تاریخ انسانی کا سب سے پہلا خود کش حملہ آور - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ہر دور میں آلات حرب و طرق جنگ و جدال میں تیزی سے تبدیلی آتی رہی ہے۔ بعض ممالک نے اپنے جنگی جنون اور تمام دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کی خواہش میں ایسے مہلک ہتھیار بھی ایجاد کر لیے ہیں جن کے ذریعے دشمن کو لمحوں میں ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔ اس جنگی جنون کے نتیجے میں ارض و سما نےگذشتہ صدی سے تا حال کروڑوں انسانوں کو لقمہ اجل بنتے ہوئے دیکھا ہے۔ انشقاقی(fission) اور ائتلافی (fusion) بم کی ایجاد کے بعد ہر ملک اپنی بقا کے لیے اس کے حصول اور پھر اس طاقت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کی دوڑ میں شریک ہے۔ میزائل، جدید جنگی بحری اور ہوائی جہاز، زہریلی گیسوں اور دیگر جدید تکنیکی آلات حرب کے ساتھ ساتھ نفسیاتی جنگ اور ذہنی تخریب کاری کے مختلف طریقوں کو دریافت کر کے طاقتور کمزور کو اپنا غلام بنانے اور ساری دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

9/11 کے بعد دنیا میں اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن پر حملہ آور ہونے کے ایک قدیم طریقے کا جدید تعار ف ہوا اور وہ حملہ آور کا اپنی جان کو تلف کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کرنا ہے جس کو عرف عام میں خود کش یا فدائی حملہ کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان میں اس جدید بم کو (Suicide Bombing) یا (Suicide Attack) کہا جاتا ہے۔ اس کی تعبیر (Homicide Bombing) یا (Genocide Bombing) سے بھی کی جاتی ہے۔ عربی زبان میں اس طرز کے حملے لیے ھجوم انتحاري، عمليۃ انتحاريۃ، عمليۃ استشھاديۃ اور عمليۃ فدائيہ کی اصطلاحات رائج ہیں۔

کائنات میں انسان کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی شے اس کی جان ہوتی ہے، تاہم خود کش حملہ آور اپنے خاص مقاصد کے حصول کے لیے خودکش دھماکے میں اپنی جان دے دیتا ہے۔ یہ انسانی بم ایسا بم ہے جس کا توڑ ابھی تک کسی بھی ملک کے پاس موجود نہیں۔ اگر ہم تاریخ کامطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ خود کش حملے اپنی ابتدائی یا اصل صورت میں تاریخی اعتبار سے نہایت قدیم ہیں، جبکہ دور حاضر میں اس کے طریقوں، اہداف و مقاصد نے نہایت ہی جدید شکل اختیار کر لی ہے۔ عمومی طور پر جب خود کش حملوں کی تاریخ بیان کی جاتی ہے تو اس کا آغاز مسلمانوں کے کسی گروہ سے کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں قاری کے ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید دنیا میں خودکش حملوں کی ابتدا کرنے والے مسلمان ہیں اور اس وقت دنیا میں ہر جگہ مسلمان ہی خودکش حملوں میں مصروف ہیں۔ خودکش حملوں کی تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے اور دنیا کی کئی اقوام میں کسی نہ کسی صورت میں اس کا تصور پایا جاتا ہے۔

تاریخ انسانی کا پہلا خود کش حملہ اور بائبل
بائبل( Bible) دو حصوں پر مشتمل مختلف کتا بوں کا مجموعہ ہے۔ یہ دو حصے عہد نامہ قدیم (Old Testament) اور عہد نامہ جدید (New Testament) کے نام سے معروف ہیں۔عہد نامہ قدیم کو یہودی الہامی کتاب مانتے ہیں جبکہ مسیحی عہد نامہ قدیم اور جدید دونوں پر ایمان لاتے ہیں۔ عہد نامہ قدیم میں مختلف کتابوں میں سے ایک ”کتاب القضاۃ'“ (Judges) )ہے۔ جو عہد نامہ قدیم میں ساتویں نمبر پر ہے۔ عہد نامہ قدیم میں ہونے کی وجہ سے یہود و مسیحی حضرات کے لیے اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ مسیحیوں میں کیتھولک (Catholic) اور پروٹسٹنٹ (Protestant) کی بائبل میں کتابوں کی تعداد کے اعتبار سے فرق ہے۔ کیتھولک بائبل میں تہتر (73) کتابیں جبکہ پروٹسٹنٹ بائبل میں چھیاسٹھ (66) کتابیں ہیں۔ یاد رہے کہ ”کتاب القضاۃ“ (Judges) عہد نامہ قدیم کی وہ کتاب ہے جس کے خدا کا کلام ہونے پر دنیائے مسیحیت کے دونوں گروہوں کا اتفاق ہے۔ پس اس کتاب پر ایمان لانا یہودیت اور عالم مسیحیت کے لیے لازمی ہے۔

قضاۃ (Judges) میں بنی اسرائیل (Children of Israel) کی تاریخ کی بعض کہانیاں ذکر ہیں۔ یہ کہانیاں بنی اسرائیل کے قومی ہیروز (National Heroes) کے کارناموں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے اکثر فوجی رہنما تھے۔ اس کتاب میں درج کہانیوں کا اصل درس یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی بقا خدا کے ساتھ وفاداری پرمنحصر ہے جبکہ غداری کی صورت میں ہمیشہ تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم جیسے ہی اس کے بندے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، وہ ان کی رہنمائی کے لیے تیار رہتا ہے۔ اس کتاب میں مذکور ان ہیروز کو قضاہ (Judges) کہا جاتا ہے، اسی لیے اس کتاب کا نام کتاب القضاۃ (Judges) رکھا گیا ہے۔

بنی اسرائیل کے ان ہیروز میں مشہور و معروف نام سمسون (Samson) یا شمشون ہے۔ بائبل کی کہانیوں میں سمسون کو کافی شہرت حاصل ہے۔ بائبل کے مطابق خدا نے بنی اسرائیل کے گناہوں کی وجہ سے ان پر چالیس سال تک فلستیوں (Philistines) کو حکمرانی کے لیے مسلط کر دیا تھا۔ خدا نے بنی اسرائیل کی آزادی اور فلستیوں (Philistines) کے خلاف بنی اسرائیل کی مدد کے لیے سمسون کا انتخاب کیا۔ سمسون یہودیوں کا ایک غیر معمولی طاقتور رہنما تھا۔ ہماری معلومات کے مطابق انسانی تاریخ کا سب سے پہلا شخص جس نے خودکش حملہ کیا، بائبل کے مطابق وہ خدا کی طرف سے منتخب کردہ بائبل کا یہودی ہیرو سمسون ہے۔ جس نے اپنے اس خود کش حملے میں پانچ فلستیوں (Philistines) کے بادشاہوں، عورتوں، بچوں اور مردوں سمیت تین ہزار افراد کو قتل کر کے اپنی قوم بنی اسرائیل کو فلستیوں سے نجات دلائی۔ یہ واقعہ تقریبا 1200 قبل مسیح میں یعنی حال سے تقریبا 3200 سال پہلے رونما ہوا۔ کتاب القضاۃ (Judges) میں سمسون کی کہانی باب 13۔14۔15 اور 16 میں ذکر ہے۔ باب 16 میں اس حملے کے بارے میں ذکر ہے:
simsn\r\n25 And it came to pass, when their hearts were merry, that they said, Call for Samson, that he may make us sport. And they called for Samson out of the prison house; and he made them sport: and they set him between the pillars.26 And Samson said unto the lad that held him by the hand, Suffer me that I may feel the pillars whereupon the house standeth, that I may lean upon them.27 Now the house was full of men and women; and all the lords of the Philistines were there; and there were upon the roof about three thousand men and women, that beheld while Samson made sport.28 And Samson called unto the LORD, and said, O Lord GOD, remember me, I pray thee, and strengthen me, I pray thee, only this once, O God, that I may be at once avenged of the Philistines for my two eyes.29 And Samson took hold of the two middle pillars upon which the house stood, and on which it was borne up, of the one with his right hand, and of the other with his left.30 And Samson said, Let me die with the Philistines. And he bowed himself with all his might; and the house fell upon the lords, and upon all the people that were therein. So the dead which he slew at his death were more than they which he slew in his life.31 Then his brethren and all the house of his father came down, and took him, and brought him up, and buried him between Zorah and Eshtaol in the buryingplace of Manoah his father. And he judged Israel twenty years.\r\n\r\n
”اور ایسا ہوا کہ جب ان کے دل نہایت شاد ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ سمسون کو بلواؤ کہ ہمارے لیے کوئی کھیل کرے، سو انہوں نے سمسون کو قید خانے سے بلوایا اور وہ ان کے لیے کھیل کرنے لگا اور انہوں نے اس کو دو ستونوں کے بیچ کھڑا کیا تب سمسون نے اس لڑکے سے جو اس کا ہاتھ پکڑے تھا کہا، مجھے ان ستونوں کو جن پر یہ گھر قائم ہے، تھامنے دے تاکہ میں ان پر ٹیک لگاؤں اور وہ گھر مردوں اور عورتوں سے گھرا تھا، اور فلستیوں کے سب سردار وہیں تھے۔ اور چھت پر تقریبا تین ہزار مردو زن تھے جو سمسون کے کھیل دیکھ رہے تھے، تب سمسون نے خداوند سے فریا د کی کہ اے مالک خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے یاد کر اور میں تیری منت کرتا ہوں کہ اے خدا فقط اس دفعہ اور تو مجھے زور بخش تاکہ میں یک بارگی فلستیوں سے اپنی دونوں آنکھوں کا بدلہ لوں اور سمسون نے دونوں درمیانی ستونوں کو جن پر گھر قائم تھا، پکڑ کر ایک پر داہنے ہاتھ سے اور دوسرے پر بائیں سے زور لگایا اور سمسون کہنے لگا کہ فلستیوں کے ساتھ مجھے بھی مرنا ہی ہے، سو اپنے سارے زور سے جھکا اور وہ گھر ان سرداروں اور سب لوگوں پر جو اس میں تھے، گر پڑا، پس وہ مردے جن کو اس نے اپنے مرتے دم مارا، ان سے بھی زیادہ تھے جن کو اس نے جیتے جی قتل کیا۔ تب اس کے بھائی اور اس کے باپ کا سارا گھرانہ آیا اور وہ اسے اٹھا کر لے گئے اور صرعہ اور استال کے درمیان اس کے باپ منوحہ کے قبرستان میں اسے دفن کیا. وہ بیس برس تک اسرائیلیوں کا قاضی رہا۔“

خلاصہ و نتائج
1.بائبل کے مطابق بنی اسرائیل کو فلسطینیوں سے نجات دینے کے لیے خدا نے سمسون کو پیدا کیا۔ فلسطینی ان پر چالیس سالوں سے حکومت کر رہے تھے۔ خدا نے سمسون کے والدین کو بشارت دی کہ سمسون اپنی ماں کے پیٹ سے لے کر اپنی موت تک خدا کے لیے وقف رہے گا۔
2۔ سمسون خدا کے منصوبے کے مطابق ایک فلسطینی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوا اور اس سے شادی کی۔
3۔ سمسون ایک انتہائی غیر معمولی طاقتور یہودی ہیرو تھا۔ خدا نے اس کو اتنی قوت عطا فرمائی تھی کہ اس نے شیر کو اپنے ہاتھوں سے ہلاک کیا۔
4۔ سمسون اتنا طاقتور تھا کہ اس نے ایک گدھے کی جبڑے کی ہڈی سے ایک ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا۔
5۔ سمسون نے غزہ (Gaza) میں ایک بد کار عورت دیکھی اور اس کے پاس گیا۔ غزہ کے لوگوں نے اسے گھیر لیا۔ وہ ساری رات شہر کے پھاٹک پر اس کی گھات میں بیٹھے رہےتاکہ صبح اس کو قتل کریں۔ سمسون آدھی رات تک اس عورت کے پاس لیٹا رہا اور آدھی رات کو اٹھ کر شہر کے پھاٹک کے دونوں پلوں اور دونوں بازووں کو پکڑ کر اکھاڑ لیا اور ان کو اپنے کندھوں پر رکھ کر ایک پہاڑ کی چوٹی پر لے گیا۔
6۔ سمسون اس کے بعد ایک اور عورت کے عشق میں پڑ گیا جس کانام دلیلہ (Delilah) تھا۔ فلسطینیوں کے باشاہوں نے اس عورت کو انعام کے عوض اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ سمسون کی بےپناہ طاقت کا راز اسے بتا دے تاکہ وہ قتل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ دلیلہ نے تین بار کوشش کی مگر سمسون نے اس کو جھوٹ بول کر ناراض کر دیا۔
7۔ دلیلہ نے جس کے عشق میں سمسون مبتلا تھا، سمسون کو اپنی محبت اور اصرار سے مجبور کر کے آخر کار اس کی طاقت کا راز پوچھ لیا کہ اس کے سر پر کبھی استرہ نہیں پھیرا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے ہی خدا کے لیے وقف ہے۔ اگر اس کا سر مونڈ دیا جائے تو اس کی ساری طاقت جاتی رہے گی اور وہ عام آدمیوں کی طرح ہو جائےگا۔ دلیلہ نے سمسون کو اپنی زانو پر سلا کر فلسطینیوں کو بلوا کر اس کا سر منڈوا دیا جس کی وجہ سے سمسون کی ساری طاقت ختم ہو گئی۔ سمسون کو اس بار فلسطینیوں نے گرفتار کر لیا اور اس کی آنکھیں نکال لیں۔
8۔ فلسطینیوں کے بادشاہوں نے اپنے دیوتا کے شکر میں ایک جشن کا انعقاد کیا جس میں لوگ سمسون کو دیکھتے اور اپنے دیوتا کا شکر ادا کرتے کہ اس نے ان کو ہلاک کرنے والے کو ان کے حوالے کر دیا ہے۔ سمسون کو ان دو ستونوں کے درمیان کھڑا کر دیا گیا جن پر وہ عمارت قائم تھی جو مردوں اور عورتوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہاں فلستیوں کے پانچ بادشاہ اور تقریبا تین ہزار مرد و زن تھے۔ سمسون نے خدا سے دعا کی کہ اسےصرف ایک بار اور طاقت دے دی جائے تاکہ وہ ان سے اپنا بدلہ لے سکے۔ سمسون نے کہا:
Let me die with the Philistines فلستیوں کے ساتھ مجھے بھی مرنا ہی ہے۔
سمسون نے ان دو ستونوں کو جن پر پوری عمارت قائم تھی، زور لگا کر تمام بادشاہوں اور عمارت میں موجود افراد پر گرا دیا۔ سمسون نے اپنے خود کش حملے کے نتیجے میں اتنے لوگوں کو قتل کیا جتنے اس نے اپنی پوری زندگی میں نہیں مارے تھے۔
9۔ یہ واقعہ تقریبا 1200 قبل مسیح میں یعنی حال سے تقریبا 3200 سال پہلے رونما ہوا۔
10۔ انسانی تاریخ کا سب سے پہلا خود کش حملہ بنی اسرائیل کے ایک قومی یہودی ہیرو سمسون نے فلسطینیوں کے خلاف کیا جس کے نتیجے میں اس نے پانچ بادشاہوں سمیت تقریبا تین ہزار مردوں اور عورتوں کو قتل کیا۔ اس واقعے میں مرنے والے افراد کی تعداد 9/11 کے خود کش حملوں میں مرنے والے افراد کے برابر ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حملوں میں مرنے والے افراد کی تعداد بھی Robert A.Pape کے مطابق 3000 تھی۔\r\n11۔ یہ واقعہ یہودی ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ مشہور و معروف امریکی مصنف Noam Chomsky اس واقعے کے تناظر میں یہودی ذہنیت کی عکاسی Samson Complex سےکرتے ہوئے کہتا ہے:
If anybody pushes us too far, we'll bring down the universe اگر کوئی ہمیں بہت دور تک دھکیلے گا تو ہم کائنات کو منہدم کر دیں گے۔
12۔ تاریخ انسانی کے اس سب سے پہلے یہودی خود کش حملہ آور کی کہانی نظم کی صورت میں ہمارے تعلیمی اداروں میں نصاب کا حصہ ہے۔ بائبل کی اس کہانی کو مشہور و معروف انگریزی دان (John Milton (1608-1674 نے Samson Agonistes کے نام سے منظوم انداز میں تحریر کیا ہے جو لندن میں پیدا ہوا اور سات سال تک Christ College ,Cambridg میں تعلیم حاصل کر کے ایک اعلیٰ درجے کا Classical Scholar تسلیم کیا گیا۔ اس انگریزی نظم کو ہمارے اسکولز کی انگریزی کی کتاب کی زینت بنایا گیا۔ اس نظم کو Slections From English Verses, Class 9th and 10th میں پڑھا جا سکتا ہے۔ ہماری رائے میں تعلیمی نصاب میں اس قسم کی کہانیاں شامل کرنا اور طلبہ کا ان کو پڑھنا کسی امن کے متمنی معاشرے کے لیے کسی طور پر مناسب نہیں کیونکہ جب طالب علم ابتدائی دور سے ہی ایک ایسے خود کش حملہ آور کی کہانی پڑھے گا جس نےتین ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا تو یقینا اس کے مضر و منفی اثرات اس کی شخصیت، کردار، نفسیات اور معصوم ذہنیت کو شدید طریقے سے متاثر کریں گے۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com