پاک ترک سکولز کا قضیہ - احسن سرفراز

لوگ اپنے ہی بیانیے کو حق اور دوسرے کے بیانیے کو بزعم خود غلط قرار دیکر پھر خود ہی مفتی کے درجہ پر فائز ہو کر فتوے داغنا شروع کر دیتے ہیں. جن لوگوں کو گولن کی تنظیم کے زیر انتظام سکولوں سے بےدخل کیے جانے والے اساتذہ سے واقعی انسانی بنیادوں پر ہمدردی ہو رہی ہے، ان کا جذبہ تو قابل تعریف ہے اور میری تحریر بھی انہی دوستوں کے لیے ہے، باقی کافی تعداد تو ان سیکولر عناصر اور ہمنواؤں کی ہے جنہیں دین پسند عناصر کی حکومت کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کر رہی ہے. دنیا میں جہاں مرضی اہل حرم کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے، پھر بھی ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی مگر یہاں گولن پارٹی کےلیے ادھ موئے ہوئے جا رہے ہیں.

بھائی ذرا ترک عوام کی اکثریت کا نظریہ تو گولن اور اس کی تحریک فیتو کے بارے سمجھ لو، جن کی محبوب حکومت کا سازش کے ذریعے بزور طاقت تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی اور جس سازش کو انھوں نے شہادتیں دیکر اور ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر ناکام بنایا. کیا ترک حکومت کا حق نہیں بنتا کہ ان کے ملک کا نام استعمال کرنے اور استعمار کے لیے کام کرنے والے تخریبی عناصر کو بے نقاب کرے اور جہاں تک ممکن ہو ان کا راستہ روکے، جو خفیہ تحریکوں کے ذریعے ایک دین پسند جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور اپنے اس طاغوتی جال کو NGOs کی آڑ میں ایکسپورٹ کرنے پر تلے ہوئے ہیں. گولن کی فیتو تحریک کے سازشی عناصر کے زیرانتظام چلنے والے سکولز کی انتظامیہ کو بدلنا اور اپنے اعتماد کی انتظامیہ بھجوانا ترک حکومت کا حق ہے اور ہمیں اس حق کو ان کے نقطہ نظر سے بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے.

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.