بن کر رہ گیا۔

افغانستان کے حالات کے پس منظر میں پاکستان کے اندرونی محاذ پرسیاسی بے یقینی، فرقہ پرستی، علاقائیت کے فروغ اور فوج و عوام کے درمیان خلیج کو گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اداروں کو گلگت بلتستان سے لے کر گوادر تک اس قدر مصروف کر دیا کہ اب ہم کشمیر کی جانب توجہ کرنے کی حالت میں ہی نہیں رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنرل اسمبلی میں حسینہ واجد کے الزامات، حقیقت کیا ہے؟ آصف محمود

سرحد پر امن حاصل کرکے بھارت نے اپنی توجہ موثراور دیرپا سفارتی سرگرمیوں میں صرف کردی اور مغرب کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے اور دوسرے ممالک میں بھی دہشت گردی کو برآمد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے کمال ہوشیاری سے کشمیریوں کی مقامی جدوجہد کو انسانی یا بین الاقوامی مسئلے کی بجائے سرحد پار دہشت گردی کا نتیجہ بنا کر دکھانے میں کو ئی کمی نہ چھوڑی۔

اگر بھارت کی مزید کامیابیوں کو بھی تحریر بند کیا جائے تو شاید الگ سےایک مکمل کالم بھی کم پڑ جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان پہلے مشرف کی ڈاکٹرائن کا شکار رہا اور پھرزرداری صاحب کی فراست کو بھگتنے کے بعد اب شریفوں کی شرافت ( واضح رہے اس میں "تیسرے" شریف کی طرف کو ئی اشارہ نہیں) سے دوچار ہے۔ اس دورانیہ میں ہم کیا کر سکتے تھے اور ہم نے کیا حاصل کیا ،اس کے چند اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

فائر بندی کے بعد اپنے فرنٹ لائن مورچوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ جن علاقوں میں ہماری سپلائی لائن دشمن کی زد میں ہے وہاں متبادل اور محفوظ سڑکوں کی تعمیر انتہائی ضروری تھی۔ اس کی ایک اہم مثال نیلم ویلی ہے۔ لگ بھگ دو سو کلومیڑ لمبی پٹی میں تقریباً 40 سے 50 کلومیٹر سڑکیں براہ راست دشمن کی بندوقوں کی زد میں ہیں۔ جنگ بندی سے قبل تعمیر کی گئی متبادل سڑکیں بھی ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو کر ضرورت پوری نہ کرسکیں (تفصیلات کے لئے اُس دور کے اخبارات اور دیگر رپورٹس موجود ہیں)۔ اس ضمن میں دفاعی اداروں کے فیصلہ ساز افراد بھی ترجیحات کی تبدیلی کی وجہ سے کوئی موثر پیش بندی کرتے دکھائی نہیں دیئے، ورنہ اپنی دیگر ضروریات کو کسی بھی صورت پورا کرلینے والا ادارہ کیونکر اس سے پہلوتہی کرسکتا تھا۔

سرحدی علاقوں کی آبادی کے لئے مورچوں اور بنکرز کی تعمیربہت اہم تھی، تاکہ وہ فائرنگ کے دوران ان کی جان بچائی جاسکے۔ جنگ بندی سے قبل کے ایک دو برس کے دوران کچھ علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس طرح کے بنکرز تعمیر کئے تھے۔ سرحدی علاقوں کی آبادی کا اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ موجود رہنا فوج کے مورال کے لئے ازحد ضروری ہوتا ہے۔ لیکن موثر اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے اب مقامی آبادیوں میں اعتماد کا فقدان اورعدم تحفظ کا احساس انھیں ہجرت پر مجبور کر رہا ہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر سرحدی علاقوں میں نا خوشگوار فضا بننے کا امکان موجود ہے۔

نیلم ویلی میں مقامی آبادی، سیاستدانوں اور آزادکشمیر کی حکومت کی تمام تر توجہ سیاحت کے فروغ اور ذاتی تعمیرات پر مرکوز رہی (آخر کار مال بھی تو انہی چیزوں میں بنتا ہے ناں)۔ گذشتہ چند سالوں میں چند درجن گھرانوں اور بیورکریٹس نے اچھا بزنس کیا تو مقامی آبادی کی بھی ایک معقول تعداد سوات اور کاغان والوں کی طرح کاروبار کے نئے گُر سیکھنے میں مصروف رہی۔ اس پر کو ئی اعتراض نہیں، لیکن دفاعی پہلو کو نظر انداز کرکے اپنی توجہ شارٹ کٹس پر رکھنے والوں کا اب کیا بنے گا۔۔یہ ایک اہم سوال ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں جاری مزاحمتی تحریک کو بالعموم اور وہاں کےعسکری عناصر، جو کہ خالصتاً مقامی تھے، کے بارے میں غیر متوازن سوچ نے وہاں کی سیاسی قوتوں کو مایوسی سے دوچار کیا، جس کی وجہ سے اس وقت وہاں پر جاری سیاسی جدوجہد اپنے عروج پر ہونے کے باوجود موثر ثابت نہیں ہورہی۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل کشمیر نڈھال مت ہوجانا - سید مصعب غزنوی

آزادکشمیر کی حکومتیں وسیع تر قومی مفاد اور جدوجہدِ آزادی کشمیر کے باب میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے بڑی مجرم ثابت ہوئی ہیں۔ کشمیر لبریشن سیل کی صورت میں ایک ادارہ قائم ہونے کے باجود اس حوالے سے کوئی موثر اورٹھوس اقدامات، جن کے نتائج سامنے آئے ہوں، نہیں اٹھائے گئے۔ سال بھر میں دوچار مواقع پر سرکاری ملازمین کو چھٹی دیکر ایک دو بڑی تقریبات کے علاوہ اس ادارے کے کریڈٹ پر اگر کوئی چیز موجود ہے تو وہ یہی ہے کہ اس کا فنڈ بھی زکواۃ فنڈ کی طرح بے دردی سے استعمال کیا گیا۔

مشرف دور میں تقسیمِ کشمیر کی راہ پر چل کر اس تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا، تو زرداری دور میں بھی کئی ایسے سفارتی مِس فائر کئے گئے کہ جن سے اس کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ دوسری جانب نوازشریف نے اس معاملے کو اگرچہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اچھے طریقے سے اُٹھایا لیکن نواز – مودی باہمی تعلقات اور اُوفا اعلامیہ جیسی صریح غلطیاں بھی ان ہی کے کریڈٹ میں جاتی ہیں۔ آزادکشمیر کی موجودہ حکومت، بالخصوص وزیر اعظم فاروق حیدر خان اور صدرِ ریاست مسعود خان سے پوری کشمیری قوم کی بہت زیادہ توقعات ہیں اور ان کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کی امید کی جارہی تھی کہ وہ اس حوالے سے دیرپا منصوبہ بندی کرنے اور ایک قومی کشمیر پالیسی مرتب کرنے میں کامیابی حاصل کریں گے، تاہم سرحدوں پر چِھڑی غیر اعلانیہ جنگ اور اندرونی ریشہ دوانیاں انہیں کتنی کامیابی دیتی ہیں، یہ وقت ہی بہتر طوربتا سکتا ہے۔

سرحدوں پر بھارت کی جانب سے مسلط کی جانے والی غیر اعلانیہ جنگ کو سی پیک پر ہونے والی پیش رفت سے الگ کر کے دیکھا جانا بھی ایک کوتاہ اندیشی ہوگی۔ اس لئےاگر کچھ اداروں اور فورمزکی یہ سوچ ہے کہ بھارت کی جانب سے یہ سلسلہ ایک وقتی اُبال ہے اور چند دنوں میں یہ ٹھنڈا پڑ جائے گا، تو اسے درست کرنا اور حالات کا ہر طرح سے تجزیہ کرنا ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ ادراک بھی ضروری ہے کہ کشمیر کو سلوبرنر پر رکھ کربلوچستان، افغانستان اور سی پیک جیسے بڑے چیلنجز میں بھارت کی پراکسی وار اور ریشہ دوانیوں سے کامیابی سے نمٹنا ممکن نہیں۔ یاد رہے اگر ہمارے ادارے اور فوج مغربی سرحدوں اور بلوچستان میں نبرد آزما ہیں تو بھارت کی بھی سات لاکھ سے زائد فوج کشمیر میں مو جود ہے، جسے اگر متواتر متحرک رہنا پڑ جائے تو بھارت پر ایک بڑا قتصادی بوجھ آسکتا ہے، لیکن اس کے لئے ہمارے ہاں کس نوعیت کی تیاری ہے، یہ ہم نہیں جانتے۔ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہمارے پالیسی ساز افراد اور ادارے بہت تیزی سے جوابی یعنی Reactive اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ پیش بندی یعنی Proactive اقدامات بھی کریں۔ پیش بندی کے موثراقدامات ہی آگ لگنے سے پہلے کنواں کھودنے کے مترادف ہوں گے۔ورنہ ہم ہمیشہ آگ لگنے کے بعد کنویں کھودنے کا سوچتے رہیں گے اور خاکم بدہن ہمارا آشیانہ اسی شش وپنج میں جل بھی سکتا ہے۔

Comments

انعام مسعودی

انعام مسعودی

انعام الحق مسعودی ماس کمیونیکیشن میں گریجوایشن کے ساتھ برطانیہ سے مینجمنٹ اسٹڈیز میں پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔ سوشل سیکٹر، میڈیا اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری سے منسلک ہیں۔ برطانیہ میں 5سالہ قیام کے دوران علاقائی اور کمیونٹی ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے منسلک رہے ہیں۔ چیرٹی ورکر، ٹرینر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہونے کے ساتھ قلمکار بھی ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.