کیا جمہوریت نوع انسانی کی نایاب دریافت ہے؟ ابو سعد ایمان

تجربات نے ثابت کردیا ہے کہ جمہوریت میں بھی کم و بیش اتنی ہی خامیاں /خرابیاں ہیں جتنی کہ بادشاہت میں۔\r\n1۔ جمہوریت میں عوام کے لیے تحفظ، عدل اورآزادی کے وعدے کے ساتھ حکومت مانگی جاتی ہے اور حکومت مل جانے کے بعد عوام کے لیے تحفظ، عدل اور آزادی کو مشکل سے مشکل تر بنادیا جاتا ہے۔ جبکہ بادشاہت میں حکمران عوام کے لیے تحفظ، عدل اور محدود آزادی کی یقین دہانی کے ساتھ اپنی بادشاہت کو مستحکم کرتا ہے لیکن قوت حاصل ہونے کے بعد عمومی طور پر جب اور جس وقت چاہتا ہے عوام کے تحفظ، عدل اور محدود آزادی کو بھی بری طرح پامال کردیتا ہے۔\r\n2۔ جمہوریت کو پرامن انتقال اقتدار کی ضمانت سمجھا جاتا ہے لیکن اس "پرامن " انتقال اقتدار کی قیمت کے طور پر جلسوں، جلوسوں، انتخابی مہموں اور سیاسی مقابلہ آرائی میں ہر الیکشن میں درجنوں لوگ مارے جاتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ بادشاہت میں قتل وفساد کے ایسے مواقع طویل عرصہ بعد( جب موجودہ بادشاہ بے حد کمزور ہوجاتا ہے) تب آتے ہیں جبکہ جمہوریت میں پورے دور اقتدار میں بھی اور انتقال اقتدار کی سرگرمی (انتخابات) کے دوران بھی انسانی اموات کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔\r\n3۔ جمہوریت میں اکثروبیشتربہترین کا لالچ دے کر عوام کوبدترین سے دوچار کردیا جاتا ہے۔\r\n4۔ جمہوریت میں بھی بدترین اور عوام کے ناپسندیدہ ترین لوگوں کے برسراقتدار آنے کے پورے پورے امکانات ہوتے ہیں۔\r\n5۔ بادشاہت میں صرف بادشاہ کے مخالف عناصر اور اس کی بادشاہت کے لیے خطرہ بننے والے لوگوں کوبنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام عوام کے لیے بادشاہت عدل،تحفظ اور محدود آزادی کی ضمانت اور علامت ہوتی ہے جبکہ جمہوریت میں سارے انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ملٹی نیشنل نامی بھیڑیوں کے حوالے کردیا جاتا ہے کہ وہ جس طرح چاہیں عوام کو بہترین کا لالچ دے کر ان کا بدترین استحصال کریں۔\r\n6۔ بادشاہت میں حکمران جب بگڑتا ہے اورعوام کے تحفظ ،عدل اور آزادی کو پامال کرتا ہے تو وہ دراصل ایک قسم کا کھلم کھلا "کفر" ارتکاب کرکے ایسا کرتا ہے۔ لیکن جمہوریت میں حکمران جب بگڑتا ہے اور عوام کے تحفظ، عدل اور آزادی کو پامال کرتا ہے تو وہ بدترین قسم کی "منافقت اور چالبازی" کے ذریعے ایسے کرتا ہے۔\r\n7۔ بادشاہت حکمران طبقہ کے قہر کے ذریعے عوام کے استحصال کا باعث بنتی ہے تو جمہوریت حکمران طبقہ کے بدترین مکرکے ذریعے عوام کے استحصال کا باعث بنتی ہے۔\r\n8۔ بادشاہت میں حکمران طبقہ بدعنوان وبدکردار ہوجائے تو ملک وملت کو بدترین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں اور جمہوریت میں بھی اگرحکمران طبقہ بدعنوان و بدکردار ہوجائے تو ملک و ملت کے لیے بدترین نتائج کا باعث بنتے ہیں۔\r\n9۔ جمہوریت ہو یا بادشاہت جس بھی سسٹم کے تحت عوام کا تحفظ، عوام کی معاشی ، معاشرتی اور مذہبی آزادی ، عوام کے بنیادی حقوق اور عدل وانصاف کی فراہمی ناممکن کردی جائے اس سسٹم کے تحت قائم ہونے والی حکومت بدترین حکومت ہوتی ہے۔\r\n10۔ جمہوریت کا بدترین پہلو جو اس کے سارے خوش کن دعووں کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے غلبہ و عروج کے نتیجے میں نوع انسانی کو جس بدترین معاشی ،تہذیبی اور جنگی دہشت گردی کا سامنا ہے ایسا تاریخ انسانی کے کسی بدترین سے بدترین دور میں بھی نہیں ہوا۔ انسانیت کو اگرچہ جنگوں اور معاشی استحصال کا سامنا ہردور میں رہا ہے لیکن ہر دور میں اس کی حیثیت "علاقائی" رہی ہے۔ یعنی یہ "دہشت گردی" صرف مخصوص علاقے (مثلا میدان جنگ) یا مخصوص وقت (یعنی دوران جنگ) تک محدود رہی ہے۔ لیکن جمہوری غلبہ نے اس لعنت کو علاقائی سے بڑھاکر عالمی لعنت میں بدل دیا۔ اور ایک وقتی ومحدود لعنت کو ہمہ گیر و ہمہ وقتی مسئلہ بناکر رکھ دیا ہے۔ جمہوریت کی آڑ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے سے عالمی معاشی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے تو خفیہ اداروں اور ایجنسیوں کے ذریعے عالمی جنگی دہشت گردی کو رواج دے دیا گیا ہے۔\r\n10۔ نوع انسانی نے ہزاروں سالوں کے تجربے کے بعد بادشاہت سسٹم کو اس لیے قابل نفرت قرار دیا تھا کہ بادشاہت سسٹم کے تحت حکمرانوں کی بدعنوانی اور سرکشی نے انسانیت کا جینا دوبھر کردیا تھا۔ بادشاہت سسٹم کے تحت انسانیت کو بار بار اور ہزاروں بار بلاوجہ بدترین خون خرابہ اور فساد سے دوچار ہونا پڑا۔ اسی وجہ سے نوع انسانی نے نظام حکومت کے طور پر بادشاہت کو رد کرکے جمہوریت کو بالاتفاق اختیار کرلیا۔ تاہم سابقہ دوسوسالہ تجربہ نے جمہوریت کو بھی انسانیت کی بدترین تذلیل ، تاریخ انسانی کی بدترین قتل و غارت گری اور فساد کا مرتکب ثابت کیا ہے۔ عوام نے اب تک جمہوریت کو صرف اسی لیے برداشت کیا ہوا ہے کہ اس کا متبادل کوئی سسٹم نوع انسانی کو نظر ہی نہیں آرہا۔لہٰذا کچھ بعید نہیں ہے کہ آنے والے دور میں جیسے ہی نوع انسانی کو متبادل سسٹم دستیاب ہوا، نوع انسانی اپنی بار بار کی تذلیل اور قتل و غارت گری سے تنگ آکر جمہوریت کو بھی بادشاہت کی طرح ایک بدترین نظام حکومت قرار دیدے گی اور اس سے بہترمتبادل سسٹم کو اختیار کرلے گی۔\r\n11۔ امریکہ دنیا میں جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔امریکہ کے حالیہ انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر امریکی عوام جس بری طرح سٹپٹا گئی ہے اور جو ہنگامہ خیز احتجاج کررہی ہے اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ جس طرح بادشاہت میں بدترین اورعوام کے ناپسندیدہ ترین شخص کاحکمران بن بیٹھنے کا امکان ہے بالکل اسی طرح جمہوریت میں بھی اس کا سوفیصد امکان ہے۔\r\n12۔ اقوام متحدہ رنگ ونسل اور مذہب کی بنیاد پر تفریق اور تعصب کو بدترین برائی قرار دے چکی ہے۔ امریکہ اقوام متحدہ کے چارٹرکا دنیا میں سب سے بڑا علمبردار ہے۔ لیکن اس کے باوجود مذہبی و نسلی تعصب کی بدترین برائی کا علمبردار ڈونلڈ ٹرمپ امریکی انتخابات میں فاتح بن کر سامنے آیا ہے۔ صورتحال کا یہ رخ واضح کرتا ہے کہ جمہوریت کا موجودہ مغربی ماڈل بدترین لوگوں کو برسراقتدار آنے سے نہیں روک سکتا۔ جمہوریت کا یہ رخ اس کے موجودہ غالب مغربی ماڈل کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔\r\n13۔ سیاسی نظام چاہے بادشاہت پر مبنی ہو یا جمہوریت پرانسانیت کے لیے صرف اسی صورت رحمت بن سکتا ہے جب اس میں عوام کے تحفظ، ان کے معاشی ،معاشرتی اور مذہبی حقوق، دیگر بنیادی حقوق اور عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے۔\r\n14۔ آخری نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی سسٹم جمہوریت پر مبنی ہو، بادشاہت پر یا کسی اور طرزپر مبنی ہو اسلام اور عدل کے جتنا تابع ہوگااتنا ہی وہ انسانیت کے لیے باعث رحمت ہوگا اور جتنا جتنا یہ اسلام اور عدل سے دور ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ انسانیت کے لیے باعث آزار وزحمت بنتا چلا جائے گا۔\r\n15۔ لہٰذا آج سے چودہ سوسال پہلے روم وفارس کی عالمی طاقتوں کی بدترین مثالوں کی موجودگی میں اسلام نے جس طرح نوع انسانی کے مقبول عام سیاسی سسٹم "بادشاہت "کوایک بہترین سسٹم میں تبدیل کرکے دکھا دیا۔ اسے ایک عادلانہ، رحمدلانہ، خداپرستانہ، مساویانہ، ذمہ دارانہ ، مشاورانہ اور غیر متعصبانہ ومیرٹ پر مبنی سسٹم بناکررکھ دیا بالکل اسی طرح نوع انسانی کے آج کے مقبول عام سیاسی سسٹم "جمہوریت" کو بھی امریکہ و یورپ کی عالمی طاقتوں کی بدترین مثالوں کی موجودگی میں ایک بہترین سسٹم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے اسلام مالا مال ہے۔