منشیات کا استعمال، اسباب اور تدارک - مبین امجد

مبین امجد منشیات سے مراد ایسی دوائیں ہیں جن کے استعمال سے سرور و انبساط کی کیفیت محسوس ہو۔ دنیا سے بے نیازی اور بے خودی کی کیفیت طاری ہو جائے اور نیند، بے ہوشی، مدہوشی اور بدمستی طاری ہو کر تمام دکھ درد بھول جائیں۔ شروع شروع میں تو سکون کا متلاشی بے انتہا فرحت محسوس کرتا ہے مگر جب نشہ ہرن ہوتا ہے تو اس کی طلب پھر بے چین کر دیتی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ پھر کوشاں ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی نشہ کرنا رہ جاتا ہے۔\n\nاقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 20 کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں۔ منشیات کا استعمال سب سے زیادہ براعظم امریکا میں کیا جاتا ہے۔ وطن عزیز کی بات کی جائے تو یہاں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ مارچ 2014ء مین شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 42 لاکھ پاکستانی نشے کی عادت کا شکار ہیں، جن میں اکثریت 15 سے 64 سال تک کی عمر کی ہے۔ اِس رپورٹ کے مطابق مارچ 2013ء سے مارچ 2014ء تک ایک سال میں تقریباً 67 لاکھ بالغ افراد نے نشے کا استعمال کیا۔ پاکستان میں 2 ملین کے قریب لوگ صرف ہیروئن کے نشے کے عادی ہیں۔ شراب کا نشہ کرنے والے 76 فیصد ہفتے میں 2 سے 3 دن جبکہ 10 فیصد ہفتے میں 5 دن استعمال کرتے ہیں۔\n\nاقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کے نمائندے سیزر گوئیڈز سروے رپورٹ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ "منشیات کے استعمال کا قومی سروے 2013ء، صوبوں میں پہلی بار سر انجام دیا گیا ہے اور یہ سروے منشیات کے استعمال اور ایچ آئی وی کی منتقلی کاباعث بننے والے عوامل کے بارے میں جامع معلومات اور اعداد و شمار فراہم کرتا ہے"۔\nوائس آف امریکہ کی نمائندہ سے گفتگو میں سیزر گوئیڈز نے بتایا کہ " پاکستان میں منشیات کے شکار افراد میں سرنج سے نشہ کرنےوالے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ افراد نشے کے دوران ایک دوسرے کی سرنج استعمال کرتے ہیں جس سے ایچ آئی وی ایڈز اور پیپاٹائٹس سمیت دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں"۔\n\nوی او اے سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ، یو این او ڈی سی اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ڈرگ کنڑول، پاکستان میں ڈرگ اور نشے کی فروخت کو روکنے کیلئے پاکستان کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد مریضوں کو ایسے نشے کی لت سے روکنے کیلئے مزید آگاہی پروگرام منعقد کرانا ہے۔\n\nسیزر گوئیڈز کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال صوبہ سندھ میں نشہ آور اشیاٴ استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد 1.7 ملین تھی، جبکہ 96 ہزار افراد سرنج کے ذریعے نشہ کرتے ہیں۔ صوبہ بھر میں سب سے زیادہ چرس4٫3 فیصد استعمال ہوتی ہے۔ سرنج کے ذریعہ نشہ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی اور خون سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کے امکانات بھی کافی زیادہ ہے۔ سندھ بھر کے سروے کی بات کی جائے تو صوبے میں ایسے افرادکی تعداد انتہائی زیادہ ہے جو بھنگ کا نشہ کرتی ہے۔ بھنگ کا نشہ کرنےوالے افراد کی یہ تعداد ملک میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ صوبے میں 5لاکھ 70 ہزار افراد افیون کو نشہ کرتے ہیں،جبکہ 66 فیصد افراد درد ختم کرنےوالی ادویات جبکہ 34 فیصد ہیروئن اور افیون کے نشے کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کی سروے رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں منشیات کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ صوبے میں نوجوان طبقے میں یہ شرح 10٫9 فیصد جبکہ صوبے کی آبادی کا بڑا حصہ بھنگ، افیون اور دیگر نشہ آور اشیا کا استعمال کرتا ہے۔صوبے کے ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہیروئن کا نشہ،84 ہزار افراد افیون کا نشہ کرتے ہیں، دیگر صوبوں کے اعدادوشمار کے موازنے کے اعتبار سے، خیبرپختونخوا میں افیون کا نشہ کرنےوالے افرادکی تعدادملک بھر سے انتہائی زیادہ ہے۔\n\nصوبہ بلوچستان میں بھی نشے کا شکار افراد میں ایک بڑی تعداد کیمیکل کا نشہ کرتی ہے جبکہ 18 فیصد افراد مختلف طریقوں سے نشہ کرتے ہیں بلوچستان میں سرنج کے ذریعے نشے سے 17 ہزار افراد نشہ کے عادی ہیں\n\nاسی طرح پنجاب بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں بھی نشہ کرنےوالے افراد کی تعداد کچھ کم نہیں15 سے 64 سال کی عمر کے افراد مختلف طریقوں کے نشے کےعادی ہیں صوبے کے 8لاکھ 40 ہزار افراد ہیروئن اور 86 ہزار افراد افیون کا نشہ کرتے ہیں۔\n\nمنشیات پہلے پہل تو لوگ شوقیہ استعمال کرتے ہیں مگر پھر رفتہ رفتہ اس کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ منشیات استعمال کرنے کی دیگر وجوہات میں دین سے دوری، بے راہ روی، ناکامی، بے روزگاری، غربت، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔ سگریٹ نوشی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ ماہرنفسیات کہتے ہیں کہ سگریٹ نوشی انسان کو لازماََ نشے کی طرف لے جاتی ہے۔\n\nپاکستان میں بڑی عمر کے افراد کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ کم عمر افراد کا نشے کی لعنت کا عادی ہونا معاشرے کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ 12 سے 18 سال کی عمر میں منشیات کی طرف رجحان بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے کیونکہ اسی عمر میں بچے اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ تعلیمی اداروں، ورک شاپس پارٹیز اور دوستوں کی محفل پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ اکثر پارٹیز اور ایڈونچر کے نام پر ہی کم عمر افراد کو نشے کی لت لگائی جاتی ہے۔\n\nآج ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں منشیات کے خلاف آگاہی سیمینار کروائے جائیں اور نوجوان طبقے کو خاص طور پہ شعور فراہم کیا جائے۔ سر عام شراب کی فراہمی کو ختم کر دیا جائے۔ یاد رکھیے نصف صدی پہلے ایک جرمن ڈاکٹر نے یہ بات کہی تھی۔”تم شراب کی آدھی دکانیں بند کر دو تو میں تمہیں آدھے ہسپتال، جرائم کے اڈے اور جیلوں کے بند ہو جانے کی ضمانت دیتا ہوں۔“ سٹوڈنٹس ہاسٹلز چاہے بوائز ہوں یا گرلز، وہاں منشیات کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے ذمہ داران اور انتظامیہ کو اس پہ بھی چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہیے۔\n\nامتناعِ منشیات آرڈینینس 1979 میں پاکستان میں بنایا گیا۔ اب تو اس قانون کو بعض ترمیم کے بعد مزید سخت کردیا ہے اور اِس میں موت اور عمر قید تک کی سزائیں موجود ہیں۔ لیکن اِس کے باوجود اِن جرائم میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نشہ آور چیزوں کی خرید و فروخت میں اسی وقت صحیح طور پر کمی آسکے گی جب لوگ از خود اس کی برائیوں کو سمجھیں اور ایک ذمے دار شہری ہونے کا فرض ادا کرتے ہوئے اس سے اپنے اور اپنے دیگر دوست واحباب کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں ورنہ انتظامیہ ہر شخص کا ہاتھ تھام کر اسے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ یہ ممکن ہی نہیں۔۔ منشیات جب آسانی سے دستیاب ہوں گی تو نشہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہو گا۔ اس لیے تمام میڈیکل سٹور مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ مستند ڈاکٹری نسخہ کے بغیر نشہ آور ادویات فروخت نہ کریں اور اگر کوئی ایسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اس حوالے سے کسی بھی سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے اور ایسا میکنزم تیار کیا جائے جس سے اس لعنت پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔\n\nیاد رکھیے جب تک ہم اس زہر کو پھیلانے والے سے آہنی ہاتھوں سے نہیں نمٹیں گے تب تک اس لعنت سے ہم چھٹکارہ نہیں پا سکیں گے۔ اس لیے حکومت اور شہری بہبود کی تنظیموں کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا۔

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */