امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک مسلمان کا خط - عابد محمود عزام

میں آپ کو یہ خط ایک صحافی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ مسلم دنیا کے ایک عام مسلمان باشندے کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں۔

محترم! بھرپور تگ و دو کے بعد آپ امریکا کے 45ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ یہ یقینا آپ اور آپ کے چاہنے والوں کے لیے خوشی کا مقام ہے، لیکن ایک مسلمان ملک کا مسلمان باشندہ ہونے کی حیثیت سے مجھے کافی تشویش ہے، کیونکہ اب تک آپ نے ہمیشہ خود کو مسلمان دشمن کے طور پر ہی متعارف کروایا ہے۔ وائٹ ہائوس کا بادشاہ بننے کی دوڑ میں اترنے کے لیے آپ نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ’’دشمن‘‘ کے خلاف ’’جنگ‘‘ کے عنوان سے کیا اور اسلام و مسلمانوں پر تابڑ توڑ ’’حملے‘‘ کرنا شروع کیے۔ اسلام، مسلمان اور عالم اسلام کو ہمیشہ اپنے نشانے پر رکھا اور آپ کے بیانات سے ہمیشہ یہ لگا کہ آپ کے پاس اسلام، مسلمان اور عالم اسلام کی مخالفت کے سوا کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔ آئے روز آپ کے اسلام مخالف بیانات میڈیا کی ’’زینت‘‘ بنتے رہے، جن کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جن کو پڑھ کر لگتا ہے کہ امریکا سمیت دنیا بھر میں موجود ہر برائی کے پیچھے کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ شاید آپ امریکا کے عہدہ صدارت کے پہلے متمنی شخص تھے، جنہوں نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا اور صدر بننے کے بعد امریکا میں موجود تمام مساجد کو بند کرنے کے احکامات جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ مساجد اور مسلمانوں کی نگرانی اور مسلمانوں کے رجسٹریشن ڈیٹابیس کا بھی مطالبہ کیا اور آپ نے ہی یہ بھی کہا کہ ’’ اسلام امریکا سے نفرت کرتا ہے اور عالمِ اسلام کی اکثریت امریکا سے سخت نفرت کرتی ہے۔‘‘ آپ نے اپنے ملک کی پالیسیوں پر غور کیے بغیر مسلمانوں کر چڑھائی کی، جو کم از کم ایک طاقتور ملک کے طاقتور عہدے کے امیدوار کے لیے کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔

جناب ڈونلڈ ٹرمپ! اسلام کسی سے نفرت کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ دنیا بھر کے تمام مذاہب کے لیے اسلام کا پیغام محبت ہے۔ اسلام کے ماننے والوں کے لیے کوئی بھی ملک نفرت کا معیار نہیں ہے اور یہی معاملہ امریکا کے بارے میں ہے۔ اگر کچھ مسلم ممالک میں امریکا کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے تو وہ مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ آپ کے ملک امریکا کی پالیسیوں سے ہے۔ اگر امریکی پالسیاں مسلم دنیا کے لیے خونریز ثابت ہوں تو اس کے نتیجے میں نفرت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ مسلم ممالک کے حوالے سے آپ کے ملک امریکا کی پالیسیاں انتہائی تباہ کن اور نفرت انگیز ہیں۔ گزشتہ صرف ایک سال کے دوران امریکا نے مسلم دنیا پر 23 ہزار بم برسائے ہیں۔ تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشنز (سی ایف آر) کے سینئر فیلو میکا زینکو کے مطابق: ’’یکم جنوری 2015ء سے سال کے آخر تک امریکا نے عراق، شام، افغانستان، یمن، صومالیہ اور پاکستان پر 23 ہزار سے زیادہ بم برسائے اور یہ سب مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔‘‘ مسلم دنیا میں خونریزی کر کے اپنے خلاف نفرت کے بیج بونے کا یہ تو صرف ایک سال کا احوال ہے، جب کہ متعدد ممالک ایک عرصے سے امریکی جارحیت کا شکار ہیں اور گزشتہ دو عشروں میں بلامبالغہ امریکا نے مسلم دنیا پر لاکھوں بم برسائے ہوں گے۔

جناب! یہ حقیقت سامنے رکھیے کہ صدام حسین کے پاس ایٹمی اور کیمیاوی اسلحے کی موجودگی کے مفروضے پر آپ کے ملک امریکا نے عراق پر یلغار کر کے اسے راکھ کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ امریکا نے درجنوں ممالک کے گٹھ جوڑ سے افغانستان پر حملہ کر کے لاکھوں بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور پورے ملک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ اپنے مفادات کے لیے شام کو جہنم بنا دیا ہے۔ شام کی بربادی کے لیے اسلحہ و پیسہ دے کر داعش ایسے گروہوں کو وجود بخشا، جو آج تک شام و عراق کو تباہ کرنے میں مشغول ہیں۔ پاکستان انتہائی پرامن ملک تھا، امریکا نے یہاں ڈرون حملے کر کے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں لیں، جس کے نتیجے میں ملک دہشتگردی کی لپیٹ میں آ گیا اور اب تک آپ کے ملک کی جنگ میں ساٹھ ہزار پاکستانی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک بدامنی کا شکار کوئی بھی مسلم ملک ایسا نہیں، جہاں بدامنی پھیلانے میں امریکا کا ہاتھ نہ ہو۔ ان کے علاوہ فلسطین، کشمیر، برما، چیچنیا اور بوسنیا سمیت کئی جگہوں پر مسلمان ایک عرصے سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، لیکن امریکا نے یہاں مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینے کے بجائے اپنے مفادات کی خاطر ظالموں کا ساتھ دیا ہے۔ یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ خود آپ کا ملک امریکا مسلم دنیا کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ اگر اس کے بعد مسلم دنیا میں آپ کے ملک کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے تو وہ بلاوجہ نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ مسلم دنیا کے حوالے سے امریکا کی غلط اور ظالمانہ پالیسیاں ہیں۔ اگر امریکا کسی بھی مسلمان ملک میں بمباری کر کے بے گناہوں کی جان لتا ہے تو اس کے نتیجے میں امریکا کے خلاف نفرت کا پیدا ہونا انسانی فطرت ہے، جس سے پالیسیاں تبدیل کر کے ہی نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ خدار اگر دنیا میں امن چاہتے ہیں تو ا اپنی پالیسیاں تبدیل کیجیے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی نے امریکہ کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا - محمد شاکر

جناب! آپ کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردی میں ملوث افراد اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر عام شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں، لیکن حقائق یہ بتلاتے ہیں کہ اسلام کے نام پر کی جانے والی زیادہ تر دہشتگردی میں داعش جیسے گروہ ہی ملوث ہیں، جن کو بنانے کا اعتراف خود امریکا کے ذمے دار لوگ کر چکے ہیں۔ دنیا میں دہشت گردی کو صرف مسلمانوں سے جوڑنا بالکل لغو ہے، کیونکہ دنیا میں زیادہ تر دہشتگردی میں مسلمان ملوث ہی نہیں ہیں، بلکہ دیگر لوگ ملوث ہیں۔ خود امریکا اور یورپ میں ہونے والی دہشتگردی کے 98 فیصد واقعات میں مسلمان ملوث نہیں ہوتے۔ دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں۔ اسلام نے کبھی کسی کا ناحق خون کرنے کی ترغیب نہیں دی ہے۔ اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ اسلام امن کا مذہب ہے اور ہمیشہ قیام امن کی ہی بات کرتا ہے، اسی لیے مسلمان علما، دانشور اور مسلمانوں کے نمایندے بارہا صراحت کے ساتھ یہ کہہ چکے ہیں کہ بے گناہ لوگوں کا خون بہانے والے عسکریت پسند گروہ کسی بھی طور پر مسلمانوں کے نمایندہ نہیں ہیں۔ جرم چاہے کسی بھی مذہب کا انسان کرے، وہ جرم ہی رہتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں جرائم کرنے والوں کو ان کے مذہب سے نہیں، بلکہ ان کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے۔ غیر مسلم شہریوں کی کیتھولک یا پروٹسٹنٹ عیسائی، ہندو، یہودی، بدھسٹ یا دہریت کے حوالے سے شناخت نہیں کی جاتی، لیکن اگر کوئی شخص اسلام کے نام پر جرم کرتا ہے تو اس کو اسلام کی شناخت بنا دیا جاتا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔ جس طرح کسی بھی جرم کا تعلق کسی مذہب سے نہیں، اس طرح دہشت گردی کو بھی قطعاً اسلام کے ساتھ نتھی نہیں کیا جانا چاہیے۔

جناب ٹرمپ! ایک مسلمان ہونے کے ساتھ ایک پاکستانی کی حیثیت سے بھی ہمیں آپ سے کوئی امید نہیں ہے، کیونکہ آپ کے اب تک دیے گئے بیانات سے ہمیشہ پاکستان مخالفت ہی ٹپکتی نظر آئی ہے، جبکہ آپ کا پاکستان کو نظر انداز کر کے پاکستان کے کٹر مخالف ملک بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانا بھی پاکستان کی لیے خطرے کا آلارم ہے۔ آپ نے گزشتہ دنوں امریکا میں مقیم ہندؤ کمیونٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہا کہ ’میں بھارت اور ہندوؤں کا عاشق ہوں‘۔ بھارت کشمیر میں کئی ماہ سے درندگی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے، لیکن آپ نے بھارتی فوج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ہندوؤں اور بھارتیوں کی دلجوئی کی۔ اس موقع پر تقریب میں رقص و سرود بھی پیش کیا گیا، جس میں شرکاء نے رقص پیش کرتے ہوئے اسلام کے تصور ’جہاد‘ کا مذاق اڑایا اور دہشت گردی کو اسلام اور عربوں سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی۔آپ نے برائے نام رواداری کے نام پر ایک قوم کی دل آزاری اور دوسری قوم کے ساتھ اپنی اٹوٹ محبت اور دوستی کا دم بھر کر اپنی اسلام اور مسلمان دشمنی پر مہر تصدیق ثبت کی، جو کسی طور بھی مثبت اقدام نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی نے امریکہ کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا - محمد شاکر

جناب! آپ کے ہر ہر اقدام سے اسلام، مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بو آرہی ہے۔ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف آپ کے بیانات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ آپ کی پالیسیاں امریکا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل سکتی ہیں اور مغربی طاقتوں کی پالیسیوں سے پہلے ہی سے تباہ ممالک عراق، شام، مشرق وسطیٰ میں فلسطین، لبنان ، لیبیا، مصر، تیسری عالمی جنگ کا پائیدان بن سکتے ہیں۔ آپ نے ہی کہا تھا کہ میری خارجہ پالیسی میں بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا، جو پوری مسلم دنیا کے لیے جنگ کا ارام کے مترادف ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر وائٹ ہاؤس سے لے کر اقوام متحدہ تک نے اور دیگر متعدد ممالک کے آپ کے بیانات کی مذمت کی ہے اور ان بیانات کو نفرت پھیلانے پر مبنی اقدام سے تعبیر کیا۔

جناب! آج پوری دنیا میں بدامنی و دہشتگردی کی آگ لگی ہوئی ہے۔ دنیا کے ایک طاقتور ملک میں عہدہ صدارت کے متمنی کی حیثیت سے آپ کو چاہیے تھا کہ دنیا میں قیام امن کی بات کرتے اور مسلم دنیا میں بدامنی و دہشتگردی کی اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتے جو خود آپ کے ملک نے لگائی ہے، لیکن آپ نے تو اپنی توپوں کا رخ مسلمانوں کی طرف کر کے اسلام اور مسلم دنیا کے خلاف ہی گولہ باری شروع کردی۔ آپ کو مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی، مساجد کی بندش اور اسلام کو انتہاپسندی سے جوڑنے جیسے بیانات زیب نہیں دیتے۔ ہمارے ’’انتہاپسند‘‘ معاشرے میں تو اس قسم کے بیانات معیوب سمجھے جاتے ہیں، لیکن آپ کے ’’معتدل‘‘ اور ’’مہذب‘‘ معاشرے میں کھلے عام اس قسم کے انتہاپسندانہ بیانات دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ آپ ابھی صدارتی امیدوار کے لیے منتخب بھی نہیں ہوئے تھے تو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس قدر زہر افشانی کی، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے تشویش کا باعث تھا، اب آپ امریکا کے صدر منتخب ہو گئے ہیں، اب آپ کو اپنے متعصبانہ رویہ کو ترک کر کے معتدل رویہ اپنانا ہوگا، کیونکہ آپ کے عہدہ متعدل رویے کا ہی متقاضی ہے۔

جناب ڈونلڈ ٹرمپ: امریکا کا صدر دنیا میں ایک طاقتور حیثیت کا مالک ہوتا ہے، جس کی ذمہ داری ہے کہ پوری دنیا میں بدامنی اور خونریزی کا خاتمہ کرنے کے لیے اقدامات کرے، نہ کہ خود ہی اس بدامنی میں اضافہ کرنے لگے۔ اب تک دیے گئے آپ کے بیانات قطعاً دنیا میں جاری خونریزی کو روکنے والے نہیں لگتے، بلکہ ان کو دیکھتے ہوئے تو یہی خوف محسوس ہوتا ہے کہ خدانخواستہ آپ کہیں اس آگ کو مزید نہ بھڑکانے لگ جائیں جو آپ کے ملک کے آپ سے پہلے صدور نے لگائی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں پر لگائے جانے والے آپ کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، آپ کو اپنی ’’اداؤں‘‘ پر غور کرنا ہو گا، کیونکہ آپ کا رویہ پوری دنیا کو تباہی و بربادی کی جانب دھکیل سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو آپ کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ محفوظ آپ کا ملک امریکا بھی نہیں رہے گا، کیونکہ دوسرے ممالک میں لگائی گئی آگ ایک نہ ایک دن ضرور امریکا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور اگر آپ امریکا کے سابقہ صدور سے ہٹ کر ایک متعدل صدر بن کر دنیا سے بدامنی کا خاتمہ کرتے ہیں تو یہ آپ کا پوری دنیا پر احسان عظیم ہوگا۔دنیا آپ کو ہمیشہ اچھے لفظوں سے یاد رکھے گی۔ اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ دنیا میں جاری بدامنی کو مزید ہوا دے کر ایک ’’درندہ صفت انسان‘‘ کے نام سے یاد رکھا جانا زیادہ پسند کرتے ہیں یا ایک متعدل صدر اور اچھے انسان کے طور پر یاد رکھاجانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اللہ آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔
آپ کا خیراندیش

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.