مسرور جھنگوی جے یو آئی ایف میں شامل ہونے کو تیار

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر جھنگ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہونے والے مسرور نواز جھنگوی نے جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کی جانب سے حلف اُٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔\r\nکالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کے صاحبزادے مسرور نواز جھنگوی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہر میں بجلی، پانی، گیس اور نکاسی آب جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اُن کا شہر گذشتہ دہائی کے دوران پسماندہ رہا ہے اور اِس کی بحالی کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا۔\r\nاُنھوں نے کہا کہ 'میرے والد کی وجہ سے مجھ پر کبھی فرقہ ورانہ تشدد کا الزام نہیں لگا بلکہ الیکشن میں جو ووٹ مجھے ملے ہیں وہ میرے والد کی وجہ سے ہی ملے ہیں اور لوگوں نے میرے والد کی وجہ سے ہی مجھ پر اعتماد کیا ہے۔‘\r\nاُنھوں نے کہا کہ ’مذہبی جماعتوں کو اکھٹا کرنا ان کا کام نہیں ہے، میرا کام ہے کہ جس نشست پر میں منتخب ہوا ہوں اُس علاقے میں کرپشن کا خاتمہ اور ترقیاتی کام کروں۔‘\r\nایک سوال کہ جو کام کرانے کا وعدہ اُنھوں نے اپنے علاقے کے مکینوں سے کیے ہیں اُن کی تکمیل تو حکومتی جماعت کی جانب سے حلف اٹھانے میں زیادہ جلدی اور بہتر انداز میں ہو جاتی پھر جے یو آئی ف کا انتخاب کیوں کیا اِس پر اُن کا کہنا تھا کہ اتحادی زیادہ بااثر ہوتے ہیں۔\r\nمسرور نواز جھنگوی نے 2018 تک جھنگ کا نکاسی آب کا نظام اور ہسپتال کا نظام بحال کرنے کا عزم کیا ہے۔\r\nمسرور نواز جھنگوی سنہ 1988 میں پیدا ہوئے اور جب وہ دو برس کے تھے ان کےوالد کو 1990 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اُنھوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور اُس کے بعد درسِ نظامی اختیار کیا۔ تین بھائیوں میں سب سے بڑے اظہار الحق جھنگوی کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مسرور نواز جھنگوی کو حالیہ ضمنی انتخابات میں جے یو آئی ف، جماعت اسلامی اور کالعدم اہلِ سنت والجماعت کے بانی مولانا محمد احمد لدھیانوی نے باہمی مشاورت کرکے انتخاب لڑنے کا مشورہ دیا۔\r\nاِس سے قبل مسرور نواز کے والد حق نواز جھنگوی نے بھی جمیعت علمائے اسلام کی رکنیت حاصل کر کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک مدرسے میں تدریس کا آغاز کیا تھا۔\r\n