داڑھی کی جنبش سے بندھی تقدیریں - راجہ بشارت صدیقی

بشارت صدیقی پانامہ کیس سپریم کورٹ میں ہے ، نواز شریف پر لگنے والی مبینہ کرپشن کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ کہانی جدے سے شروع ہوئی، درمیان میں دبئی آیا اور جا کر قطر پر ختم ہوئی، ہمارے ملک میں بعض جرائم اتنی صفائی اور مہارت سے کیے جاتے ہیں کہ بڑے سے بڑا سراغ رساں بھی ان کا کھوج نہیں لگا سکتا۔ حکومتی ادارے بھی ان کے آگے بے بس ہوتے ہیں۔ پانامہ کیس میں نیب، ایف آئی اے بےبسی کا شکار ہیں۔ پانامہ کیس کو مولانا روم کی ایک حکایت سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔\r\n\r\nکسی علاقے میں نقب زنوں کا ایک گروہ تھا، اور اس گروہ میں شامل ہر فرد اپنے اپنے فن میں طاق اور یکتا تھا، ریاستی ادارے ان نقب زنوں کو پکڑے اور ان کے جرائم روکنے میں مکمل ناکام ہو چکے تھے. ایک رات سلطان محمود غزنوی بھیس بدل کر بذات خود گشت پر نکلا، اتفاق سے اس گروہ تک جا پہنچا۔ نقب زن کسی واردات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔\r\n\r\nجب ایک اجنبی کو اپنے پاس دیکھا تو وہ چونکے مگر محمود نے بڑی حکمت سے انہیں باور کروایا کہ میں خود حالات کا مارا ہوا ہوں، اور ایسے گروہ کی تلاش میں ہوں جو مجھے اپنے ساتھ رکھے تاکہ میں بھی اپنا دھندا کر سکوں اور مجھ میں ایک آدھ خوبی ایسی بھی ہے جو تمہارے لیے بڑی کارآمد اور اس کاروبار کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے، وہ لوگ اس پر مطمئن ہوگئے۔ ان سب نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہر ایک اپنا اپنا کمال فن بیان کرے تا کہ واردات کے لیے نکلا جا سکے، کہیں ایسا نہ ہو کہ رات ڈھل جائے، وقت کم رہ جائے اور کوتوال شہر جاگ جائے۔ چنانچہ ہر ایک نے اپنی اپنی مہارت کا باری باری ذکر کیا. ان میں سے ایک بولا کہ میرے اندر یہ خوبی ہے کہ میں مٹی سونگھ کر بتا سکتا ہوں کہ یہاں کیا دفن ہے؟ سونا، چاندی، نقدی یا کچھ اور. دوسرے نے بتایا کہ میں کسی کھرپے اور کھاوڑے کی مدد کے بغیر اپنے ہاتھوں سے نقب لگا لیتا ہوں۔ اگر اس دوران کتا بھونکے تو میں اس کی بولی سمجھ جاتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ چوتھے نے اپنا کمال یہ بیان کیا کہ اسے یہ مہارت حاصل ہے کہ وہ رات کو اگر کسی کو گھپ اندھیرے میں دیکھے تو اسے دن کی روشنی میں پہچان لیتا ہوں. اب انھوں نے محمود سے کہا کہ بتائو تمہارا کیا کمال ہے؟ محمود نے جواب دیا کہ اگر میں اپنی داڑھی ہلاؤں تو قتل کے مجرم بھی چھوٹ جاتے ہیں۔ وہ سب خوش ہوئے یہ شخص تو بڑا مشکل کشا ہے۔\r\n\r\nاس گروہ نے اپنے ٹھکانے سے نکل کر واردات کا پروگرام بنایا. ایک گھر کے سامنے پہنچ کر اپنے اس ساتھی سے کہا جو مٹی سونگھ کر خزانے کا کھوج لگانے کا ماہر تھا. وہ سونگھ کر بتائے کہ یہاں کچھ ہے یا نہیں؟ اس نے زمین سونگھی اور کہا کہ یہ ایک مالدار بیوہ کا گھر ہے اور اس گھر کے فلاں کونے میں خزینہ دفن ہے، ہاتھ سے نقب لگانے کے ماہر سے کہا گیا کہ وہ اپنا کام کرے، اس نے نقب لگائی، اتنے میں کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی، میں نے چونک کر اپنے ساتھی سے پوچھا بتاؤ کتا کیا کہہ رہا ہے؟ اس نے تھوڑی دیر کتے کی آواز پر کان دھرا، اور بتایا کہ کتا کہہ رہا ہے ڈاکہ ڈالتے ہو، سوچ لو حاکم وقت تمہارے درمیان موجود ہے۔ یہ سن کر سب نے اس کا مذاق اڑایا کہ تمہاری مہارت جعلی نکلی ہے، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بادشاہ یہاں کھڑا ہو۔ المختصر اس گروہ نے واردات کی اور ہر ایک اپنا اپنا حصہ لے کر گھر چلا گیا.\r\n\r\nصبح ہوئی، سلطان محمود نے دربار لگایا اور اپنے کارندے بھیج کر ان سب مجرموں کو پکڑوا لیا، جب وہ دربار میں پیش کیے گئے تو ان کا وہ ساتھی بول اٹھا جسے رات میں ملنے والے شخص کو دن کی وقت پہچان لینے میں مہارت حاصل تھی کہ تخت پر بیٹھا ہوا شخص وہی ہے جو رات کو ہمارے ساتھ تھا. اس وقت انہیں اس ساتھی کی بات پر یقین آ گیا جس نے رات کو کتے کی آواز سن کر انہیں خبردار کیا تھا۔ بادشاہ نے ان کے جرم کے بارے میں استفسار کیا۔ سب نے کہا جہاں پناہ! ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے، مٹی سونگھنے والے نے خزانے کا صحیح پتہ دیا، ہاتھ سے نقب لگانے والے نے محض انگلیوں کی مدد سے فصیل نما دیوار میں شگاف ڈال دیا، کتے کی آواز پہچاننے والے نے رات کو درست اطلاع دی تھی اور اب رات کے دیکھے شخص کو دن میں پہچان جانے والے نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ رات کا ساتھی ہی تخت شاہی پر جلوہ افروز ہے. حضور والا! اس وقت صرف آپ کے کمال کے منتظر ہیں کہ آپ داڑھی ہلا دیں اور ہم سب کو رہائی نصب ہو، مگر محمود نے داڑھی کے بجائے سر نفی میں ہلا دیا۔\r\n\r\nمولانا روم کی یہ حکایت اس سارے پس منظر کو کھول دیتی ہے کہ ہمارے ہاں جرائم ہوتے ہیں، بینک لوٹ کر سرمایہ باہر لے جایا جاتا ہے لیکن سراغ نہیں ملتا، یہاں شروع دن سے یہ ہوتا آیا ہے کہ یہاں کا ہر مجرم اپنے فن میں طاق ہے، جو بھی کسی منصب پر فائز ہے کرسی سونگھ کر اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے پاؤں میں کتنا خزانہ ہے، خواہ وہ حکمران ہوں یا بیوروکریٹ ، ہر ایک کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ وہ قانون کی گرفت میں نہیں آتے ، اگر یہ پکڑے بھی جائیں تو انہیں اونچی کرسی پر وہی رات کا ہمراہی بیٹھا ہوا نظر آتا ہے جو ہر بار اپنی داڑھی ہلا کر ان کی مشکل آسان کر دیتا ہے۔ اب معاملہ ملک کی اعلیٰ عدالت میں ہے، عوام کی نظریں منصف اعلیٰ پر لگی ہوئی ہیں، عوام اس امید میں ہیں کہ منصف اعلیٰ قانون اور آئین کے اندر رہتے ہوئے کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے اور سر نیچے کے بجائے گردن نفی میں ہلائیں گے تاکہ جنہوں نے اس ملک کو لوٹ مار اور غریب عوام کی ہڈیوں کا گودا تک کشید کیا، وہ کیفرکردار کو پہنچ سکیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */