خدا اور سائنس - سید ثمر احمد

پہلا منظر روایتی مذہبی: ہمارے ایک درس کے دوران ایک صاحب رنجیدہ اور غصے کی حالت میں بولتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ’قرآن کا سائنس سے کہاں تعلق آگیا‘ ہم عرض گزار ہوئے بات تو سنیے۔ ’آپ بات ہی غلط کر رہے ہیں، کیوں سنوں‘ میزبان نے مداخلت کی تو برا فروختہ ہوئے۔ ’اگر آئندہ بھی ایسے ہی دروس ہونے ہیں تو میں نہیں آنے کا‘ ایک دوست کہنے لگے ۔ ’ قرآن سے ان معاملات کو مت جوڑیں۔ وہ الگ ہے یہ الگ‘

ایک مدرِّسہ کہنے لگیں ۔’قرآن کو سائنس کے ساتھ بیان کرنا غلط ہے۔ اس سے اجتناب برتنے کو کہا گیا ہے‘\
دوسرا منظر سیکولر: کچھ دوست کہنے لگے قرآن میں سائنس کہاں سے آگئی؟ اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے زبردستی آیات کو جوڑ جاڑ دیتے ہیں۔ بھلا ان میں کیا تعلق؟ واقعات (Situations) مختلف ہیں، کردار الگ الگ ہیں، مگر مؤقف ایک۔ سیکولر حضرات سے گزارش ہے کہ خدا نے اگر سائنسی باتیں کر ڈالی ہیں تو کیسے انہیں کتابِ حکیم سے نکالوں؟ اور روایتی مذہبی حضرات سے گزارش ہے کہ خدا نے اگر سائنسی باتیں کرڈالی ہیں تو کیسے انہیں کتابِ حکیم سے نکالوں؟ سیکولرز سے ملتمس ہوں کہ خدا کی ان باتوں کو غلط ثابت کردیجیے، جان ہی چھوٹ گئی، قصہ ہی ختم، اور روایتی مذہبیوں سے ملتمس ہوں کہ خدا کی ان باتوں کو غلط ثابت کردیجیے، جان ہی چھوٹ گئی، قصہ ہی ختم . قریب قریب 750ایسی آیات ہیں جن کو سائنسز سے متعلق مانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبد العزیز عبدالرحیم کے ساتھ 200 آیات پہ تو اس خاکسار نے کام کیا ہے۔ لہذٰا یہ اعتراض خدا سے کیجیے گا کہ آپ کو آخر کیا ضرورت تھی ’غیر ضروری‘ آیات شامل کرنے کی؟ آپ کو چاہیے تھا کہ عبادات کا ذکر کرتے کہ ’مذہبی‘ کتاب میں اور کیا ہوتا ہے؟ آخرکیوں ایک سائنسی حقیقت سے محض اس بنا پہ انکار کر دیا جائے کہ اسے قرآن نے بیان کیا ہے؟ کیاصرف اس لیے اعتراض اٹھایا جائے کہ ہمارے فہم کے مطابق دور پرے کا ناطہ بھی سائنس اور الکتاب کا نہیں بنتا؟

یہ بھی پڑھیں:   قانون توہینِ مذہب، ہم اورادارے-اظہر عباس

قرآن کتاب ِ ہدایت ہے، درست ہے، سائنس کی کتاب نہیں، درست ہے، لیکن کیا یہ صحیفہ حقائق بھی نہیں۔ اگر اس میں حقیقتوں کا بیان موجود ہے تو حیرانی کیوں؟ درست ہے کہ خواہ مخواہ ہر چیز کو قرآن سے نہیں جوڑنا چاہیے پر کن کو؟ صرف ان کوجو ابھی Transitional Phase میں ہوں، جن پہ کام چل رہا ہو۔ جب کسی بات پر اجماع ٹھہر جائے یا کوئی حقیقت روشن سورج کی طرح آسمانِ دنیا پہ طلوع ہوجائے، اور خدا نے اسے پہلے ہی سے بتا رکھا ہو تو کیوں مالکِ کْل کو جھٹلایا جائے (معاذ اللہ)؟ آپ کے خیال میں خدا عاجز ہے کہ کائنات کے بلند تر، پیچیدہ ترین حقائق کو بیان کر سکے؟ کیا قادرِ مطلق کے بارے میں یہ بدگمانی کہیں لَگَّا کھاتی ہے؟ کیا انجینئز اپنی تخلیق ہی کونہ جانے گا؟
الا یعلم من خلق درحقیقت موجودہ سائنسی ترقی نے خدا کو جاننا اور ماننا جتنا آسان کر دیا ہے پہلے کبھی نہ تھا۔ خدا کو پہچاننا جتنا آج سہل ہے پہلے کبھی نہ تھا کیونکہ دنیا کی Logical support پیچھے آچکی ہے۔ سائنس محض مفروضوں کا نام تو نہیں۔ اسی لیے تو ہم لیبارٹری ٹیسٹ شدہ اشیاء کو اعتماد سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں کو تحسین سے اختیار کرتے ہیں جن کے پاس مختلف قسم کی سرٹیفیکشنز ہوتی ہیں۔ سائنس نے جو اصول چیز کو پرکھنے اور قبول کرنے کے اپنائے ہیں وہ اس قدر پختہ ہوچکے ہیں کہ انسان کے سامنے قبول یا رَدّ کے معیار آگئے ہیں۔اس لیے سائنس اگر خدا کے حضور میں جھکی جا رہی ہے تو اسے سجدے سے مت روکیے بلکہ اپنے سجدوں کو طاقت ور بنانے کے لیے اس غلام کو حکم دیجیے.

Comments

سید ثمر احمد

سید ثمر احمد

کمیونی کولوجسٹ، ٹرینر، موٹیوٹر، مصنف، سیاح، نعت خواں، مبلغ اور استاد ہیں۔ ڈائریکٹرز، پرنسپلز، اساتذہ، طلبہ، والدین اور نوجوانوں کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں پروگرامز کرچکے ہیں۔ ایک کتاب ’اختلاف، ادب اور محبت‘ کے مصنف ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.