نسخہ نفرت اور بدلتا مغرب - ناصر فاروق

اب جبکہ امریکہ کا عالمی اقتدار جا رہا ہے، وائٹ ہاؤس ميں ڈونلڈ ٹرمپ کا عہد آ رہا ہے، یہ دونوں باتیں محض اتفاق نہیں، باقاعدہ اتفاق سے سامنے آرہی ہیں۔ نئے صدر کے لیے جو کردار طے ہوا تھا، اس کےلیے ڈونلڈ ٹرمپ کو چنا گیا، گو کہ اوور ایکٹنگ دوہری اذیت کا سبب ہوئی۔ یہ کردار نفرت کا اشتہار ہے، نفرت کا بیوپار ہے، نفرت کی پیداوار ہے، اور نفرت ہی میں برگ و بار ہے۔ نفرت کا یہ نسخہ نہ صرف لبرل ڈیموکریٹک مغرب کا نوحہ ہے بلکہ اسلامی تہذیب سے کھلی جنگ کا واشگاف اعلان ہے۔ یہ نسخہ نفرت نئے امریکہ کی نئی عالمی پالیسی ہے۔ یہ پالیسي دو جانب بیک وقت پیشرفت میں ہے۔ ایک انکار میں ہے دوسری اعتراف میں ہے۔ انکار لبرل آرڈر اور بائیں بازو کی افادیت کا ہے، اعتراف اسلامی تہذیب کے غلبہ سے خوف کا ہے۔\n\nافغانستان میں شکست نے امریکہ کو روس کی سی نفسیات سے دوچار کر دیا ہے۔ جب افغانستان فتح کرنے نکلا روس پارہ پارہ ہوا، جب امريکا افغان کہسار سر کرنے نکلا، عالمی سامراجی حیثیت سے گرتا چلا گیا۔ اب وقت دونوں کو قریب کر رہا ہے، کیونکہ سوال مغربی حاکمیت کی بقا کا ہے۔ معاشی نظریات کی اکھاڑ پچھاڑ سے قطع نظر، مال کی محبت اور اسلام سے تعصب میں امریکہ، روس اور یورپ ایک ہیں۔ یہی مغرب کی نئی پیشرفت ہے اور ہتھیار نسخہ نفرت ہے۔ صدیوں پیچھے یہی مغرب صلیبی پرچم تلے یوں ہی جمع ہوا تھا، پوپ اربن نے جو کچھ کہا تھا، عین وہی نفسیات آج کے بیانیہ میں نمایاں ہے۔\n\nامریکہ کے سابق مشیر سلامتی Zbigknew Brzezinski حال ہی میں Towards a Global Realignment کے عنوان تلے کہتے ہیں کہ امریکہ عالمی سامراجی حیثیت کھو چکا ہے، چنانچہ روس اور چین سے تعاون و اتحاد کی ضرورت ہے۔ یہ اتحاد مشرق وسطٰی میں اسلامی تہذیب کی پیشرفت روکنے کے لیے ضروری ہے۔ چین کا مؤثر کردار اس حوالے سے بےحد اہم ہو سکتا ہے۔ آج جو اسلام پسند مشرق وسطی میں سر اٹھا رہے ہیں، وہ آنے والے سالوں میں افریقہ، ایشیا، اور دیگر سابق نو آبادیاتی معاشروں میں پیش قدمي کرسکتے ہیں۔ غرض، مغرب میں کامیاب سیاست نسخہ نفرت سے فروغ پا رہی ہے۔ یہی نسخہ نفرت ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کا ہتھیار بنا، یہی نسخہ نفرت روسی صدر پیوٹن کو بتدریج مغرب میں قابل قبول سے مقبول بن اچکا ہے۔ یہی نسخہ نفرت یورپ میں عام ہے۔ یہ نسخہ نفرت قومی سطح پرتارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔\n\nنسبتا سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی تہذیب کے خلاف مغرب کے عالمی تصادم میں لبرل ڈیموکریسی، نیولبرلزم، اور بائیں بازو کے نظریات بےکار ثابت ہو رہے ہیں۔ اسلام کے خلاف جس نفرت عام کی ضرورت ہے، وہ پوری نہیں ہو پا رہی۔ ہر جگہ اخلاقی اور قانونی سوالات کی بھرمار ہے۔ سو پاپولزم (اشرافیہ کے خلاف جدوجہد کا تصور)، قوم پرستی، نسل پرستی، اور مذہبی انتہاپسندی کے ہتھیار میدان میں لائے گئے ہیں۔ یہ نسخہ نفرت کے لازمی اجزا ہیں۔ لبرلزم کو اب مغرب سے دیس نکالا جا رہا ہے۔ Donald Trump's Election Leaves Angela Merkel as the Liberal West's Last Defender کے عنوان سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کہتی ہے کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب نے لبرل مغرب کو خطرے میں ڈال دیا، اب صرف جرمن چانسلر انجیلا مرکل واحد لبرل رہنما رہ گئی ہیں، اور وہ بھی اب بہت تھک چکی ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ انجيلا مرکل بھی ان ہی قوتوں کی زد میں ہیں، جنہوں نے برطانیہ کو یورپی یونین سے جُدا کیا اور اب فرانس میں Marine Le Pen جیسی قوم پرست اور انتہا پسند رہنما کو مقبول بنا رہی ہیں (غالبا فرانس کی اگلی صدر یہی خاتون ہوگی)۔ قوی امکان ہے کہ آسٹریا میں بھي عنقریب مذہبی انتہا پسند امیدوار صدر بن جائے۔ غرض جرمن ٹیبلوئیڈ B.Z. نے ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کی رات کو ”وہ رات جب مغرب مرگیا“ کی سرخی سے واضح کیا۔\n\nامریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نسخہ نفرت کا پہلا تجربہ نہیں ہے۔ پورے مغرب میں مسلمانوں، سیاہ فاموں، اور تارکین وطن کے ساتھ بدسلوکی اور نفرت کا فروغ طویل عرصہ سے سامنے ہے۔ مساجد کے مینارے، اسلامی پردہ، اور اسلامی قوانین کے خلاف نفرت اور انتہاپسندی نے مغرب کی حکومتوں کو لپيٹ میں لے رکھا ہے۔ ٹرمپ کی جیت سے نسخہ نفرت کے رجحان کو وہ قیادت میسر آگئی ہے، جسے امریکہ اور یورپ میں اب تک لبرل ڈیموکریسي نے مذاق سمجھ رکھا تھا۔\n\nگو کہ یہ فلسفہ نفرت مغرب کی فطرت میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے، مگرعالمگیریت کے دعووں نے سامراجیت کے ارادوں پر پردہ ڈالے رکھا ہے، اوراب صاف ہوتا جا رہا ہے کہ مغرب لبرل ڈیموکریسي کی ریاکار رواداری اور سوشلزم کی نام نہاد انسانیت کا بوجھ زیادہ دیر نہیں اٹھاسکتا۔ اب مغرب کی فطرت میں موجود نسل پرستی، قوم پرستی، مال پرستی، اور طاقت پرستی پھر پوری طرح حرکت میں ہے۔\n\nمغرب کے نسخہ نفرت کا علاج مشرق کے نسخہ محبت میں ہے۔ اس نسخہ محبت سے مغرب کے مایوس لبرل اور بائیں بازو والے امید بن سکتے ہیں۔