اس ملک نے ہمیں کیا دیا؟ محمد زاہد صدیق مغل

زاہد مغل ایک مرتبہ ایک آفس کولیگ، جو باہر ملک نوکری حاصل کرچکے تھے اور جانے کی تیاری میں تھے، کے ساتھ اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو ہوئی کہ ’’اس ملک نے ہمیں کیا دیا ہے‘‘۔\r\n- میں نے کہا کہ اس ملک نے آپ کو اس قابل بنایا ہے کہ آج باہر والے بھی آپ کو اپنے ملک والے پر ترجیح دے کر نوکری دینے لگے ہیں۔\r\n- جوابا کہنے لگے یہ تو میری اپنی لیاقت ہے، ایک لائق انسان جہاں بھی ہو اپنی جگہ بنا ہی لیتا ہے۔ سوچیے اگر ہم جیسے لائق لوگ ترقی یافتہ ملک میں ہوں تو کتنا آگے بڑھ سکتے ہیں؟ کیا اس ملک میں آپ کو اور مجھے وہ سب مواقع میسر ہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس ملک نے ہمیں وہ مواقع نہیں دیے جس کے ہم اہل تھے؟\r\n- عرض کی کہ ذرا ان پاکستانیوں کا حال دیکھ لیجیے جو ملک چھوڑ کر یورپ و امریکہ گئے کہ انہوں نے وہاں کیا تیر مار لیے۔\r\n- کہنے لگے بھائی کیا آسائشوں کے معاملے میں وہ مجھ اور آپ سے زیادہ اچھی زندگی نہیں گزار رہے؟\r\n- عرض کی بالکل گزار رہے ہیں مگر متعلقہ موازنہ یوں نہیں بلکہ یوں بنتا ہے کہ جس ملک میں وہ گئے، وہاں کی انکم ڈسٹری بیوشن میں وہ کس مقام پر کھڑے ہیں؟ امریکہ و یورپ میں رہتے ہوئے اگر آپ کے پاس ایک عدد بینک لیز کا فلیٹ ہے، ایک گاڑی ہے، گھر میں کچھ سامان تعیش ہے (جو زیادہ تر بینک لیز پر ہوتا ہے) تو اس میں کیا کمال ہے؟ یہ تو وہاں کا اوسط معیار زندگی ہے۔ کمال تو یہ ہو کہ یہاں سے وہاں شفٹ ہونے والے ان لائق لوگوں نے وہاں بزنس کی بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کردی ہوں یا بڑے بڑے ادارے قائم کردیے ہوں اور یا پھر تحقیقات کے انبار لگا دیے ہوں وغیرہ۔ تب تو یہ بات مانی جاسکتی ہے کہ اس ملک نے تو انہیں مواقع نہیں دیے مگر وہاں جاکر مواقع استعمال کرکے وہ دوسروں سے آگے بڑھ گئے۔ اگر معاملہ صرف اتنا ہی ہے کہ یہاں سے وہاں جانے والوں کی عظیم ترین اکثریت ایک ایوریج یورپی اور امریکی جیسی زندگی بسر کرتی ہے تو اس میں کیا کمال؟ وہ اوسط معیار زندگی تو ایک تھکے ہوئے یورپی و امریکی کو بھی میسر ہے۔ گویا یہاں سے وہاں جانے والے وہاں کے تھکے ہووں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سے تو بہتر وہ یہاں نہیں تھے جہاں وہ اوسط سے بدرجہا اوپری سطح کی زندگی بسر کرتے تھے، وہ بھی اپنی شناخت کے ساتھ؟ ایک تھکا ہوا یورپی و امریکی اپنی زندگی سے جس قدر مطمئن ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں یہاں اوسط درجے سے اونچی سطح کی زندگی بسر کرنے والا زیادہ مطمئن ہوتا ہے، یقین نہ آئے تو سروے کروا لیجیے۔\r\n\r\nعرض کرنے کا مقصد یہ کہ ملک چھوڑ کر جانے والوں سے ہمیں شکوہ نہیں، زرق کی تلاش میں آپ جانا چاہتے ہیں، اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں، مگر یہ مت کہیے کہ اس ملک نے مجھے دیا ہی کیا ہے؟\r\n\r\nاس مقام پر ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس ملک میں معاشرتی انصاف نہیں اس لیے ہم ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ یہاں ادارے اس طرح درست ڈگر پر کام نہیں کر رہے جیسے مادی اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک میں کرتے ہیں مگر یہ دلیل آپ کے حق میں نہیں بلکہ آپ کے خلاف جاتی ہے۔ کسی بھی ملک کی عمومی بہتری کا دارومدار اس پر ہے کہ اس کے پڑھے لکھے و زیادہ شعور رکھنے والے لوگ اس میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک ملک اپنے شہریوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے مواقع اسی لیے فراہم کرتا ہے کہ کل کو یہ نہ صرف ذمہ دار و پیداواری شہری بن سکیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ معاشرے میں مثبت و تعمیری کردار ادا کرکے معاشرے کو بہتر بھی بنائیں (اسے تعلیم کی positive externality کہتے ہیں، یعنی کسی عمل کا ایسا فائدہ جو صرف اس کے کرنے والے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس سے دوسرے بھی مفید ہوتے ہیں)۔ اداروں میں بہتری کا پریشر بنانا، لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا، معاشرتی شعور کو بیدار کرنا وغیرہ انہی لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ پڑھے لکھے لوگ پڑھ لکھ کر ملک کو کم تعلیم یافتہ لوگوں کے حوالے کرکے چلے جائیں تو انہیں یہ کہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ملک میں انصاف نہیں۔ یہ بات کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ’’تم اسے ٹھیک کردو پھر میں یہاں آکر اس میں بس جاؤں گا‘‘۔ اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرکے پیچھے چھوڑ جانے والوں کو طعنے دینے کے بجائے پھر آپ اپنے کام سے کام رکھیے، پھر پیچھے والے جانیں اور ان کا ملک۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */