قادیانی جنرل کا قضیہ، ایک نقطہ نظر - امتیاز خان

لگتا ہے میاں صاحب کو کوئی عقلمند مشیر ہاتھ آگیا ہے۔ پہلی بار دانشمندی کا مظاہرہ کرکے وہ عوامی طاقت سے عالمی قوتوں کا ایک مطالبہ رد کرنے کی پوزیشن بنا چکے ہیں لیکن یہ معاملہ گ\0زر جانے کے بعد وہ عوام کو دوبارہ آلو اور گوبھی قرار دے کر تمام معاملات بذریعہ ڈار و پرویز طے کروانے کا عمل شروع کردیں گے-\r\n\r\nاس وقت جن چار موسٹ سینئر جنرلز کے نام چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کے حوالے سے سرفہرست ہیں، ان میں سے ایک کے بارے میں شنید ہے کہ اس کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے۔ قادیانیوں کا جو عالمی طاقتوں کے ہاں سٹیٹس ہے، وہ پاکستان میں موجود سب قابل اعتماد گروہ کا ہے، اور اب تک جن جن مواقع پر وہ عالمی طاقتوں کے پاکستان کے خلاف آلہ کار بنتے آئے ہیں، وہ سب داستانیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان کے بڑوں کے پاکستان مخالف خیالات بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اور 1974 کے تاریخی فیصلے کے بعد سے تو وہ ریاست پاکستان کو عملا اپنے دشمنوں میں شمار کرتے ہیں، کیونکہ دو زبردست عوامی تحریکوں کے نتیجے میں ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی اسمبلی کے اس فیصلے نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں ان کی ارتدادی سرگرمیوں کی پیش قدمی کو متاثر کیا اور کئی اسلامی ممالک نے پاکستان کے بعد انہیں ریاستی سطح پر غیرمسلم قرار دیا۔ \r\n\r\nاس تناظر میں دیکھا جائے تو اگر واقعی ان امیدواروں میں سے کسی کا تعلق اس گروہ سے ہے تو یقینا عالمی طاقتوں کی اولین ترجیح وہی شخص ہوگا۔ پاکستان میں قادیانی فیصلہ، توہین رسالت کا قانون اور دیگر چند اسلامی و نیم اسلامی قوانین ایسے ہیں جو عالمی طاقتوں کے لیے ناقابل ہضم ہیں اور ان کی ہر دور میں کوشش رہی ہے کہ ان قوانین کو ختم کرایا جائے۔ آرمی چیف پاکستان میں جس قوت، طاقت اور (جنرل راحیل شریف کے بعد اب) عوامی حمایت کا حامل عہدہ ہے، اسی سے ایسے اقدام کی امید رکھی جاسکتی ہے، کوئی جمہوری حکومت ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اگر اس عہدے پر ایسے گروہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص تعینات ہوجائے جو ان قوانین سے براہ راست متاثر اور متصادم ہیں تو یہ کام کافی آسان ہوسکتا ہے۔ ایسے میں یقینا ان طاقتوں کی کوشش ہوگی کہ ضرور وہی شخص اس منصب پر فائز ہو۔ میاں صاحب کو یقینا اس امر میں عالمی طاقتوں کی ہاں میں ہاں ملانے اور عرصے سے چلی آرہی غلامانہ روش کو جاری رکھنے میں کوئی تامل نہ ہوتا اگر مذکورہ شخص ان کی پسندیدگی کی لسٹ میں سرفہرست ہوتا۔ ایسے میں وہ خود اس کے ایمان کی گواہی دیتے اور ان کے اتحادی بھی۔ مگر یہاں صورتحال برعکس ہے۔ مذکورہ جنرل میاں صاحب کی لسٹ میں ناپسندیدہ ہیں، وہ ان کی جگہ اس شخص کو ترجیح دینا چاہتے ہیں جو خاندانی طور پر ان سے قربت رکھنے والا ہے اور ایک ایسے جج صاحب کا قریبی عزیز ہے جو شریف خاندان کے کافی وفادار رہے ہیں اور اب بھی ان خاندانوں میں باہمی طور پر کافی قربت ہے۔ ایسے میں عالمی طاقتوں کا مطالبہ رد کرنے کا بہترین ذریعہ قادیانی مسئلے پر عوامی جذبات کو ابھارنا تھا اور یہ بہترین چال بروقت چل لی گئی۔\r\n\r\nپروفیسر ساجد میر صاحب ن لیگ کے اہم مذہبی اتحادی ہیں، اس موقع پر ان کا اس خبر کو سامنے لانا اور مطالبہ کرنا محض اتفاق نہیں، انھوں نے ضرور اس خبر کی اپنے طور پر بھی تصدیق کی ہوگی، اس کے نتائج پر غور کیا ہوگا اور پھر کیمرے کے سامنے آ کر ریکارڈنگ کروائی ہوگی. ان کے اس مختصر سے بیان کے بعد حسب توقع سوشل میڈیا اور مذہبی طبقے میں خبر جنگل کی آگ بن کر پھیل چکی ہے۔ چند دنوں تک آپ ہر طرف اسی موضوع کو گرم پائیں گے۔ تحریکیں چلانے کا اعلان ہوگا، عوامی جوش بھڑکے گا اور ایک مشکل فیصلہ آسان ہوجائے گا۔\r\n\r\nویل ڈن میاں صاحب۔۔\r\nہم اب اس اقدام پر ان کے ساتھ ہیں اور اگر واقعی انہوں نے ایسا ہی کیا ہے تو انہیں مبارکباد بھی پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں آرمی چیف جیسے حساس عہدے پر ایسے شخص کا آنا، جس کا تعلق مذہبی طور پر پاکستان کی نظریاتی اساس کے مخالف اور دشمن گروہ سے ہو، ہرگز قابل قبول نہیں۔ اسی گروہ کے ظفراللہ خان اور عبدالسلام کا کردار قوم کے سامنے ہے۔ ایک نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا جنازہ اپنی کٹر مذہبی سوچ کی وجہ سے رد کیا اور ایک جمہوری فیصلے کی وجہ سے ملک چھوڑ گیا اور زندگی بھر پاکستان کے خلاف رہا ۔خیر ان کی حیثیت ایسی نہیں تھی کہ کوئی بڑا نقصان پہنچاتے لیکن آرمی چیف جیسے عہدے پر ایسے لوگوں کے آنے سے کیا نتائج نکل سکتے ہیں، ان کا اندازہ بھی مشکل ہے۔\r\n\r\nکاش کہ حکمران عوامی طاقت کو صرف ایسے مخصوص مواقع پر استعمال کرنے کے بجائے خارجی سطح پر ہونے والے ہر فیصلے کے موقع پر یاد رکھیں اور عوام بھی صرف خاص مواقع پر بھڑکنے کی بجائے ہر ایسے فیصلے پر اپنی جمہوری قوت کو بروئے کار لایا کریں، جو ملک وقوم کے مفاد اور ہماری نظریاتی اساس کے خلاف ہو۔\r\n