کیا ہم اپنی ماں کےمخالف ہوسکتےہیں؟ امیرجان حقانی

امیر جان حقانی اسلام کی اولین ریاست مدینہ منورہ ہے۔ اس ریاست کا قیام خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ اس ریاست کے شہری یہود مدینہ، عیسائی، مسلمان (انصارو مہاجر) اور منافقین و مشرکین تھے۔ آنحضرت ﷺ نے اس اولین ریاست میں ایک معاشرتی معاہدہ فرمایا جس کو معاہدہ مدینہ یا میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میثاق میں مذکورہ تمام شہریوں کے حقوق و فرائض کا تعین کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک معاہدہ ”معاہدہ حدیبیہ“ کے نام سے کیا گیا اس میں برسرپیکار دشمن کے ساتھ مصالحت کے امور طے ہوئے اور یہ معاہدہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت ہی انوکھا ہے۔ اسی طرح کے کئی معاہدات ہوئے جن سے معاشرتی امن وامان اور شہریوں کی مال جان عزت وآبرو کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ یہ سارے امور اسلامی ریاست نے انجام دیے۔اسی طرح انسانی دنیا میں معاہدوں اور میثاقوں کی بہتات ہے اور بڑی اہمیت بھی ہے۔ ان کے دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔\n\nگلگت بلتستان میں بھی دو معاہدے ایسے ہوئے جن کو عوامی پذیرائی کے ساتھ سرکاری رہنمائی بھی حاصل ہوئی۔ 2005 ء کے کشیدہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی اسمبلی نے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جس کی سربراہی محترم ملک مسکین صاحب کر رہے تھے۔ اس امن معاہدہ کی تیاری میں مکتبہ اہل سنت و اہل تشیع کے سرکردہ 36 عوامی نمائندے اور علمی شخصیات شامل تھیں۔ اس کو ”امن معاہدہ گلگت“ کا نام دیا گیا۔ اس معاہدہ میں بہت خوبصورت طریقے سے عوامی اور علاقائی مفادات کا تحفظ کیا گیا۔ پھر شومئی قسمت 2012ء میں گلگت بلتستان کے حالات کشیدہ ہوئے اور خونی مناظر دیکھنے میں آئے تو گلگت اسمبلی نے ایک ضابطہ اخلاق بنایا۔ اس ضابطہ اخلاق میں بھی دین و دنیا کے تمام اہم معاملات کو تحفظ دیا گیا۔ دینی اقدار اور معاشرتی اصول و ضوابط اور ضروریات دین کی حفاظت کی گئی۔ اس معاہدے کو بھی اہل سنت و اہل تشیع کے مرکزی مذہبی قیادت کی تائید حاصل ہوئی۔گلگت اسمبلی میں بحث سے پہلے اس ضابطے پر دونوں فریقین کی مرکزی قیادت نے دستخط ثبت کیے اور پھر باقاعدہ اسمبلی ممبران نے ووٹنگ کے ذریعے اس کو قانون کا حصہ بنایا اور گزٹ آف پاکستان نے15 اکتوبر 2012ء کو شائع کیا۔ ان دونوں معاہدوں اور ضوابط کی وجہ سے گلگت شہر اور اس کے مضافات میں امن کا قیام یقینی ہوگیا تھا۔ سول انتظامیہ کے ساتھ حساس ادارووں نے بھی قیام امن میں مرکزی کردار ادا کیا مگر بدقسمتی سے 2016ء کے اواخر میں پھر سے شہر گلگت اور اس کے مضافات بدآمنی کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکومتی رٹ کو چیلنج کیا جانے لگا ہے۔ مساجد و امام بارگاہوں سے نفرت انگیز خطبات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ریاستی رٹ کو انتہائی ڈھٹائی سے چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ایک دوسروں کے خلاف نفرت آمیز قراردادیں اور تقاریر کا سلسلہ جاری ہے۔ اپیکس کمیٹی پاکستان اور نیکٹا کے احکامات پامال کیے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو متنازعہ بنایا گیا۔ بدقسمتی سے مقدس شخصیات اور اولوالعزم لوگوں کی توہین کی گئی۔ سرکاری عمال اور پارلیمانی کمیٹوں کو رسوا کیا گیا۔ دو طرفہ مذہبی قیادت دھرنوں اور احتجاج پر اتر آئی ہے، اور سیاسی عزائم رکھنے والوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ معروف وفاقی سیاسی پارٹیوں کی بدقسمتی دیکھیں کہ ان کی علاقائی قیادت بھی مذہب کے نام پر تقسیم ہے۔ عوام نہ چاہتے ہوئے بھی ایک کو ایک مذہب کے ساتھ جبکہ دوسری پارٹی کو دوسری مذہب کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان میں عوام کا قصور کم اور ان سیاسی پارٹیوں کا قصور زیادہ ہے۔\n\nایک دفعہ پھر یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ گلگت بلتستان میں کسی طے شدہ منصوبے کے تحت بدامنی کروائی جائے گی۔ جس کے لیے جو جو استعمال ہوسکتا ہے اس کو کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ سی پیک جو ملک بھر کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہے کو متنازعہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ ایک طبقہ بےجا حمایت کرتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ بےجا مخالفت، دونوں کے پاس حمایت و مخالفت کے کمزور دلائل ہیں۔ سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ دونوں طبقے آپس کی چپقلش کی وجہ سے سی پیک جیسے انٹرنیشنل پراجیکٹ کی مخالفت و حمایت کرتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔\n\nانسان جب اندھا مقلد ہوتا ہے تو اس کو اپنوں کی غلطیاں بھی صحیح لگتی ہیں اور غیروں کی درستگیاں بھی غلطیاں ہی لگتی ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی یہی ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ اچھائی اور برائی، صحیح اور غلط، حق اور ناحق کا درست تجزیہ کوئی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہر ایک وہی راگ الاپتا ہے جو اس کی قیادت کہتی ہے۔ قیادت کی سوچ، فکر اور نقطہ نظر سے ہٹ کی درست سمت رہنمائی کرنے کے لیے نہ کوئی لیڈر سامنے آتا ہے نہ کوئی مفکر۔ بس چھوٹے چھوٹے خانوں میں قوم کو ایک دفعہ پھر سے تقسیم کرنے کا عمل بری طرح جاری ہے۔ کچھ معاملات بالخصوص گندم سبسڈی کے حوالے سے گلگت بلتستان کی قوام ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوچکی تھی لیکن اپنوں کی بے رعنائیوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں نے اس اتحاد و یکجہتی کو تار تار کر دیا۔ جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ کاش ہم مذہبی یا نام نہاد سیاسی بن کر سوچنے کے بجائے انسان بن کر سوچتے۔ جب تک انسانیت کی سوچ ہمارے دل و دماغ میں سرایت نہیں کرے گی تب تک یہ حالات کبھی درست نہیں ہوسکتے۔ بڑی سی بڑی حکومتیں اور سزائیں کچھ بھی نہیں کرسکیں گی۔\n\nگلگت بلتستان بالخصوص شہر گلگت کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آئین پاکستان، نیشنل ایکشن پلان، فوجداری قوانین، انسداد دہشت گردی کی عدالتیں، امن معاہدہ اور ضابطہ اخلاق، اپیکس کمیٹی کے احکامات اور نیکٹا کے قواعد و ضوابط کسی مخفی کونے میں جاکر آرام فرما رہے ہیں اور ان کا صحیح استعمال یہاں نہیں ہو رہا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ جرم کرنے والا مجرم ہے چاہے جس علاقہ و مذہب سے تعلق رکھے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ ریاست کی رٹ بحال ہو تو ملکی قوانین کے ذریعے گلگت بلتستان کو جہنم کا گھڑ بنانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ان قوانین کی مد میں کوئی بےگناہ انسان قانون کے شکنجے میں نہ آئے۔ اگر قانون کا استعمال مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ بنا کر کیا گیا اور ا س میں سیاسی و مذہبی چپلقشوں کو مدنظر رکھا گیا تو یہ ظلم عظیم ہوگا۔ بہر صورت قانون کی نظر ہر ایک کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ قانون کا ایک ہی مطلب ہو کہ مجرم کا نام بس مجرم ہے کوئی اور نہیں۔ اگر یہ جرم حاکم وقت کا بیٹا یا بھائی بھی کرتا ہے تو قانون کے مطابق اس کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو امید ہے میرا پیارا گلگت بلتستان بہت جلد جنت کا منظر پیش کرے گا۔\n\nمیں انتہائی درمندی کے ساتھ عام الناس بالخصوص تعلیم یافتہ طبقے سے گزارش کروں گا کہ خدارا! اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے ریاست کا ساتھ دیں۔ ریاست ماں سے بھی عظیم ہوتی ہے۔ اس کی رٹ کو کسی صورت چیلنج نہ کیجیے۔ ریاست نے ہمیں سب کچھ دیا ہے اور ایک دفعہ بھی احسان نہیں جتلایا مگر ہمیں بھی اس ریاست کی حفاظت کے لیے اس کے بنائے قوانین کو دل و جان سے تسلیم کرنا چاہیے۔ ریاست کبھی نہیں چاہے گی کہ وہ اپنے کسی بے گناہ شہری پر ظلم کرے یا سزا دے۔ لہذا اس ماں کی تقدیس کا خیال رکھے۔ ہر وہ عمل جو ریاست پاکستان کے لیے مضر ہو اس سے خصوصا اجتناب کرے۔ یہ ریاست کسی خاص فرقے، قوم اور رنگ کے لوگوں کی نہیں۔ یہ ہم سب کی ریاست ہے، اور اس کی تقدیس کی حفاظت اور اس کے قوانین پر عمل ہم سب نے کرنا ہے، اور اس سے فوائد و ثمرات بھی ہم سب نے مل کر حاصل کرنے ہیں۔ خدارا اس ریاست کی حفاظت کیجیے۔ اس کی قدر ان لوگوں سے پوچھیں جو سالوں باہر کی دنیا میں رہ کر اپنی ریاست کو لوٹتے ہیں۔ میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے مملکت عزیز کے ائیرپورٹوں پر اتر کر ہی اس زمین کو سجدہ کیا ہے اور اس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ہمارا آپس کا اختلاف ہوسکتا ہے، ہمارے مفادات الگ ہوسکتے ہیں، ہماری پالیساں الگ ہوسکتی ہیں، ہماری سیاسی سوچ الگ ہوسکتی ہے، ہمارا فکر و نظر مختلف ہوسکتا ہے، ہماری زبان اور علاقہ بھی مختلف اور ہمارا مسلک و مذہب بھی الگ ہوسکتا ہے، لیکن یاد رہے یہ ریاست ہم سب کی مشترکہ ہے۔ یہ کسی کی مخصوص نہیں۔ آئین پاکستان اس کی ضمانت دیتا ہے۔ اتنی بڑی ضمانت کے ہوتے ہوئے کسی اور کی ضمانت کی ضرورت نہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے افعال و اعمال اس چیز کی غمازی کرتے ہیں کہ ہم اس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بدخواہوں کے لیے امدادی کارکن بنتے جاتے ہیں۔\n\nآئیے! عہد کیجیے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم ریاست کے تمام اداروں کی حفاظت کریں گے اور قانون پر عمل کریں گے اور اپنے جائز مقاصد اور مفادات کی حفاظت قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر کریں گے۔ ہم آئین پاکستان، امن معاہدہ اور ضابطہ اخلاق کو سینے سے لگائیں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ہم ہر اس عمل، قول اور فعل سے اجتناب برتیں گے جس سے ریاست کمزور ہوتی ہو اور ہم ہر وہ کام کی حمایت کریں گے جس سے ریاست مضبوط ہوتی ہو کیونکہ ریاست ماں ہوتی ہے ۔ کیا ہم اپنی ماں کے مخالف ہوسکتے ہیں؟ یقینا نہیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔